راولاکوٹ میں گزشتہ چند دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کے لیے انتہائی افسوس ناک ہے۔ پانچ نومبر کو فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد کی شہادت، متعدد لوگوں کے زخمی ہونے، گھروں کو آگ لگنے اور ڈرون حملوں کی اطلاعات نے پورے علاقے کو خوف اور غم میں مبتلا کر دیا۔
ابھی لوگ پہلے شہداء کے غم سے باہر نہیں نکلے تھے کہ گزشتہ رات ایک بار پھر شدید فائرنگ کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ایک باپ اور اس کی دس سالہ معصوم بیٹی بھی اس فائرنگ میں شہید ہو گئے۔
ذرا سوچیں، اس باپ کا کیا قصور تھا؟ اس دس سالہ بچی نے کس کا کیا بگاڑا تھا؟ وہ تو ابھی زندگی کو سمجھنے کی عمر میں بھی نہیں پہنچی تھی۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنے دکھ، اتنی قربانیوں اور خوف کے ماحول کے باوجود راولاکوٹ میں لوگوں کے حوصلے کم نہیں ہوئے۔
گزشتہ رات شدید خون جما دینے والی سردی میں فضا میں ڈرون پرواز کر رہے تھے، لگاتار فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، لیکن لوگ اپنے گھروں میں بیٹھنے کے بجائے مختلف چوکوں، گاؤں اور محلوں سے نکل کر دھرنے میں پہنچتے رہے اور نعرہ تکبیر بلند کرتے رہے۔ یہ سب دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اپنے حقوق کے لیے کس قدر جذبہ موجود ہے۔
کل ایک شہید کے والد کی بات نے ہر کسی کو افسردہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا:
’’میرا ایک بیٹا اس تحریک کے لیے قربان ہو گیا ہے، میرا دوسرا بیٹا بھی ہے، میں اسے بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں اور خود بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔‘‘
ان کا کہنا تھا: ''میرا ایک بیٹا اس تحریک کے لیے قربان ہو گیا ہے، میرا دوسرا بیٹا بھی ہے، میں اسے بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں اور خود بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔
سوچنے کی بات ہے کہ ایک باپ جس نے اپنا بیٹا کھو دیا، وہ اتنے بڑے دکھ کے باوجود اپنے لوگوں کے حقوق کی بات کر رہا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام اپنے مطالبات کے معاملے میں کتنے سنجیدہ ہیں اور ان کے جذبات کتنے متزلزل ہیں۔
یہ لوگ آخر مانگ کیا رہے ہیں؟ بجلی پر ریلیف، آٹے پر ریلیف، بہتر تعلیم، صحت کی سہولیات، روزگار اور اپنے وسائل پر اپنا حق۔ کیا یہ ایسے مطالبات ہیں جن کے جواب میں انسانی جانیں لی جائیں؟
آج چند سوالات ہیں جن کے جواب ہر شخص جاننا چاہتا ہے:
کیا اپنے حقوق مانگنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کے جواب میں گولیاں چلائی جائیں؟
ایک دس سالہ معصوم بچی کی جان کا حساب کون دے گا؟
آخر کب تک مائیں اپنے بچوں کے جنازے اٹھاتی رہیں گی؟
شہداء کے خاندانوں کو انصاف کون فراہم کرے گا؟
کیا عوام کے مسائل کا حل مذاکرات سے نہیں نکالا جا سکتا؟
راولاکوٹ میں موجود لوگوں نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ اتنی قربانیوں کے باوجود اپنے بنیادی مطالبات سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مزید کسی گھر کا چراغ نہ بجھے، مزید کسی ماں کی گود خالی نہ ہو اور حالات کو مذاکرات کے ذریعے بہتر بنایا جائے۔
ہمیں کسی سے نفرت نہیں، ہمیں اپنے حقوق چاہئیں۔ ہمیں لڑائی نہیں، اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل چاہیے۔
کشمیر راولاکوٹ آج بھی کھڑا ہے، اس کے لوگ آج بھی اپنے بنیادی حق کی بات کر رہے ہیں۔ ان کی آواز سننے اور ان کے سوالات کے جواب دیے جائیں، نہ کہ انہیں لاشوں کے تحائف دیے جائیں۔
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کی مغفرت فرمائے، زخمیوں کو صحت دے اور ان کے خاندانوں کو صبر عطا فرمائے۔ آمین۔

تبصرے (0)