مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

ایک بہن کی رخصتی ایک باپ کی بے بسی اور تحریکوں کی ان دیکھی قربانیاں

عوامی حقوق کی تحریک کے باعث رہنما اپنی بہن کی رخصتی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ داستان ہے حقوق کی خاطر ذاتی خوشیاں قربان کرنے والے خاندان کی۔ جانئے اس جدوجہد کے پیچھے ایک باپ کی بے بسی اور ان دیکھی قربانیاں۔

خلاصہ

عوامی حقوق کی تحریک کے باعث رہنما اپنی بہن کی رخصتی میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ داستان ہے حقوق کی خاطر ذاتی خوشیاں قربان کرنے والے خاندان کی۔ جانئے اس جدوجہد کے پیچھے ایک باپ کی بے بسی اور ان دیکھی قربانیاں۔

Summary in English

Due to the movement for public rights, the leader was unable to attend his sister's wedding send-off. This is the story of a family that sacrificed their personal happiness for the sake of rights. Learn about the helplessness and unseen sacrifices of a father behind this struggle.

ایک بہن کی رخصتی ایک باپ کی بے بسی اور تحریکوں کی ان دیکھی قربانیاں

تحریکیں صرف سڑکوں پر لگنے والے نعروں جلسوں میں ہونے والی تقریروں اور دھرنوں میں بیٹھے لوگوں کے نام نہیں ہوتیں تحریکوں کی ایک ایسی داستان بھی ہوتی ہے جو اخبارات کی سرخیوں میں جگہ نہیں پاتی، ٹیلی ویژن کی اسکرینوں پر دکھائی نہیں دیتی اور سیاسی مباحث میں زیرِ بحث نہیں آتی۔ یہ داستان ان ماؤں کی آنکھوں میں ٹھہرے انتظار، ان باپوں کے سینوں میں دفن حسرتوں، ان بہنوں کی ادھوری خواہشوں اور ان بھائیوں کی خاموش قربانیوں سے عبارت ہوتی ہے جو اجتماعی حقوق کی جدوجہد میں اپنی ذاتی خوشیوں تک سے محروم ہو جاتے ہیں

ڈڈیال میں ایک بہن کی رخصتی بھی ایسی ہی ایک داستان ہے ایک ایسی رخصتی جس میں شادی کی روایتی خوشیوں سے زیادہ جدوجہد کی تلخیاں، جدائی کا درد اور حالات کی بے رحمی نمایاں تھی۔ یہ ممبر کور کمیٹی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خواجہ مہران ایڈووکیٹ کی چھوٹی بہن کی رخصتی تھی ایک ایسا موقع جو ہر بھائی کی زندگی میں جذباتی اہمیت رکھتا ہے مگر اس موقع پر بھائی اپنی بہن کے پاس موجود نہیں تھا وہ راولاکوٹ کے دھرنے میں بیٹھا اپنے لوگوں کے حقوق اور اپنی قوم کے مستقبل کی جدوجہد میں مصروف تھا ذرا سوچیے، جس بہن نے بچپن سے اپنے بھائیوں کے ساتھ زندگی کے خوشی اور غم کے لمحے گزارے ہوں، جس نے اپنی شادی کے دن یہ خواب دیکھا ہو کہ اس کا بھائی اسے گلے لگائے گا، سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دے گا اور رخصتی کے وقت اس کے ساتھ کھڑا ہوگا اس کے لیے یہ لمحہ کتنا کٹھن ہوگا جب بھائی سامنے موجود ہونے کے بجائے فون پر دعائیں دے رہا ہو دوسری طرف بھائی کے دل پر کیا گذری ہوگی جو اپنی بہن کو نئی زندگی کی طرف رخصت ہوتے دیکھنے اسے گلے لگانے اور اس کے سر پر دستِ شفقت رکھنے کی خواہش بھی پوری نہ کر سکا ہے

یہاں سوال صرف ایک بہن کی رخصتی کا نہیں ہے بلکہ ان قربانیوں کا ہے جو کسی اجتماعی مقصد کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگ اپنی ذات، اپنے خاندان اور اپنی خوشیوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں اس کہانی کا ایک اور پہلو اس باپ کی بے بسی ہے جس نے برسوں اپنی بیٹی کو پالا، اس کی خوشیوں کے خواب دیکھے اور اس دن کا انتظار کیا جب وہ اسے دعاؤں کے ساتھ رخصت کرے گا۔ بیٹی کی شادی ہر باپ کے لیے زندگی کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک ہوتی ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے بظاہر مسکراتا ہے مگر اس کے دل میں جدائی کے ہزاروں احساسات جنم لے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر حالات اسے اس موقع پر بھی اپنی بیٹی کے پاس موجود ہونے سے محروم کر دیں تو اس دکھ کو الفاظ میں کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟ اور پھر ایک بیمار ماں، جو شاید بار بار دروازے کی طرف دیکھتی رہی ہو۔ ہر آہٹ پر اس کے دل میں امید جاگتی ہو کہ شاید اس کے بیٹے واپس آ گئے ہیں، شاید رخصتی سے پہلے گھر ایک بار پھر بچوں کی موجودگی سے آباد ہو جائے۔ مگر جب انتظار طویل ہو اور خواہش پوری نہ ہو تو گھر کے دروازے پر ٹھہری نگاہیں بہت کچھ کہہ جاتی ہیں۔

