مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں عبوری آئین کی پامالی اور نو آبادیاتی سائے میں جمہوریت

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کے برعکس اہم سیاسی فیصلے اسلام آباد اور لاہور سے مسلط کیے جا رہے ہیں۔ کیا 1974 کا عبوری آئین بے اثر ہو چکا ہے؟ جانیے اس رپورٹ میں۔

خلاصہ

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کے برعکس اہم سیاسی فیصلے اسلام آباد اور لاہور سے مسلط کیے جا رہے ہیں۔ کیا 1974 کا عبوری آئین بے اثر ہو چکا ہے؟ جانیے اس رپورٹ میں۔

Summary in English

Contrary to the public mandate in Azad Kashmir, key political decisions are being imposed from Islamabad and Lahore. Has the 1974 Interim Constitution become ineffective? Find out in this report.

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں عبوری آئین کی پامالی اور نو آبادیاتی سائے میں  جمہوریت

مکمل آزاد آئینی دستور صرف مکمل آزاد مملکتوں کے ہوتے ہیں جو وہ خود تیار کرتے ہیں جبکہ نو آبادیاتی کالونیوں پر ہمیشہ قابض طاقت کی طرف سے مسلط کردہ آئین و قانون ہی لاگو ہوتے ہیں خواہ أنکی شکل و صورت کیسی ہی ہو۔

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کا آئینی ڈھانچہ، عبوری ایکٹ 1974، بظاہر ایک جمہوری نظام کی ضمانت دیتا ہے ۔عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت سازی، قانون ساز اسمبلی کی بالادستی، اور عوامی مینڈیٹ کی تقدیس۔ یہ آئین، اپنی تحریر میں، ایک خودمختار اور جمہوری اکائی کا نقشہ پیش کرتا ہے جہاں اقتدار کا سرچشمہ عوام کی رائے ہو۔ مگر گزشتہ نصف صدی کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ عملی سیاست نے اس آئینی روح کو بارہا مجروح کیا ہے، اور ہر بار یہ پامالی اس وقت ہوئی ہے جب فیصلہ سازی کا اصل اختیار مظفرآباد سے نکل کر پاکستانی جماعتوں کے گڑھی خدا بخش (لاڑکانہ) اسلام آباد اور لاہور میں قائم مراکز میں منتقل ہو گیا۔

یہ کوئی نیا واقعہ نہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی سیاسی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں پاکستانی برسرِ اقتدار جماعت نے اپنی مرضی کے وزیر اعظم اور صدر مسلط کیے۔تازہ ترین اور ماضی قریب کی تاریخ ہی کو دیکھ لیجئیے ، 2021 میں اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے عبدالقیوم نیازی کو وزیر اعظم آزاد کشمیر نامزد کیا تھا، مگر 2022 میں انہی کی جماعت نے اپنے ہی نامزد کردہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے انہیں ہٹا دیا۔ یہ سلسلہ چوہدری انوارالحق، سردار تنویر الیاس، اور دیگر رہنماؤں کے ادوار میں بھی دہرایا گیا، جہاں تبدیلیِ اقتدار کا فیصلہ کشمیری عوام کی رائے کے بجائے پاکستانی سیاسی جماعتوں کی اندرونی صف بندیوں میں ہوا۔ فیصل ممتاز راٹھور کا انتخاب تو "قرعہ اندازی"  (خفیہ پرچی ) سے ہوا یہ تو وزارت عظمی کے منصب کی توہین کا انوکھا درجہ تھا

حالیہ مثال اس نمونے کی سب سے واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ پاکستانی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ، پاکستانی رہنما نواز شریف نے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کو پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیر اعظم  کے منصب کے لیے پارٹی کا امیدوار نامزد کیا، حالانکہ وہ عوامی انتخاب کے میدان میں شکست سے دوچار ہو چکے تھے ۔ اس نامزدگی پر جب سوال اٹھایا گیا کہ آیا وہ شخص جسے عوام نے ووٹ دے کر منتخب نہیں کیا،بلکہ مسترد کیا اسے وزیر اعظم بنایا جا رہا ہے، تو پاکستانی وفاقی وزیرِ قانون،  کا جواب تھا کہ "اس سوال کا بہتر جواب سیاسی ٹیم دے سکتی ہے، کیونکہ یہ سیاسی فیصلے ہوتے ہیں اور ان کے لیے کوئی لکھے پڑھے مخصوص قواعد نہیں ہوتے۔" یہ جملہ بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی آئینی جمہوریت کو پاکستانی جماعتی مصلحتوں کے تابع کر دیا گیا ہے جہاں "سیاسی فیصلہ" کی اصطلاح دراصل عوامی مینڈیٹ کی نفی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

اصل نامزدگی، اصل فیصلہ، اور اصل اختیار پاکستانی جماعتی مرکزی قیادت کے پاس رہتا ہے، اور مظفر آباد اسمبلی محض مہر ثبت کرنے کا کردار ادا کرتی ہے۔

قانون ساز اسمبلی کے اندر بھی اس نامزدگی کو یکطرفہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ شاہ غلام قادر جیسے رہنماؤں نے پاکستانی مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بیرسٹر گیلانی کی نامزدگی کو مسترد کرتے ہوئے اعلانِ بغاوت کیاتھا،

( بعد ازاں وہ مجبور ہوگئے ) جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ فیصلہ خود کشمیری نمائندوں کی اکثریتی رائے سے بھی متصادم تھا۔

صدارتی عہدے کا معاملہ بھی اسی نمونے کی عکاسی کرتا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کے بعد سے یہ آئینی عہدہ خالی رہا، اور اسپیکر قانون ساز اسمبلی قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ جب نئے صدر کے انتخاب کا وقت آیا، تو اصل فیصلہ مظفر آباد اسمبلی کے فلور پر نہیں بلکہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جہاں پاکستانی پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی نے صدارتی امیدوار کے نام کو حتمی شکل دی۔ چوہدری رشید، چوہدری لطیف اکبر، چوہدری یاسین، اور سردار محمد یعقوب خان جیسے ناموں پر جو لابنگ ہوئی، وہ اسلام آباد کی راہداریوں میں ہوئی، مظفرآباد کی گلیوں میں نہیں۔

پاکستانی مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے پاکستانی پیپلز پارٹی کے اکثریتی دعوے کو چیلنج کیا اور کہا کہ ان کی جماعت صدارتی انتخاب میں بھرپور حصہ لے گی  مگر یہ کشمکش بھی بالآخر دو پاکستانی جماعتوں کے درمیان تھی، نہ کہ کشمیری عوام اور ان کے نمائندوں کے درمیان۔

یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ عبوری ایکٹ 1974 کے تحت صدر اور وزیر اعظم دونوں کا انتخاب براہِ راست عوامی ووٹ سے نہیں بلکہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے ذریعے بالواسطہ طریقے سے ہوتا ہے  یہ طریقہ کار خود آئینی اور جائز ہے۔ مسئلہ طریقہ کار میں نہیں بلکہ اس کے پیچھے کارفرما اصل قوتوں میں ہے۔ جب اسمبلی کے ارکان کی اکثریت خود پاکستانی جماعتوں کی مرکزی قیادت کی ہدایات کی پابند ہو، تو بالواسطہ انتخاب کا آئینی خول محض ایک رسمی توثیقی عمل بن کر رہ جاتا ہے۔ اصل نامزدگی، اصل فیصلہ، اور اصل اختیار پاکستانی جماعتی مرکزی قیادت کے پاس رہتا ہے، اور مظفر آباد اسمبلی محض مہر ثبت کرنے کا کردار ادا کرتی ہے۔

یہ صرف ایک انتظامی تنازعہ نہیں، بلکہ اس بڑے اور بنیادی سوال کی علامت ہے جو جموں  کشمیر کی حقیقی خودمختاری سے جڑا ہے کہ  کیا یہ خطہ واقعی اپنے فیصلے خود کرنے کا اہل ہے، یا اس کی جمہوری علامتیں محض ایک بڑے سیاسی کھیل کے مہرے ہیں؟ جب تک فیصلے مظفرآباد کے بجائے پاکستانی جماعتوں کے اسلام آباد، گڑھی خدا بخش  اور لاہور میں قائم ایوانوں میں ہوتے رہیں گے، عبوری ایکٹ کی دفعات محض کاغذی ضمانتیں رہ جائیں گی، اور  عوام کا حقِ رائے دہی ایک علامتی رسم سے زیادہ کچھ نہیں رہے گا۔ حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ فیصلہ سازی کا اختیار وہاں لوٹایا جائے جہاں سے وہ چھینا گیا ہے خود کشمیری عوام کے پاس۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں