مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

کشمیر میں کیا ہو رہا ہے ؟

کشمیر میں غاصب طبقے کے جبر کے سامنے عوام حقوق کے لیے ڈٹ گئے۔ خطے میں جاری اس سنگین بحران کے اسباب اور حل جاننے کے لیے تفصیلی تحریر پڑھیے۔

خلاصہ

کشمیر میں غاصب طبقے کے جبر کے سامنے عوام حقوق کے لیے ڈٹ گئے۔ خطے میں جاری اس سنگین بحران کے اسباب اور حل جاننے کے لیے تفصیلی تحریر پڑھیے۔

Summary in English

In Kashmir, the people have stood firm for their rights in the face of oppression by the usurping class. Read the detailed article to understand the causes of and solutions to this severe ongoing crisis in the region.

کشمیر میں کیا ہو رہا ہے ؟

کشمیر میں کیا ہو رہا ہے ؟

جواب کشمیر میں محروم اور غاصب کی طبع آزمائی ہو رہی !

کون جیتا کون ہارا؟

غریب مائیں مجبور باپ بے بس بچے لاچار بیوائیں ہار گئی غاصب کی بندوق غاصب کی مسند غاصب کا جاہ و ہشم غاصب کا پروٹوکول جیت رہا

وہ کیسے ؟

وہ ایسے کہ گزشتہ تین سال اور امسال  جون ۵ -۲۰۶۷ سے غاصب نے محروم کو مجبور کر کے اس کے جائز انسانی بنیادی حقوق سے دستبردار کرنے کے لیے وحشت بربریت اور انسانیت سوز جبر روا رکھ کر انہیں پسپا کرنے کی کوشش کی ۔

تو کیا محروم پسپا ہوا ؟

نہیں کشمیر کا ہر جرات مند حق حلال کی محنت سے روزی کمانے والا ڈٹ گیا اس نے غاصب کو للکارا اور کہا میں نہتا ہو لیکن ناتوا نہیں میں محروم ہو لیکن بے ضمیر نہیں میں زیر تسلط ہو لیکن مجبور نہیں میں پسپا نہیں ہو گا میں دستبردار نہیں ہو گا میں شہید ہو جاوں گا میں کٹ جاوں گا لیکن باطل غاصب کے سامنے جھکوں گا نہیں ۔

غاصب ہے کون؟

غاصب اس قوم کا ہی حصہ غاصب وہ احسان فراموش ہے جس نے ہمیشہ چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو بےقوف بنایا اور اقتدار کے ایوانوں میں دھاندلی رشوت ستانی اور سفارش سے پہنچا اور اس نے ریاست کے باہر سے آنے والوں آقاوں کی خوشنودی میں اپنوں کا ناحق خون بہایا ۔

وہ آئی جی جس کی واحد قابلیت صرف اس کی انسانیت کش انسان مخالف سوچ ہے جس نے چار ماہ کے اندر کشت و خون میں کم و بیش ۱۱۰ مظلموم کشمیریوں کا خون بہادیا ۔

باہر سے آنے والے آقا کون ہیں ؟

باہر سے آنے والے آقا جاتی امرا سے آتے زرداری ہاوس سے آتے

بس کیا یہی آقا ؟

نہیں نہیں انہوں نے اپنے وائسرائے بھی مسلط کیے ہوئے آئی جی ملک لیاقت کی شکل میں وہ آئی جی جو کشمیر کے پانچ حاضر سروس ڈی ائی جیز کا جونئیر تھا ۔وہ آئی جی

جس کی واحد قابلیت صرف اس کی انسانیت کش انسان مخالف سوچ ہے جس نے چار ماہ کے اندر کشت و خون میں کم و بیش ۱۱۰ مظلموم کشمیریوں کا خون بہادیا ۔

دوسرا وائسرائے چیف  سیکٹری ہے جو خود عوامی مطالبات کو مان کر ان پر عملدرآمد کا عہد کر کے اس ہر دستخط کر کے آج منخرف ہو گیا ۔

تو  یہ محروم کون ؟

یہ محروم کشمیر کی مظلموم مفلس لاچار قوم جو گزشتہ ۸۰ سالوں سے غاصبوں کے زیر تسلط جہاں بیٹا بعد میں پیدا ہوتا اس کے کی معاشی جلالوطنی کا  بندوبست پہلے کیا جاتا۔جو صحت تعلیم روزگار کاروبار بنیادی ضروریات زندگی جیسے شاہرات پینے کا پانی علاج ادویاتیہ سب شامل ۔

اب اس بحران کا حل کیا ؟

غاصب کے پاس ایک ہی حل ہے وہ ہے کہ وہ اپنی غاصبیت کو ترک کرتے ہوئے عام آدمی کے تمام بنیادی جائز حقوق بازیاب اور بحال کرے عوام کے وسائل کا شفاف اختیار عوام کے پاس ہو گا صرف ایک طبقے کو نوازنہ بند ہو گا ہر ایک کو یکساں وسائل کا   فائدہ پہنچے گا لوٹ مار اور کرپشن کا سدباب ہو گا

تبصرے (0)

تبصرہ کریں