مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

5 یتیم بہنوں کے اکلوتے بھائی کا بچپن سے جنت تک کا سفر

پانچ یتیم بہنوں کا اکلوتا بھائی نقاش زرداد بے گناہ گولی کا نشانہ بن گیا۔ بہن نے اپنے معصوم بھائی کی بچپن سے جدائی تک کی یادیں قلمبند کیں۔ دل کو چھو لینے والی یہ داستان ضرور پڑھیں۔

خلاصہ

پانچ یتیم بہنوں کا اکلوتا بھائی نقاش زرداد بے گناہ گولی کا نشانہ بن گیا۔ بہن نے اپنے معصوم بھائی کی بچپن سے جدائی تک کی یادیں قلمبند کیں۔ دل کو چھو لینے والی یہ داستان ضرور پڑھیں۔

Summary in English

Naqqash Zardad, the only brother of five orphaned sisters, became an innocent victim of gunfire. His sister has penned down memories of her innocent brother, from his childhood to their final parting. Read this heart-touching story.

5 یتیم بہنوں کے اکلوتے بھائی کا بچپن سے جنت تک کا سفر

نقاش زرداد کی یادیں اس کی بہن سعدیہ زرداد کی زبانی
 
نقاش زرداد صرف جنازے میں شرکت کے لیے گیا اور ظالم فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا

میرے بھائی… تمہیں تو ابھی بہت جینا تھا۔ 💔
6 جون کو جب میرے بھائی نقاش کو گولی لگی، وہ اپنے ہی گھر کے اندر تھا۔ نہ اس کا کسی سیاست سے کوئی تعلق تھا، نہ کسی احتجاج سے، نہ کسی جھگڑے سے۔ وہ تو بالکل بے گناہ، بالکل معصوم تھا۔
اتنا معصوم… کہ کبھی کبھی لگتا تھا، وہ 29 سال کا ہو کر بھی دل سے وہی چھوٹا سا بچہ ہے، جسے ماں کی انگلی پکڑ کر چلنے کی عادت ہوتی ہے۔
وہ ہم پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ ہماری خوشی تھا۔ ہماری دعاؤں کا جواب تھا۔ اور میری ماں کی تو پوری دنیا تھا۔
آج سے 29 سال پہلے میری ماں اور باپ نے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلا کر تمہیں مانگا تھا، نقاش۔
تم صرف ایک بیٹا نہیں تھے۔ تم میری ماں کی دن رات کی دعاؤں کا ثمر تھے۔ میرے باپ کے تہجد کے سجدوں کی قبولیت تھے۔ تم پانچ بہنوں کی خوشی تھے، ان کا مان تھے، گھر کی رونق تھے۔
اور شاید اسی لیے تمہیں کھونے کے بعد ہمیں یوں لگتا ہے جیسے گھر نہیں… ہماری پوری دنیا خالی ہو گئی ہے۔
مجھے آج بھی یاد ہے، جب تم بہت چھوٹے تھے اور تمہارا پاؤں جل گیا تھا۔ ابو تمہیں اٹھا کر کیسے بھاگے تھے… جیسے تمہارے پاؤں کا وہ چھوٹا سا زخم ان کے اپنے دل پر لگا ہو۔
پھر جب تم میٹرک میں پاس ہوئے تھے تو ابو کتنے خوش تھے۔ انہوں نے تمہاری پسند کا کھانا بنوایا تھا، تمہاری پسند کی شاپنگ کروائی تھی۔ تمہاری ہر چھوٹی خوشی میں انہیں اپنی خوشی ملتی تھی۔
عید آتی تو ابو تمہیں اپنے ساتھ لے کر جاتے۔ تمہیں ہر چیز دلاتے اور پھر تم بڑے ہو گئے تھے۔
مگر شاید ابو کے لیے تم کبھی بڑے ہوئے ہی نہیں تھے۔
تم راولاکوٹ جاتے تو کہتے:
"آپ لوگ بھی آنا، مجھے فون کر دینا، میں شاپ پر آ جاؤں گا… آپ اپنی پسند سے میرے لیے چیزیں لے دینا۔"
اور تمہاری چھوٹی بہنیں بھی تمہیں چیزیں چن چن کر دیتی تھیں۔
تمہیں کپڑوں کا کتنا شوق تھا، میرے شہزادے…
ایک عید پر تم نے تین جوتوں کے جوڑے لے لیے۔ امی نے حیرت سے پوچھا:
"اتنے کیوں لے لیے؟"
تم نے کتنی معصومیت سے کہا:
"بس اچھے لگ رہے تھے، سمجھ نہیں آ رہی تھی کون سا لوں، تو تینوں لے لیے۔"
بس… تم ایسے ہی تو تھے۔
کتنے معصوم۔ کتنے سادہ۔ کتنے بے ضرر۔
تمہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ دنیا میں ابھی بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دل میں کسی کے لیے برائی نہیں ہوتی۔
پھر 2020 میں جب ابو کو کینسر کی تشخیص ہوئی، میں اس وقت متحدہ عرب امارات میں تھی۔ مجھے ابو سے بھی زیادہ تمہاری فکر تھی۔ میں سوچتی تھی:
"نقاش اکیلا سب کچھ کیسے سنبھالے گا؟"
پھر ہم سب بہنیں ابو کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہو گئیں۔ ہر علاج کروایا، ہر دعا مانگی، ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔
مگر ایک دن موت پھر ہم سے جیت گئی۔
ہم ابو کو بھی کھو بیٹھے۔
اور اس کے بعد میرے دل میں ہر وقت ایک ہی فکر رہتی تھی کہ میرا نقاش بالکل اکیلا رہ گیا ہے۔
اگرچہ تمہاری بہنیں تمہارے ساتھ ہر جگہ کھڑی تھیں، لیکن آج سوچتی ہوں… اچھا ہوا ابو چلے گئے۔
کیونکہ اگر وہ آج زندہ ہوتے تو شاید اپنے نقاش کو جاتے ہوئے دیکھ ہی نہ پاتے۔
ایک جاننے والی نے بتایا تھا کہ جب ابو ہسپتال میں داخل تھے تو ایک رات تم ان کے پاس بیٹھے بیٹھے بینچ پر سو گئے تھے۔ ابو کے ہاتھ میں کینولا لگا ہوا تھا۔ انہوں نے خود اپنے اوپر سے کمبل اتارا اور تمہارے اوپر ڈال دیا۔
پھر صبح تک ذرا سی آواز بھی نہیں کی کہ بیٹا جاگو، میں ٹھنڈا ہو رہا ہوں۔
انہیں کیا خبر تھی کہ صرف چار سال بعد تم دونوں ہمیں اس طرح چھوڑ جاؤ گے کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر بھی تم دونوں کو ڈھونڈیں گے۔
نقاش…
تمہیں کبھی بخار بھی ہو جاتا تو امی ساری رات ایک پاؤں پر کھڑی رہتی تھیں۔ تمہارے ماتھے پر ہاتھ رکھتیں، تمہیں دیکھتیں، تمہیں آرام کرواتیں۔
اور جب تم گھر سے نکلتے تو امی کی نصیحتیں ختم ہی نہیں ہوتی تھیں:
"سڑک کے کنارے کنارے چلنا۔"
"مغرب سے پہلے گھر آ جانا۔"
"دھوپ میں نہیں جانا۔"
"سائے والی جگہ سے جانا۔"
امی تمہیں ٹورنامنٹ میں نہیں جانے دیتی تھیں کہ وہاں رات بہت ہو جاتی ہے، کہیں کوئی گاڑی آتے ہوئے ایکسیڈنٹ نہ کر دے، کچھ ہو نہ جائے۔
اور تم بھی کتنے اچھے تھے کہ چپ چاپ ان کی بات سن لیتے تھے اور نہیں جاتے تھے۔
جب تک تم واپس گھر نہیں آتے تھے، امی کتنی بار فون کرتی تھیں۔
تمہیں کیا خبر تھی کہ ایک ماں کا ہر فون دراصل اس کی دعا ہوتا ہے۔
تمہیں کیا خبر تھی کہ دروازے کی طرف اٹھتی ہر نظر کے پیچھے ایک ماں کا ڈر چھپا ہوتا ہے:
"میرا بیٹا خیریت سے واپس آ جائے۔"
میں جب بھی ایئرپورٹ جاتی یا آتی، تم مجھے چھوڑنے بھی آتے تھے اور لینے بھی۔
2 دسمبر 2025 کو بھی تم مجھے ایئرپورٹ چھوڑنے آئے تھے۔
نقاش…
مجھے کیا خبر تھی کہ وہ ہماری آخری ملاقات ہے۔
کاش مجھے پہلے سے معلوم ہوتا۔
میں تمہیں جانے ہی نہ دیتی۔ تمہیں روک لیتی۔ تمہیں اپنے ساتھ واپس لے آتی۔ تمہارے ساتھ بیٹھتی۔ تمہیں دیکھتی رہتی۔
شاید تمہیں گلے لگا کر بار بار کہتی:
"نقاش، آج مت جاؤ… میرے پاس بیٹھو۔"
مگر ہمیں کہاں معلوم ہوتا ہے کہ کون سی ملاقات آخری ہے؟ کون سا گلے لگنا آخری ہے؟ کون سی آواز آخری ہے؟ کون سا "اللہ حافظ" ہمیشہ کے لیے الوداع بن جائے گا؟
اور پھر…
6 جون آ گیا۔
وہ دن جس نے ہماری پوری زندگی بدل دی۔
وہ دن جب تم اپنے ہی گھر کے اندر تھے۔
تم تو صرف نمازِ جنازہ کے لیے گئے تھے۔ جب وہاں سب کچھ شروع ہوا تو تم اپنے ڈیری فارم کی چار دیواری کے اندر چلے گئے۔
تم بے گناہ تھے۔ تم معصوم تھے۔ تم کسی کے دشمن نہیں تھے۔
پھر وہ گولی کس کے لیے تھی؟
اس گولی پر تمہارا نام کس نے لکھا تھا، نقاش؟
وہ تمہیں ہی کیوں لگی؟
تم تو اتنے ڈرپوک تھے کہ شاید تم نے زندگی میں کبھی بندوق کو ہاتھ بھی نہ لگایا ہو۔
پھر تمہاری زندگی سے کھیلنے والی وہ گولی تم تک کیسے پہنچ گئی؟
ہم پانچ بہنیں مر جاتیں… ہم میں سے کسی کو کچھ ہو جاتا، تمہیں کچھ نہ ہوتا۔
کیونکہ تم تو ہماری جان تھے۔
میری ماں کی جان تھے۔
اور آج بھی دل یہی ماننے کو تیار نہیں کہ وہ گولی واقعی تمہیں لگ گئی۔
دل بار بار کہتا ہے…
کاش کوئی غلطی ہوئی ہو۔
کاش کوئی کہہ دے:
"نقاش زندہ ہے۔"
لیکن پھر حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
اور ایک ماں کا دل دوبارہ مر جاتا ہے۔
نقاش…
جب تمہیں گولی لگی ہوگی، تمہیں کتنا درد ہوا ہوگا؟
تم کتنا تڑپے ہوگے؟
کیا تمہیں پیاس لگی ہوگی؟
کیا تم ڈر گئے ہوگے؟
کیا تم نے کسی کو پکارنا چاہا ہوگا؟
کیا تم نے اپنی ماں کو یاد کیا ہوگا؟
کیا تمہارے ذہن میں یہ خیال آیا ہوگا:
"جو ماں میری ایک چھوٹی سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی، آج وہ کہاں ہے؟"
کیا تم نے سوچا ہوگا:
"میری بہنیں کہاں ہیں؟"
"ابو مجھے کیوں نہیں بچا رہے؟"
یہ سوال مجھے ہر روز اندر سے کاٹتے ہیں۔
اور سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ شاید تمہیں اس وقت ہماری ضرورت تھی… اور ہم تمہارے پاس نہیں تھے۔
ایک ماں اپنے بچے کو دنیا کی ہر تکلیف سے بچانا چاہتی ہے۔
میری ماں نے بھی یہی کیا۔
تمہیں بخار ہوا، وہ رات بھر جاگتی رہیں۔
تم باہر گئے، وہ فون کرتی رہیں۔
تم دیر سے آئے، وہ دروازے پر تمہارا انتظار کرتی رہیں۔
تمہیں کوئی تکلیف ہوئی، وہ بے چین ہوئیں۔
مگر اس دن…
وہ تمہیں نہیں بچا سکیں۔
یہ ایک ماں کے لیے شاید سب سے بڑا دکھ ہے کہ جس بچے کو اس نے ساری زندگی اپنی آنکھوں میں چھپا کر رکھا… وہ ایک لمحے میں اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔
نقاش…
مجھے یاد ہے، میری بیٹی بیمار ہوئی تھی۔ تم پورا ایک ماہ میرے ساتھ ہسپتال میں رہے تھے۔
ایک لمحے کے لیے بھی تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں گھر جا رہا ہوں۔
میں نے تمہیں کہا بھی تھا:
"گھر سے ہو آؤ۔"
مگر تم نہیں گئے۔
تمہیں اپنی بہن کی فکر تھی۔
تم ایسے ہی تو تھے…
اپنوں کے لیے خود کو بھول جانے والے۔
اور تمہیں پرفیوم کا کتنا شوق تھا۔
2 جون کو میں نے تم سے پوچھا تھا:
"کیا چاہیے؟"
تم نے کہا تھا:
"میرے لیے اچھی سی پرفیوم لے آنا۔"
نقاش…
اب وہ پرفیوم میں کیا کروں؟
جس خوشبو کے لیے تم نے کہا تھا، وہ خوشبو اب کس کے لیے خریدوں؟
اور میری ماں؟
جو تمہیں ہر جگہ سے پرفیوم لا کر دیتی تھی… میں اسے کیا کہوں؟
کہ اب اس کا بیٹا خوشبو لگانے کے لیے نہیں رہا؟
نقاش…
تم کتنے معصوم تھے۔
کتنے شریف تھے۔
کتنے نرم دل تھے۔
لوگ کہتے ہیں صدقہ موت کو ٹال دیتا ہے۔
میری ماں تمہارا کتنا صدقہ دیتی تھی۔
تمہاری حفاظت کے لیے کتنی دعائیں کرتی تھی۔
تمہارے لیے کتنے سجدے کرتی تھی۔
پھر تم کیوں نہ بچ سکے؟
تمہاری حفاظت کیوں نہ ہو سکی؟
تم تو اتنے صلہ رحمی کرنے والے تھے۔
تم نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟
پھر تمہاری زندگی اتنی مختصر کیوں لکھی گئی؟
تمہیں ابھی تو جینا تھا…
ابھی تو ماں کی دعاؤں کا سایہ تمہارے سر پر ہونا تھا۔
ابھی تو بہنوں کے ساتھ ہنسنا تھا۔
ابھی تو گھر میں تمہاری شادی کی خوشیاں آنی تھیں۔
ابھی تو امی نے تمہارے سر پر سہرا دیکھنا تھا۔
ابھی تو ہمیں تمہارے بچوں کو گود میں اٹھانا تھا۔
نقاش…
تمہیں ابھی بہت جینا تھا۔
لیکن تم چلے گئے۔
اور ہمارے گھر سے صرف ایک بھائی نہیں گیا…
گھر کی آواز چلی گئی۔
ماں کی ہنسی چلی گئی۔
بہنوں کا سہارا چلا گیا۔
ہماری عیدیں چلی گئیں۔
ہماری خوشیاں چلی گئیں۔
ہماری وہ دنیا چلی گئی جس میں تم تھے۔
آج بھی تمہاری چیزیں دیکھ کر دل کہتا ہے:
"یہیں کہیں ہوگا نقاش…"
پھر یاد آتا ہے…
نقاش اب گھر نہیں آئے گا۔
فون نہیں کرے گا۔
پرفیوم نہیں مانگے گا۔
امی کو "میں آ رہا ہوں" نہیں کہے گا۔
بہنوں کے لیے چیزیں نہیں چنے گا۔
اور ہم…
ہم بس یادیں چنتے رہیں گے۔
نقاش…
اگر آنسوؤں سے کوئی واپس آتا، تو تم آج ہمارے درمیان بیٹھے ہوتے۔
اگر دعاؤں سے کوئی واپس آتا، تو میری ماں نے آسمان ہلا دینا تھا۔
اگر سجدوں سے تقدیر بدلتی، تو ہم تمہیں کبھی نہ کھوتے۔
اللہ سے بس اتنی دعا ہے کہ جس طرح تم ہماری دنیا کی خوشبو تھے، اے اللہ! تمہیں جنت کی خوشبوؤں میں رکھنا۔
تمہاری قبر کو نور سے بھر دینا۔
اسے کشادہ کر دینا۔
اس میں سکون اتار دینا۔
اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دینا۔
تمہاری ہر تکلیف کو اپنی رحمت سے مٹا دینا۔
اور میری ماں کو…
اس ماں کو جس نے تمہیں دعاؤں سے مانگا تھا…
اس کے دل کو صبر عطا کرنا۔
اے اللہ…
جس طرح ہم نے نقاش کو دنیا میں پھولوں کی طرح رکھا، تو بھی اسے اپنی رحمت میں پھولوں کی طرح رکھنا۔
اور جب کبھی جنت میں ہماری ملاقات ہو…
تو ہمیں پھر سے وہی دن دینا۔
وہی گھر دینا۔
وہی ماں دینا۔
وہی پانچ بہنیں دینا۔
اور ہمارا نقاش بھی…
بالکل ویسا ہی معصوم، ویسا ہی شریف، ویسا ہی مسکراتا ہوا…
ہمیں واپس دے دینا۔
آمین یا رب العالمین۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں