پاکستان کے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ’’را‘‘ اور بھارتی فنڈنگ سے جوڑنے کے الزامات عائد کیے، جبکہ پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے 16 ستمبر 2026 کو دعویٰ کیا کہ ایک مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے افغانستان سے اسلحہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ بعض افراد تک پہنچایا جا رہا تھا۔ طلال چودھری نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک گرفتار شخص، مبینہ آڈیو ریکارڈنگز اور اسلحے کی ترسیل کے ایک نیٹ ورک کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ حکومت کے مطابق یہ مواد اس کے الزامات کی بنیاد ہے۔ تاہم ان شواہد کی آزادانہ، عدالتی یا فرانزک تصدیق اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی مجموعی تحریک سے ان الزامات کا ثابت شدہ تعلق الگ سوال ہے۔
یہاں بنیادی سوال حکومت پاکستان کے کسی دعوے کو محض اس لیے تسلیم یا مسترد کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سنگین الزام اور ثابت شدہ حقیقت میں فرق کہاں قائم کیا جائے؟
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بنیادی انسانی، معاشی، سیاسی اور شہری حقوق کے مطالبات کے گرد منظم ہونے والی ایک عوامی تحریک کے طور پر سامنے آئی۔ اس کے مطالبات میں بجلی، آٹا، تعلیم، صحت، روزگار، سیاسی نمائندگی، بہتر حکمرانی اور مراعات کے خاتمے جیسے مسائل شامل رہے ہیں۔ لہٰذا کسی فرد، گروہ یا مبینہ نیٹ ورک کے بارے میں سامنے آنے والے الزام کو پوری تحریک اور اس کے حامیوں کے خلاف عمومی فیصلہ بنا دینا ایک الگ اور زیادہ سنگین دعویٰ ہوگا، جس کے لیے الگ اور واضح شواہد درکار ہوں گے۔
پاکستان کے کسی وفاقی وزیر یا وزیرِ مملکت کا بیان اپنی جگہ اہم ہے، مگر حکومتی عہدہ بذاتِ خود کسی الزام کو عدالتی ثبوت میں تبدیل نہیں کرتا۔ اگر خواجہ آصف کے پاس ’’را‘‘ یا بھارتی فنڈنگ کے شواہد موجود ہیں تو وہ مالی ریکارڈ، بینک ٹرانزیکشنز، دستاویزات اور دیگر قابلِ تصدیق مواد کے ساتھ عوام اور متعلقہ قانونی اداروں کے سامنے رکھے جائیں۔ اسی طرح اگر طلال چودھری کے پاس افغانستان سے اسلحے کی ترسیل اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد کے درمیان تعلق کے شواہد ہیں تو ان شواہد کو بھی مکمل تفتیش، فرانزک جانچ اور عدالتی کارروائی کے ذریعے پرکھا جانا چاہیے۔
لیکن یہاں ایک اور بنیادی سوال بھی ہے، جس کا جواب پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری اور وزیر دفاع خواجہ آصف دونوں کو دینا چاہئیے۔ چونکہ ایک وزیر داخلہ ہے دوسرا وزیر دفاع، اور یہ سوال پاکستانی قوم کو ان احباب سے پوچھنا چاہئیے کہ
اگر افغانستان سے اسلحہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر تک پہنچایا جا رہا تھا تو وہ کس راستے سے پہنچا؟
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر افغانستان کی سرحد سے براہِ راست متصل علاقہ نہیں۔ افغانستان سے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر تک پہنچنے کے لیے پاکستان کے وسیع جغرافیائی علاقے سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس پورے راستے میں متعدد انتظامی اور سکیورٹی نگرانی کے مقامات موجود ہیں۔ پاک افغان سرحدی گزرگاہوں پر طویل عرصے سے شدید پابندیاں، بندشیں اور تجارتی و سفری رکاوٹیں بھی رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔
ایسی صورت میں سوال صرف یہ نہیں کہ مبینہ اسلحہ افغانستان کے کس علاقے سے آیا۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ افغانستان سے پاکستان کے اندر داخل ہونے کے بعد وہ اسلحہ کس راستے سے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر تک پہنچا؟
کیا یہ زمینی راستے سے آیا؟ اگر آیا تو کن راستوں سے؟ کن اضلاع سے گزرا؟ کتنی چیک پوسٹیں عبور کیں؟ کس گاڑی میں آیا؟ کس مقام پر گاڑی کی تلاشی ہوئی؟ کہاں نہیں ہوئی؟ کون سے افراد اس پورے راستے میں مبینہ نیٹ ورک کا حصہ تھے؟ اور اگر حکومت کے پاس ان سوالات کے جوابات موجود ہیں تو پھر وہ شواہد عوام کے سامنے کیوں نہ رکھے جائیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں موجودہ حالات کے دوران نقل و حرکت پر سخت نگرانی اور پابندیوں کی متعدد اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ خاص طور پر راولاکوٹ اور احتجاجی مقامات کی جانب آنے جانے والے راستوں پر رکاوٹوں اور نگرانی کی اطلاعات موجود رہی ہیں۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی حزبِ اختلاف کے سیاسی رہنماؤں کا ایک وفد، جو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں اظہارِ یکجہتی اور مذاکرات کے لیے راولاکوٹ جانا چاہتا تھا، اسے راستے میں روک دیا گیا۔ اس وفد میں پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف بھی شامل تھے۔ اگر سیاسی رہنماؤں کا یہ وفد بھی احتجاجی مقام تک نہیں پہنچ سکتا تو پھر یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ ایسے سخت نگرانی والے ماحول میں افغانستان سے مبینہ طور پر اسلحہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر تک کیسے پہنچا؟ جہاں سیاسی رہنماؤں کا وفد نہیں پہنچ سکتا، وہاں مبینہ اسلحہ کیسے پہنچ گیا؟
اور سوال صرف سیاسی وفد کا نہیں۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے مختلف علاقوں، خصوصاً احتجاجی علاقوں، میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیائے زندگی کی رسد اور نقل و حرکت متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں خوراک، زندگی بچانے والی ادویات، بچوں کے لیے ضروری اشیا اور دیگر بنیادی ضروریات کی رسائی میں مشکلات کی نشاندہی کی گئی، اگرچہ پاکستانی حکام نے مکمل ناکہ بندی کے دعوے کی تردید کی ہے۔ مگر گراؤنڈ سے موصولا مصدقہ اطلاعات یہی ہیں کہ ہر طرح کی ترسیلات بند ہیں۔
یہاں ایک عام شہری کا سوال بالکل فطری ہے کہ اگر ایک مریض کی ضروری دوا، ایک بچے کی ضرورت، ایک خاندان کا راشن اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا لے جانے میں رکاوٹیں موجود ہوں، تو پھر افغانستان سے مبینہ طور پر اسلحہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر تک کیسے پہنچ گیا؟
جب راستوں پر سخت نگرانی ہے، چیک پوسٹیں موجود ہیں، نقل و حرکت محدود ہے، عام شہریوں کے لیے ضروری اشیا کی رسد متاثر ہے اور سیاسی رہنماؤں کے وفود کو بھی آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، تو پھر مبینہ اسلحے کے لیے کون سا راستہ کھلا تھا؟
پاکستان کے کسی وفاقی وزیر یا وزیرِ مملکت کا بیان اپنی جگہ اہم ہے، مگر حکومتی عہدہ بذاتِ خود کسی الزام کو عدالتی ثبوت میں تبدیل نہیں کرتا۔
عام شہری کے لیے دوا اور خوراک کا راستہ مشکل، مگر مبینہ اسلحے کے لیے راستہ کھلا؟ اگر واقعی ایسا ہوا تو یہ صرف جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف سوال نہیں، ریاستی نگرانی کے پورے نظام کے بارے میں سوال ہے۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے عام شہریوں کی بہت سی آوازیں موجودہ مواصلاتی اور سیاسی حالات میں دنیا تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتیں۔ جب مواصلاتی پابندیاں ہوں، مقامی صحافت کو مشکلات کا سامنا ہو اور آزادانہ رپورٹنگ محدود ہو تو زمینی صورتحال کی آزادانہ تصدیق خود ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
اسی لیے حکومت کے دعووں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی شکایات اور زمینی صورتحال کو بھی برابر اہمیت دی جانی چاہیے۔ اگر خوراک اور ادویات کی رسد معمول کے مطابق جاری تھی تو حکومت اس کی تفصیلات، سپلائی روٹس اور سرکاری اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے۔ اگر رسد متاثر ہوئی تھی تو اس کی وجہ، مدت اور ذمہ داری بھی واضح کی جائے۔
اب واپس آتے ہیں افغانستان سے مبینہ اسلحے کے دعوے کی طرف۔
اگر حکومت کے مطابق افغانستان سے اسلحہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر پہنچا، تو اس پورے سفر کی دستاویزی تفصیل کہاں ہے؟ افغانستان سے داخلے کا مقام کیا تھا؟ پاکستان میں داخل ہونے کے بعد اس کا راستہ کیا تھا؟ کن شہروں، اضلاع اور چیک پوسٹوں سے یہ گزرا؟ کس گاڑی یا ذرائع نقل و حمل کو استعمال کیا گیا؟ کس نے وصول کیا؟ کس نے منتقل کیا؟ اور آخر راولاکوٹ تک پہنچنے کے بعد یہ مبینہ طور پر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ کن کن افراد تک اور کیسے پہنچا؟
اگر اسلحہ کسی فضائی راستے سے منتقل کیا گیا تو پھر شرمندگی کے لیے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کس پرواز سے؟ پاکستان کے زیر نتظام جموں کشمیر کے کون سے بین الاقوامی یا قومی ایئرپورٹ پر؟ کس نے وصول کیا؟ کس نے منتقل کیا؟ اور کس نگرانی کے نظام سے گزر کر وہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر تک پہنچا؟
اگر حکومت کسی طویل اور دشوار گزار زمینی راستے، پہاڑی درے یا کسی دوسرے راستے کا دعویٰ کرتی ہے تو اس راستے کی بھی مکمل تفصیل اور قابلِ تصدیق شواہد سامنے آنے چاہییں۔ کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ ’’اسلحہ کہاں سے آیا؟‘‘
اصل سوال یہ ہے کہ ’’اتنی سخت نگرانی کے باوجود وہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر تک کیسے پہنچا؟‘‘
اگر واقعی ایسا کوئی نیٹ ورک موجود تھا تو یہ صرف جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق سوال نہیں بلکہ پاکستان کے سرحدی کنٹرول، انٹیلی جنس، پولیس، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے پورے نظام سے متعلق سوال ہے۔
اسی طرح بھارتی فنڈنگ کے دعوے کے بارے میں بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔ اگر بھارتی رقم کسی تحریک کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے تو رقم کا راستہ، مالیاتی ریکارڈ، وصول کنندگان، بینک یا حوالہ جاتی ریکارڈ، رابطوں کی نوعیت اور متعلقہ قانونی شواہد سامنے آنے چاہییں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’اداروں کے پاس ثبوت موجود ہیں‘‘۔ عوامی اعتماد کے لیے قابلِ جانچ ثبوت اور قانونی کارروائی ضروری ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات عوامی نوعیت کے ہیں۔ بجلی، آٹا، تعلیم، صحت، روزگار، سیاسی نمائندگی، بہتر حکمرانی اور مراعات کے خاتمے جیسے مطالبات خود کسی غیر ملکی ایجنڈے کا ثبوت نہیں۔ اگر کسی فرد نے ان مطالبات کی آڑ میں کوئی غیر قانونی سرگرمی کی ہے تو اس فرد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے؛ مگر فرد کے مبینہ جرم اور پوری عوامی تحریک کے اجتماعی کردار کے درمیان فرق برقرار رکھنا بھی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔
حکومت اگر واقعی سمجھتی ہے کہ تحریک سے وابستہ کسی فرد نے اسلحہ رکھا، خریدا، فروخت کیا یا کسی غیر قانونی نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کیا تو اس فرد کا نام، مقدمہ، گرفتاری کی قانونی بنیاد، برآمد شدہ مواد، فرانزک رپورٹ اور عدالتی کارروائی سامنے لائی جائے۔ جرم اگر ثابت ہو تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے۔ لیکن کسی فرد کے مبینہ جرم کو پوری تحریک کے اجتماعی کردار کے خلاف استعمال کرنے کے لیے مزید اور واضح شواہد درکار ہوں گے۔
یہاں اصل مقصد حکومت اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی میں سے کسی ایک کو فوراً سچا یا جھوٹا قرار دینا نہیں۔ اصل سوال ثبوت، قانون اور جواب دہی کا ہے۔ حکومت کے پاس جو شواہد ہیں، وہ سامنے آنے چاہییں؛ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پاس ان الزامات کا جو جواب ہے، وہ بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے؛ اور پھر آزاد قانونی و عدالتی عمل کو اپنا کام کرنا چاہیے۔
عوامی تحریکوں کو بدنام کرنے یا سیاسی اختلاف کو قومی سلامتی کے الزام میں تبدیل کرنے کے بجائے ریاست کو اپنے دعووں کو شفاف طریقے سے ثابت کرنا چاہیے۔ اگر ’’را‘‘ کی فنڈنگ کا دعویٰ ہے تو ثبوت پیش کیے جائیں۔ اگر بھارتی مالی معاونت کا دعویٰ ہے تو مالیاتی ریکارڈ سامنے لایا جائے۔ اگر افغانستان سے اسلحے کی ترسیل کا دعویٰ ہے تو اسلحے کی برآمدگی، ترسیل کے راستے، ملزمان کے رابطوں اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مبینہ تعلق کے شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں۔
ریاستی طاقت کے ذریعے الزام لگانا آسان ہے، مگر عوامی اعتماد بحال کرنا مشکل۔ خواجہ آصف اور طلال چودھری کے بیانات کے بعد اب اصل ذمہ داری حکومت پاکستان پر بھی ہے کہ وہ اپنے دعووں کو قابلِ تصدیق شواہد کے ساتھ ثابت کرے۔
اگر کسی فرد کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے؛ اگر پوری تحریک کے بارے میں کوئی الزام عائد کیا جاتا ہے تو اس کے لیے بھی اسی معیار کے شواہد درکار ہوں گے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی عوامی حقوق کی جدوجہد کو ’’را‘‘، بھارتی فنڈنگ یا افغان اسلحے سے جوڑنے کے دعوے اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سیاسی بیانات سے زیادہ اہم ثبوت ہیں۔ اب ان شواہد کی آزادانہ جانچ، قانونی حیثیت اور تحریک سے ثابت شدہ تعلق کا سوال عوام کے سامنے موجود ہے۔ عوام روایتی الزامات اور پراپیگنڈے پر بھروسہ نہیں کرتے، خاص کر پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے شہری۔
پاکستانی وزراء، حکومت اور اداروں کو یہ جان لینا چاہئیے کہ اس خطے کے عوام شعوری بنیادوں پر مکمل استقامت اور خلوص کے ساتھ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ پُرامن ہیں، نہتے ہیں، آپ کی فورسز کے بھاری اسلحہ کے سامنے اپنے سینے خوشی خوشی پیش کر رہے ہیں۔ وہ حق کی جدوجہد سچ اور خلوص کی بنیاد پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے اس جذبے کو کسی اسلحہ کی ضرورت نہیں، ان کی استقامت، ان کا خلوص اور پُرامن پیغام کے ساتھ ان کا شعور ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور یقیناً اسی طاقت نے آپ کے بھاری جنگی اسلحہ کو بھی شکست دی ہے۔
آپ پریس کانفرنسیں نہیں، ثبوت پیش کریں۔ الزامات نہیں، قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ کسی فرد کا جرم ہے تو فرد کے خلاف مقدمہ چلائیں؛ پوری عوامی تحریک کو الزام کی بنیاد پر مجرم نہ بنائیں۔ اور اگر ثبوت موجود ہیں تو انہیں شفاف طریقے سے سامنے لائیں۔ آخرکار فیصلہ محض وزرا کے بیانات سے نہیں، بلکہ حقائق، قانون اور قابلِ تصدیق شواہد سے ہونا چاہیے۔

تبصرے (0)