پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر خصوصاً راولاکوٹ میں گذشتہ تین ماہ سے جو حالات جاری ہیں پاکستانی فورسز نے 100 سے زائد نہتے شہریوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر دیا ہے سینکڑوں افراد کو زخمی کر دیا گیا اور پھر ہسپتالوں سے اٹھایا گیا ہے ہزاروں افراد کو لاپتہ اور گرفتار کیا گیا ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں پر قبضہ کیا گیا ہے خوراک اور ادویات کی سپلائی بند کر دی گئی ہے انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ہے شہر میں کرفیو نافذ ہے ہم اپنے ھی شہر میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں کاروباری مراکز بند ہیں مگر فورسز تالے توڑ کر لوٹ مار کر رھی ہیں عام شہری گھروں میں محصور ہیں مساجد پر فورسز کا قبضہ ہے ایسی صورت حال میں بحیثیت صحافی قلم بند کرتے ہوئے میرے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں رہا ہے نہ پہلے کبھی خاموش رہا ہوں میں نے اس عرصہ میں ایک صحافی کی حیثیت سے اپنے شہر کی گلیوں، سڑکوں، بازاروں، احتجاجی مقامات اور عام لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والی بے چینی کو دیکھا ہے میں نے لوگوں کی آنکھوں میں خوف بھی دیکھا ہے اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے رہنے کا عزم بھی ہے لاکھوں افراد مرد و خواتین سمیت بچے بزرگ دھرنوں میں موجود ہیں اسی لیے آج یہ محض ایک خبر نہیں ہے نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا بیان ہے اور نہ کسی تنظیم کی پریس ریلیز یہ بحیثیت صحافی میرا اپنا مؤقف اور میرا دعویٰ ہے میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر بالخصوص راولاکوٹ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کا فوری، غیر جانب دارانہ اور سنجیدہ نوٹس لیا جائے گذشتہ تین ماہ کے دوران سامنے آنے والے واقعات، طاقت کے استعمال، شہریوں کے زخمی اور متاثر ہونے، گرفتاریوں، مواصلاتی پابندیوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے سامنے آنے والے تمام الزامات کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں
اور میں بحیثیت ایک صحافی اور اس خطے کے حالات کا مشاہدہ کرنے والے شخص کے طور پر اقوام متحدہ سے امن فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کرتا ہوں یہ مطالبہ کسی ملک کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں ہے
یہ مطالبہ کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں یہ مطالبہ کسی ریاست کی تباہی نہیں۔ یہ مطالبہ صرف اور صرف عام انسان کی جان، عذت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے راولاکوٹ کے عوام نے گذشتہ تین ماہ میں جو حالات دیکھے ہیں ان کے بعد ایک عام شہری کا یہ سوال کرنا فطری ہے کہ اگر اس کی جان و مال، آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے بارے میں خدشات پیدا ہوں تو وہ کس کی طرف دیکھے ۔؟ جب مقامی انتظامی اور سیاسی نظام پر اعتماد کے حوالے سے سوالات پیدا ہوں جب عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں اور جب ہر فریق اپنی اپنی کہانی بیان کر رہا ہو تو پھر ایک غیر جانب دار بین الاقوامی نگرانی کی ضرورت کا مطالبہ شدت اختیار کرتا ہے اسی لیے میرا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کو صرف دور بیٹھ کر بیانات اور سرکاری رپورٹس پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے نمائندے خود راولاکوٹ آئیں۔
متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں عوام کو سنیں۔ 100 سے زائد شہداء کے لواحقین کو سنیں ۔ زخمیوں اور متاثرین کا مؤقف سنیں۔گرفتار افراد کے خاندانوں سے بات کریں۔صحافیوں سے بات کریں۔عوامی حقوق کی تحریک کے نمائندوں سے ملیں۔انتظامیہ اور حکومتی حکام کا مؤقف بھی سنیں۔اور پھر کسی سیاسی مفاد کے بغیر، صرف حقائق اور انسانی حقوق کے اصولوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔
کیونکہ انصاف کا پہلا اصول یہی ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے ہر فریق کو سنا جائے میں بحیثیت صحافی کسی عدالت کا جج نہیں ہوں میں کسی ریاست کا فیصلہ کرنے والا ادارہ بھی نہیں ہوں لیکن ایک صحافی کا کام وہ سوال اٹھانا ضرور ہے جنہیں عام شہری اٹھانے سے محروم ہو جائیں یا جنہیں سننے والا کوئی نہ ہو صحافت کا مقصد طاقتور کے بیانات دہرانا نہیں بلکہ کمزور کی آواز کو بھی جگہ دینا ہے۔
طاقت وقتی طور پر خاموشی پیدا کر سکتی ہے، مگر مستقل امن پیدا نہیں کر سکتی۔
اگر ایک صحافی اپنے سامنے ہونے والے حالات کو دیکھے، عوام کی شکایات سنے، انسانی جانوں اور بنیادی حقوق کے حوالے سے خدشات محسوس کرے اور پھر بھی خاموش رہے تو اس کا قلم اپنے فرض سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
میں اسی ذمہ داری کے تحت کہتا ہوں کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں موجود صورتحال کو غیر جانب دارانہ بین الاقوامی نگرانی کی ضرورت ہے۔
اور اسی لیے میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے قانونی اور آئینی طریقۂ کار کے تحت حالات کا جائزہ لے اور اگر زمینی حقائق اور انسانی سلامتی کی صورتحال اس کا تقاضہ کرے تو اقوام متحدہ کی امن فوج کی تعیناتی کے امکانات پر فوری غور کرے میرا مطالبہ واضح ہے کہ ایک ایسی غیر جانب دار امن نگرانی قائم کی جائے جس کا بنیادی مقصد کسی سیاسی فریق کی مدد نہ ہو بلکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہو۔
ایسی نگرانی جو عوام اور طاقت کے درمیان صرف ایک تماشائی نہ ہو بلکہ انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق حقائق کو دنیا کے سامنے لانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
راولاکوٹ میں بسنے والا عام انسان آج یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی جان کی قیمت کیا ہے ۔؟ اس کے بچے کا مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے ۔؟ اسے اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے پر خوف کیوں محسوس کرنا چاہیے۔ ؟
اور اگر وہ خود کو غیر محفوظ سمجھے تو کیا دنیا میں کوئی ایسا ادارہ ہے جس کے دروازے پر وہ انصاف کے لیے دستک دے سکے ۔؟ میرا جواب ہے کہ ہونا چاہیے اور اسی لیے میں اقوام متحدہ کے دروازے پر دستک دے رہا ہوں میں اقوام متحدہ سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کو صرف سیاسی نقشے کے ایک حصے کے طور پر نہ دیکھے یہاں انسان بستے ہیں۔ یہاں مائیں ہیں۔ یہاں بچے ہیں۔ یہاں بوڑھے ہیں۔ یہاں طالب علم ہیں۔ یہاں مزدور ہیں۔ یہاں وہ لوگ ہیں جن کے پاس شاید دنیا تک اپنی آواز پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہیں انسانی زندگی کسی سیاسی تنازع سے کم اہم نہیں۔کسی بھی خطے میں امن کی بنیاد عوام کا تحفظ اور انصاف ہوتا ہے۔طاقت وقتی طور پر خاموشی پیدا کر سکتی ہے، مگر مستقل امن پیدا نہیں کر سکتی۔مستقل امن انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔اور انصاف کے لیے غیر جانب داری ضروری ہے۔
اسی لیے، بحیثیت صحافی، بحیثیت راولاکوٹ کے حالات کا مشاہدہ کرنے والا شخص اور بحیثیت ایک کشمیری شہری میں اقوام متحدہ سے امن فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کرتا ہوں میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اقوام متحدہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر بالخصوص راولاکوٹ اور دیگر متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا آزادانہ جائزہ لے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تحقیقات کرے متاثرہ شہریوں کو سنے۔ تمام فریقوں کا مؤقف لے۔اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔اگر اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے غیر جانب دار تحقیقات کے بعد یہ سمجھیں کہ حالات امن، انسانی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سنگین ہیں تو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی طریق کار کے مطابق امن فوج یا مؤثر بین الاقوامی امن نگرانی کی تعیناتی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
یہ میرا مطالبہ ہے یہ میرا صحافتی مؤقف ہے میں کسی کے خلاف جنگ نہیں مانگ رہا میں اپنے لوگوں کے لیے تحفظ مانگ رہا ہوں میں کسی ریاست کی شکست نہیں چاہتا میں انسانی جانوں کا تحفظ چاہتا ہوں۔میں نفرت نہیں پھیلا رہا۔
میں انصاف کا مطالبہ کر رہا ہوں۔اور اگر ظلم، خوف اور بے بسی کے ماحول میں ایک صحافی بھی اپنے قلم سے انصاف کی بات نہ کرے تو پھر صحافت کے لفظ کا کیا مطلب رہ جاتا ہے ۔؟ آج راولاکوٹ سے میری آواز اقوام متحدہ تک پہنچنی چاہیے اقوام متحدہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی صورتحال کا فوری نوٹس لو۔غیر جانب دار تحقیقات کرو متاثرہ عوام کو سنو انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بناؤ۔اور بحیثیت صحافی میرا واضح مطالبہ ہے کہ عوام کے جان و مال اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ امن فوج کی تعیناتی کرے کیونکہ میں خاموش تماشائی نہیں بن سکتا میں نے جو دیکھا، جو سنا اور جو محسوس کیا، اسے قلم بند کرنا میری صحافتی ذمہ داری ہے اور آج میرا قلم صرف ایک سوال لکھ رہا ہےاگر ایک متنازعہ خطے کے عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو اقوام متحدہ کب ان کی حفاظت کے لیے آگے بڑھے گی ۔؟ راولاکوٹ کی آواز سنو۔ جموں کشمیر کے عوام کو سنو اور انصاف کو خاموشی کے نیچے دفن ہونے سے بچاؤ اور کشمیری عوام کی نسل کشی بند کرواؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے (0)