مواد پر جائیں

پاکستان: جغرافیہ کی نعمت، تاریخ کی سزا، اور لیڈروں کے قتل، جلا وطنی اور مارشل لاء کی کہانی

بے پناہ قدرتی وسائل اور اہم جغرافیائی حیثیت کے باوجود پاکستان مسلسل بحرانوں کی زد میں ہے۔ چار مارشل لاء، جمہوری رہنماؤں کے قتل اور سیاسی سازشوں نے ملکی ترقی کو کیسے روکا؟ جانیے اس چشم کشا تحریر میں۔

خلاصہ

بے پناہ قدرتی وسائل اور اہم جغرافیائی حیثیت کے باوجود پاکستان مسلسل بحرانوں کی زد میں ہے۔ چار مارشل لاء، جمہوری رہنماؤں کے قتل اور سیاسی سازشوں نے ملکی ترقی کو کیسے روکا؟ جانیے اس چشم کشا تحریر میں۔

Summary in English

Despite its immense natural resources and strategic geographical location, Pakistan remains gripped by persistent crises. How have four martial laws, the assassinations of democratic leaders, and political conspiracies hindered the nation's progress? Find out in this eye-opening piece.

پاکستان: جغرافیہ کی نعمت، تاریخ کی سزا، اور لیڈروں کے قتل، جلا وطنی اور مارشل لاء کی کہانی

پاکستان دنیا کے نقشے پر ایسی جگہ ہے جہاں قدرت نے سب کچھ دیا۔ ایک طرف ریاست جموں کشمیر سے ملحقہ چین، دوسری طرف ایران، افغانستان، وسطی ایشیا اور بحیرہ عرب۔ گوادر کی بندرگاہ، سندھ کا زرخیز میدان، پنجاب کی زراعت، بلوچستان کے معدنیات، خیبر کی  پہاڑیوں مدنیات، قدرتی گیس کے وسی ذخائر، چار موسم، کشمیر سے آنے والے دریا، نوجوان آبادی، اور ایٹمی طاقت۔ دنیا کا کوئی ملک ایسی نعمتیں لے کر غریب نہیں رہ سکتا۔

مگر پاکستان آج بھی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، غربت، مہنگائی اور فرقہ واریت کا شکار ہے۔ کیوں؟
 کیونکہ اس ملک کو بنانے والوں کو ہی نہیں چلنے دیا گیا۔ اس ملک میں جمہوریت کو کبھی موقع ہی نہیں دیا گیا۔

یہ آرٹیکل کسی دشمن کا نہیں، ایک ایسے کشمیری کا ہے جو گو کے اپنے وطن جموں کشمیر کی مکمل آزادی کی جدوجہد کر رہا ہے مگر پاکستان کی سلامتی ترقی خوشحالی کے لیے بھی دعا گو ہے اور سچ بولنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔

1. چار مارشل لاء: جمہوریت کا قتل

پاکستان کی 79 سالہ تاریخ میں چار بار فوجی مارشل لاء لگا، اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ پاکستان آگے نہیں بڑھا۔

پہلا مارشل لاء 1958 - ایوب خان: 
قائداعظم مشکوک موت کے بعد ہی جمہوریت کے خلاف اس ملک میں سازشیں شروع ہو گی 1958 میں ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ آئین توڑ دیا گیا۔

دوسرا مارشل لاء 1969 - یحییٰ خان: 
ایوب کے بعد یحییٰ آیا، جس کے دور میں پاکستان کی تاریخ کے واحد منصفانہ الیکشن ہوے مگر اکثریت کے منڈیٹ کو تسلیم نا کیا گیا اور ملک ٹوٹ گیا۔ بنگلہ دیش بنا۔

تیسرا مارشل لاء 1977 - ضیاء الحق: 
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ضیاء الحق نے 11 سال تک ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ اس دور میں فرقہ واریت، کلاشنکوف کلچر، افغان جنگ اور مذہبی انتہا پسندی کو ریاستی پالیسی بنا دیا گیا۔

چوتھا مارشل لاء 1999 - پرویز مشرف:
 نواز شریف کی منتخب حکومت کو گرا کر مشرف نے اقتدار سنبھال لیا۔ 9 سال تک جمہوریت معطل رہی۔