یہ وہ درد ہے جسے کسی سیاسی نعرے میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ یہ وہ محرومی ہے جس کی شدت کا اندازہ صرف وہی خاندان لگا سکتا ہے جو ایسے حالات سے گزرتا ہے اس کالم کے ذریعے میں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تحریر میں نے اپنی صحافتی ذمہ داری اور ذاتی احساس کے تحت لکھی ہے بعض اوقات جدوجہد کرنے والے لوگ اپنے دکھ بیان نہیں کرتے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے دکھ موجود نہیں ہوتے یا ان کی قربانیاں قابلِ ذکر نہیں ہوتیں اطلاعات کے مطابق اس خاندان کا وہ ڈیرہ بھی ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے جہاں کبھی لوگوں کی محفلیں سجتی تھیں، مہمانوں کی خاطر ہوتی تھی اور باہمی دکھ سکھ بانٹے جاتے تھے۔ ایسے ماحول میں بہن کی رخصتی کا منظر تصور کیجیے؛ ایک طرف ماضی کی یادوں سے جڑا گھر دوسری طرف ملبے میں بکھری زندگی کے آثار اور ان سب کے درمیان ایک نئی زندگی کی طرف روانہ ہوتی بیٹی، جس کی رخصتی پر اس کے بھائی موجود نہیں تھے یہ محض ایک خاندان کی محرومی نہیں، بلکہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جب کوئی تحریک طویل ہو جائے، جب عوامی حقوق کی جدوجہد مسلسل قربانیوں کا تقاضا کرنے لگے اور جب معمولاتِ زندگی متاثر ہوں تو اس کے اثرات صرف دھرنے میں بیٹھے افراد تک محدود نہیں رہتے۔ ان کی مائیں، بہنیں، بچے اور والدین بھی اس جدوجہد کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

راولاکوٹ میں جاری عوامی حقوق دھرنے کے 146 دن مکمل ہونے کے تناظر میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آخر وہ کون سے حالات ہیں جنہوں نے لوگوں کو اتنے طویل عرصے تک اپنے گھروں، روزگار اور خاندانی زندگی سے دور رہنے پر مجبور کیا ؟ وہ کون سے بنیادی مسائل ہیں جن کے حل کے لیے لوگ اپنی ذاتی خوشیوں کو پسِ پشت ڈالے بیٹھے ہیں؟ اور متعلقہ حکام نے ان مسائل کے حل کے لیے کیا عملی اقدامات کیے ہیں؟ عوامی تحریکوں پر تنقید کرنا ہر شخص کا حق ہے۔ کسی تحریک کے مطالبات، قیادت، سیاسی مؤقف یا حکمتِ عملی سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو نہ صرف برداشت کیا جانا چاہیے بلکہ اسے سیاسی و سماجی عمل کا فطری حصہ سمجھنا چاہیے۔ تاہم اختلاف اور تمسخر میں فرق ہوتا ہے۔ کسی تحریک کے فیصلوں پر سوال اٹھانا ایک بات ہے، مگر ان لوگوں کی قربانیوں کا مذاق اڑانا دوسری بات ہے جو اپنے مؤقف کی خاطر اپنی زندگی کے اہم ترین لمحات سے محروم ہو رہے ہوں گھروں میں بیٹھ کر تحریکوں کے فیصلے سنانا آسان ہے چند لمحوں میں کسی کی جدوجہد کو بے مقصد قرار دینا، اس کی نیت پر سوال اٹھانا اور اس کے دکھ کو سیاسی بحث کا موضوع بنا دینا بھی مشکل کام نہیں ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی ان خاندانوں کی زندگیوں میں جھانکنے کی کوشش کی ہے جو ایسی جدوجہد کے اثرات برداشت کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ایک بھائی کے لیے اپنی بہن کی رخصتی میں شریک نہ ہونا کس قدر تکلیف دہ ہوگا؟ ایک باپ کے لیے اپنی بیٹی کے اس اہم دن پر بے بسی محسوس کرنا کتنا بڑا صدمہ ہوگا؟ اور ایک بیمار ماں کے لیے اپنے بچوں کی جدائی میں انتظار کرنا کتنا کٹھن ہوگا ؟ یہ قربانیاں کسی ایک سیاسی جماعت، تنظیم یا تحریک کا خصوصی استحقاق نہیں دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ حقوق کے لیے اٹھنے والی تحریکوں میں اکثر ایسے خاندان بھی متاثر ہوتے ہیں جن کا نام کسی جلسے کی تقریر میں نہیں لیا جاتا، جن کی قربانیوں کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں ہوتا اور جن کے دکھ اخبارات کی سرخیوں تک نہیں پہنچتے۔ ان کی محرومیوں کو سمجھنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے خواجہ مہران ایڈووکیٹ کی بہن کی رخصتی کا واقعہ بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ تحریکوں کو صرف سیاسی زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔ ان کے انسانی پہلو کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ کسی بھی عوامی جدوجہد کا جائزہ لیتے وقت اس کے مطالبات اور نتائج کے ساتھ ان قربانیوں کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جو اس سے وابستہ خاندان ادا کر رہے ہوتے ہیں تاہم ایک بنیادی سوال حکمرانوں اور متعلقہ اداروں سے بھی بنتا ہے: اگر عوامی مسائل بروقت حل کیے جائیں، اگر بنیادی حقوق کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور اگر اختلافِ رائے کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو کیا ایسے طویل دھرنوں اور خاندانی محرومیوں کے امکانات کم نہیں ہو سکتے؟ عوامی احتجاج کی وجوہات کو سمجھے بغیر صرف احتجاج کرنے والوں پر تنقید کرنا مسائل کا حل نہیں۔ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ شکایات کا ازالہ کیا جائے، مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن میں کسی شہری کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے اپنی خاندانی خوشیوں کی قربانی نہ دینا پڑے۔

یہ وہ درد ہے جسے کسی سیاسی نعرے میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔

میں خواجہ مہران ایڈووکیٹ اور ان کے خاندان کے نجی دکھ کو ان کی اجازت کے بغیر ان کی زبان قرار نہیں دے سکتا۔ نہ ہی یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان کے دل کی پوری کیفیت جانتا ہوں۔ میں صرف ایک صحافی کی حیثیت سے اس انسانی پہلو کو سامنے لانا چاہتا ہوں جسے اکثر سیاسی شور میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ میری تحریر کا مقصد کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا نہیں، بلکہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ عوامی تحریکوں کے پیچھے ایسے انسان بھی ہوتے ہیں جو اپنے دکھوں کو خاموشی سے برداشت کرتے ہیں اللہ اس بہن کے نصیب اچھے کرے، اس کے نئے گھر کو خوشیوں سے بھر دے، اس کے والدین کو صحت و سلامتی عطا فرمائے اور اس خاندان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ دعا ہے کہ وہ دن جلد آئے جب خاندان کے تمام افراد ایک چھت تلے جمع ہوں، گھروں میں خوشیاں لوٹیں اور کسی کو اپنی جدوجہد یا حالات کے باعث زندگی کے ایسے یادگار لمحوں سے محروم نہ ہونا پڑے لیکن اس واقعے کے بعد چند سوالات ہمارے سامنے ضرور کھڑے ہیں۔ بنیادی حقوق کے حصول کے لیے لوگوں کو کتنی خوشیاں قربان کرنا ہوں گی؟ کتنے بھائی اپنی بہنوں کی رخصتی میں شریک نہیں ہو سکیں گے؟ کتنے والدین اپنے بچوں کی خوشیوں کے موقع پر ان کی غیر موجودگی کا دکھ برداشت کریں گے؟ اور کتنے خاندان اس امید میں انتظار کرتے رہیں گے کہ ایک دن حالات بدلیں گے اور زندگی دوبارہ معمول پر آ جائے گی؟

ان سوالات کے جواب صرف جذباتی تحریروں سے نہیں ملیں گے۔ ان کے جواب عملی اقدامات، عوامی مسائل کے حل، بامعنی مذاکرات اور بنیادی حقوق کے احترام میں پوشیدہ ہیں۔

تاریخ صرف جلسوں، نعروں اور سیاسی فیصلوں کو یاد نہیں رکھتی؛ وہ ان خاموش قربانیوں کو بھی اپنے دامن میں جگہ دیتی ہے جو کسی مقصد کی خاطر دی جاتی ہیں۔ بعض دکھ زبان پر نہیں آتے، بعض آنسو آنکھوں سے نہیں گرتے اور بعض محرومیاں انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتی ہیں ڈڈیال میں ایک بہن رخصت ہوئی ہے، لیکن اس رخصتی نے ہم سب کے سامنے ایک سوال رکھ دیا ہے: کیا کسی معاشرے میں بنیادی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں اور ان کے خاندانوں کو اس قدر تنہا چھوڑ دینا قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب صرف خواجہ مہران ایڈووکیٹ یا ان کے خاندان نے نہیں دینا۔ یہ سوال ہم سب کے سامنے ہے، اور اس کا سب سے اہم جواب ان لوگوں کے پاس ہے جن کے اختیار میں عوامی مسائل حل کرنا اور حالات کو اس نہج تک پہنچنے سے روکنا ہے.

تبصرے (0)

تبصرہ کریں