مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

حکمران طبقہ ہوش کے ناخن لے ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ سے سبق سیکھیں ریاست بھی بچائیں اور عوام بھی تحریک کو طاقت سے کچلنے کی آڑ میں کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے

آزاد کشمیر میں عوامی تحریک کو طاقت سے دبانے کی اطلاعات پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ حکمرانوں کو تاریخ سے سبق لیتے ہوئے سنجیدہ فیصلے کرنے ہوں گے۔ دیکھیے پس پردہ کیا کھیل جاری ہے؟

خلاصہ

آزاد کشمیر میں عوامی تحریک کو طاقت سے دبانے کی اطلاعات پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ حکمرانوں کو تاریخ سے سبق لیتے ہوئے سنجیدہ فیصلے کرنے ہوں گے۔ دیکھیے پس پردہ کیا کھیل جاری ہے؟

Summary in English

Concerns have mounted over reports that the public movement in Azad Kashmir is being suppressed by force. The rulers must learn from history and make serious decisions. Watch what game is being played behind the scenes.

حکمران طبقہ ہوش کے ناخن لے ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ سے سبق سیکھیں ریاست بھی بچائیں اور عوام بھی تحریک کو طاقت سے کچلنے کی آڑ میں کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے

پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے عوام اس تحریر کو محض ایک سیاسی کالم سمجھ کر نہ پڑھیں بلکہ اسے تاریخ کے آئینے میں اپنے ماضی، حال اور مستقبل کو دیکھنے کی ایک کوشش سمجھیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے حکمران طبقے کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہییں کیونکہ آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہے، اختیار کس کے پاس ہے یا کون کس سیاسی مؤقف کی حمایت کرتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست کو کیسے بچایا جائے، ریاست کے عوام کی جان و مال کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے اور آنے والی نسلوں کو ایک ایسے مستقبل سے کیسے محفوظ رکھا جائے جس میں اختلافِ رائے کا جواب طاقت، خوف اور پابندیوں سے دیا جائے۔ اطلاعات اور خدشات کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں فورسز کی نقل و حرکت، مختلف مقامات پر نفری کی تعیناتی اور سول کپڑوں میں مبینہ طور پر مسلح افراد کی موجودگی کے حوالے سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے ڈرون حملے ہو رہے ہیں نہتے شہریوں کو شہید کیا جا رہا ہے اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ صورتِ حال محض انتظامی معاملہ نہیں رہے گی بلکہ ریاستی امن، شہری آزادیوں اور عوامی اعتماد کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن جائے گی۔ کسی بھی علاقے میں امن قائم کرنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ شہریوں کو تحفظ دیا جائے، ان کے جائز مطالبات سنے جائیں اور طاقت کے استعمال کو قانون، ضرورت اور جواب دہی کے تابع رکھا جائے۔ نہتے شہریوں کے خلاف فائرنگ، آبادیوں میں خوف و ہراس، مبینہ ڈرون حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع سے متعلق اطلاعات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں، کیونکہ ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام کا اعتماد ہوتا ہے، محض اسلحہ اور نفری نہیں پاکستان کے حکمرانوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے حکمران طبقے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاستی معاملات کو طاقت کے ذریعے چلانے کی کوششیں مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ اگر عوام اپنے حقوق، وسائل پر اختیار، معاشی انصاف اور سیاسی آزادیوں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو ان کے مطالبات کا جواب مذاکرات، قانون اور جمہوری عمل کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ عوامی تحریکوں میں اختلافات ہو سکتے ہیں، سیاسی مؤقف مختلف ہو سکتے ہیں اور کسی تحریک کے طریقہ کار سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے ریاست جموں و کشمیر کے عوام پہلے ہی تقسیم، تنازعہ اور طویل سیاسی غیر یقینی صورتِ حال کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ ایسے میں مزید تصادم کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے تاریخ سے سبق سیکھنے، عوامی اعتماد بحال کرنے اور پُرامن سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو 1947ء کے واقعات آج بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تقسیمِ ہند سے قبل ریاست جموں و کشمیر ایک وسیع ریاست تھی جس میں جموں، کشمیر، لداخ، گلگت بلتستان اور دیگر علاقے شامل تھے۔ مہاراجہ ہری سنگھ ریاست کے حکمران تھے۔ برطانوی اقتدارِ اعلیٰ کے خاتمے کے ساتھ ریاستوں کے مستقبل کا سوال پیدا ہوا۔ قانونِ آزادیِ ہند 1947ء کے تحت برطانوی ہندوستان کی تقسیم اور برطانوی بالادستی کے خاتمے نے ریاستی حکمرانوں کے سامنے نئے سیاسی فیصلوں کا مرحلہ کھڑا کیا اس دور میں ریاستوں کے الحاق، جغرافیائی حالات، عوامی خواہشات اور حکمرانوں کے فیصلوں نے برصغیر کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور ریاست جموں و کشمیر کا مستقبل بھی اسی پیچیدہ تاریخی عمل کا حصہ بن گیا لیکن اس معاملے میں پیدا ہونے والے تنازعہ نے بالآخر ریاست کو تقسیم اور اس کے عوام کو مختلف سیاسی و انتظامی نظاموں میں منقسم کر دیا 22 اکتوبر 1947ء کو پاکستانی قبائلی لشکروں کے حملے نے ریاست کے حالات کو فیصلہ کن طور پر تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد بھارتی فوج کی آمد، مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط، جنگ اور پھر اقوام متحدہ کی مداخلت نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی تنازعہ کی شکل دے دی۔1949ء کے معاہدۂ کراچی نے پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں کے انتظامی بندوبست پر اثر ڈالا۔ ان واقعات کی تعبیر پر مختلف سیاسی اور تاریخی مؤقف موجود ہیں تاہم ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ 1947ء کے بعد ریاست کے عوام ایک مشترکہ سیاسی مستقبل سے محروم ہو گئے اور ریاست کی تقسیم کا مسئلہ آج تک حل طلب ہے اس تاریخی المیے کے نتائج صرف سرحدوں اور نقشوں تک محدود نہیں رہے بلکہ خاندانوں کی جدائی، نقل مکانی، انسانی جانوں کے ضیاع، سیاسی بے یقینی اور نسل در نسل جاری محرومیوں کی صورت میں بھی سامنے آئے ہیں

ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم اور متنازعہ باب 4 اکتوبر 1947ء اور اس کے بعد قائم ہونے والی نام نہاد انقلابی حکومت کا معاملہ بھی ہے۔ اس حوالے سے بعض تاریخی بیانیوں میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ راولپنڈی میں خواجہ عبدالرحیم کی رہائش گاہ پر ریاست کی تقسیم اور نئی حکومت کے قیام سے متعلق منصوبہ بندی ہوئی اور خواجہ غلام نبی گلکار کی سربراہی میں ایک انقلابی حکومت کا اعلان کیا گیا۔ 24 اکتوبر 1947ء کو قائم ہونے والی حکومت کے پس منظر اور اس عمل میں مختلف سیاسی قوتوں کے کردار پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان واقعات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ محض روایتی قومی بیانیوں پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اصل دستاویزات، معاصر اخبارات، سرکاری ریکارڈ اور مختلف مؤرخین کی تحقیقات کی روشنی میں غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ تاریخ کا مقصد کسی شخصیت کو بلا تحقیق مجرم یا ہیرو قرار دینا نہیں، بلکہ یہ جاننا ہے کہ کون سے فیصلے کس پس منظر میں کیے گئے، ان کے پیچھے کون سے مفادات کارفرما تھے اور ان کے نتائج ریاست کے عوام کے لیے کیا ثابت ہوئے یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا تھا تو پھر عوام کی سیاسی نمائندگی، حقِ رائے دہی اور آزادانہ تنظیم سازی کو عملی طور پر کس حد تک تحفظ دیا گیا ؟ریاست میں 1934ء سے انتخابی عمل شروع ہونے اور بعد کے سیاسی ارتقا کی تاریخ اس بحث کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ 1938ء میں سیاسی سرگرمیوں کے نئے مراحل سامنے آئے اور جنوری 1947ء میں بھی انتخابات ہوئے۔ تاہم ان انتخابات کی نوعیت، حقِ رائے دہی کی حدود اور سیاسی نمائندگی کے حقیقی دائرے کا جائزہ لیتے وقت اس دور کے انتخابی قوانین، ووٹرز کی اہلیت اور دستیاب تاریخی ریکارڈ کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اس کے باوجود یہ سوال آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے کہ ایک ایسی ریاست کے عوام، جن کے مستقبل کا فیصلہ بین الاقوامی سطح پر متنازعہ رہا ہے اپنے سیاسی مستقبل کے تعین میں حقیقی اختیار کیوں حاصل نہ کر سکے ؟

ریاست جموں و کشمیر میں 1947ء کے بعد جمہوری اداروں کی تشکیل کا سفر بھی مختلف مراحل سے گزرا ہے بلدیاتی انتخابات، محدود نمائندگی کے نظام اور بعد میں ہونے والے انتخابی تجربات کے باوجود یہ بحث جاری رہی کہ عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے میں کس حد تک آزادانہ اختیار حاصل ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں نافذ آئینی و قانونی ڈھانچے، بالخصوص ایکٹ 1974ء، پر بھی مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق اس نظام میں سیاسی اظہار اور ریاستی حیثیت سے متعلق بعض موضوعات پر پابندیاں یا حدود موجود ہیں جبکہ اس کے حامی اپنے موقف میں انتظامی استحکام اور آئینی بندوبست کو اہم قرار دیتے ہیں۔ اس بحث کا اصل تقاضہ یہ ہے کہ عوامی نمائندگی، سیاسی آزادیوں، آئینی حقوق اور ریاستی تشخص کے سوالات کو کھلے مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے نہ کہ انہیں اختلاف یا تصادم کا سبب بننے دیا جائے 4 اکتوبر کو یومِ جمہوریہ کے طور پر منانے یا اس دن کے تاریخی کردار پر سوال اٹھانے کی بحث بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ اگر کسی دن کو قومی یا ریاستی تاریخ میں خصوصی مقام دیا جاتا ہے تو اس کے پس منظر، مقاصد اور نتائج پر سوال اٹھانا علمی و سیاسی مکالمے کا جائز حصہ ہے۔ کسی تاریخی دن کی اہمیت کا تعین صرف سرکاری تقریبات یا روایتی نعروں سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس بات سے بھی ہونا چاہیے کہ اس کے بعد عوام کو کون سے حقوق حاصل ہوئے ہیں کون سی آزادیاں برقرار رہی ہیں اور کون سے بنیادی سوالات آج تک جواب طلب ہیں۔ اگر عوام کے ایک طبقے کا مؤقف ہے کہ 1947ء کے واقعات کے بعد ان کے سیاسی اور جمہوری حقوق محدود ہوئے تو اس مؤقف کو تاریخی دستاویزات اور شواہد کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔ اسی طرح اس دن کو قومی جدوجہد کی علامت سمجھنے والوں کے مؤقف کو بھی سنے بغیر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ سے سبق اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب سوالات کے دروازے بند نہ کیے جائیں۔جوناگڑھ کی ریاست کا معاملہ بھی اس تاریخی بحث میں اکثر پیش کیا جاتا ہے۔ جوناگڑھ مسلم حکمران اور ہندو اکثریتی آبادی والی ریاست تھی، جبکہ ریاست جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کے باوجود حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ہندو تھے۔ جوناگڑھ کے حکمران نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جس کے بعد بھارت نے وہاں مداخلت کی اور بالآخر 1948ء میں رائے شماری کے نتیجے میں جوناگڑھ بھارت کا حصہ قرار پایا۔ بعض مبصرین ان واقعات اور کشمیر کے معاملے میں مماثلت تلاش کرتے ہیں جبکہ دونوں ریاستوں کے قانونی، جغرافیائی اور سیاسی حالات میں نمایاں فرق بھی موجود تھا۔ اس لیے جوناگڑھ کو کشمیر کے لیے کسی ایک مکمل اور قطعی نمونے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے دونوں معاملات کا تقابلی مطالعہ کرنا زیادہ مناسب ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاستوں اور ان کے عوام کے مستقبل کے فیصلوں میں یکساں اصول اختیار کیے گئے، اور کیا عوام کی خواہشات کو ہر معاملے میں یکساں اہمیت دی گئی ؟ آج 2026ء میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتِ حال ایک مرتبہ پھر تاریخ سے سبق سیکھنے کا تقاضہ کر رہی ہے۔ عوامی حقوق کی تحریک، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات، احتجاجی دھرنوں، طویل بندشوں اور حکومتی معاہدوں پر عمل درآمد سے متعلق تنازعات نے ریاست کے سیاسی ماحول کو شدید متاثر کیا ہے۔ مختلف علاقوں میں کرفیو، لاک ڈاؤن، وردی اور سول کپڑوں میں ملبوس اسلحہ بردار فورسز کی تعیناتی اور شہریوں کے خلاف طاقت کے مبینہ استعمال سے متعلق اطلاعات نے عوامی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ ان حالات میں حکومتی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر اقدام کی قانونی بنیاد واضح کرے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے، گرفتاریوں اور پابندیوں کے معاملات میں قانون کی پاسداری کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔ اسی طرح عوامی تحریکوں کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو منظم، واضح اور پُرامن جمہوری طریقے سے پیش کرے اور عام شہریوں کی سلامتی کو ہر حال میں مقدم رکھے ریاست کے عوام کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی تنازعہ میں افواہیں، غیر مصدقہ اطلاعات اور اشتعال انگیز دعوے حالات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ اگر کہیں سول کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد کی موجودگی، کسی مخصوص کارروائی یا شہریوں پر حملے کی اطلاع سامنے آتی ہے تو اس کی تصدیق، شواہد کا تحفظ اور ذمہ دار اداروں سے جواب طلب کرنا ضروری ہے۔ ہر الزام کو تحقیق کے بغیر حتمی حقیقت قرار دینا درست نہیں، لیکن ہر شکایت کو نظر انداز کرنا بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی اسی وقت ممکن ہے جب واقعات کی شفاف تحقیقات ہوں، ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور قانون کا اطلاق بلا امتیاز ہو پاکستان کے حکمرانوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی حکومت کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ریاستی عوام کے مسائل کو محض امن و امان کا مسئلہ قرار دے کر حل نہیں کیا جا سکتا۔ بجلی، آٹے، روزگار، تعلیم، صحت، قدرتی وسائل پر اختیار، سیاسی نمائندگی اور بنیادی انسانی حقوق جیسے مطالبات کا تعلق شہریوں کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ ان مطالبات کو سنجیدگی سے سننا اور طے شدہ معاہدوں پر عمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر عوام کو بار بار احتجاج پر مجبور ہونا پڑے اور مذاکرات کے بعد کیے گئے وعدے پورے نہ ہوں تو اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ اس بحران کا حل طاقت کے مزید استعمال میں نہیں بلکہ مؤثر مذاکرات، شفاف حکمرانی، آئینی اصلاحات اور عوامی احتساب میں پوشیدہ ہے۔

اگر عوام اپنے حقوق، وسائل پر اختیار، معاشی انصاف اور سیاسی آزادیوں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو ان کے مطالبات کا جواب مذاکرات، قانون اور جمہوری عمل کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔

ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنی تاریخ کا مطالعہ جذباتی نعروں کے بجائے تحقیق اور دلیل کی بنیاد پر کریں۔ قومی آزادی، خودمختاری، جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے تصورات صرف تقریروں سے حقیقت نہیں بنتے۔ ان کے لیے مضبوط سیاسی شعور، منظم عوامی جدوجہد، باہمی اتحاد، اختلافِ رائے کا احترام اور پُرامن جمہوری عمل ضروری ہے۔ عوامی تحریکوں کو بھی اپنی صفوں میں شفافیت، جواب دہی اور غیر متشدد سیاسی جدوجہد کے اصولوں کو مضبوط بنانا چاہیے کیونکہ کسی بھی تحریک کی پائیدار قوت اس کے عوامی اعتماد اور اخلاقی اصولوں سے جنم لیتی ہے پاکستان کے عوام کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور ان کی عذت و سلامتی کا تحفظ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع انسانی اور سیاسی ذمہ داری ہے۔ پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان تاریخی، سماجی اور خاندانی رشتے اپنی جگہ موجود ہیں لیکن ان رشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اختلافات کو دبانے کے بجائے سنا جائے عوامی شکایات کو تسلیم کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو بداعتمادی اور نفرت کو بڑھا سکتے ہیں۔ کسی بھی خطے میں پائیدار امن اسی وقت قائم ہوتا ہے جب وہاں کے عوام خود کو محفوظ، بااختیار اور باعذت محسوس کریں ریاست جموں و کشمیر کا مستقبل صرف ماضی کے واقعات کو دہرانے یا ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ 1947ء کے واقعات، ریاست کی تقسیم، معاہدۂ کراچی، سیاسی نمائندگی کے نظام، عوامی حقوق کی جدوجہد اور موجودہ حالات کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے۔ جو فیصلے عوام کے حق میں ثابت ہوئے، ان سے سبق لیا جائے اور جن اقدامات نے تقسیم، محرومی یا تصادم کو جنم دیا، ان کا دیانت داری سے جائزہ لیا جائے۔ تاریخ کو کسی ایک طبقے کی جاگیر بنانے کے بجائے اسے پوری قوم کے لیے سیکھنے کا ذریعہ بنانا ہوگا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے حکمران، پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے حکمران، سیاسی جماعتیں، عوامی تحریکوں کی قیادت، صحافی، دانش ور اور عام شہری ایک بنیادی اصول پر متفق ہوں ریاست کے عوام کی جان، عذت، آزادی اور بنیادی حقوق ہر سیاسی مفاد سے مقدم ہیں۔ ریاست کو بچانے کا مطلب صرف اس کی جغرافیائی حدود کی بات کرنا نہیں بلکہ اس کے لوگوں کو خوف، محرومی، تشدد اور بے اختیاری سے محفوظ بنانا بھی ہے۔ اگر عوام محفوظ نہیں، اگر ان کی آواز نہیں سنی جاتی، اگر ان کے وسائل اور سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلوں میں انہیں مؤثر اختیار حاصل نہیں تو ریاستی استحکام کا دعویٰ بھی سوالات سے خالی نہیں رہ سکتا ہے

یہ وقت الزام تراشی، انتقام اور مزید تصادم کا نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے، تاریخی تحقیق اور عوامی حقوق کے احترام کا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو منظم، باشعور اور پُرامن انداز میں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے جبکہ حکمرانوں کو طاقت کے بجائے دلیل، خوف کے بجائے اعتماد اور وعدوں کے بجائے عملی اقدامات سے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اگر تاریخ کے تلخ تجربات سے سبق نہ سیکھا گیا تو آنے والی نسلیں بھی انہی سوالات کے سامنے کھڑی ہوں گی جن کے جواب آج تک تلاش کیے جا رہے ہیں۔

ریاست بھی بچانی ہے عوام بھی بچانے ہیں اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی محفوظ بنانا ہے چونکہ سب سے خطر ناک کام یہ ہو رہا ہے کہ ریاست میں پیرا ملٹری فورسز اور سول کپڑوں میں ملبوس اسلحہ برداروں کو داخل کیا جارہا ہے جو ہر علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں اور ڈرون حملوں سے نہتے شہریوں کو شہید و زخمی کیا جا رہا ہے اس کے لیے تاریخ کو سمجھنا، حقائق کو تسلیم کرنا، انسانی جانوں کا احترام کرنا اور عوامی حقوق کو یقینی بنانا ناگزیر ہے یہی اس تحریر کا بنیادی پیغام اور وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے ۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں