مواد پر جائیں

اکتوبر ۱۹۴۷: قیادت کے فیصلے، عوام کی تقسیم اور بند گلی سے نکلنے کا راستہ

اکتوبر ۱۹۴۷ کے فیصلے اور الحاق کی دستاویز کشمیر کے المیے کا محور ہیں۔ قیادت کی رسہ کشی میں عوامی مرضی کہاں گم ہوئی؟ جانیے اس بحران کی پوشیدہ تاریخ۔

خلاصہ

اکتوبر ۱۹۴۷ کے فیصلے اور الحاق کی دستاویز کشمیر کے المیے کا محور ہیں۔ قیادت کی رسہ کشی میں عوامی مرضی کہاں گم ہوئی؟ جانیے اس بحران کی پوشیدہ تاریخ۔

Summary in English

The decisions of October 1947 and the Instrument of Accession are at the center of the Kashmir tragedy. Where was the will of the people lost in the leadership's tug-of-war? Explore the hidden history of this crisis.

اکتوبر ۱۹۴۷: قیادت کے فیصلے، عوام کی تقسیم اور بند گلی سے نکلنے کا راستہ

۲۲ اور ۲۷ اکتوبر ۱۹۴۷ کو ایک دوسرے سے الگ کرکے پڑھنے سے کشمیر کی پوری کہانی سمجھ میں نہیں آتی۔ پہلی تاریخ پاکستان کی حمایت یافتہ قبائلی یلغار کی، دوسری بھارتی فوج کی سرینگر آمد کی علامت ہے۔ ان کے درمیان ۲۶ اکتوبر کی تاریخ والی الحاق کی دستاویز موجود ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک غیر حاضر فیصلہ بھی ہے: ریاست جموں و کشمیر کے عوام کا آزادانہ فیصلہ۔

اس المیے میں شخصی انا، باہمی بداعتمادی اور اقتدار کا کردار ضرور تلاش کیا جا سکتا ہے، مگر پوری تاریخ کو چند افراد کی ضد کہنا ناکافی ہوگا۔ شخصی حکمرانی، جمہوری حقوق کی تحریک، تقسیم کا فرقہ وارانہ تشدد، پونچھ کی بغاوت، دو نئی ریاستوں کے مفادات اور برطانوی انخلا کے انتظامات بھی اس بحران کا حصہ تھے۔ منصفانہ احتساب ہر کردار کے اختیار اور ہر فیصلے کے نتائج کو الگ دیکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔

سب سے پہلے تاریخ کی تصحیح ضروری ہے: متعلقہ تاریخ ۲۶ اکتوبر ہے، ۲۶ اگست نہیں۔ دستیاب الحاقی دستاویز پر مہاراجہ ہری سنگھ کے دستخطوں کے ساتھ ۲۶ اکتوبر ۱۹۴۷، اور گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن کی قبولیت کے ساتھ ۲۷ اکتوبر درج ہے۔

یہ دستاویزی قالب صرف کشمیر کے لیے اچانک وضع نہیں ہوا تھا۔ بھارتی محکمۂ ریاستوں میں، سردار پٹیل کی سیاسی نگرانی اور سیکرٹری وی پی مینن کے مرکزی انتظامی کردار کے تحت، دوسری ریاستوں کے لیے بھی الحاق کا معیاری طریقہ تیار کیا گیا تھا۔ بنیادی موضوعات دفاع، خارجہ امور اور مواصلات تھے۔ اسی حکومتی عمل، جس کا مرکز نئی دہلی تھا، سے کشمیر کی دستاویز کا قالب آیا۔ تاہم دستیاب شواہد یہ قطعی طور پر نہیں بتاتے کہ کشمیر کا حتمی نسخہ کس اہلکار نے، کس دفتر یا کمرے میں ٹائپ کیا۔ مینن کے کردار کو ثابت کرنا اور انہیں ہر لفظ کا ذاتی مصنف قرار دینا دو مختلف باتیں ہیں۔

مینن کی روایت کے مطابق وہ ۲۶ اکتوبر کو جموں گئے اور مہاراجہ سے دستخط حاصل کیے۔ مگر واقعات کی ساعتوں اور ان کے سفر کے بارے میں اختلاف ہے۔ نہرو نے مہاراجہ اور شیخ عبداللہ، دونوں کو ۲۷ اکتوبر کے خطوط میں لکھا کہ مینن اُس شام جموں سے دستخط شدہ کاغذات لے کر واپس آئے۔ یہ اہم معاصر شہادت ہے؛ لیکن اس سے اکیلے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دستخط لازماً ۲۷ کو ہوئے یا دستاویز جعلی تھی۔ پریم شنکر جھا نے بھی مختلف روایات کے تضادات کا جائزہ لیا ہے۔ درست مؤقف یہ ہے: دستاویز پر درج تاریخ معلوم ہے، پوری زمانی ترتیب پر تاریخی اختلاف موجود ہے۔

الحاق کے متن کو مکمل انضمام کا غیر مشروط پروانہ سمجھنا بھی درست قرأت نہیں۔ اس کے اختیارات مخصوص موضوعات تک محدود تھے؛ شق ۷ میں مستقبل کے بھارتی آئین کو قبول کرنے کی پیشگی پابندی قبول نہیں کی گئی، جبکہ شق ۸ نے منتقل کردہ اختیارات کے سوا حکمران کے باقی اختیارات محفوظ رکھے۔ عوام سے رجوع کا وعدہ ماؤنٹ بیٹن کے الگ قبولیتی خط میں آیا۔ دستاویز کی قانونی حیثیت، اس خط کی تعبیر اور عوامی رضامندی کا سیاسی سوال باہم متعلق ضرور ہیں، مگر ایک ہی چیز نہیں۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ مہاراجہ اور شیخ عبداللہ ریاست کو آزاد رکھنے کے لیے مشترکہ راستہ کیوں نہ بنا سکے؟

یہ کہنا تاریخی طور پر درست نہیں کہ دونوں کے درمیان کوئی رابطہ ہوا ہی نہیں۔ کرسٹوفر سنیڈن نے شیخ عبداللہ کے ۲۶ ستمبر ۱۹۴۷ کے خط کا ذکر کیا ہے، جس میں انہوں نے مہاراجہ کو تعاون اور وفاداری کی یقین دہانی کرائی۔ شیخ ۲۹ ستمبر کو رہا ہوئے۔ خود مہاراجہ کے ۲۶ اکتوبر کے خط میں شیخ کو اپنے وزیراعظم کے ساتھ ہنگامی انتظام کی ذمہ داری دینے کی نیت درج ہے۔ اصل سوال رابطے کی مکمل عدم موجودگی کا نہیں؛ اس کے بروقت، وسیع اور قابلِ اعتماد سیاسی سمجھوتے میں تبدیل نہ ہونے کا ہے۔

میری رائے میں مہاراجہ کی بنیادی ناکامی یہ تھی کہ وہ ریاست کی بقا کو بروقت عوامی اقتدار کی منتقلی سے نہ جوڑ سکے۔ ایک طرف دونوں ڈومینین سے باہر رہنے کی گنجائش چاہتے تھے، دوسری طرف ایک اہم عوامی رہنما ستمبر کے آخر تک قید تھا۔ آزادی کو پائیدار بنانے کے لیے نمائندہ حکومت، تمام خطوں کا اعتماد اور ہمسایوں سے قابلِ عمل انتظام درکار تھا۔ صرف فیصلہ مؤخر کرنا اس کا بدل نہیں بن سکتا تھا۔ مہاراجہ کے اکتوبر کے خط میں خودمختار رہنے اور دونوں ملکوں سے دوستی کی خواہش ملتی ہے، مگر اس خواہش کو وسیع داخلی اتفاق میں بدلنا ضروری تھا۔

شیخ عبداللہ کے بارے میں بھی فیصلہ صرف یہ کہہ کر نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے نہرو سے دوستی نبھائی۔ شخصی حکمرانی کے خلاف ان کی جدوجہد، سیکولر سیاست، مسلم لیگ سے اختلاف اور سماجی اصلاحات کی ترجیحات بھی اہم تھیں۔ سنیڈن کے مطابق اکتوبر میں وہ عوام کے اختیار اور فیصلہ کرنے کے لیے مہلت کی بات کرتے رہے۔ لہٰذا انہیں شروع سے ہر صورت آزادی کے مخالف کہنا بھی مبالغہ ہوگا۔

تاہم ان پر یہ تنقید معقول ہے کہ مہاراجہ، مسلم کانفرنس اور دوسرے خطوں کی قیادت کے ساتھ ایسا وسیع ریاستی معاہدہ قائم نہ ہو سکا جو بیرونی رفاقتوں سے زیادہ مضبوط ہوتا۔ نہرو کے ساتھ اعتماد، عوام کے فیصلے کی مؤثر ضمانت کا متبادل نہیں بن سکتا تھا۔

ایک ممکنہ راستہ یہ ہوتا کہ شخصی حکمرانی ختم کرنے، نمائندہ عبوری حکومت بنانے اور مستقبل کا فیصلہ عوام پر چھوڑنے کے اصولوں پر پہلے اتفاق کیا جاتا۔ لیکن یہ ایک ضائع شدہ امکان کا تجزیہ ہے؛ اس کی کامیابی کا یقینی تاریخی دعویٰ نہیں۔ دونوں ہمسایوں کی قبولیت، معاشی رسائی اور سلامتی کی ضمانت کے بغیر آزادی کا راستہ بھی دشوار رہتا۔

نہرو کی کشمیر سے خاندانی نسبت کو بھی اسی احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے اپنی خودنوشت میں خاندان کو کشمیری پنڈت قرار دیا اور اپنے جد راج کول کی تقریباً ۱۷۱۶ میں دہلی منتقلی کی خاندانی روایت بیان کی۔ اس لیے ان کی کشمیری نسبت کو محض ایجاد کہنا درست نہیں۔ البتہ نسبی تعلق، کسی ریاست کے تمام باشندوں کی طرف سے فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔

۲۷ ستمبر ۱۹۴۷ کو پٹیل کے نام نہرو کا خط خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں قبائلی حملے سے پہلے ہی شیخ کی رہائی، مہاراجہ اور نیشنل کانفرنس کے تعاون، اور بھارت سے جلد الحاق کی ضرورت بیان کی گئی ہے۔ اس سے واضح ہے کہ بھارتی قیادت کا الحاق میں مفاد پہلے سے موجود تھا۔ تاہم یہ خط بعد کے حملے کی حقیقت کو ختم نہیں کرتا، نہ پورے تنازع کو صرف نہرو کی خاندانی وابستگی سے سمجھا جا سکتا ہے۔

آزادی کو پائیدار بنانے کے لیے نمائندہ حکومت، تمام خطوں کا اعتماد اور ہمسایوں سے قابلِ عمل انتظام درکار تھا۔

نہرو کی سیاسی ذمہ داری کا اصل پیمانہ ان کا اپنا وعدہ ہے۔ ۲ نومبر ۱۹۴۷ کی نشری تقریر میں انہوں نے مستقبل کا فیصلہ عوام سے کرانے اور امن کی بحالی کے بعد اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی انتظام کے تحت رائے شماری کی آمادگی ظاہر کی۔ یہ وعدہ عملی فیصلے میں تبدیل نہ ہو سکا۔ ریاستی مفاد اور عوامی رضامندی کے درمیان یہی فاصلہ ان کی کشمیر پالیسی پر بنیادی سوال قائم کرتا ہے۔

گاندھی کا کشمیر کا معروف اور واحد دورہ یکم تا ۴ اگست ۱۹۴۷ تھا۔ انہوں نے مہاراجہ اور مہارانی سے ملاقات کی؛ شیخ عبداللہ اُس وقت قید تھے۔ اپنے دورے سے پہلے ۲۹ جولائی کے بیان میں گاندھی نے کہا تھا کہ وہ مہاراجہ کو بھارت کے حق میں، پاکستان کے خلاف فیصلہ دینے نہیں جا رہے؛ اصل اختیار عوام کا ہے۔ ان کے دورے کی رپورٹ کا ذکر نہرو کے محفوظ خط کے حواشی میں بھی ملتا ہے۔ ان کا دورہ سیاسی اثرات سے خالی نہیں تھا، مگر یہ دعویٰ کہ وہ لازماً ایک ثابت شدہ خفیہ الحاقی منصوبہ مکمل کرنے آئے تھے، دستیاب شواہد سے آگے جاتا ہے۔

محمد علی جناح کے ابتدائی دوروں کی تاریخ اور مجموعی تعداد پر مآخذ متفق نہیں۔ بعض تحقیقات پہلا دورہ ۱۹۲۴ میں رکھتی ہیں، عام روایات ۱۹۲۶، ۱۹۳۶ اور ۱۹۴۴ بیان کرتی ہیں، جبکہ ایک آرکائیوی تحقیق ۱۹۲۷ کے قیام کا بھی ذکر کرتی ہے۔ اس لیے کسی ایک فہرست کو قطعی کہنا مناسب نہیں۔ نسبتاً واضح آخری سیاسی دورہ مئی تا جولائی ۱۹۴۴ ہے؛ وہ ۱۰ مئی کو سرینگر پہنچے اور جولائی کے آخر تک ریاست میں رہے۔

ابتدا میں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس، دونوں نے استقبال کیا۔ جناح کی کوشش کشمیری مسلمانوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر لانے کی تھی؛ ان کی ترجیح مسلم کانفرنس کے حق میں رہی۔ شیخ اپنی نیشنل کانفرنس کی وسیع، غیر مذہبی شناخت ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ جناح کے محفوظ بیان میں بھی اس اختلاف اور شیخ سے تلخی کی تصدیق ملتی ہے۔

نتیجتاً ۱۹۴۴ کا دورہ وہ مشترکہ قیادت پیدا نہ کر سکا جس کی ضرورت تھی۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس ناکامی نے مقامی تقسیم کو برصغیر کی کانگریس اور مسلم لیگ کی رقابت سے مزید جوڑ دیا۔ لیکن اسے اکیلے ۱۹۴۷ کی جنگ کا سبب قرار دینا درست نہیں۔ جناح کی مسلمانوں کو متحد کرنے کی خواہش اور شیخ کی مشترکہ شہریت کی سیاست کے درمیان اختلاف کو ذاتی جھگڑے سے بڑھ کر سیاسی اختلاف کے طور پر بھی سمجھنا ہوگا۔

ماؤنٹ بیٹن کی پوزیشن کو بھی دو ادوار میں دیکھنا چاہیے۔ جون ۱۹۴۷ کے دورے کے متعلق مینن کی روایت ہے کہ انہوں نے مہاراجہ کو بتایا تھا کہ پاکستان سے الحاق کو بھارت دشمنی نہیں سمجھے گا، اور اس پر پٹیل کی یقین دہانی موجود ہے۔ اکتوبر میں، اب بھارتی گورنر جنرل کی حیثیت سے، وہ فوجی امداد سے پہلے الحاق کے حق میں تھے؛ ان کے قبولیتی خط میں حالات معمول پر آنے کے بعد عوام سے رجوع کی بات بھی درج ہے۔ یہ الگ اوقات، الگ ذمہ داریاں اور الگ فیصلے تھے۔

۲۲ اکتوبر کی قبائلی یلغار نے ریاست کے بحران کو فیصلہ کن فوجی رخ دیا اور بھارتی امداد کی درخواست کا فوری پس منظر بنا۔ اس سے پہلے موجود پونچھ کی بغاوت، ریاستی جبر اور فرقہ وارانہ تشدد کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے؛ لیکن داخلی شکایات، بیرونی مسلح یلغار کے ہر عمل کا جواز بھی نہیں بن جاتیں۔ ۲۷ اکتوبر کی بھارتی فوجی آمد اسی بحران کا جواب تھی، جسے بھارت نے الحاق اور مدد کی درخواست سے جائز قرار دیا۔

انسانی نقطۂ نظر سے دونوں تاریخوں کو ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ حملے کے خلاف تحفظ کی ضرورت عوام کے مستقل سیاسی اختیار کا بدل نہیں؛ اور حقِ خودارادیت کا نام شہریوں پر تشدد کی اجازت نہیں۔ ذمہ داریوں میں فرق ہے، مگر اصول سب پر ایک ہی لاگو ہونا چاہیے۔

آج بند گلی سب سے پہلے وہ کشمیری خاندان محسوس کرتے ہیں جن کی زندگی، نقل و حرکت اور مستقبل دوسروں کے فیصلوں کے تابع ہو گیا۔ بھارتی پالیسی کے سامنے سوال ہے کہ عوامی اعتماد اور رضامندی کے بغیر پائیدار سیاسی اطمینان کیسے پیدا ہوگا۔ پاکستانی پالیسی کے سامنے سوال ہے کہ کشمیریوں کی آزاد، متنوع اور بعض اوقات اس سے مختلف رائے کے لیے کتنی جگہ ہے۔ کشمیری قیادت کے سامنے سوال ہے کہ کیا وہ اپنے اپنے سرپرستوں، جماعتوں اور شخصیات سے اوپر اٹھ کر مشترکہ اصول طے کر سکتی ہے۔ یہ سیاسی تشخیص ہے، کسی ایک فریق کی مکمل بے اختیاری کا دعویٰ نہیں۔

باہر نکلنے کا راستہ ایک نئے ریاست گیر مکالمے سے شروع ہو سکتا ہے۔ پہلے ایک سیاسی جماعت کے بجائے ایسا مشاورتی ادارہ بنایا جائے جس میں وادی، جموں، لداخ، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، مہاجرین، پنڈتوں، دوسری اقلیتوں، خواتین اور نوجوانوں کی معتبر شرکت ہو۔ ابتدا ہی میں آخری منزل پر اتفاق کی شرط لگانے کے بجائے عدم تشدد، شہری مساوات، اختلاف کے احترام اور عوام کی رضامندی پر مشترکہ منشور بنایا جائے۔

اس کی عملی ابتدا چھ ماہ کی تیاری سے ہو سکتی ہے: پہلے نمائندگی اور طریقۂ کار طے ہوں؛ پھر سفری اور قانونی سہولت کو دیکھتے ہوئے بھارت و پاکستان سے باہر ابتدائی مشاورت منعقد ہو۔ شرکا اپنی ذاتی یا تنظیمی حیثیت واضح کریں؛ خود کو پہلے ہی پورے عوام کا منتخب نمائندہ قرار نہ دیں۔ ایک محدود سیکرٹریٹ مشترکہ تجاویز اور اختلافی آرا، دونوں کا ریکارڈ شائع کرے۔

متوازی طور پر شہریوں کے تحفظ، سیاسی سرگرمی کی گنجائش، منقسم خاندانوں کی ملاقات، قیدیوں کے معاملات اور قابلِ تصدیق کشیدگی میں کمی پر پیش رفت مانگی جائے۔ اس کے بعد بھارت، پاکستان اور معتبر کشمیری نمائندگی کے درمیان مرحلہ وار سیاسی عمل کی کوشش ہو؛ اقوام متحدہ کی سہولت کاری یا کسی متفقہ تیسرے فریق کا کردار متعلقہ فریقوں کی رضامندی سے تلاش کیا جائے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کو یہاں درست پڑھنا ضروری ہے۔ ۱۳ اگست ۱۹۴۸ کی تجویز میں پاکستانی افواج اور قبائلی جنگجوؤں کے انخلا، پھر مقررہ شرائط کے تحت بھارتی فوج کی بڑی تعداد کی مرحلہ وار واپسی کا بندوبست تھا۔ ۵ جنوری ۱۹۴۹ کے متن میں رائے شماری کا سوال بھارت یا پاکستان سے الحاق رکھا گیا، آزاد ریاست کا تیسرا اختیار نہیں۔ اس لیے آزادی، مشترکہ انتظام یا دوسرے آئینی امکانات کو شامل کرنے کے لیے نئی سیاسی رضامندی اور متفقہ طریقۂ کار درکار ہوگا۔ انہیں پرانی قراردادوں میں پہلے سے موجود اختیار کہنا درست نہیں۔

مہاراجہ کے لیے بہتر راستہ اپنی شخصی حکومت سے پہلے عوامی اعتماد کو اہمیت دینا تھا؛ شیخ کے لیے بیرونی دوستی سے زیادہ وسیع ریاستی معاہدہ مضبوط کرنا؛ نہرو کے لیے اپنے اعلان کو مؤثر عوامی فیصلے میں بدلنا؛ اور پاکستان سے متعلق طاقتوں کے لیے مسلح راستے کے بجائے کشمیریوں کی آزاد سیاسی شرکت کو مقدم رکھنا۔

ہم ماضی کا کوئی متبادل یقینی طور پر کامیاب ثابت نہیں کر سکتے۔ لیکن اس سے یہ سبق ضرور لے سکتے ہیں کہ جب قیادت اپنے اقتدار، نظریاتی وفاداری یا ریاستی دعوے کو انسانوں کے اختیار پر ترجیح دیتی ہے تو اس کی قیمت نسلیں ادا کرتی ہیں۔ ۲۲ اور ۲۷ اکتوبر کی یاد کا مقصد اسی قیمت کو سمجھنا اور اسے مزید بڑھنے سے روکنا ہونا چاہیے۔

کشمیر کے مستقبل کی کوئی تجویز اس وقت تک پائیدار نہیں ہوگی جب تک اس کے باشندے خود اس کی تشکیل میں آزاد، محفوظ اور مؤثر شریک نہ ہوں۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں