نئی اسمبلی کے سامنے بنیادی سوال اور فیصلہ: کیا عوامی شکایات مایوسی، سڑکوں پر احتجاج اور بحران کے دوران مذاکرات کی صورت اختیار کرتی رہیں گی، یا اسمبلی ایک ایسا قابلِ اعتماد آئینی فورم بنے گی جہاں شہری پالیسی سازی پر اثرانداز ہوں، حکومت کا مؤثر محاسبہ ہو اور فیصلوں پر جواب دہ عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے؟
یہ معاملہ اس وقت کیوں اہم ہے؟
2023 سے 2025 کے دوران آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے حکام نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ متعدد تحریری معاہدوں، اعلیٰ سطحی سیاسی روابط اور عمل درآمدی طریقہ کار کے ذریعے بارہا مذاکرات کیے۔ اکتوبر 2025 کے مظفرآباد معاہدے میں حکومت پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندوں کے ساتھ عوامی ایکشن کمیٹی بھی فریق تھی، اور اس معاہدے کے تحت نگرانی کا ایک طریقہ کار قائم کیا گیا۔ اراکینِ اسمبلی انفرادی مطالبات یا بعد کی قانونی کارروائی کے بارے میں کوئی بھی رائے رکھتے ہوں، سیاسی سبق واضح ہے: بجلی، آٹے، صحت، تعلیم، بلدیاتی نظام، سرکاری اخراجات اور انتظامی اصلاحات جیسے بڑے عوامی مسائل معمول کے پارلیمانی راستوں کے بجائے بار بار بیرونی مذاکرات کے ذریعے حل کیے گئے۔
آئینی ذمہ داری
آزاد جموں کشمیر کےعبوری آئین 1974، کی روح کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کو مزید بااختیار بنانا ضروری ہے تاکہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے منتخب نمائندوں کی حیثیت سے — بہتر طرزِ حکمرانی، سماجی و اقتصادی ترقی اور بالخصوص عوام کی فلاح و بہبود کے لیے (پائیدار بنیادوں پر) اور اس سے متعلقہ دیگر امور میں — اپنے قانون سازی کے اختیارات اور انتظامیہ کے فرائض (جیسا بھی معاملہ ہو) کا بھرپور استعمال کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور یو این سی آئی پی کی قراردادوں کے مطابق اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور منصفانہ استصوابِ رائے کے لیے جمہوری طریقہ کار کے ذریعے حقِ خود ارادیت کے حصول کے ہمارے مقصد کو آگے بڑھانا اوراسے تقویت دینا بھی لازم ہے۔ آرٹیکل 4 زندگی اور آزادی، پُرامن اجتماع، انجمن سازی، تقریر و اظہار، مساوات اور دیگر بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، جو صرف قانون کے مطابق اور آئینی حدود کے اندر مناسب پابندیوں سے مشروط ہیں۔ آرٹیکل 3-اے سے 3-جے تک اصولِ پالیسی میں بلدیاتی اداروں، خواتین کی شرکت، تعلیم، انصاف، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور سماجی و اقتصادی بہبود سے متعلق ذمہ داریاں شامل ہیں۔ ان اصولوں پر عمل درآمد کی سالانہ رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے کا بھی تقاضا کیا گیا ہے۔
نئی اسمبلی یہ ثابت کر کے عوام کا اعتماد بحال کر سکتی ہے کہ پُرامن سیاسی تبدیلی کے لیے منتخب ادارے ہی سب سے معتبر راستہ ہیں۔
اراکینِ اسمبلی کے لیے پانچ نکاتی جمہوری معیار
قانونیت: اس اقدام کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی ہے؟
ثبوت: اس اقدام کو کسی مخصوص فرد پر نافذ کرنے کے لیے کون سے انفرادی حقائق موجود ہیں؟
وجوہات: کیا متاثرہ افراد کو واضح طور پر بتایا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی کیوں کی گئی؟
داد رسی: کیا بروقت نظرِ ثانی اور عدالتوں تک حقیقی اور مؤثر رسائی دستیاب ہے؟
جواب دہی: انتظامیہ کی نگرانی اور نمائندہ حکومت کی جگہ بحران پر مبنی نظم و نسق کو روکنے کے لیے اسمبلی نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
پانچ فوری اقدامات
1۔ آئینی اور قانون کی حکمرانی اور عوامی شراکتی نظامِ حکومت کی بحالی سے متعلق کثیرالجماعتی قرارداد منظور کی جائے۔
2۔ حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان 2023 سے 2025 تک ہونے والے چاروں معاہدے اسمبلی میں پیش کر کے ان کی توثیق کی جائے، اور ہر شق پر عمل درآمد کی واضح تفصیلی فہرست شائع کی جائے۔
3۔عوامی سماعتوں اور 90 دن میں رپورٹ پیش کرنے کے اختیار کے ساتھ ایک کثیرالجماعتی خصوصی کمیٹی قائم کی جائے۔
اسمبلی میں آن لائین عوامی پٹیشن اور شہری شمولیت کا مستقل طریقہ کار قائم کیا جائے، جسے قائمہ کمیٹیوں اور حلقہ وائز کیس ورک سے منسلک کیا جائے۔
4۔ غیر معمولی پابندیوں کے لیے انفرادی قانونی بنیاد، واضح وجوہات اور مؤثر نظرِ ثانی لازمی قرار دی جائے، جبکہ ہر جانب سے ہونے والے تشدد کی غیر جانب دار تحقیقات کی حمایت کی جائے۔
5۔ سیاسی اصول: یہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حق یا مخالفت میں ووٹ نہیں۔ یہ اسمبلی کے حق میں ووٹ ہے۔ تشدد کے خلاف قانون کے مطابق جواب دہی، پُرامن سیاسی فضا، حکومتی وعدوں میں شفافیت، مؤثر داد رسی اور مضبوط پارلیمانی نگرانی ایک ساتھ ممکن ہیں۔
وہ نتیجہ جس کے لیے سب کو کام کرنا چاہیے
وسیع عوامی بے چینی ، مشکلای، شکایات، عوامی موبیلائیزیشن، تصادم اور ہنگامی مذاکرات کے موجودہ غیر یقینی صورت حال کو ایک حقیقی جمہوری نظام سے بدلنا ہوگا
سنیے ← غور و خوض کیجیے ← فیصلہ کیجیے ← وضاحت کیجیے ← عمل درآمد کیجیے ← جائزہ لیجیے
نئی اسمبلی یہ ثابت کر کے عوام کا اعتماد بحال کر سکتی ہے کہ پُرامن سیاسی تبدیلی کے لیے منتخب ادارے ہی سب سے معتبر راستہ ہیں۔ شکریہ۔
مصنف کا تعارف: سردار آفتاب خان ایک پبلک پالیسی ماہر، محقق اور آزاد جموں و کشمیر میں جمہوری اصلاحات کے سرگرم داعی ہیں۔ گزشتہ 35 برسوں سے وہ کشمیری قومی شناخت، عوامی حقوق، مقامی خود اختیاری اور سیاسی شمولیت کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ ان سے بزریعہ ای میل [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ 15اکتوبر 2026

تبصرے (0)