پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے حکمرانوں، بیوروکریٹس، پولیس آفیسران و پولیس اہلکاروں سے سوال کیا آپ بااختیار ہیں یا پاکستان کے وائسرائے چیف سیکرٹری اور آئی جی پی ہیں ۔؟ کیا آپ کی رگوں میں کشمیری باپوں کا خون دوڑتا ہے ۔؟ کیا آپ نے کشمیری ماؤں کا دودھ پی رکھا ہے ۔؟ اگر یہ درست ہے تو پھر تمہاری غیرت کہاں مر گئی ۔؟
اسلام آباد پولیس، پنجاب کانسٹیبلری اور سندھ رینجرز کو کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ تحریک کے اسیران کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنائیں ۔؟ ریاست جموں و کشمیر اور کشمیری عوام کو غلیظ گالیاں کیوں دی جاتی ہیں ۔؟ اسلام آباد پولیس کے وہ اہلکار جو راولاکوٹ سے قیمتی اشیاء چوری کرکے لے جاتے ہوئے پکڑے گئے تھے ان کے خلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا ۔؟ ایس ایچ او راولاکوٹ راجہ اصغر سمیت دیگر پولیس اہلکار کیوں دلال بنے ہوئے ہیں ۔؟ گرفتار شدگان کے لواحقین سے لاکھوں روپے رشوت کون وصول کر رہا ہے ۔ ؟
بیرونِ ممالک سے آنے والے نوجوانوں کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر کیوں گرفتار کیا گیا ہے ؟ انہیں عقوبت خانوں میں کیوں رکھا گیا ہے ؟ ان سے چھینے گئے لاکھوں روپے کے ریال اور قیمتی سامان کہاں گیا ؟ انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے ۔؟ گرفتار شدگان کو عدالتوں میں پیش کیوں نہیں کیا جا رہا ۔؟ عدالتیں کہاں ہیں ؟ آئین کہاں ہے ؟ قانون کہاں ہے ؟ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر جیسے متنازعہ اور حساس خطے میں پاکستانی فورسز نے چار ماہ سے نہتے عوام پر ظلم و بربریت کیوں شروع کر رکھی ہے ؟ لوٹ مار کیوں کی گئی ؟ املاک کو نقصان کس نے پہنچایا ؟ پاکستانی جارحیت کا ذمہ دار کون ہے ؟ ظلم کا حساب کون دے گا ؟ یاد رکھو ! قیامت کے دن اللہ کی عدالت ضرور لگے گی۔ اس دن نہ عہدے کام آئیں گے، نہ اختیارات، نہ وردیاں اور نہ ہی طاقت۔ مظلوم کشمیری عوام کے ہاتھ ہوں گے اور تمہارے گریباں ہوں گے۔ اس دن ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا اور ہر مظلوم کی فریاد سنی جائے گی ۔

تبصرے (0)