مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

جناح کی شہ رگ اور سردار ابراہیم خان کا پاکستان!

عوامی حقوق کے مطالبات پر ریاستی تشدد اور فائرنگ نے ریاست کے وجودی فلسفے پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کیا گولی اور لاشوں کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے؟ تلخ حقائق جاننے کے لیے یہ تجزیہ ضرور پڑھیں۔

خلاصہ

عوامی حقوق کے مطالبات پر ریاستی تشدد اور فائرنگ نے ریاست کے وجودی فلسفے پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کیا گولی اور لاشوں کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے؟ تلخ حقائق جاننے کے لیے یہ تجزیہ ضرور پڑھیں۔

Summary in English

State violence and gunfire in response to demands for public rights have raised serious questions about the existential philosophy of the state. Can the public's trust be gained through bullets and corpses? Read this analysis to uncover the bitter realities.

جناح کی شہ رگ اور سردار ابراہیم خان کا پاکستان!

دھندناتے ہوئے سپاہیوں نے جب شہر کو لوٹا، عوام پر گولیاں برسائیں اور ظلم و جبر کی انتہا کر دی تو سوال صرف یہ نہیں تھا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں پر ظلم کیوں ہوا؛ اصل سوال یہ تھا کہ جس خطے کو محمد علی جناح نے اپنی شہ رگ قرار دیا، اس کی شہ رگ میں گولیاں اتار کر آخر کس پاکستان کی حفاظت کی جا رہی تھی؟ جس پاکستان کا خواب سردار ابراہیم خان اور ان کے ہم عصر رہنماؤں نے دیکھا تھا، کیا اس خواب کی تعبیر یہی تھی کہ اپنے حقوق مانگنے والے لوگوں کے سینوں میں گولیاں اتاری جائیں، ان کے کاروبار اجاڑے جائیں اور ان کے گھروں میں ماتم بچھا دیا جائے؟

اگر عوام کے مطالبات غلط تھے تو ان کا جواب دلیل سے دیا جاتا۔ اگر مطالبات قابلِ قبول نہیں تھے تو مذاکرات کی میز پر انکار کیا جاتا۔ اگر کوئی مطالبہ قانون کے خلاف تھا تو قانون کے مطابق اس کی وضاحت کی جاتی۔ مگر گولی کس قانون کی دلیل تھی؟ بندوق کس مطالبے کا جواب تھی؟ اور لاشیں گرا کر آخر کون سا سیاسی مقدمہ جیتا گیا؟

کیا ریاست اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ چند مطالبات برداشت نہ کر سکی، یا اسے عوام کی وہ اجتماعی طاقت ناقابلِ برداشت محسوس ہونے لگی تھی جو روایتی سیاسی اشرافیہ کے سامنے ایک متبادل بن کر کھڑی ہو رہی تھی؟

پانچ جون کے واقعات نے صرف ایک شہر کے سکون کو نہیں توڑا، بلکہ ان تصورات کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جن کے سہارے ریاست، وطن، شہ رگ اور قومی وابستگی کی عمارت کھڑی کی جاتی رہی ہے۔ جن جذبات کو برسوں سے وفاداری کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، انہی جذبات کے سامنے جب بندوق کھڑی ہوئی تو ایک نئی نسل نے سوال کرنا شروع کر دیا کہ وطن آخر ہوتا کیا ہے؟ کیا وطن صرف نقشے پر کھینچی گئی ایک لکیر ہے، یا وہ احساس ہے جس میں شہری کی جان محفوظ ہو، اس کی عزت برقرار رہے، اس کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور اس کے اختلاف کو غداری نہ سمجھا جائے؟

اگر وطن سے محبت کا ثبوت خاموشی ہے تو پھر انصاف مانگنے والے کہاں کھڑے ہوں گے؟ اگر وفاداری کا مطلب ہر ظلم پر سر جھکا دینا ہے تو پھر آزادی، جمہوریت اور انسانی وقار کے الفاظ کس کام کے ہیں؟ اور اگر عوام کی محبت کو طاقت کے زور پر آزمایا جائے تو کیا یہ ممکن ہے کہ محبت ہر بار بندوق ہی کے حق میں فیصلہ دے؟

یہ وہ سوالات ہیں جنہیں گولیوں کی آواز سے دبانے کی کوشش تو کی جا سکتی ہے، مگر تاریخ کے حافظے سے مٹایا نہیں جا سکتا۔

ریاستی تشدد کے نتیجے میں گرنے والی لاشیں محض گنتی کے چند اعداد نہیں ہوتیں۔ ہر لاش کے پیچھے ایک گھر ہوتا ہے، ایک ماں ہوتی ہے، ایک باپ ہوتا ہے، ایک بیوی ہوتی ہے، بچے ہوتے ہیں اور مستقبل کے وہ خواب ہوتے ہیں جنہیں کسی سرکاری نوٹیفکیشن میں واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اگر کسی مقتول کی شناخت یا اس کے خاندان کے ساتھ انصاف سے انکار کیا جائے تو سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے: کیا شہری کی موت کے بعد بھی اس کی شناخت ریاست کی اجازت کی محتاج ہے؟ کیا انصاف صرف اسی کو ملے گا جس کے حق میں طاقت ور حلقے بولنے پر آمادہ ہوں؟

لاشوں کو شناخت دینے سے انکار کرنے والے یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ شناخت چھین لینے سے انسان کی تاریخ ختم نہیں ہوتی؟

انسان کو بے نام کر دینے سے اس کی قربانی بے معنی نہیں ہو جاتی۔ اس کے برعکس، جب ادارے کسی شہری کی تکلیف سننے سے انکار کرتے ہیں تو اس کی کہانی لوگوں کی یادداشت میں زیادہ گہرائی سے اترتی ہے۔ یہی یادداشت کبھی سوال بنتی ہے، کبھی احتجاج اور کبھی ایک نئے سماج کی بنیاد۔

لیکن ایک بات واضح رہنی چاہیے: کسی بھی نئے سماج کی بنیاد نفرت، انتقام یا مزید لاشوں پر نہیں رکھی جا سکتی۔ اگر کل کے مظلوم آج طاقت پا کر وہی ظلم دہرانے لگیں تو انہوں نے صرف ظالم کا چہرہ بدلا ہوگا، نظام نہیں۔ حقیقی تبدیلی یہ نہیں کہ آج ایک طبقہ دوسرے کو خاموش کرا دے؛ حقیقی تبدیلی یہ ہے کہ کل کسی کو بھی کسی دوسرے کی آواز خاموش کرانے کا اختیار حاصل نہ ہو۔

ایک شہر کی تباہی، ہزاروں سوال

جانی نقصان کا ازالہ کیسے ہوگا؟ کیا کسی ماں کو اس کا بیٹا واپس مل سکتا ہے؟ کیا کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ دوبارہ اٹھایا جا سکتا ہے؟ کیا کسی گھر میں بچھا ماتم معاوضے کی رقم سے ختم ہو سکتا ہے؟ مالی نقصان کا حساب شاید رجسٹروں میں لکھا جا سکے، مگر انسانی نقصان کا حساب کون سی کتاب رکھے گی؟

اور یہ صرف انسانی جانوں کا معاملہ نہیں۔ یہ اس محنت کش طبقے کی کہانی بھی ہے جس نے اپنی عمر کی جمع پونجی دکانوں، گاڑیوں، چھوٹے کاروباروں اور روزگار کے ذرائع میں لگائی۔ یہ ان تاجروں کی کہانی ہے جو صبح اپنی دکان کا شٹر اٹھاتے ہوئے صرف منافع نہیں گنتے تھے، بلکہ بچوں کی فیس، گھر کا راشن، والدین کی دوائیں اور ملازموں کے گھروں کے چولہے بھی چلاتے تھے۔

آج اسی شہر کے ایک جنرل اسٹور میں لاکھوں روپے کا سامان پڑا ہے، مگر دس لاکھ روپے سے زائد مالیت کا سامان ایکسپائر ہو چکا ہے۔ جو سامان ابھی ایکسپائر نہیں ہوا، اسے چوہے کتر رہے ہیں۔ جن شیلفوں پر کبھی کاروبار کی رونق تھی، وہاں اب نقصان کی خاموشی ہے۔ یہ چوہے صرف سامان نہیں کتر رہے؛ یہ اس محنت کو بھی کھا رہے ہیں جس میں کسی شخص نے برسوں اپنی زندگی لگا دی تھی۔

یہ منظر محض ایک دکان کی تباہی نہیں، ایک پورے معاشی نظام کے لیے سوال ہے۔ جب شہر بند ہوتے ہیں، کاروبار رک جاتے ہیں، سڑکیں غیر محفوظ ہو جاتی ہیں اور لوگ خوف کے سائے میں زندگی گزارنے لگتے ہیں تو سب سے پہلے وہی لوگ مرتے ہیں جو روزانہ کی کمائی پر زندہ ہوتے ہیں۔ بڑے سرمایہ دار کچھ عرصہ نقصان برداشت کر سکتے ہیں، مگر چھوٹا تاجر ایک طویل بندش کے بعد دوبارہ کھڑا ہونے کی طاقت بھی کھو سکتا ہے۔

یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ اس دکاندار کا دس لاکھ روپے کا نقصان کون پورا کرے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس کے ملازمین کا کیا ہوگا؟ اس کے قرض خواہوں کو ادائیگی کیسے ہوگی؟ اس کے بچوں کی تعلیم کیسے جاری رہے گی؟ اس کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ اور جو چھوٹا کاروباری شخص اس نقصان کے بعد ہمیشہ کے لیے کاروبار سے باہر ہو جائے گا، اس کے خاندان کو کون سنبھالے گا؟

کیا امن و امان کی ذمہ داری صرف عوام پر ہے، یا ان اداروں پر بھی ہے جن کے پاس طاقت، وسائل اور فیصلے کرنے کا اختیار موجود ہے؟

اگر امن قائم رکھنے کے نام پر ہونے والے اقدامات ہی شہریوں کے روزگار کو تباہ کر دیں تو ان اقدامات کے نتائج کا حساب کون دے گا؟ اگر سرکاری فیصلوں سے عوام کو نقصان پہنچے تو معاوضہ مانگنا جرم کیوں سمجھا جائے؟ اور اگر ریاست شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری لیتی ہے تو کیا اس ذمہ داری میں ان کی جان کے ساتھ ان کے روزگار اور املاک کا تحفظ بھی شامل نہیں؟

حقیقی تبدیلی یہ نہیں کہ آج ایک طبقہ دوسرے کو خاموش کرا دے؛ حقیقی تبدیلی یہ ہے کہ کل کسی کو بھی کسی دوسرے کی آواز خاموش کرانے کا اختیار حاصل نہ ہو۔

یہ سوال کسی ایک حکومت، ایک ادارے یا ایک افسر سے آگے بڑھ کر پورے نظام سے ہے۔ کیونکہ جب طاقت جواب دہ نہ رہے تو قانون کمزور اور شہری بے بس ہو جاتا ہے۔ پھر انصاف حق نہیں رہتا، کسی کی مہربانی بن جاتا ہے۔

نئی نسل: شہ رگ سے شہری تک

اس سارے المیے کا شاید سب سے گہرا اثر آنے والی نسل پر پڑے گا۔ وہ بچے جو آج اپنے بڑوں کو خوف، غصے، نقصان اور بے بسی میں دیکھ رہے ہیں، کل بڑے ہو کر ریاست، وطن اور سیاست کو اپنے تجربات کی روشنی میں سمجھیں گے۔ انہیں صرف نصابی کتابوں میں لکھی وفاداری کی تعریفیں مطمئن نہیں کریں گی؛ وہ پوچھیں گے کہ جب ہمارے بڑوں نے اپنے حقوق مانگے تھے تو ان کے ساتھ کیا ہوا؟ جب ان کے کاروبار تباہ ہوئے تو ان کا ہاتھ کس نے تھاما؟ جب ان کے گھروں میں لاشیں پہنچیں تو انصاف کا دروازہ کس نے کھولا؟

یہی وہ مقام ہے جہاں ایک نئی سوچ جنم لیتی ہے۔

ممکن ہے آنے والی نسل اپنے بزرگوں کی طرح جذباتی نعروں سے اپنی شناخت متعین نہ کرے۔ ممکن ہے وہ اپنے آپ کو کسی ریاست کی شہ رگ یا کسی سیاسی منصوبے کا حصہ سمجھنے کے بجائے سب سے پہلے ایک عام شہری سمجھے؛ ایسا شہری جسے تعلیم چاہیے، روزگار چاہیے، امن چاہیے، عزت چاہیے اور قانون کے سامنے برابری چاہیے۔

یہ تبدیلی کسی ایک ملک سے نفرت کا اعلان نہیں، بلکہ اپنے حقوق کو اپنی شناخت کا بنیادی حصہ بنانے کا عمل بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ راستہ تبھی تعمیری ہوگا جب نئی نسل غصے کو شعور میں، دکھ کو مطالبۂ انصاف میں اور محرومی کو اجتماعی تعمیر میں بدلے گی۔

سوال یہ نہیں کہ نئی نسل کس سے محبت کرے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا سماج بنا سکیں گے جہاں کسی شہری کو اپنی محبت ثابت کرنے کے لیے اپنے حقوق سے دست بردار نہ ہونا پڑے؟ جہاں پاکستان سے وابستگی رکھنے والا بھی ریاستی پالیسی پر تنقید کر سکے، جہاں اختلاف کرنے والے کو دشمن نہ سمجھا جائے، جہاں وطن سے محبت اور حکمرانوں سے اختلاف ایک ساتھ ممکن ہوں؟

کیونکہ ایک صحت مند معاشرے میں ریاست شہریوں سے اندھی وفاداری نہیں مانگتی؛ وہ اپنے عمل سے ان کا اعتماد حاصل کرتی ہے۔

نئے سماج کی بنیاد کیا ہوگی؟

نیا سماج صرف پرانے چہروں کو ہٹا کر نئے چہرے بٹھانے سے وجود میں نہیں آئے گا۔ اگر آج کی سیاسی اشرافیہ کی جگہ کل کوئی نئی اشرافیہ آ بیٹھے، اگر آج کے طاقت ور کی جگہ کل کوئی دوسرا طاقت ور آ جائے، اگر آج عوام کی آواز دبانے والے کل عوامی نمائندے بن کر وہی طرزِ عمل اختیار کر لیں، تو پھر یہ تبدیلی نہیں، صرف کرداروں کی تبدیلی ہوگی۔

نئے سماج کی بنیاد چند بنیادی اصولوں پر رکھنا ہوگی۔

  • انصاف: ہر انسانی جان کی حرمت، ہر شہری کے لیے قانون کا یکساں اطلاق اور ہر جانی نقصان کی شفاف تحقیقات۔
  • جوابدہی: طاقت رکھنے والے ہر ادارے اور ہر عہدے دار سے اس کے فیصلوں اور اقدامات کا حساب۔
  • امن: ایسا امن جو خوف، خاموشی اور جبر سے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور شہریوں کے تحفظ سے پیدا ہو۔
  • معاشی بحالی: متاثرہ تاجروں، مزدوروں، ٹرانسپورٹروں اور چھوٹے کاروباروں کے نقصان کا منصفانہ جائزہ اور شفاف طریقۂ ازالہ۔
  • سیاسی شعور: ایسا عوامی نظام جہاں قیادت شخصیات کی عقیدت پر نہیں، کارکردگی، اصولوں اور عوامی جواب دہی پر قائم ہو۔
  • انسانی وقار: ایسا معاشرہ جہاں کسی کی سیاسی وابستگی، نظریے یا اختلاف کی وجہ سے اس کی جان، روزگار اور عزت خطرے میں نہ پڑے۔

یہ اصول محض تقریروں کی زینت نہیں ہونے چاہییں۔ انہیں اداروں، عدالتوں، بازاروں، اسکولوں، سیاسی تنظیموں اور روزمرہ زندگی میں نظر آنا چاہیے۔ ورنہ نیا سماج بھی پرانے سماج کا نیا نام ہوگا۔

اور یہ بھی ضروری ہے کہ انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی پوری قوم، کسی عام سپاہی یا کسی طبقے کو اجتماعی مجرم نہ ٹھہرایا جائے۔ ذمہ داری ان افراد اور اداروں پر متعین ہونی چاہیے جن کے فیصلوں، احکامات یا ثابت شدہ اقدامات سے نقصان ہوا۔ اجتماعی نفرت انصاف کا متبادل نہیں؛ شفاف تحقیقات، ثبوت اور قانون ہی وہ راستہ ہیں جو مظلوم کو حق اور معاشرے کو امن دے سکتے ہیں۔

آخری سوال: جناح کی شہ رگ کس کے لیے؟

آج سوال محمد علی جناح کے تصورِ پاکستان سے بھی ہے اور سردار ابراہیم خان کے خواب سے بھی۔ کیا ان تصورات کا مقصد محض جغرافیہ تھا، یا ایک ایسی اجتماعی زندگی بھی تھی جس میں انسان اپنے وقار کے ساتھ جی سکے؟ کیا کسی خطے کی اہمیت صرف اس کے سیاسی محلِ وقوع سے طے ہوتی ہے، یا وہاں بسنے والے انسانوں کی جان، آزادی اور خوش حالی بھی اتنی ہی اہم ہے؟

اگر شہ رگ سے مراد صرف زمین ہے تو پھر اس زمین پر بسنے والے انسانوں کی حیثیت کیا ہے؟ اگر پاکستان سے محبت کا تقاضا شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے تو پھر ان حقوق کے مطالبے کو خطرہ کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اور اگر ایک سیاسی تحریک اپنے مطالبات کے لیے مذاکرات کرتی ہے، نوٹیفکیشن حاصل کرتی ہے اور عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے طاقت کے بجائے سیاسی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھنے کا موقع کیوں نہیں دیا جا سکتا؟

میں نہیں جانتا کہ جناح کی شہ رگ کا مستقبل کیا ہوگا، سردار ابراہیم خان کے پاکستان کا تصور آنے والے زمانے میں کس شکل میں یاد رکھا جائے گا، یا آج کے سیاسی تنازعات تاریخ میں کس نام سے درج ہوں گے۔ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس شہر کے عام شہریوں کی قربانیوں، تاجروں کے نقصانات، مزدوروں کی بے روزگاری اور خاندانوں کے دکھ کو نظر انداز کرکے کسی پائیدار امن کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔

ایک دکان کا ایکسپائر سامان صرف کاروباری نقصان نہیں؛ یہ اس وقت کا ثبوت ہے جو ضائع ہوا، اس محنت کا نشان ہے جو بے کار گئی اور اس اعتماد پر سوال ہے جس کے بغیر کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ ایک گولی صرف ایک جسم کو زخمی نہیں کرتی؛ وہ ریاست اور شہری کے درمیان قائم اعتماد کو بھی زخمی کر سکتی ہے۔ اور جب اعتماد زخمی ہوتا ہے تو اسے نعروں، تقریروں یا طاقت کے مظاہروں سے بحال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے سچ تسلیم کرنا، ذمہ داری طے کرنا، انصاف فراہم کرنا اور نقصان کا ازالہ کرنا پڑتا ہے۔

ہمیں ایسا سماج نہیں چاہیے جہاں آج کے مظلوم کل کے ظالم بن جائیں۔ ہمیں ایسا سماج چاہیے جہاں ظلم کرنے والا کوئی بھی ہو، اس کا احتساب ہو؛ جہاں اختلاف کرنے والا محفوظ ہو؛ جہاں دکاندار اپنی دکان، مزدور اپنا روزگار، بچہ اپنا مستقبل اور شہری اپنی جان محفوظ سمجھ سکے۔

یہی نئے سماج کا اصل امتحان ہے۔

کیونکہ تاریخ میں زندہ رہنے کے لیے صرف قربانی دینا کافی نہیں ہوتا؛ قربانی سے وہ اصول بھی پیدا کرنے پڑتے ہیں جو آنے والی نسلوں کو ایک بہتر زندگی دے سکیں۔ اگر ان قربانیوں کے بعد بھی انصاف نہ آیا، اگر امن پھر بھی بندوق کا محتاج رہا، اگر سیاسی قیادت پھر بھی جواب دہ نہ ہوئی اور اگر عام آدمی پھر بھی اپنے حق کے لیے خوف زدہ رہا، تو ہم نے صرف ایک المیہ برداشت کیا ہوگا، اس سے سبق نہیں سیکھا ہوگا۔

اور اگر ان قربانیوں سے ایسا سماج جنم لیتا ہے جہاں انسان کی جان سیاست سے بڑی، انصاف طاقت سے بلند اور شہری کا وقار ہر نعرے سے مقدم ہو، تو یہی اس جدوجہد کا سب سے بامعنی تاریخی نتیجہ ہوگا۔

ہمیں شہ رگ کے دعووں سے پہلے انسان کی نبض کی فکر کرنا ہوگی۔ ہمیں پاکستان یا کسی بھی سیاسی شناخت کے نام پر خاموش شہری نہیں، اپنے حقوق سے باخبر اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے والے انسان پیدا کرنے ہوں گے۔ ہمیں ایسا امن چاہیے جس میں بندوق خاموش ہو، عدالت بیدار ہو، بازار آباد ہو اور عوام خوف کے بغیر سوال کر سکیں۔

کیونکہ جس سماج میں سوال کرنے والے شہری محفوظ ہوں، وہاں انصاف کے زندہ رہنے کی امید باقی رہتی ہے؛ اور جس سماج میں انصاف زندہ ہو، وہاں امن کو بندوق کے سہارے زندہ رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں