مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

پورا کشمیر کھلا ہے تو راولاکوٹ کیوں بند ہے؟ وسیم خورشید صاحب، سوال حکومت سے بھی تو کریں !

راولاکوٹ میں مسلسل بندش سے ہزاروں تاجروں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس کشیدہ صورتحال اور کرفیو کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ تفصیلی حقائق جانیے۔

خلاصہ

راولاکوٹ میں مسلسل بندش سے ہزاروں تاجروں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس کشیدہ صورتحال اور کرفیو کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ تفصیلی حقائق جانیے۔

Summary in English

The ongoing shutdown in Rawalakot has put the livelihoods of thousands of traders at stake. However, the real question is: who bears responsibility for this tense situation and curfew? Find out the detailed facts.

پورا کشمیر کھلا ہے تو راولاکوٹ کیوں بند ہے؟ وسیم خورشید صاحب، سوال حکومت سے بھی تو کریں !

وسیم خورشید صاحب! آپ نے انجمن تاجران راولاکوٹ کے ترجمان کی حیثیت سے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جب پورا آزاد کشمیر کھلا ہے تو راولاکوٹ کیوں بند ہے؟ آپ نے شہر کے تقریباً سات ہزار دکان داروں، پندرہ سے اٹھارہ ہزار ملازمین اور دکان داروں سمیت تیس سے پینتیس ہزار افراد کے روزگار کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ راولاکوٹ کو کھولنے کا اعلان کیا  جائے۔ آپ کا یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے تاجروں کے معاشی مسائل بھی حقیقی ہیں اور ان کے روزگار کا تحفظ بھی ضروری ہے، لیکن جناب ! سوال صرف یہ نہیں کہ راولاکوٹ کیوں بند ہے اصل سوال یہ بھی ہے کہ راولاکوٹ بند کس نے کیا ہے حالات اس نہج تک کیسے پہنچے اور اس صورت حال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟

وسیم خورشید صاحب ! آپ تاجروں کے روزگار کی فکر کر رہے ہیں یہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے اور حق بھی ہے لیکن کیا آپ کو ان خاندانوں کے روزگار ان ماؤں کی بے بسی، ان بچوں کے مستقبل اور ان گھروں کے دکھوں کی فکر نہیں جن کے پیارے مبینہ طور پر پاکستانی فورسز کی جانب سے فائرنگ میں جانیں گنوا چکے ہیں جو زخمی ہوئے جنہیں گرفتار کیا گیا ہے یا جن کے گھروں اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں؟ شہر میں کرفیو نافذ ہے ہر طرف سے فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں مکمل طور پر فورسز کا قبضہ ہے کیا آپ نے کبھی اس سوال پر بھی آواز اٹھائی کہ اگر راولاکوٹ میں حالات معمول کے مطابق ہیں تو پھر شہریوں کو خوف کیوں ہے؟ اگر شہر کھولنے کی بات کی جا رہی ہے تو کیا پہلے یہ واضح نہیں ہونا چاہیے کہ شہر کی بندش اور کشیدہ صورت حال کے اسباب کیا ہیں ؟ فائرنگ کیوں ہو رہی ہے گرفتاریاں کس بنیاد پر کی جا رہی ہیں اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا ؟

جناب! آپ کہتے ہیں کہ جب آپ کی کال پورے آزاد کشمیر نے ٹھکرا دی ہے تو مہربانی کرکے راولاکوٹ کھولنے کا اعلان کر دیں سوال یہ ہے کہ اگر کسی احتجاجی کال پر دوسرے علاقوں میں سرگرمیاں معمول کے مطابق ہیں تو کیا اس سے راولاکوٹ میں پیش آنے والے واقعات کی حقیقت خود بخود بدل جاتی ہے؟ کیا کسی تحریک کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ صرف دکانیں کھلنے یا بند رہنے سے کیا جا سکتا ہے؟ کسی بھی تحریک کے مؤقف سے اختلاف کرنا ہر شخص کا حق ہے لیکن اختلاف کی بنیاد پر عوام کے بنیادی سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ راولاکوٹ کی بندش کا ذمہ دار جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج ہے تو اس مؤقف کے حق میں حقائق سامنے لائیں، لیکن اگر شہر میں فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے، شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہے اور فائرنگ، گرفتاریوں اور جانی نقصان کی اطلاعات ہیں تو ان سوالات کا جواب بھی حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے طلب کریں

وسیم خورشید صاحب ! راولاکوٹ کوئی ویران بستی نہیں ہے یہ پونچھ کا اہم تجارتی، تعلیمی اور انتظامی مرکز ہے۔ یہاں کی دکانیں بند ہونے سے ہزاروں خاندان متاثر ہوتے ہیں، دیہاڑی دار مزدور، چھوٹے دکاندار، ٹرانسپورٹرز اور عام شہری معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کاروبار کے لیے امن ضروری ہے، اور امن صرف بازار کھولنے کے اعلان سے قائم نہیں ہوتا ہے امن شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، خوف کے خاتمے، غیر ضروری پابندیوں کے خاتمے، گرفتاریوں کے قانونی جواز کی وضاحت اور فریقین کے درمیان سنجیدہ مذاکرات سے قائم ہوتا ہ اگر کسی شہر میں شہری خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہوں تو محض کاروبار بحال کرنے کی اپیل کافی نہیں اس عدم تحفظ کے اسباب دور کرنا بھی ضروری ہے آپ کی تاجر برادری سے گذارش ہے کہ حکومت سے دوٹوک سوال کریں فورسز کی تعیناتی اور ظلم و بربریت کے خلاف لب کشائی کرنے کی بھی ہمت کریں راولاکوٹ میں معمولات زندگی بحال کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ شہریوں کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا ؟ فائرنگ اور جانی نقصان کے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کب ہوں گی؟ زخمیوں گرفتار و لاپتہ افراد اور متاثرہ خاندانوں کے بارے میں مستند معلومات کون فراہم کرے گا ؟ اگر املاک کو نقصان پہنچا ہے یا لوٹ مار کی شکایات سامنے آئی ہیں تو ان کی تحقیقات کون کرے گا ؟ کاروبار کی بحالی کے لیے حکومت نے کیا عملی اقدامات کیے ہیں ؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ شہریوں کو خوف سے آزاد ماحول فراہم کیے بغیر بازار کھولنے کا مطالبہ کس حد تک مؤثر ہو سکتا ہے ؟

اگر عوامی ایکشن کمیٹی کی حکمت عملی پر اعتراض ہے تو اس پر تنقید کیجیے، اس سے سوال کیجیے، اس کے مطالبات سے اختلاف کیجیے، مگر اسی جرات کے ساتھ حکومت اور انتظامیہ سے بھی جواب طلب کیجیے۔

یہ سوالات کسی ایک تحریک کی حمایت یا مخالفت کے لیے نہیں بلکہ عوامی مفاد کے لیے ہیں۔ تاجر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کے مسائل بھی عوامی مسائل ہیں۔ لیکن عوامی حقوق کی بات کرتے ہوئے صرف اپنے کاروبار کے نقصان کو موضوع بنانا اور انسانی جانوں، شہری آزادیوں اور مبینہ زیادتیوں پر خاموش رہنا ایک نامکمل موقف ہوگا۔ اگر عوامی ایکشن کمیٹی کی حکمت عملی پر اعتراض ہے تو اس پر تنقید کیجیے، اس سے سوال کیجیے، اس کے مطالبات سے اختلاف کیجیے، مگر اسی جرات کے ساتھ حکومت اور انتظامیہ سے بھی جواب طلب کیجیے۔ سوال کرنے کا حق صرف احتجاج کرنے والوں سے جواب مانگنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے اقتدار اور اختیار رکھنے والوں سے جواب طلب کرنا بھی شہری ذمہ داری ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ تاجروں کے نقصان کو نظرانداز کیا جائے، نہ یہ مطالبہ ہے کہ کاروبار بند رہنا چاہیے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ راولاکوٹ میں کاروبار بند ہونے کی بنیادی وجوہات دور کیے بغیر صرف دکانیں کھولنے کا مطالبہ کیوں؟ اگر شہر میں کرفیو یا سخت پابندیاں نافذ ہیں تو ان کے نفاذ، قانونی بنیاد اور مدت کے بارے میں وضاحت ہونی چاہیے اگر فورسز کی تعیناتی کے باعث شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہے تو اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر فائرنگ میں شہری شہید یا زخمی ہوئے ہیں تو ان واقعات کی شفاف تحقیقات کون کرے گا ؟ ان سوالات کے جوابات سامنے آنا ضروری ہیں تاکہ افواہوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کی جا سکے اور شہریوں کا اعتماد بحال ہو وسیم خورشید صاحب! آپ تاجر برادری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ کی آواز میں وزن ہے اور آپ کا حکومت سے سوال کرنا بنتا ہے لیکن اس آواز کو صرف بند دکانوں تک محدود نہ رکھیے ان گھروں تک بھی لے جائیے جہاں خوف، دکھ اور بے یقینی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے بھی آواز بلند کیجیے جو جانی نقصان، گرفتاریوں یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی شکایات کر رہے ہیں حکومت سے پوچھیے کہ راولاکوٹ کے شہریوں کو معمول کی زندگی کب واپس ملے گی اور اس کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں آخر میں سوال وہی ہے پورا آزاد کشمیر کھلا ہے تو راولاکوٹ کیوں بند ہے؟ اس سوال کا جواب صرف عوامی ایکشن کمیٹی سے نہیں حکومت، انتظامیہ اور ان تمام متعلقہ اداروں سے بھی طلب کیا جانا چاہیے جن کے پاس حالات کو معمول پر لانے کا اختیار اور ذمہ داری ہے راولاکوٹ کے بازار بھی کھلنے چاہییں، تاجروں کا روزگار بھی بحال ہونا چاہیے مگر اس کے ساتھ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، آزادی سے نقل و حرکت، نقصان کی تحقیقات اور خوف سے نجات بھی یقینی بنائی جانی چاہیے کیونکہ شہر صرف دکانوں کا نام نہیں ہوتا شہر وہاں بسنے والے انسانوں کا نام ہوتا ہے۔ دکانوں کے شٹر اٹھانے سے پہلے ان سوالات کے جواب بھی ضروری ہیں جو آج راولاکوٹ کا ہر باشعور شہری پوچھ رہا ہے راولاکوٹ کو کھولیے، مگر پہلے یہ بتائیے کہ اسے بند کس نے کیا حالات کس نے بگاڑے اور شہریوں کے نقصان کا جواب دہ کون ہے ؟ اگر ہمت ہے تو حکومت اور فورسز سے سوال کیجئے گا ۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں