مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

لاک ڈاؤن کرفیو اور پاکستانی جارحیت دھرنوں کے 107 دن اور حکمرانوں کی خاموشی

راولاکوٹ میں عوامی حقوق کے دھرنوں کو 107 دن گزر گئے مگر حکمران بدستور خاموش ہیں۔ کرفیو اور گرفتاریوں نے ریاست میں نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔ مکمل تفصیلات جانیے۔

خلاصہ

راولاکوٹ میں عوامی حقوق کے دھرنوں کو 107 دن گزر گئے مگر حکمران بدستور خاموش ہیں۔ کرفیو اور گرفتاریوں نے ریاست میں نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔ مکمل تفصیلات جانیے۔

Summary in English

107 days have passed since the public rights sit-ins in Rawalakot, but the rulers remain silent. The curfew and arrests have created a new crisis in the state. Find out the complete details.

لاک ڈاؤن کرفیو اور پاکستانی جارحیت دھرنوں کے 107 دن اور حکمرانوں کی خاموشی

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر بالخصوص راولاکوٹ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی دھرنوں کو 107 دن گذر چکے ہیں مگر سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے کہ آخر اس عوامی بے چینی کا ذمہ دار کون ہے ؟ اور اس کا حل کب تلاش کیا جائے گا۔ 107 دن کوئی معمولی مدت نہیں ہوتی ایک سو سات دنوں میں حکومتیں فیصلے کرتی ہیں، پالیسیاں بنتی ہیں، منصوبے مکمل ہوتے ہیں، مگر یہاں ایک پوری ریاست کے عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں اور حکمران، بیوروکریسی اور روایتی سیاسی قیادت ایسے خاموش ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
راولاکوٹ کی گلیاں، بازار، سڑکیں اور چوک آج ایک ایسے بحران کی گواہی دے رہے ہیں جسے طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جارحیت ۔ کرفیو، فورسز کی تعیناتی، گرفتاریوں، مقدمات اور خوف کی فضا سے شاید وقتی طور پر راستے خاموش کرائے جا سکتے ہیں، مگر عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کو خاموش نہیں کیا جا سکتا ہے اگر کسی نوجوان نے قانون توڑا ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، اس پر جرم ثابت کیا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے، لیکن اگر کسی بے گناہ شہری کو محض شک، سیاسی اختلاف یا احتجاج میں شرکت کی بنیاد پر اٹھایا جاتا ہے تو یہ قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کے نام پر خوف پیدا کرنا ہے اس سے بھی زیادہ سنگین وہ الزامات ہیں جن میں گرفتار نوجوانوں کے اہل خانہ سے رہائی کے عوض لاکھوں روپے رشوت طلب کیے جانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف ایک خاندان کی تکلیف نہیں بلکہ پورے نظام کے منہ پر ایک سوالیہ نشان ہے ریاستی ادارے عوام کے محافظ ہوتے ہیں، عوام سے رقم وصول کرنے والے ادارے فورسز کوئی اہلکار یا اہلکاروں کا گروہ گرفتاری کو کاروبار بنا لے تو پھر قانون کہاں رہ جاتا ہے اور انصاف کہاں تلاش کیا جائے ؟ ایسے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیے اور اگر کوئی ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف بھی وہی قانون حرکت میں آنا چاہیے جس کا نام لے کر عام شہریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے مگر بد بختی یہ ہے کہ پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں کوئی نظام موجود نہیں ہے بلکہ جنگل کا قانون موجود ہے آج راولاکوٹ میں مسئلہ صرف دھرنوں کا نہیں ہے مسئلہ اس اعتماد کا ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان ہونا چاہیے جب عوام بار بار اپنے مسائل بیان کریں مذاکرات کا مطالبہ کریں، اپنے حقوق کی بات کریں اور جواب میں انہیں طاقت، گرفتاری اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت عوام کو سننا چاہتی بھی ہے یا نہیں۔ بجلی، آٹا، تعلیم، صحت، روزگار، وسائل، سیاسی اختیار اور شہری حقوق کوئی ایسے مطالبات نہیں جنہیں ہمیشہ طاقت کے ذریعے دبایا جا سکے حکومت اگر کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کرتی تو دلیل دے اعداد و شمار سامنے لائے، آئینی اور قانونی پوزیشن واضح کرے، مگر عوام کو دشمن سمجھنے کا رویہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک ہے اسی طرح عوامی تحریک کی قیادت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ احتجاج عوام کا بنیادی جمہوری حق ہے، لیکن اس حق کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔ تحریک کو پرامن رکھنا، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا، کسی بھی قسم کے تشدد سے فاصلے کو واضح رکھنا اور اپنے مطالبات کو دستاویزی اور آئینی بنیادوں پر پیش کرنا ضروری ہے جس پر قیادت تو قائم دکھائی دیتی ہے مگر ریاستی طاقت کا غلط استعمال قابلِ نفرت ہے آج سب سے افسوسناک کردار ان روایتی سیاست دانوں کا ہے جو عوام کے ووٹ سے ایوانوں تک پہنچتے ہیں مگر بحران کے وقت عوام کے درمیان نظر نہیں آتے ہیں جنہیں عوام کی نمائندگی کا مینڈیٹ ملا ہے ان سے پوچھنا چاہیے کہ 107 دنوں سے جاری اس بحران کے دوران انہوں نے کتنی بار مسلط کردہ حکومت اور احتجاجی قیادت کو ایک میز پر بٹھایا ہے کتنی بار گرفتار نوجوانوں کے اہل خانہ کی آواز ایوانوں تک پہنچائی اور کتنی بار عوام کے بنیادی مسائل کے مستقل حل کے لیے عملی قدم اٹھایا ۔ ؟ سیاست صرف انتخابات کے دوران عوام کے گھروں تک پہنچنے کا نام نہیں، سیاست آزمائش کے وقت عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام بھی ہے اس تمام صورتحال نے ریاست جموں کشمیر کے مستقبل اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک نئی بحث بھی پیدا کر دی ہے بعض حلقوں میں پاکستان کے ساتھ موجود معاہدوں اور سیاسی تعلقات پر نظرثانی بلکہ ختم کرنے اور مستقبل کے مختلف راستوں پر غور کی بات کی جا رہی ہے یہ بحث جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ سیاسی، قانونی اور عوامی مکالمے کی متقاضی ہے۔ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ بندوق کے سائے میں نہیں بلکہ عوامی رائے، شفاف سیاسی عمل اور بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں ہونا چاہیے پاکستانی جارحیت اور مسلط شدہ حکومت پاکستان کی جانب سے تعینات آئی جی پاکستانی وزرا کے بیانات بیورو کریسی اور سیاست دانوں کے رویے اور فورسز کی ظلم و بربریت کے باعث اوورسیز کشمیریوں سے جلاوطن حکومت کے قیام کی اپیلیں بھی اسی بے چینی کا ایک اظہار ہیں اگر ایسی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے تو اس کے لیے نمائندگی، قانونی حیثیت، عوامی مینڈیٹ اور  عالمی سطح پر قبولیت  کو زیر غور لانا ہوگا چونکہ بیرون ملک آباد کشمیری عالمی اداروں، پارلیمانوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کے سامنے ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ اور عوام کے مسائل مؤثر انداز میں پیش کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے جذبات سے زیادہ مستند شواہد، شفاف دستاویزات اور ایک واضح سیاسی و قانونی مؤقف ضروری ہوگا اصل سوال یہ ہے کہ آخر  نا اہل حکومت 107 دن بعد بھی اس بحران کو سیاسی طریقے سے حل کیوں نہیں کر سکی ۔ ؟ کیا کسی بھی حکومت کے پاس اتنا اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے ہی عوام سے مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکے ۔ ؟ کیا ہر اختلاف کا جواب کرفیو، گرفتاری اور فورسز کی تعیناتی ہی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر جمہوریت، سیاست، مذاکرات اور عوامی نمائندگی کے دعوے کس کام کے ہیں ۔ ؟ بندوقیں سڑکوں کو خاموش کر سکتی ہیں دلوں کو نہیں۔ کرفیو بازار بند کر سکتا ہے سوال بند نہیں کر سکتا۔ گرفتاریاں انسان کو قید کر سکتی ہیں، مگر اس کے حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے قید نہیں کیا جا سکتا۔ آج راولاکوٹ کے عوام کے سامنے بھی یہی سوال ہے اور حکمرانوں کے سامنے بھی کہ یہ راستہ آخر کہاں جا رہا ہے بحیثیت صحافی میرا سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ پورے سیاسی اور انتظامی نظام سے ہے کہ اگر عوام کے مطالبات غلط ہیں تو دلیل کے ساتھ انہیں غلط ثابت کیا جائے، اگر جائز ہیں تو تسلیم کیے جائیں، اگر کسی مطالبے میں قانونی رکاوٹ ہے تو مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالا جائے لیکن 107 دن کی کشیدگی کو مزید طول دینا کسی کے مفاد میں نہیں ہے ریاستیں طاقت سے نہیں اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں اور حکومتیں خوف سے نہیں، انصاف سے قائم رہتی ہیں اب بھی وقت ہے کہ بندوقوں کے سائے کو مذاکرات کی میز سے بدلا جائے، گرفتاریوں کے بجائے قانون کی بالادستی قائم کی جائے، سیاسی خاموشی کے بجائے سیاسی قیادت اپنا کردار ادا کرے اور عوام کے بنیادی سوالات کا جواب دیا جائے۔ کیونکہ 107 دن گذر چکے ہیں، مگر سوال ختم نہیں ہوا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ بلند آواز میں پوچھ رہا ہے کہ آخر عوام کی آواز کب سنی جائے گی ۔ ؟

تبصرے (0)

تبصرہ کریں