کسی بھی قوم کی تباہی ہمیشہ توپوں کی گھن گرج سے شروع نہیں ہوتی، بعض اوقات قوموں کو خاموشی کے ساتھ اس طرح کمزور کیا جاتا ہے کہ ان کے بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھن جاتا ہے، ان کے اسکولوں کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، ان کے کھیل کے میدان ویران ہو جاتے ہیں، ان کے نوجوان روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں، ان کے بیمار علاج کی تلاش میں دربدر پھرتے ہیں، ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ ایک پوری نسل محرومی، خوف، بے یقینی اور مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دی جاتی ہے۔ پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر کے حوالے سے آج جو صورتحال انسانی حقوق کے کارکنوں، عوامی حلقوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے بیان کی جا رہی ہے، وہ صرف ایک انتظامی بحران یا عارضی سیاسی کشیدگی کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تقریباً ہر بنیادی شعبے کو متاثر کرنے والی ایک ایسی صورتحال ہے جس پر فوری، سنجیدہ اور غیر جانب دارانہ توجہ کی ضرورت ہے۔
ایک طرف گزشتہ کئی ماہ سے تعلیمی سرگرمیوں کی بندش اور شدید متاثرہ صورتحال نے ہزاروں بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے، دوسری طرف صحت کا نظام عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بننے کی شکایات کا سامنا کر رہا ہے۔ کھیلوں کے میدان خاموش ہیں، نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کے مواقع محدود ہونے کے خدشات موجود ہیں، روزگار کے ذرائع متاثر ہونے کی بات کی جا رہی ہے، آمدورفت اور سفر کی مشکلات عوامی زندگی کو مزید دشوار بنا رہی ہیں، جبکہ خوراک، ادویات، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی کے حوالے سے بھی شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ جب کسی معاشرے میں یہ تمام مسائل ایک ہی وقت میں جمع ہو جائیں تو پھر یہ صرف چند افراد کی پریشانی نہیں رہتی بلکہ پوری آبادی کی اجتماعی زندگی متاثر ہونے لگتی ہے۔
آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ سیاسی ایوانوں میں کون کیا کہہ رہا ہے، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک عام انسان کس حال میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں کتنی پریشان ہے؟ ایک بیمار انسان کو بروقت علاج مل رہا ہے یا نہیں؟ ایک غریب مزدور کے گھر کا چولہا جل رہا ہے یا نہیں؟ ایک طالب علم اپنی کتاب کھول کر مستقبل کے خواب دیکھ رہا ہے یا بند اسکول کے دروازے کے سامنے کھڑا اپنے تعلیمی سال کے ضائع ہونے کا ماتم کر رہا ہے؟ ایک نوجوان کھیل کے میدان میں اپنی صلاحیتیں دکھا رہا ہے یا بے مقصد زندگی، بے روزگاری اور مایوسی کے اندھیروں میں راستہ تلاش کر رہا ہے؟
کسی بھی ریاست، حکومت یا انتظامی نظام کی اصل کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوتا کہ اس کے پاس کتنے اختیارات ہیں، کتنی فورسز ہیں یا کتنی بلند عمارتیں تعمیر کر دی گئی ہیں۔ اصل کامیابی اس بات میں ہوتی ہے کہ عام شہری محفوظ ہے یا نہیں، اس کا بچہ اسکول جا رہا ہے یا نہیں، اس کے گھر میں خوراک موجود ہے یا نہیں، اسے علاج میسر ہے یا نہیں، اس کے لیے انصاف کے دروازے کھلے ہیں یا نہیں اور کیا وہ خوف کے بغیر اپنی بنیادی انسانی زندگی گزار سکتا ہے یا نہیں۔
پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم جموں کشمیر ویلفیئر ایسوسی ایشن ہیومن رائٹس انٹرنیشنل آرگنائزیشن کے مرکزی بانی چیئرمین راجہ پرویز پہلوان اور دیگر رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں جس صورتحال کی نشاندہی کی ہے، اس نے انسانی حقوق اور بنیادی ضروریات کے حوالے سے کئی سنگین سوالات پیدا کیے ہیں۔ تنظیم کے رہنماؤں، جن میں سینئر نائب صدر اے جے کے برانچ پرویز مغل، زیڈ اے آفتاب، چوہدری عارف، صائقہ، راجہ عابد حسین، لیاقت حسین، کرامت حسین، سردار رئیس، شاکر اختر بٹ، مقصود سدوزئی، مفتی محمد اشفاق اور پرویز علوی شامل ہیں، نے عوام کو درپیش مسائل کے فوری حل اور عالمی اداروں کی توجہ کا مطالبہ کیا ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو تعلیم کا بحران ہے۔ تعلیم صرف امتحان پاس کرنے یا ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ ایک قوم کا بچہ جب اسکول جاتا ہے تو صرف اپنا مستقبل نہیں بناتا بلکہ پوری قوم کے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ مگر جب اسکول بند ہوں، کالجوں کی سرگرمیاں متاثر ہوں، جامعات کی فضا خاموش ہو جائے اور طلبہ و طالبات اپنے تعلیمی سلسلے کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں تو اس کا نقصان صرف ایک تعلیمی سال تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات برسوں بلکہ نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
بند اسکول صرف اینٹوں اور دیواروں کی بند عمارتیں نہیں ہوتے، بلکہ ان کے اندر ہزاروں بچوں کے خواب قید ہو جاتے ہیں۔
بند اسکول صرف اینٹوں اور دیواروں کی بند عمارتیں نہیں ہوتے، بلکہ ان کے اندر ہزاروں بچوں کے خواب قید ہو جاتے ہیں۔ خالی کلاس روم صرف خالی کرسیاں نہیں ہوتیں، وہ ایک ایسے مستقبل کی علامت بن جاتی ہیں جسے انتظار میں ڈال دیا گیا ہو۔ وہ بچہ جو آج کتاب کے ساتھ ہونا چاہیے، اگر وہ مسلسل غیر یقینی اور خوف کے ماحول میں پروان چڑھے گا تو اس کے ذہن پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ وہ نوجوان جسے آج اپنی تعلیم مکمل کرکے معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کرنا چاہیے، اگر اس کے تعلیمی راستے میں مسلسل رکاوٹیں پیدا ہوں تو وہ مایوسی اور بے مقصدیت کا شکار ہو سکتا ہے۔
تعلیم سے محرومی کسی بھی قوم کے لیے سب سے خطرناک محرومی ہے، کیونکہ ایک بھوکے انسان کو شاید آج کھانا دے کر اس کی فوری ضرورت پوری کی جا سکتی ہے، مگر ایک بچے سے اگر کئی سال کی تعلیم چھن جائے تو اس نقصان کا ازالہ آسان نہیں ہوتا۔ کھویا ہوا تعلیمی وقت، ٹوٹا ہوا اعتماد، بکھرے ہوئے خواب اور ختم ہوتی ہوئی دلچسپی ایک پوری نسل کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اسی کے ساتھ کھیل کے میدانوں کی ویرانی بھی ایک بڑا سماجی مسئلہ ہے۔ کھیل صرف تفریح نہیں بلکہ جسمانی صحت، ذہنی توازن، نظم و ضبط، بھائی چارے اور نوجوانوں کی مثبت تربیت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ایک صحت مند معاشرے میں نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ کھیل، ثقافت، فن اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی توانائی تخلیقی اور تعمیری راستوں پر صرف ہو۔ مگر جب کھیل کے میدان خاموش ہو جائیں اور نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کے دروازے محدود ہو جائیں تو معاشرے میں ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے مایوسی، جرائم، تشدد، منشیات اور دیگر سماجی برائیاں بھرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہاں سب سے اہم سوال نوجوان نسل کا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتاب، ہنر، روزگار، تحقیق اور کھیل کے مواقع دیتی ہیں۔ مگر وہ معاشرے زوال کا شکار ہوتے ہیں جہاں نوجوان نسل بے روزگاری، مایوسی اور محرومی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے رہنماؤں نے اپنے بیان میں نوجوان نسل کی بربادی اور منشیات جیسے خطرناک مسائل کے حوالے سے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ منشیات کسی بھی معاشرے کے لیے صرف ایک جرم یا قانونی مسئلہ نہیں بلکہ نسلوں کی تباہی کا مسئلہ ہے۔ نشہ ایک نوجوان سے صرف اس کی صحت نہیں چھینتا بلکہ اس کا شعور، اس کا مستقبل، اس کا خاندان اور اس کی زندگی کے امکانات بھی چھین لیتا ہے۔ ایک نوجوان جب منشیات کی دلدل میں گرتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں گرتا، اس کے ساتھ ایک ماں کی امیدیں ٹوٹتی ہیں، ایک باپ کے خواب بکھرتے ہیں اور پورا خاندان اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریاستی اور حکومتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کریں۔ منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانون کی مکمل طاقت استعمال کی جائے، نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع دیے جائیں، کھیل کے میدان آباد کیے جائیں، تعلیمی ادارے فعال کیے جائیں اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ صرف گرفتاریاں یا وقتی اعلانات کافی نہیں ہوتے، ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان کو ایسا مستقبل دیا جائے جہاں اسے تباہی کے راستے کی طرف جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔
اگر ایک نوجوان کے پاس تعلیم ہوگی تو وہ مستقبل کے بارے میں سوچے گا۔ اگر اس کے پاس کھیل ہوگا تو اس کی توانائی مثبت سرگرمیوں میں استعمال ہوگی۔ اگر اس کے پاس روزگار ہوگا تو وہ اپنے خاندان کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ اگر اسے عزت اور مواقع ملیں گے تو وہ معاشرے کی تعمیر کرے گا۔ لیکن اگر تعلیم بند، کھیل ختم، روزگار ناپید اور زندگی غیر یقینی ہو تو پھر نوجوان نسل کے سامنے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
تعلیم کے بعد سب سے بنیادی مسئلہ صحت کا ہے۔ ایک بیمار انسان کے لیے زندگی کی سب سے بڑی ضرورت علاج ہے۔ جب ایک شخص بیماری کے بستر پر ہو تو اسے سیاسی تقریر نہیں چاہیے، اسے ڈاکٹر چاہیے۔ اسے وعدہ نہیں چاہیے، اسے دوا چاہیے۔ اسے مستقبل کے منصوبے نہیں چاہیے، اسے فوری علاج چاہیے۔ صحت انسان کا بنیادی حق ہے، اور ایک ایسا معاشرہ جہاں مریض علاج کے لیے پریشان ہو، وہ معاشرہ ترقی کے دعووں کے باوجود بنیادی انسانی ضرورت پوری کرنے میں ناکام تصور کیا جا سکتا ہے۔
عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر میں صحت کے شعبے کی زبوں حالی کے حوالے سے جو خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، وہ فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والے عوام کے لیے بنیادی طبی سہولیات تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ ایک عام شہری کے لیے بڑے شہر کے ہسپتال تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا۔ سفر کے اخراجات، آمدورفت کی دشواریاں، وقت کی کمی اور معاشی مسائل ایک بیمار انسان کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
سوچیے، ایک غریب شخص کا بچہ رات کے وقت شدید بیمار ہو جائے، قریبی علاقے میں مناسب طبی سہولت موجود نہ ہو، ایمبولینس فوری دستیاب نہ ہو، سفر مشکل ہو اور اسے کئی گھنٹے دور کسی بڑے ہسپتال پہنچنا پڑے، تو اس خاندان پر کیا گزرتی ہوگی؟ ایک ماں اپنے بیمار بچے کو سینے سے لگائے صرف اس انتظار میں بیٹھی ہو کہ کوئی گاڑی مل

Comments (0)