چار مارشل لاء کا مطلب ہے پاکستان میں کبھی بھی کوئی سول حکومت اپنا وقت پورا نہیں کر سکی۔ ہر حکومت کو بننے سے پہلے ہی گرنے کا خوف ہوتا تھا۔ کوئی بھی معاشی پالیسی، کوئی بھی تعلیمی اصلاح، کوئی بھی خارجہ پالیسی سیول حکومتوں کو بنانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا اور کسی بھی سیول حکومت کی پالیسی کو نہیں چلنے دیا گیا۔

2. لیاقت علی خان کا قتل: پہلے وزیراعظم کو گولی مار دی گئی

16 اکتوبر 1951 کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں سرعام گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ قاتل کو موقع پر ہی مار دیا گیا، سازش کا آج تک پتہ نہیں چلا۔
جبکہ قاتل کی فیملی کی ریاست کفالت کرتی رہی

جس ملک میں پہلا وزیراعظم ہی محفوظ نہ ہو، وہاں جمہوریت کیسے چل سکتی ہے؟ لیاقت علی خان کی موت آج بھی ایک معمہ ہے، ایک سوالیہ نشان ہے۔

3. مادر ملت فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا

قائداعظم محمد علی جناح کی بہن، جسے  مادر ملت کہا جاتا ہے فاطمہ جناح نے 1965 میں ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑا۔ انہیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ مگر ریاستی مشینری نے انہیں غدار، انڈین ایجنٹ، اور را کا ایجنٹ کہہ کر بدنام کیا۔ ان کے جلسوں پر پتھراؤ کروایا گیا، ان کی کردار کشی کی گئی۔

جس قوم کی ماں کو غدار کہہ دیا جائے، وہ قوم اپنی تاریخ سے کیا سیکھے گی؟

4. بھٹو کو پھانسی، بے نظیر کو قتل

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے ملک ٹوٹنے کے بعد اگر ملک متحد رہتا تو بھٹو کو جمعوری طریقہ سے اقتدار ملنا مشکل تھا انہیں ضیاء الحق نے عدالتی قتل کے ذریعے 4 اپریل 1979 کو پھانسی دے دی۔

جس قوم کی ماں کو غدار کہہ دیا جائے، وہ قوم اپنی تاریخ سے کیا سیکھے گی؟

ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو، جو دو بار وزیراعظم بنیں، 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ میں ہی قتل کر دی گئیں۔ آج تک ان کے قتل کی سازش بے نقاب نہیں ہوئی۔

5. نواز شریف: جلا وطنی اور تختہ الٹنا

نواز شریف تین بار وزیراعظم بنے۔

1999 میں ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں جیل میں ڈالا گیا، پھر جلا وطن کر کے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔

2017 میں پھر انہیں پانامہ کے بہانے نااہل کر کے نکالا گیا، اور جیل میں ڈالا گیا۔

ایک شخص جو تین بار عوام کے ووٹ سے آیا، اسے کبھی اپنا وقت پورا نہیں کرنے دیا گیا۔

6. عمران خان: جیل میں

عمران خان، جو 2018 میں وزیراعظم بنے، 2022 میں عدم اعتماد سے ہٹائے گئے اور پھر 2023 سے آج تک جیل میں ہیں۔ ان پر سینکڑوں مقدمات بنائے گئے۔

چاہے آپ عمران خان سے اتفاق کریں یا اختلاف، ایک سوال تو ہے: پاکستان میں کون سا لیڈر ہے جسے عوام نے منتخب کیا اور اسے عزت سے اپنا وقت پورا کرنے دیا گیا؟ جواب: کوئی بھی نہیں۔

7. سول حکومتوں کو کبھی موقع ہی نہیں دیا گیا

پاکستان میں جتنی بھی سول حکومتیں آئیں، ان کو کبھی کام نہیں کرنے دیا گیا۔

اگر حکومت نے آزاد خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی، تو اسے امریکی ایجنٹ یا غدار کہہ دیا گیا۔
- اگر حکومت نے دفاعی بجٹ پر سوال اٹھایا، تو اسے ملک دشمن قرار دیا گیا۔
- اگر حکومت نے چھوٹی قوموں کو حق دینے کی بات کی، تو اسے توڑنے والا کہا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں کوئی سول وزیراعظم اپنی مرضی سے ایک سیکرٹری تک نہیں لگا سکتا۔

8. وطن کے وفادار 60 سال کی عمر میں باہر کیوں جاتے ہیں؟

یہ سب سے تکلیف دہ سوال ہے جو میرے خیال سے پاکستانی نوجوانوں کے دماغ میں ہے۔

پاکستان میں جو شخص وطن کا وفادار ہوتا ہے، سچ بولتا ہے، کرپشن کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، وہ 60 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے تھک جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس ملک میں سچ بولنے والے کے لیے جگہ نہیں ہے۔

اس لیے ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، صحافی، اور محب وطن لیڈر، سب باہر چلے جاتے ہیں۔ برین ڈرین آج پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ جو پاکستان سے محبت کرتا ہے، وہی پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہے۔

اور دوسری طرف، جو ملک کو لوٹتے ہیں، جو کرپٹ ہیں، جو قبضہ مافیا ہیں، وہی پاکستان میں عیش کر رہے ہیں۔

9. 1971 کے وفاداروں کو کیوں نہ اپنایا گیا؟

بنگلہ دیش بننے کے بعد جن بہاریوں اور محب وطن پاکستانیوں نے پاکستان کا جھنڈا نہیں چھوڑا، وہ 50 سال سے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ انہیں آج تک پاکستان نہیں لایا گیا۔

وہ لوگ جو پاکستان کے لیے قربان ہوئے، آج بے وطن ہیں۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔

10. چھوٹی قوموں کو دبانے کی پالیسی

بنگالیوں کو دبایا گیا تو بنگلہ دیش بن گیا۔

بلوچوں کو دبایا گیا تو بلوچستان میں نفرت پھیلی۔

سندھیوں، پشتونوں  کو دبایا گیا تو آج بھی وہ اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

کشمیر کا مسئلہ بھی یہی ہے۔ کشمیر کو زمین کا ٹکڑا سمجھا گیا، کشمیری انسان کو نہیں سمجھا گیا۔ 1947 سے 1984 تک سیاچن پر قبضہ ہو گیا، مگر ہم آپس میں الجھے رہے۔

نتیجہ: پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ

پاکستان بچ سکتا ہے، اگر:

چار مارشل لاء سے سبق سیکھا جائے اور آئندہ جمہوریت کو چلنے دیا جائے۔
- لیاقت علی خان سے لے کر بے نظیر تک، تمام قتلوں کی شفاف تحقیقات ہوں۔
- فاطمہ جناح کو غدار کہنے والی سوچ کو دفن کیا جائے۔
- نواز شریف، عمران خان سمیت تمام لیڈروں کو عوام کے فیصلے پر چھوڑا جائے۔
- وطن کے وفاداروں کو 60 سال کی عمر میں باہر جانے پر مجبور نہ کیا جائے، انہیں عزت دی جائے۔
- چھوٹی قوموں کو برابر کا شہری سمجھا جائے۔
- 
جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی سے ہونے تک کشمیریوں کو بنیادی حقوق دئے جائیں اور مستقبل کا فیصلہ ان کی مرضی سے کرنے دیا جائے تب تک  گلگت بلتستان کو مظفرآباد اسمبلی نمائندگی دی جائے

پاکستان کی طاقت اس کے جغرافیے میں نہیں، اس کے عوام میں ہے۔ اور جب تک لیڈر کو قتل، جلا وطن اور جیل میں ڈالا جاتا رہے گا، پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔

پاکستان کو آگے بڑھنے سے کسی دشمن نے نہیں روکا، پاکستان کو آگے بڑھنے سے اس کی اپنی اندرونی قوتوں نے روکا ہے جو جمہوریت سے ڈرتی ہیں، سچ سے ڈرتی ہیں، اور عوام سے ڈرتی ہیں۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں