پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر آج ایک ایسے کرب سے گزر رہی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ایک طرف خطے میں شہری ہلاکتوں، گرفتاریوں، زخمیوں، احتجاج اور طاقت کے استعمال کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی ہیں، دوسری طرف دنیا بھر میں آباد کشمیری اپنے بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ برطانیہ کے برمنگھم سے بریڈفورڈ تک، لندن سے یورپ، امریکہ، کینیڈا کے مختلف شہروں تک کشمیری مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں کشمیری آباد ہوں اور احتجاج نہ ہوا ہو۔ راولاکوٹ میں جاری دھرنے کو کئی ماہ گزر چکے ہیں اور جب بھی وہاں کسی نوجوان یا شہری کے مارے جانے کی خبر سامنے آتی ہے، اوورسیز کشمیری اپنے گھروں سے نکل کر احتجاج کرتے ہیں، مظاہرے کرتے ہیں اور عالمی اداروں اور حکومتوں تک اپنی آواز پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اسی پورے منظرنامے کے درمیان ایک ایسا سوال ہے جو اب جواب طلب بن چکا ہے کہ تقریباً بائیس لاکھ اوورسیز کشمیریوں کا نمائندہ آخر کہاں ہے؟
پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بیرونِ ملک مقیم ریاستی باشندوں کے لیے ایک مخصوص نشست موجود ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اگست 2026 میں چوہدری عبدالرحمن ارائیں اس نشست پر بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ انہیں برمنگھم میں مقیم کاروباری شخصیت اور کوٹلی سے تعلق رکھنے والا بتایا گیا ہے اور ان کا سیاسی تعلق پاکستان مسلم لیگ ن کے برطانیہ چیپٹر سے بتایا جاتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اس نشست پر اوورسیز کشمیری براہِ راست ووٹ نہیں دیتے بلکہ قانون کے مطابق اسے اسمبلی کے براہِ راست منتخب ارکان منتخب کرتے ہیں، اور 2026 میں وہ بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نمائندگی کے پورے تصور پر سنجیدہ سوال کھڑے ہوتے ہیں، کیونکہ اگر تقریباً بائیس لاکھ اوورسیز کشمیریوں کے نام پر ایک شخص اسمبلی میں بیٹھا ہے تو ان لاکھوں لوگوں کو کم از کم یہ جاننے کا حق تو ہونا چاہیے کہ وہ شخص کون ہے، اس کا سیاسی اور عوامی پس منظر کیا ہے، اس کا ریاست جموں کشمیر کے کس علاقے سے تعلق ہے، وہ اس مخصوص نشست تک کیسے پہنچا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے نمائندہ ہونے کی ذمہ داری کس طرح ادا کر رہا ہے۔
یہاں تنقید کو محض جذباتی الزام یا کسی فرد کی کردار کشی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ بنیادی سوال قانونی اور جمہوری نوعیت کا ہے کہ جب قانون ریاستی باشندوں کے بیرونِ ملک مقیم افراد کے لیے اسمبلی میں ایک مخصوص نشست مقرر کرتا ہے اور اس نشست کا رکن براہِ راست اوورسیز کشمیریوں کے ووٹ سے نہیں بلکہ اسمبلی کے براہِ راست منتخب ارکان کے ذریعے منتخب ہوتا ہے، تو اس رکن کی عوامی جواب دہی، نمائندگی اور اپنے حلقۂ نمائندگی سے رابطے کی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟ اگر لاکھوں اوورسیز ریاستی باشندوں کے نام پر یہ نشست موجود ہے تو یہ ایک جائز جمہوری سوال ہے کہ اس نشست پر موجود رکن ان لوگوں کے ساتھ کس حد تک رابطے میں ہے، ان کے مسائل اسمبلی میں کس طرح اٹھاتا ہے اور موجودہ بحران کے دوران ان کی آواز کس حد تک پہنچا رہا ہے۔ اس سوال کا اٹھایا جانا کسی شخص پر بے بنیاد الزام عائد کرنا نہیں بلکہ نمائندگی، شفافیت اور جمہوری جواب دہی کے اصولوں کے تحت ایک منتخب رکن سے اس کے کردار کے بارے میں وضاحت طلب کرنا ہے۔
یہاں سب سے زیادہ افسوس اور حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ برطانیہ، جسے دنیا میں جمہوری روایات کے حوالے سے ایک اہم ملک سمجھا جاتا ہے، اسی برطانیہ میں رہنے والا ایک شخص جب اوورسیز ریاستی باشندوں کے لیے مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی کا باقاعدہ رکن بنتا ہے تو اسے بھی ایک منتخب رکنِ اسمبلی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور قانون کے تحت ارکانِ اسمبلی کے لیے مقرر تنخواہ، الاؤنسز، سفری سہولیات اور دیگر مراعات اس پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ فرق صرف اس کے انتخاب کے طریقۂ کار کا ہے کہ اسے اوورسیز کشمیری براہِ راست ووٹ نہیں دیتے بلکہ اسمبلی کے براہِ راست منتخب ارکان اسے منتخب کرتے ہیں۔ ایسے میں سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ اگر اس منصب کے ساتھ عوامی نمائندگی کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے تو کیا اس ذمہ داری کا تقاضا یہ نہیں کہ وہ ان لاکھوں اوورسیز ریاستی باشندوں کے درمیان موجود رہے، ان کے مسائل سنے، ان کے سوالات کا جواب دے اور موجودہ بحران کے دوران ان کی آواز قانون ساز اسمبلی کے اندر مؤثر انداز میں اٹھائے؟ نمائندگی صرف مراعات، منصب اور اسمبلی کی نشست کا نام نہیں؛ نمائندگی دراصل اپنے لوگوں کے دکھ میں شریک ہونے، ان کے سوالات اٹھانے اور ان کی آواز بننے کا نام ہے۔
آج پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کا یہ خطہ لہو سے رنگین ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے وہاں عوامی حقوق کی جدوجہد جاری ہے، احتجاج ہو رہے ہیں، گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ دو دنوں میں ڈڈیال کے دان گلی میں ایک نوجوان کو گولیاں مار کر شہید کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں اور قلعہ بلوچ میں ایک نوجوان کو اس وقت گولیاں مارے جانے کی اطلاعات ہیں جب وہ اپنی چھت پر بیٹھا تھا۔ جبکہ اس سے قبل ایک سو سے زیادہ شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ ان مخصوص واقعات کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے کہ جب ریاست کے پاکستان کے زیر انتظام حصے میں لوگ جانیں دے رہے ہوں، جب ہزاروں لوگ احتجاج کر رہے ہوں، جب برطانوی کشمیری مسلسل سڑکوں پر موجود ہوں، جب برمنگھم اور بریڈفورڈ میں آئے روز احتجاج اور دھرنے ہو رہے ہوں، جب راولاکوٹ میں طویل عرصے سے دھرنا جاری ہو، تو ان لاکھوں اوورسیز کشمیریوں کی مخصوص نشست پر موجود وہ رکن کہاں ہے جو اسمبلی کے اندر ان کی آواز بننے کا دعویٰ رکھتا ہے؟
نمائندگی صرف مراعات، منصب اور اسمبلی کی نشست کا نام نہیں؛ نمائندگی دراصل اپنے لوگوں کے دکھ میں شریک ہونے، ان کے سوالات اٹھانے اور ان کی آواز بننے کا نام ہے۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ برطانیہ میں رہنے والے کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد شاید آج بھی یہ نہیں جانتی کہ ان کی مخصوص نشست پر اسمبلی کا رکن کون ہے۔ کتنے لوگ اس کا نام جانتے ہیں؟ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ وہ کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے؟ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ اس کا ریاست جموں کشمیر کے ساتھ اصل تعلق کیا ہے؟ کتنے لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ اسمبلی تک کس طریقے سے پہنچا؟ جب عام اوورسیز کشمیریوں نے اسے براہِ راست ووٹ نہیں دیا تو پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ تقریباً بائیس لاکھ لوگوں کے نام پر قائم اس نمائندگی کا عوامی رابطہ اور جواب دہی کا نظام کہاں ہے؟
یہ سوال کسی شخص کی ذاتی زندگی یا کاروبار پر اعتراض نہیں۔ وہ کاروبار کرے، اپنی زندگی گزارے، اسے پورا حق ہے۔ لیکن اگر وہ اوورسیز کشمیریوں سے متعلق مخصوص نشست پر اسمبلی کا رکن ہے تو پھر ان لوگوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس سے پوچھیں کہ وہ ان کے لیے کیا کر رہا ہے۔ جب برطانوی کشمیری مسلسل احتجاج کر رہے ہوں، برمنگھم اور بریڈفورڈ میں دھرنے دیے جا رہے ہوں، جب لندن میں مظاہرے ہوں، جب یورپ کے مختلف ممالک میں کشمیری اپنی آواز بلند کر رہے ہوں، جب پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں اپنے بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے لوگ اپنے آرام، کاروبار اور وقت کو قربان کر رہے ہوں، تو پھر ان کی مخصوص نشست پر موجود رکن ان مظاہروں میں کیوں دکھائی نہیں دیتا؟ اس کی آواز کہاں ہے؟ اسمبلی میں اس کی آواز کہاں ہے؟ اس کا عوامی مؤقف کہاں ہے؟ اگر وہ واقعی نمائندگی کا کردار ادا کر رہا ہے تو پھر اسے اپنے لوگوں کے درمیان آنا چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ وہ ان کی نمائندگی کس طرح کر رہا ہے۔
صرف اسمبلی میں بیٹھ جانا نمائندگی نہیں، صرف ایک مخصوص نشست حاصل کر لینا نمائندگی نہیں، صرف کسی سیاسی جماعت سے وابستگی نمائندگی نہیں اور بلامقابلہ منتخب ہو جانا بھی خود بخود لاکھوں لوگوں کی آواز بن جانے کا ثبوت نہیں۔ نمائندگی ایک امانت ہے اور امانت کا تقاضا جواب دہی ہے۔ اگر کسی شخص کے نام کے ساتھ تقریباً بائیس لاکھ اوورسیز کشمیریوں کی نمائندگی کا حوالہ دیا جاتا ہے تو اسے ان لوگوں کے سامنے آنا ہوگا، اپنی موجودگی ثابت کرنا ہوگی، اپنے کردار کی وضاحت کرنا ہوگی اور یہ بتانا ہوگا کہ جب ان کے بھائیوں پر مشکل وقت آیا تو وہ کہاں کھڑا تھا۔
اور یہ سوال صرف برطانیہ میں رہنے والے کشمیریوں کا نہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اوورسیز کشمیریوں کا سوال ہے۔ خصوصاً برطانوی کشمیریوں کا سوال ہے، جن کی تعداد دس لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے اور جو گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں جاری بحران پر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ اگر یہی لوگ اپنے نمائندے کو تلاش کرتے ہیں، اس سے جواب طلب کرتے ہیں، اس کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ آپ ہمارے نام پر اسمبلی میں بیٹھے ہیں، لہٰذا ہمارے دکھ میں بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہوں، تو اس میں غلطی کس کی ہوگی؟ کیا سوال پوچھنا غلط ہے یا نمائندگی کا منصب رکھنے والے رکن کا اپنے لوگوں کے سامنے جواب دہ ہونا اس کی جمہوری ذمہ داری ہے؟
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ یہ نمائندہ کہاں ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اوورسیز کشمیریوں کی نمائندگی کا پورا تصور کس بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ اگر تقریباً بائیس لاکھ کشمیری دنیا بھر میں موجود ہیں تو ان سے متعلق اسمبلی کی نمائندگی کسی ایسے بند دروازے کے پیچھے نہیں ہونی چاہیے جس کا فیصلہ چند لوگ کریں اور پھر لاکھوں لوگوں سے کہا جائے کہ یہ آپ کی نمائندگی ہے۔ اگر نمائندگی عوام کے نام پر ہے تو عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس مخصوص نشست کا رکن کون ہے، اس کی شناخت کیا ہے، اس کا ریاست سے تعلق کیا ہے، اس کی سیاسی وابستگی کیا ہے اور اس نے ان لوگوں کے لیے کیا کردار ادا کیا ہے جن سے متعلق وہ نشست قائم کی گئی ہے۔
اگر کوئی شخص اوورسیز کشمیریوں کی مخصوص نشست پر اسمبلی کا رکن ہے تو اب اسے خاموشی کا پردہ چھوڑ کر سامنے آنا چاہیے۔ اسے برطانوی کشمیریوں کے درمیان آنا چاہیے، برمنگھم اور بریڈفورڈ کے لوگوں کے سامنے آنا چاہیے، لندن کے کشمیریوں کے سامنے آنا چاہیے، ان کے سوالات سننے چاہئیں اور پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں جاری بحران پر اپنا واضح مؤقف دینا چاہیے۔ اسے بتانا چاہیے کہ وہ اس مخصوص نشست پر کس حیثیت سے موجود ہے، ان لوگوں کے لیے کیا کر رہا ہے اور ان کے مسائل اسمبلی میں کس طرح اٹھا رہا ہے۔ ورنہ ایک ایسی نمائندگی جس کے رکن کو خود اس کی اپنی کمیونٹی تلاش کر رہی ہو، جس کے کردار اور موجودگی سے لوگ لاعلم ہوں اور جس کی آواز اپنے لوگوں کے احتجاج میں سنائی نہ دے، اس نمائندگی پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
اور اگر برطانوی کشمیری اس شخص کا گریبان پکڑ کر، اس سے پوچھتے ہیں کہ آپ ہمارے نمائندے ہیں تو پھر ہمارے درمیان کہاں ہیں؟ تو یہ سوال کسی زیادتی کا نام نہیں بلکہ نمائندگی کے بنیادی حق کا سوال ہے۔ البتہ جواب بھی اسی شخص کو دینا ہوگا، کیونکہ اوورسیز کشمیریوں سے متعلق مخصوص نشست پر اسمبلی میں پہنچنے والے شخص سے لاکھوں کشمیری یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آپ کہاں ہیں، آپ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں اور جب آپ کے اپنے لوگ لہو میں ڈوب رہے ہیں تو آپ کی آواز کہاں ہے؟

تبصرے (0)