مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی عوامی حقوق کی تحریک — سرحدوں سے پار گونجتی آواز، دنیا بھر سے یکجہتی

جموں کشمیر کی عوامی حقوق کی تحریک اب سرحدوں کے پار گونج رہی ہے، جہاں تارکینِ وطن اور عالمی تنظیمیں یکجہتی کے لیے متحد ہیں۔ جانیے یہ آواز دنیا بھر میں کیسے پھیل رہی ہے۔

خلاصہ

جموں کشمیر کی عوامی حقوق کی تحریک اب سرحدوں کے پار گونج رہی ہے، جہاں تارکینِ وطن اور عالمی تنظیمیں یکجہتی کے لیے متحد ہیں۔ جانیے یہ آواز دنیا بھر میں کیسے پھیل رہی ہے۔

Summary in English

Jammu and Kashmir's people's rights movement is now echoing across borders, where the diaspora and international organizations are united in solidarity. Find out how this voice is spreading across the world.

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی عوامی حقوق کی تحریک — سرحدوں سے پار گونجتی آواز، دنیا بھر  سے یکجہتی

پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جاری عوامی حقوق کی تحریک اب محض ریاست کی حدود تک محدود نہیں رہی۔ اس تحریک میں اٹھنے والی آواز، عوام کے مطالبات اور ان کے ساتھ ہونے والی عالمی یکجہتی دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن اس عالمی منظرنامے کو صرف احتجاجی مظاہروں کی تعداد سے دیکھنا شاید کافی نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں آباد کشمیریوں کے ساتھ ساتھ غیر کشمیری شہری، سیاسی و ترقی پسند جماعتیں، مزدور تنظیمیں، انسانی حقوق کے کارکن، صحافی، دانشور اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقے بھی اس تحریک کے ساتھ مختلف انداز میں اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔

اس عالمی یکجہتی کا سب سے مضبوط پہلو بیرونِ ملک آباد خود کشمیری ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کے وہ باشندے جو روزگار، تعلیم اور بہتر مستقبل کی تلاش میں دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہیں، اپنے وطن سے دور رہنے کے باوجود وہاں کے حالات سے لاتعلق نہیں ہیں۔ وہ مختلف ممالک میں ،مختلف شہروں میں احتجاج کر رہے ہیں، اجتماعات منعقد کر رہے ہیں، اپنے ملکوں کے سیاسی نمائندوں اور انسانی حقوق کے اداروں سے رابطہ کر رہے ہیں، یادداشتیں پیش کر رہے ہیں اور عالمی رائے عامہ کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جموں کشمیر میں جاری عوامی تحریک کے بنیادی مطالبات کیا ہیں۔

اوورسیز کشمیری حلقوں کی جانب سے مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ریاست سے باہر مختلف ممالک، براعظموں، شہروں اور خطوں میں اب تک بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ان تمام مظاہروں کی کوئی ایک جامع اور آزادانہ عالمی فہرست دستیاب نہیں، لیکن برطانیہ، اسپین، سوئٹزرلینڈ،اٹلی،بلجیئم ،ہالینڈ،جرمنی،فن لینڈ،ڈنمارک،سویڈن،ناروے ،امریکہ، کینیڈا آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ اور دیگر مقامات سے سامنے آنے والی دستاویزی مثالیں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ بیرونِ ملک کشمیری اس تحریک کو مسلسل اپنی آواز دے رہے ہیں۔

لندن، برمنگھم اور مانچسٹر میں ہونے والے مظاہروں سے لے کر اسپین کے شہر بارسلونا اور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا تک کشمیری اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے یورپی مرکز کے سامنے سیکڑوں کشمیریوں کا اجتماع اس بات کی علامت ہے کہ اوورسیز کشمیری اس مسئلے کو صرف اپنی کمیونٹی کے اندر نہیں بلکہ عالمی اداروں تک لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح کینیڈا کے ٹورنٹو سمیت مختلف مقامات پر بھی کشمیری برادری کی جانب سے تحریک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی سامنے آ رہا ہے۔

اس عالمی آواز میں صرف کشمیری ہی شامل نہیں۔ مختلف ملکوں میں سیاسی اور ترقی پسند تنظیمیں بھی اپنے اپنے طریقے سے اس تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہی ہیں۔ کہیں حمایتی بیانات جاری ہو رہے ہیں، کہیں قراردادیں منظور کی جا رہی ہیں، کہیں مضامین اور تجزیے شائع ہو رہے ہیں، کہیں احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی جا رہی ہے اور کہیں مزدوروں، طلبہ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے حلقوں کی جانب سے آواز بلند کی جا رہی ہے۔

اسی وسیع تر عالمی یکجہتی میں ریولوشنری کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں کی شرکت بھی قابلِ ذکر ہے۔ برطانیہ میں لندن، برمنگھم اور مانچسٹر سمیت مختلف مقامات پر اس کے کارکن جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے والے احتجاجوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ کینیڈا میں بھی اس تنظیم کی جانب سے جموں کشمیر کی عوامی جدوجہد کے حق میں باضابطہ یکجہتی سامنے آئی ہے۔ لیکن آر سی پی کی یہ حمایت عالمی یکجہتی کی مجموعی تصویر کا صرف ایک حصہ ہے، پوری تصویر نہیں۔

اسی طرح عالمی مزدور تحریک سے وابستہ انٹرنیشنل لیبر نیٹ ورک آف سولیڈیریٹی اینڈ اسٹرگل نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دنیا بھر کی مزدور تنظیموں، سماجی تحریکوں اور جمہوری اداروں سے بھی حمایت کی اپیل کی ہے۔ فورتھ انٹرنیشنل سمیت دیگر بین الاقوامی ترقی پسند حلقوں نے بھی اس تحریک اور اس کے مطالبات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہ حمایت اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس سے جموں کشمیر کا معاملہ صرف کشمیری برادری کے اندر زیرِ بحث رہنے کے بجائے عالمی مزدور، جمہوری اور انسانی حقوق کے حلقوں تک بھی پہنچ رہا ہے۔

دنیا کا کوئی بھی باشعور انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہر انسان کا حق ہے۔

ارجنٹائن میں بھی ترقی پسند سیاسی حلقوں کی جانب سے جموں کشمیر میں جاری عوامی جدوجہد پر آواز بلند کی گئی ہے۔ اسی طرح یورپ کے مختلف حصوں میں انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کے حامی کارکنوں نے اس تحریک کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ ان تمام مثالوں کو یکجا کیا جائے تو ایک حقیقت سامنے آتی ہے کہ جموں کشمیر کی جاری عوامی تحریک کے ساتھ عالمی سطح پر حمایت اور یکجہتی کے مختلف راستے پیدا ہو رہے ہیں۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر بیرونِ ملک آباد کشمیریوں اور دنیا کے مختلف ملکوں کے شہریوں کو اس تحریک سے کیا دلچسپی ہے؟ اس کا جواب شاید بہت سادہ ہے۔ جب کسی تحریک کے مطالبات بجلی، خوراک، صحت، تعلیم، روزگار، عوامی وسائل، سیاسی نمائندگی، جواب دہ حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہوں تو ان کی گونج کسی ایک جغرافیائی خطے تک محدود نہیں رہتی۔ دنیا کا کوئی بھی باشعور انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہر انسان کا حق ہے۔

اسی لیے اوورسیز کشمیریوں کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ وہ صرف اپنے وطن کے سفیر نہیں بلکہ ان معاشروں کا بھی حصہ ہیں جہاں وہ آباد ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو منظم کریں، جذبات کے بجائے حقائق اور دستاویزات کے ساتھ بات کریں، اپنے اپنے ملکوں کے پارلیمنٹیرینز، سیاسی جماعتوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی سے رابطہ رکھیں اور دنیا کو مسلسل آگاہ کرتے رہیں کہ ریاست جموں کشمیر میں عوام کیا مطالبہ کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ یہ عالمی حمایت کسی ملک، قوم یا عوام کے خلاف نفرت کا ذریعہ نہ بنے۔ جموں کشمیر کے عوام کے حقوق کی حمایت کا بنیادی اصول یہی ہونا چاہیے کہ انسانی حقوق کا معیار سب کے لیے یکساں ہو۔ اگر فلسطین کے انسان کے بنیادی حقوق کی بات ہوتی ہے تو جموں کشمیر کے انسان کے لیے بھی ہونی چاہیے۔ اگر دنیا کسی خطے میں ریاستی جبر، تشدد یا شہری آزادیوں کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرتی ہے تو یہی اصول جموں کشمیر پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس تحریک میں شامل پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام جہاں  ان تمام ہم وطن اوورسیز کشمیریوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی مصروف زندگیوں سے وقت نکال کر اپنے وطن کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہیں پوری کشمیری قوم  ان تمام غیر کشمیری شہریوں، سیاسی کارکنوں، مزدور تنظیموں، ترقی پسند جماعتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا بھی شکریہ ادا کرتی ہے  جو کسی ذاتی مفاد کے بغیر انسانی اور جمہوری اصولوں کی بنیاد پر جموں کشمیر کے عوام کی آواز سن رہے ہیں اور اسے آگے پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن شکریہ کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ یہ یکجہتی صرف ایک دن، ایک مظاہرے یا ایک بیان تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ جب تک جموں کشمیر میں عوام اپنے بنیادی حقوق، باوقار زندگی، جواب دہ حکمرانی اور اپنے وسائل پر منصفانہ حق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، بیرونِ ملک آباد کشمیریوں اور دنیا بھر کے ہمدرد انسانوں کو بھی اپنی پرامن اور اصولی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔

آج جموں کشمیر کے اندر اور باہر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دو آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ ایک آواز ان لوگوں کی ہے جو اپنی سرزمین پر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں، اور دوسری ان لوگوں کی جو دنیا کے مختلف شہروں میں کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کی آواز سن رہے ہیں۔ ہم آپ کی آواز بن رہے ہیں ۔

یہی کسی بھی عوامی تحریک کی اصل طاقت ہوتی ہے۔

جموں کشمیر کے عوام دنیا سے کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی انسانی معیار اختیار کیا جائے جو دنیا کے ہر انسان کے لیے تسلیم کیا جاتا ہے۔انسان جہاں بھی ہو، انسان ہے؛ اور اس کے بنیادی حقوق بھی وہیں بنیادی انسانی حقوق ہیں۔

یہی وہ اصول ہے جو جموں کشمیر کی آواز کو مقامی حدود سے نکال کر دنیا کے مختلف شہروں، معاشروں اور اداروں تک پہنچا رہا ہے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں