مواد پر جائیں

2020ء تا 2026ء دنیا کی عوامی تحریکیں: کامیابیاں، ناکامیاں اور عوامی شعور — پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک کا تقابلی جائزہ

یہ معلوماتی تحریر 2020ء سے جاری عالمی عوامی تحریکوں اور ریاست جموں و کشمیر کی حقوقی جدوجہد کا تقابلی جائزہ پیش کرتی ہے۔ جانیے کہ کس طرح عوامی مزاحمت نے ریاستی جبر کا مقابلہ کیا اور سیاسی شعور بیدار کیا۔

خلاصہ

یہ معلوماتی تحریر 2020ء سے جاری عالمی عوامی تحریکوں اور ریاست جموں و کشمیر کی حقوقی جدوجہد کا تقابلی جائزہ پیش کرتی ہے۔ جانیے کہ کس طرح عوامی مزاحمت نے ریاستی جبر کا مقابلہ کیا اور سیاسی شعور بیدار کیا۔

Summary in English

This informative article presents a comparative analysis of global mass movements ongoing since 2020 and the struggle for rights in the State of Jammu and Kashmir. Discover how popular resistance countered state repression and awakened political consciousness.

2020ء تا 2026ء دنیا کی عوامی تحریکیں: کامیابیاں، ناکامیاں اور عوامی شعور — پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک کا تقابلی جائزہ

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام معاشی بدحالی، سیاسی جبر، بدعنوانی، ناانصافی اور بنیادی حقوق کی پامالی سے تنگ آ جاتے ہیں تو ان کی خاموشی بالآخر احتجاج میں بدل جاتی ہے۔ کبھی یہ احتجاج کسی ایک واقعے سے شروع ہوتا ہے، کبھی مہنگائی، بے روزگاری اور مراعات یافتہ طبقے کے خلاف عوامی غصہ اسے جنم دیتا ہے، اور کبھی آزادیٔ اظہار اور سیاسی حقوق پر پابندیاں لوگوں کو سڑکوں پر لے آتی ہیں۔ جنوری 2020ء سے اکتوبر 2026ء تک دنیا کے مختلف خطوں میں ایسی متعدد تحریکیں سامنے آئیں جنہوں نے حکومتوں کو فیصلے واپس لینے، رہنماؤں کو اقتدار چھوڑنے، قوانین میں تبدیلی کرنے یا عوامی مطالبات پر مذاکرات کے لیے مجبور کیا۔ تاہم، ہر تحریک کی کامیابی کا پیمانہ ایک جیسا نہیں تھا۔ کہیں حکومت تو بدل گئی، مگر نظام کی بنیادی خرابیاں برقرار رہیں، کہیں احتجاج نے عوامی شعور کو بیدار کیا، مگر فوری سیاسی تبدیلی نہ لا سکا، اور کہیں ریاستی طاقت نے تحریک کو وقتی طور پر دبا دیا، لیکن اس کے بنیادی سوالات ختم نہ ہو سکے۔

امریکہ میں 2020ء کے دوران جارج فلائیڈ کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد بلیک لائیوز میٹر تحریک نے بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کو جنم دیا۔ اس تحریک نے نسلی امتیاز، پولیس کے اختیارات اور ریاستی اداروں کے احتساب کے سوالات کو عالمی بحث کا حصہ بنایا۔ کئی شہروں میں پولیس کے طریقۂ کار اور مقامی قوانین پر نظرثانی ہوئی، لیکن نسلی ناانصافی اور پولیس تشدد سے متعلق بنیادی مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اس تحریک کا ایک اہم سبق یہ تھا کہ عوامی احتجاج کسی مسئلے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں تو کر سکتا ہے، لیکن دیرپا تبدیلی کے لیے قانون سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور مسلسل عوامی نگرانی بھی ضروری ہوتی ہے۔

اسی سال نائیجیریا میں اینڈ سارس تحریک نے پولیس کے مبینہ تشدد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف زور پکڑا۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی اور پولیس اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے خصوصی پولیس یونٹ ختم کرنے کا اعلان کیا، مگر مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور بعد ازاں جواب دہی کے سوالات نے تحریک کے نتائج کو متنازع بنا دیا۔ اس مثال نے واضح کیا کہ کسی ادارے یا یونٹ کو ختم کرنے کا اعلان کافی نہیں ہوتا؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ شہریوں کو عملی تحفظ ملتا ہے یا نہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب ہوتا ہے یا نہیں۔

بیلاروس میں 2020ء کے صدارتی انتخابات کے بعد انتخابی شفافیت اور سیاسی آزادیوں کے حوالے سے بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔ مظاہرین نے انتخابات کے نتائج کو چیلنج کیا اور سیاسی تبدیلی کا مطالبہ کیا، مگر ریاستی کارروائیوں، گرفتاریوں اور احتجاج پر پابندیوں کے باعث تحریک اپنے فوری سیاسی مقاصد حاصل نہ کر سکی۔ اس کے باوجود، اس نے شہری آزادیوں اور انتخابی شفافیت کے مسئلے کو عالمی توجہ دلائی۔ میانمار میں بھی فروری 2021ء کی فوجی بغاوت کے بعد عوامی مزاحمت سامنے آئی۔ طلبہ، مزدوروں، سرکاری ملازمین اور دیگر شہریوں نے فوجی اقتدار کے خلاف احتجاج کیا، مگر سخت ریاستی کارروائیوں اور مسلح تصادم نے صورتِ حال کو پیچیدہ بنا دیا۔ یہ دونوں مثالیں بتاتی ہیں کہ جب ریاستی ادارے طاقت کے ذریعے سیاسی اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو پُرامن عوامی تحریکوں کے لیے اپنے مطالبات منوانا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

بھارت میں 2020ء اور 2021ء کے دوران کسانوں کی تحریک نے زرعی قوانین کے خلاف ملک گیر احتجاج کی صورت اختیار کی۔ کسانوں نے طویل عرصے تک دارالحکومت نئی دہلی کے داخلی راستوں پر دھرنے دیے۔ مسلسل احتجاج، عوامی حمایت اور مذاکرات کے بعد بھارتی حکومت نے متنازع زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان کیا۔ یہ اس دور کی نمایاں مثال تھی جس میں منظم، طویل اور وسیع عوامی تحریک نے حکومت کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ تاہم، اس کامیابی سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ کسانوں کے تمام معاشی مسائل حل ہو گئے؛ اس نے بنیادی طور پر یہ ثابت کیا کہ واضح مطالبات، تنظیم، مسلسل دباؤ اور وسیع عوامی حمایت حکومت کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

فرانس میں پنشن کے نظام میں اصلاحات کے خلاف 2023ء میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔ مزدور تنظیموں، شہریوں اور مختلف سیاسی حلقوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے فیصلے کی مخالفت کی۔ حکومت نے شدید عوامی مخالفت کے باوجود اصلاحات آگے بڑھائیں۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے مظاہرے، ہڑتالیں اور عوامی مخالفت بھی ہر بار حکومتی پالیسی کو تبدیل نہیں کروا سکتے، خصوصاً جب حکومت پارلیمانی یا آئینی طریقۂ کار کے ذریعے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ تاہم، ایسے احتجاج سیاسی بحث، انتخابی ترجیحات اور حکومت کی عوامی مقبولیت پر دیرپا اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔

سری لنکا میں 2022ء کا عوامی احتجاج معاشی بحران، مہنگائی، ایندھن اور ادویات کی قلت، بدانتظامی اور حکمران خاندان کے خلاف شدید غصے سے پیدا ہوا۔ عوامی تحریک نے صدر گوٹابایا راجاپکسا کو ملک چھوڑنے اور استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ یہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی تھی، لیکن حکومت کی تبدیلی کے باوجود قرضوں، معاشی مشکلات، ادارہ جاتی کمزوریوں اور جواب دہی کے مسائل فوری طور پر حل نہیں ہوئے۔ اس تجربے نے واضح کیا کہ کسی حکمران کو اقتدار سے ہٹانا ایک کامیابی ہو سکتی ہے، مگر عوام کی زندگی بدلنے کے لیے معاشی اور انتظامی نظام میں بنیادی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔

گوئٹے مالا میں 2023ء کے دوران انتخابی عمل اور نومنتخب صدر برنارڈو آریوالو کے اقتدار کی منتقلی میں مبینہ رکاوٹوں کے خلاف مقامی اور عوامی تنظیموں نے احتجاج کیا۔ مقامی برادریوں اور شہریوں کی مزاحمت نے جمہوری انتخابی عمل اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے سوال کو نمایاں کیا۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ عوامی تحریکیں صرف مہنگائی یا بجلی جیسے معاشی مسائل تک محدود نہیں ہوتیں؛ انتخابی حق، آئینی عمل اور شہریوں کے ووٹ کی اہمیت بھی لوگوں کو منظم کر سکتی ہے۔

کینیا میں 2024ء کے دوران ٹیکسوں میں اضافے سے متعلق مالیاتی بل کے خلاف نوجوانوں کی تحریک نے ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کی۔ مظاہرین نے مہنگائی، حکومتی اخراجات، بدعنوانی اور عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے پر سوالات اٹھائے۔ احتجاج کے بعد صدر ولیم روٹو نے متنازع مالیاتی بل پر دستخط نہ کرنے اور اسے واپس لینے کا اعلان کیا۔ اس تحریک نے یہ بھی دکھایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے منظم ہونے والے نوجوان روایتی سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر عوامی بحث اور حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم، بل واپس ہونے کے باوجود معاشی دباؤ اور حکمرانی سے متعلق تمام مسائل حل نہیں ہوئے۔

بنگلہ دیش میں 2024ء کی طلبہ تحریک سرکاری ملازمتوں کے کوٹے کے مسئلے سے شروع ہوئی، لیکن ریاستی طاقت کے استعمال، ہلاکتوں اور حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضی نے اسے ملک گیر تحریک میں بدل دیا۔ بالآخر شیخ حسینہ اقتدار چھوڑ کر ملک سے چلی گئیں اور ایک عبوری انتظام قائم ہوا۔ یہ جنوبی ایشیا کی حالیہ تاریخ کی بڑی سیاسی تبدیلیوں میں سے ایک تھی۔ تاہم، کسی حکومت کا خاتمہ خودبخود جمہوری استحکام، معاشی انصاف اور شہری آزادیوں کی ضمانت نہیں بنتا۔ نئی قیادت کے سامنے بھی اداروں کی اصلاح، سیاسی اختلاف کو برداشت کرنے اور عوامی مطالبات پورے کرنے کے چیلنج موجود رہتے ہیں۔

نیپال میں ستمبر 2025ء میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف شروع ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج نے جلد ہی بدعنوانی، سیاسی اشرافیہ کے خصوصی طرزِ زندگی، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات کے خلاف وسیع تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ احتجاج کے نتیجے میں وزیرِاعظم کے پی شرما اولی مستعفی ہوئے۔ (سِوِکس، یعنی عالمی شہری شرکت کا اتحاد، سمیت شہری آزادیوں پر نظر رکھنے والے ادارے شہریوں کی تنظیم سازی، پُرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔) نیپال کے واقعات نے واضح کیا کہ جب نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے مواقع محدود ہوں اور انہیں محسوس ہو کہ سیاسی اشرافیہ عوامی مشکلات سے لاتعلق ہے تو ایک محدود مطالبے سے شروع ہونے والا احتجاج پورے نظامِ حکمرانی پر سوال اٹھا سکتا ہے۔ تاہم، قیادت کی تبدیلی کے بعد بھی اصلاحات کی تکمیل اور سیاسی استحکام الگ چیلنج رہتے ہیں۔

ایران میں مختلف ادوار کے دوران معاشی مشکلات، خواتین کے حقوق، سیاسی آزادیوں اور ریاستی پابندیوں کے خلاف احتجاج سامنے آتا رہا۔ 2022ء میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والی تحریک نے خواتین کی آزادی، لباس سے متعلق لازمی ضابطوں اور ریاستی اختیار کے خلاف وسیع عالمی توجہ حاصل کی۔ ریاستی کارروائیوں کے باوجود ان مظاہروں نے سماجی رویوں، خواتین کے حقوق اور حکومتی جبر کے بارے میں عالمی بحث کو متاثر کیا۔ اسی طرح فلسطین کے حق میں 2023ء سے 2026ء تک مختلف ممالک میں طلبہ، اساتذہ، مزدوروں اور شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان تحریکوں میں جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور حکومتوں کی خارجہ پالیسیوں پر نظرثانی کے مطالبات نمایاں رہے۔ بعض جامعات اور اداروں میں پالیسیوں پر بحث اور نظرثانی ہوئی، لیکن ہر ملک میں احتجاج کے نتائج مختلف رہے۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ عوامی تحریکوں کی کامیابی کو صرف فوری حکومتی فیصلوں سے نہیں، بلکہ ان کے پیدا کردہ سماجی شعور، پالیسی بحث اور طویل مدتی اثرات سے بھی جانچنا چاہیے۔

انڈونیشیا میں 2020ء میں روزگار اور سرمایہ کاری سے متعلق قانون سازی کے خلاف احتجاج ہوا۔ فلپائن میں بھی حکومتی پالیسیوں، معاشی مسائل اور شہری آزادیوں کے حوالے سے مظاہرے جاری رہے۔ مشرقی تیمور میں نوجوانوں اور شہری گروہوں نے حکمرانی، روزگار اور عوامی سہولتوں سے متعلق مطالبات اٹھائے۔ سربیا میں انتخابی شفافیت، بدعنوانی اور حکومتی جواب دہی سے متعلق احتجاج نے عوامی بحث کو متاثر کیا، جبکہ امریکہ میں 2025ء اور 2026ء کے دوران مختلف پالیسیوں اور حکومتی اقدامات کے خلاف مظاہروں نے شہری اختلاف کی اہمیت کو برقرار رکھا۔ ان تحریکوں کے نتائج ایک جیسے نہیں تھے، مگر ان سب سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ عوامی مسائل کے اظہار کے لیے سڑک، عدالت، پارلیمان، میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم مختلف ذرائع ہیں، جن کا مؤثر استعمال تحریک کی سمت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

دنیا بھر کی ان تحریکوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو چند بنیادی عوامل بار بار سامنے آتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ تحریک کو عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑے واضح مطالبات درکار ہوتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ تنظیم، باہمی اعتماد، نظم و ضبط اور مطالبات پر اتفاق تحریک کو طویل عرصے تک قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ حکومتوں کے اعلانات اور حقیقی عمل درآمد میں فرق کو مسلسل جانچنا ضروری ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ قیادت کی تبدیلی یا کسی ایک قانون کی واپسی کو تمام مسائل کا حل نہیں سمجھا جا سکتا۔ پانچویں بات یہ ہے کہ جب ریاستی طاقت احتجاج کو دبانے کے لیے استعمال ہوتی ہے تو تحریک کے لیے انسانی جانوں، آزادیوں اور تنظیمی ڈھانچے کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اس کے باوجود، ہر ناکام یا نامکمل تحریک بھی عوامی شعور میں اضافے، نئی قیادت کی تربیت اور مستقبل کی جدوجہد کے لیے تجربہ فراہم کر سکتی ہے۔

اسی عالمی تناظر میں پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس تحریک نے مئی 2023ء میں راولاکوٹ کے سپلائی بازار سے شروع ہونے والی عوامی مزاحمت کے ذریعے بجلی کے بلوں، آٹے کی قیمتوں، حکومتی مراعات اور شہری حقوق سے متعلق مسائل کو نمایاں کیا۔ رفتہ رفتہ یہ تحریک ایک وسیع عوامی پلیٹ فارم کی صورت اختیار کرتی گئی، جس میں مختلف علاقوں اور طبقات کے لوگ شریک ہوئے۔ اس کا بنیادی مطالبہ محض کسی ایک حکومتی فیصلے کی واپسی نہیں تھا، بلکہ عوامی وسائل، معاشی انصاف، سیاسی نمائندگی اور حکمرانی کے طریقۂ کار سے متعلق متعدد معاملات کو حل کرنا تھا۔ تحریک نے اس بحث کو بھی تقویت دی کہ کسی خطے کے وسائل اور فیصلوں کے بارے میں مقامی آبادی کی آواز اور ضروریات کو مرکزی حیثیت ملنی چاہیے۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس میں عام شہریوں کی بنیادی ضروریات اور ریاستی نظام میں موجود عدم مساوات سے متعلق مطالبات شامل ہیں۔ اس چارٹر میں مراعات یافتہ طبقے کی غیر معمولی سہولتوں کے خاتمے، اسمبلی کی بارہ مہاجر نشستوں کے مسئلے، بجلی اور آٹے کے معاملات، صحت و تعلیم کی سہولتوں، روزگار میں میرٹ، بدعنوانی کی روک تھام، عوامی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور دیگر معاشرتی و انتظامی امور سے متعلق مطالبات شامل ہیں۔ یہ چارٹر اس بات کی نمائندگی کرتا ہے کہ تحریک کے مطالبات کو محض چند افراد یا کسی ایک سیاسی گروہ کے مفاد کے طور پر نہیں، بلکہ عام شہریوں کی زندگی، بنیادی سہولتوں اور حکومتی جواب دہی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

تحریک کے مؤقف کے مطابق، 4 اکتوبر 2025ء کو حکومتوں کے ساتھ معاہدے کے ذریعے چارٹر کے مطالبات تسلیم کیے گئے، مگر ان پر عملی عمل درآمد نہیں ہوا۔ حکومتوں کی جانب سے مختلف اوقات میں پیش رفت اور متعدد مطالبات کی تکمیل کے دعوے سامنے آتے رہے، لیکن تحریک کا مؤقف ہے کہ زمینی سطح پر کوئی ایسی بنیادی تبدیلی نہیں آئی جسے چارٹر پر مؤثر عمل درآمد کہا جا سکے۔ محض اعلانات، اجلاسوں، معاہدوں اور پریس بیانات کو عملی پیش رفت کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا؛ اصل پیمانہ یہ ہے کہ عام شہری کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی، بجلی اور آٹے کے مسائل کس حد تک حل ہوئے، مراعات یافتہ طبقے کی غیر معمولی سہولتوں کا کیا بنا اور طے شدہ مطالبات پر عملی اقدامات کہاں تک پہنچے۔ تحریک کے حامیوں کے نزدیک حکومتی بیانات عوام کو مطمئن کرنے اور اصل صورتِ حال سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں، جبکہ ان کے بقول زمینی سطح پر عمل درآمد عملاً صفر ہے۔ اس اختلاف کا منصفانہ جائزہ لینے کے لیے ہر مطالبے کے بارے میں حکومتی نوٹیفکیشن، عملی اقدام اور عوام کو حاصل ہونے والے حقیقی فائدے کو الگ الگ جانچنا ضروری ہے؛ تاہم، تحریک کا بنیادی اعتراض یہی ہے کہ معاہدے کے اعلان کو اس کی تکمیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم، کسی حکومت کا خاتمہ خودبخود جمہوری استحکام، معاشی انصاف اور شہری آزادیوں کی ضمانت نہیں بنتا۔

جون 2026ء میں صورتِ حال نے ایک نیا رخ اختیار کیا، جب حکام نے 5 جون کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کے انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت ممنوعہ تنظیم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ (حالانکہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوئی تنظیم نہیں، عوام کا اتحاد اور عوامی پلیٹ فارم ہے۔) اسی عرصے میں ہلاکتوں، مواصلاتی بندشوں، گرفتاریوں، احتجاجی مظاہروں اور طاقت کے استعمال سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 9 جون 2026ء کو اس اقدام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کو ممنوعہ قرار دینے، انٹرنیٹ بند کرنے، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال سے انسانی حقوق کی صورتِ حال مزید خراب ہوئی۔ ادارے نے پُرامن تنظیم سازی اور اجتماع کی آزادی کے حوالے سے سوالات اٹھائے اور پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس ادارے نے مواصلاتی رابطے بحال کرنے اور میڈیا و آزاد مبصرین کو علاقے تک رسائی دینے پر بھی زور دیا۔

5 اور 9 جون 2026ء کے واقعات کے درمیان فرق واضح رکھنا ضروری ہے۔ 5 جون کو کوئی احتجاجی مارچ نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی اس روز سڑکیں بند کرنے کی کوئی کارروائی کی گئی تھی۔ پُرامن احتجاجی مارچ کی کال 9 جون کے لیے دی گئی تھی۔ اس لیے 9 جون کے اعلان کردہ مارچ کو 5 جون کو کیے گئے اقدامات کا جواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 5 جون کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے فیصلے، پاکستانی فورسز کی تعیناتی اور اسی رات پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے صورتِ حال کو سنگین رخ دیا۔ اس واقعے میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بنیادی کور ممبر عمر نذیر کشمیری کے قریبی دوست شاہزیب حبیب کو گولیاں لگیں، جن کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہو سکے، جبکہ عمر نذیر کشمیری بھی زخمی ہوئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی رپورٹ کیا کہ شاہزیب حبیب کو 5 جون کی رات فائرنگ کے واقعے میں گولی لگی اور بعد ازاں ان کی وفات ہوئی۔ ادارے کے مطابق دستیاب معلومات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ شاہزیب حبیب متعلقہ اہلکاروں کے لیے موت یا شدید جسمانی نقصان کا فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔ یوں واقعات کی زمانی ترتیب کے مطابق، 9 جون کے اعلان کردہ پُرامن مارچ سے پہلے ہی پابندی کے فیصلے، پاکستانی فورسز کی تعیناتی اور فائرنگ کے واقعے نے صورتِ حال کو تشدد کی طرف دھکیل دیا۔ اس واقعے میں فائرنگ کے حالات، ذمہ داری اور متعلقہ اقدامات کی ضرورت و تناسب کا حتمی تعین آزادانہ اور شفاف تحقیقات سے ہونا چاہیے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت اور پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کی حکومت کی جانب سے امن و امان، شہریوں کے تحفظ اور قانون کی عمل داری کو اقدامات کی وجوہات کے طور پر پیش کیا گیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق، کسی بھی احتجاج کے دوران عوامی زندگی، کاروبار، آمدورفت اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے، اور اگر کسی فرد یا گروہ پر قانون شکنی کا الزام ہو تو متعلقہ حکام کو قانون کے تحت کارروائی کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ تاہم، اس جواز کا جائزہ لیتے وقت واقعات کی درست زمانی ترتیب کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب پُرامن مارچ کی کال 9 جون کے لیے دی گئی تھی اور 5 جون کو کوئی احتجاجی مارچ یا سڑکوں کی بندش موجود نہیں تھی تو یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ اس سے پہلے پابندی، پاکستانی فورسز کی تعیناتی اور طاقت کے استعمال کی ضرورت اور تناسب کیا تھا۔ امن و امان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اسی کے ساتھ پُرامن اجتماع، اظہارِ رائے اور شہریوں کے تحفظ کی ضمانت دینا بھی ریاستی ذمہ داری ہے۔ ان تمام اقدامات کا جائزہ قابلِ تصدیق شواہد اور آزادانہ تحقیقات کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔

برطانوی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کی انسانی حقوق اور سیاسی صورتِ حال پر بحث ہوئی۔ جولائی 2026ء میں برطانوی دارالعوام اور دارالامراء میں ہونے والی بحثوں کے دوران ارکانِ پارلیمنٹ نے شہری ہلاکتوں، گرفتاریوں، مواصلاتی بندشوں اور پُرامن احتجاج کے حق سے متعلق خدشات اٹھائے۔ برطانوی حکومت نے بھی جانی نقصان اور مواصلاتی پابندیوں پر تشویش ظاہر کی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی فوری، شفاف اور جامع تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔ برطانوی حکام نے پاکستان کے متعلقہ حکام کے ساتھ ان خدشات کو اٹھانے اور صورتِ حال کی نگرانی جاری رکھنے کی بھی تصدیق کی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام سے متعلق خدشات کا ذکر بھی برطانوی پارلیمنٹ میں ہوا، خصوصاً ان افراد کی گرفتاریوں کے حوالے سے جن کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں پُرامن اظہارِ رائے اور جمہوری حقوق استعمال کرنے پر حراست میں لیا گیا۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے آزادانہ معلومات، پُرامن اجتماع اور آزاد مبصرین کی رسائی کی اہمیت پر زور دیا۔ رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی احتجاج، ہلاکتوں، مواصلاتی بندشوں اور پابندی کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کی خبریں شائع کیں۔ یہ رپورٹیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں ہونے والے واقعات بین الاقوامی سطح پر بھی زیرِ بحث رہے، اگرچہ ہر ادارے کی رپورٹنگ اور ہر فریق کے دعووں کی نوعیت مختلف رہی۔ اس کے باوجود، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تشویش، برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث، برطانوی حکومت کے سرکاری بیانات اور عالمی میڈیا کی رپورٹنگ یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس تحریک سے متعلق انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے سوالات بین الاقوامی توجہ کا حصہ بنے۔

حکومتی نمائندوں اور تحریک کے ناقدین کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا کہ معاہدے کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات کو مذاکرات، متعلقہ کمیٹیوں اور قانونی و انتظامی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے نزدیک احتجاج، ہڑتالوں اور ممکنہ طور پر آمدورفت یا کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹوں سے عام شہریوں، تاجروں، طلبہ اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس مؤقف میں عام شہریوں کی روزمرہ زندگی اور دوسروں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم سوال موجود ہے۔ تاہم، اس دلیل کا جائزہ لیتے وقت یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے مطالبات پر کتنا عمل ہوا، احتجاج کے اسباب کیا تھے اور عوامی مطالبات کے مؤثر حل کے لیے حکومتوں نے کیا اقدامات کیے۔ تحریک کے مؤقف کے مطابق، احتجاج کی بنیادی وجہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونا اور عوامی مطالبات کو مسلسل مؤخر کیا جانا تھا۔ اس لیے کسی ایک فریق کے مؤقف کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے دونوں جانب کے دعووں کو شواہد اور عملی نتائج کی روشنی میں جانچنا ضروری ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عوام کے بنیادی حقوق اور ضروریات سے متعلق مطالبات مذاکرات کے ذریعے تسلیم کیے گئے تھے تو ان پر قابلِ تصدیق عمل درآمد کیوں نظر نہیں آتا، اور مطالبات اٹھانے والی تحریک کو ممنوعہ قرار دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کسی تحریک کے ہر مطالبے سے اتفاق یا اختلاف الگ معاملہ ہے، لیکن پُرامن احتجاج، اظہارِ رائے، اجتماع اور تنظیم سازی کے حقوق کو برقرار رکھنا کسی بھی جمہوری نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی فرد یا گروہ پر قانون شکنی کا الزام ہو تو اس کا فیصلہ شفاف قانونی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے؛ محض مطالبات اٹھانے یا حکومت پر تنقید کرنے کی بنیاد پر شہری آزادیوں کو محدود کرنا معاشرتی اعتماد کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔

دنیا کی دیگر عوامی تحریکوں کی طرح پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کی تحریک کا مستقبل بھی اس بات سے جڑا ہے کہ اس کے مطالبات کس حد تک واضح، قابلِ عمل اور عوامی حمایت پر مبنی رہتے ہیں، اور حکومتیں ان کا جواب طاقت یا اعلانات کے بجائے عملی اقدامات سے دیتی ہیں یا نہیں۔ اس تحریک کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے معاشی ضروریات کو سیاسی جواب دہی، عوامی وسائل اور مقامی حقوق کے سوالات سے جوڑا۔ اس کی اصل کامیابی کا فیصلہ صرف کسی جلسے، ہڑتال، معاہدے یا پابندی سے نہیں، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ عوام کو اپنے مطالبات کے نتیجے میں حقیقی حقوق، سہولتیں اور فیصلہ سازی میں مؤثر شرکت حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔

عالمی تجربات بتاتے ہیں کہ عوامی تحریکیں کبھی فوری سیاسی تبدیلی لاتی ہیں، کبھی محدود مطالبات منوا کر آگے بڑھتی ہیں اور کبھی اپنے فوری مقاصد حاصل کیے بغیر بھی معاشرے میں ایسے سوالات پیدا کر دیتی ہیں جنہیں نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ لیکن ہر تحریک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو واضح رکھے، عوامی اعتماد برقرار رکھے، اختلافِ رائے کے باوجود نظم و ضبط قائم رکھے اور اپنے نتائج کو جذباتی نعروں کے بجائے قابلِ تصدیق حقائق کی بنیاد پر جانچے۔ حکومتوں کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ عوامی احتجاج کو محض امن و امان کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کے بنیادی اسباب کا جائزہ لیں اور معاہدوں پر عمل درآمد کو شفاف بنائیں۔

ریاست جموں کشمیر کی موجودہ تقسیم اور اس کے مختلف حصوں میں رہنے والے عوام کے سیاسی مستقبل کے سوالات اپنی الگ تاریخی اور بین الاقوامی جہت رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں عوامی حقوق کی تحریک کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے کسی ایک حکومت یا ایک وقتی تنازع تک محدود نہ کیا جائے، بلکہ شہریوں کے معاشی، سیاسی اور انسانی حقوق کے وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ بالآخر، کسی بھی ریاست یا حکومت کی پائیدار قوت کا انحصار صرف انتظامی اختیار یا طاقت پر نہیں ہوتا، بلکہ اس اعتماد پر ہوتا ہے جو اسے اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور عوامی مطالبات کے احترام سے حاصل ہوتا ہے۔ جب عوامی آواز سنی جائے، معاہدوں پر عمل کیا جائے اور اختلاف کو جرم بنانے کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے تو تحریک اور حکومت کے درمیان تصادم کے امکانات کم اور پائیدار حل کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔

بہرحال، ان تمام عالمی تجربات اور پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کی بنیادی عوامی حقوق کی تحریک کے سفر کا جائزہ لینے کے بعد یہ جاننا اہم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ تحریک دنیا کی دیگر تحریکوں سے کسی حد تک منفرد ہے یا نہیں؟ اور اگر منفرد ہے تو آخر وہ کون سی خصوصیات ہیں جو اس تحریک کو دنیا کی دیگر عوامی تحریکوں سے ممتاز کرتی ہیں؟

دنیا بھر میں 2020ء سے اب تک جاری رہنے والی عوامی تحریکوں کے تقابلی جائزے کی روشنی میں پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں تین سال سے زائد عرصے سے جاری یہ تحریک کئی حوالوں سے منفرد نظر آتی ہے۔ اس کی بنیاد کسی اقتدار کے حصول یا کسی سیاسی جماعت کے مفاد پر نہیں، بلکہ بنیادی انسانی ضروریات، معاشی انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی جدوجہد پر ہے۔ تحریک کے رہنماؤں اور عوام کے مؤقف کے مطابق، یہ مکمل طور پر عوامی تحریک ہے، جس میں نہتے اور پُرامن شہری شریک ہیں اور ہر فرد خود کو اس جدوجہد کا حصہ سمجھتا ہے۔

2023ء سے جاری عوامی حقوق کی اس پُرامن تحریک کے دوران اس خطے کے سیاسی رہنما، خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی سوچ و فکر سے ہو، غائب رہے۔ بعض عوامی مسائل کے حل کی مخالفت میں بیانات دیتے اور عوام کو پھانسیاں دینے کے مطالبات کرتے رہے، جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جو اپنی اپنی سیاسی دکانیں بند ہوتی دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہوئے اور اس عوامی تحریک کے خلاف سرگرم رہے۔ اس کے برعکس، دنیا بھر میں آباد اس خطے کے باغیرت بیٹے دنیا کے کونے کونے میں اس عوامی تحریک کی حمایت میں سڑکوں پر موجود ہیں۔

یوں یہ بھی اس تحریک کی ایک بڑی کامیابی ہے کہ جو کام 78 سال میں کوئی سیاسی جماعت، کوئی سیاسی نظریہ یا تمام سیاسی نظریات مل کر بھی نہ کر سکے، اس تحریک نے کر دکھایا۔ اس نے عوام کو جوڑ کر دکھایا، ایک دوسرے پر اعتماد کرنا سکھایا، ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے کا شعور دیا اور سب سے بڑھ کر اس تحریک کو شعوری طور پر اگلی نسلوں تک پہنچا دیا۔

اس کی ایک غیر معمولی خصوصیت یہ بھی ہے کہ عوام نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، ان کی تدفین کی، اپنے دکھ اور صدمے برداشت کیے، مگر اس کے باوجود پُرامن جدوجہد کا راستہ نہیں چھوڑا اور جنازے دفنا کر دوبارہ تحریک کا حصہ بن گئے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر، پاکستان اور وسیع تر جنوبی ایشیا کے تناظر میں اس تحریک میں خواتین اور بچوں کی نمایاں اور مسلسل شرکت بھی اسے ایک خاص امتیاز عطا کرتی ہے۔ اسی طرح، دور دراز علاقوں سے آنے والے ایسے لوگ، جن کی ایک دوسرے سے پہلے کوئی ذاتی شناسائی نہیں تھی اور جنہیں صرف ایک ریاست کا باشندہ ہونے کا مشترکہ تعلق جوڑتا تھا، جب ایک شہر میں مارچ کے دوران محاصرے کی صورتِ حال سے دوچار ہوئے تو مقامی آبادی نے ان کی میزبانی، دیکھ بھال اور ضروریات پوری کرنے میں ایثار و قربانی کی ایسی مثالیں قائم کیں جو اسلامی تاریخ میں انصارِ مدینہ کی روایات کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ خواتین، بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں سمیت مقامی لوگوں کی یہ میزبانی اور تعاون اس تحریک کے اجتماعی شعور اور باہمی اعتماد کی نمایاں علامت ہے۔ اس تحریک کو بیرونِ ملک بھی جو پذیرائی اور حمایت حاصل ہوئی، اس میں دنیا کے مختلف ممالک میں آباد اس خطے کے لاکھوں تارکینِ وطن کا اہم کردار رہا، جنہوں نے احتجاجی مظاہروں، ذرائع ابلاغ اور عالمی اداروں کے سامنے عوامی حقوق کا مقدمہ پیش کیا۔ طویل مدت تک پُرامن انداز میں جاری رہنے، عوامی شرکت برقرار رکھنے، شدید صدمات کے باوجود عدم تشدد کا راستہ اختیار کرنے اور مقامی و عالمی سطح پر یکجہتی پیدا کرنے کے حوالے سے یہ تحریک ایک اہم مثال بن چکی ہے۔ تاہم، اس کی اصل کامیابی کا حتمی فیصلہ اس وقت ہوگا جب عوام کے مطالبات پر مؤثر عمل درآمد ہوگا اور بنیادی حقوق و ضروریات کے حصول میں حقیقی پیش رفت سامنے آئے گی۔ اگر یہ تحریک اپنے پُرامن کردار، تنظیم، عوامی اتحاد اور عزم کو برقرار رکھتی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے مقاصد کی جانب پیش رفت کرے گی اور دنیا کی عوامی حقوق کی تحریکوں کی تاریخ میں ایک نمایاں اور منفرد مقام حاصل کرے گی۔

مصنف کا تعارف: خواجہ کبیر احمد برطانوی کشمیری صحافی، کالم نگار، محقق اور انسانی حقوق کے حامی ہیں۔ اور جموں کشمیر ٹی وی کے اینکر پرسن اور ڈائریکٹر پبلک افیئرز کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ أنکی صحافتی اور تحقیقی سرگرمیوں کا بنیادی مرکز ریاست جموں کشمیر کی سیاسی حیثیت، کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت، بنیادی انسانی حقوق اور پُرامن عوامی جدوجہد ہے۔ وہ اپنی تحریروں اور میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے کشمیری عوام کے مسائل کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں