ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں 78 سالہ حکمرانی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ایک ایسا تلخ سوال سامنے آتا ہے جس کا جواب حکمرانوں، انتظامی آفیسران اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہر ذمہ دار کو دینا ہوگا کہ آخر ان 78 برسوں میں عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، معیاری سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کتنے ایسے ادارے قائم کیے گئے جو اس خطے کے لوگوں کے مستقبل کی ضمانت بن سکتے تھے؟
کتنے تعلیمی ادارے عالمی معیار کے مطابق تعمیر ہوئے؟ کتنے ہسپتال عوام کو علاج کی سہولت فراہم کر سکے؟ اور کتنے ایسے منصوبے مکمل ہوئے جن پر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں؟ بدقسمتی سے عوام کے سامنے آج بھی بنیادی سہولیات کی کمی، خستہ حال سڑکیں، تعلیمی اداروں کے مسائل اور علاج معالجے کے لیے درپیش مشکلات ایک تلخ حقیقت ہیں۔
اس محرومی کے درمیان 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بیرونی امداد سے تعمیر ہونے والی عمارتوں کی موجودہ حالت نے ایک نیا اور سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جو ادارے بیرون ممالک کی امداد سے دوبارہ تعمیر ہوئے تھے ان کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ راولاکوٹ اور ضلع پونچھ کے شہریوں کے مطابق گذشتہ چار ماہ کے دوران پاکستانی فورسز کی تعیناتی اور مختلف سرکاری و نجی عمارتوں میں ان کی رہائش کے نتیجے میں تعلیمی اداروں، دفاتر، کاروباری مراکز اور دیگر املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ محض سیاسی تقریروں کا معاملہ نہیں رہا بلکہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ کے پرنسپل کی جانب سے ڈپٹی کمشنر پونچھ کو بھیجی گئی تحریری عبوری رپورٹ نے ایسے حقائق سامنے رکھ دیے ہیں جن کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔ یہ خط کسی سیاسی جماعت کا منشور نہیں، کسی احتجاجی مقرر کی جذباتی تقریر نہیں اور نہ ہی کسی سوشل میڈیا صارف کا دعویٰ ہے بلکہ ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کی مرتب کردہ رپورٹ ہے جس میں عمارت، فرنیچر، طلبہ کے سامان، کھیلوں کے آلات، کمپیوٹرز، لیبارٹریوں اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیل درج ہے۔
پرنسپل کی رپورٹ کے مطابق 6 جون 2026 کو ڈپٹی کمشنر کی ٹیلیفونک ہدایت پر کالج کی عمارت فورسز کو رہائش کے لیے دی گئی، 27 جولائی کے بعد کالج کا مکمل کنٹرول فورسز کے حوالے کر دیا گیا اور کالج کے عملے کا داخلہ روک دیا گیا۔ 15 ستمبر کو پرنسپل اور دیگر ملازمین کو کالج میں داخلے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بعد ازاں ایک میجر کی ہدایت پر معائنے کی اجازت ملی اس معائنے کے دوران سامنے آنے والی صورت حال نے ادارے کے سربراہ کو رنجیدہ کر دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ طلبہ کے ہاسٹل کے کمروں کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے، طلبہ کا ذاتی سامان غائب تھا بستروں، کمبلوں اور دیگر اشیا کا سراغ نہیں مل رہا تھا، ہاسٹل اور گیسٹ رومز سے سامان غائب تھا، پروفیسروں اور ملازمین کے کمروں میں بھی سامان کی کمی سامنے آئی، کمپیوٹرز کے پرزے غائب پائے گئے اور کھیلوں کے سامان کے اسٹور کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے۔ رپورٹ میں لکڑی کے غائب ہونے، لان کی تباہی، کالج بس کو پہنچنے والے نقصان، لوڈر رکشے کی خراب حالت، سی سی ٹی وی کیمروں کی توڑ پھوڑ اور صفائی و سیوریج کے نظام کی بدترین صورت حال کا بھی ذکر ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ انکشاف یہ ہے کہ پرنسپل کے مطابق کالج کی دستیاب لکڑی جلانے کے بعد طلبہ کے فرنیچر کو بھی جلایا جا رہا تھا اور چولہے میں طلبہ کی آدھی جلی ہوئی کرسیاں موجود تھیں۔ رپورٹ میں تقریباً ایک ہزار سے زائد نئی اور پرانی کرسیاں جلائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کرسیاں محض لکڑی کے چند ٹکڑے نہیں تھیں، ان پر بیٹھ کر غریب والدین کے بچے اپنے مستقبل کے خواب دیکھتے تھے انہی کمروں میں نوجوان ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل اور محقق بننے کے لیے تعلیم حاصل کرتے تھے۔
آج سوال یہ ہے کہ ان طلبہ کے مستقبل کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ اگر ایک تعلیمی ادارے میں طلبہ کی کرسیاں بھی محفوظ نہیں رہیں تو پھر اس معاشرے میں تعلیم، قانون اور ریاستی ذمہ داری کے دعووں کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟ پرنسپل نے اپنی رپورٹ میں کالج کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کا ابتدائی تخمینہ 60 لاکھ روپے سے زائد لگایا ہے، تاہم حتمی رقم کے تعین کے لیے غیر جانب دارانہ معائنہ اور باقاعدہ مالی جانچ ضروری ہے۔
انہوں نے کالج کو فوری طور پر فورسز سے خالی کرانے، غائب شدہ سامان اور تباہ شدہ املاک کی ذمہ داری متعین کرنے، بحالی کے لیے فنڈز فراہم کرنے اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی درخواست کی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ میٹرک کا نتیجہ آ چکا ہے اور سال اول کی رجسٹریشن شروع ہو چکی ہے، مگر کالج کی بندش کے باعث طلبہ کے تعلیمی معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔
پرنسپل نے اپنے تاثرات میں لکھا کہ جس ادارے کو اساتذہ اور ملازمین نے اپنی محنت اور لگن سے نمایاں مقام دلایا وہ آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے اور ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ یہ صرف 60 لاکھ روپے کے نقصان کا معاملہ نہیں، بلکہ ان ہزاروں کتابوں کا سوال ہے جن سے علم کی روشنی پھیلنی تھی، ان لیبارٹریوں کا سوال ہے جہاں تحقیق ہونی تھی، ان کلاس رومز کا سوال ہے جہاں نوجوانوں نے مستقبل تعمیر کرنا تھا اور ان طلبہ کا سوال ہے جن کے والدین اپنی محدود آمدن میں سے فیسیں، کتابیں اور رہائش کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔
عمارتوں کی مرمت کے لیے رقم فراہم کی جا سکتی ہے، فرنیچر دوبارہ خریدا جا سکتا ہے اور لیبارٹریوں کا سامان بھی بحال ہو سکتا ہے، لیکن جو تعلیمی وقت ضائع ہو جائے اس کا ازالہ کون کرے گا ؟ غریب والدین کی پریشانیوں کا حساب کون دے گا ؟ اور ان بچوں کو کون یقین دلائے گا کہ ان کے مستقبل کی حفاظت ریاست کی ترجیح ہے ؟ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ اکیلا ادارہ نہیں جس کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کیپٹن حسین خان شہید پوسٹ گریجویٹ کالج، صابر شہید گورنمنٹ پائلٹ ہائی اسکول، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول نمبر 2، محکمہ زراعت کے دفاتر، ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں قائم کمیونٹی سینٹر، نجی ہاسٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر عمارتوں کے استعمال، ان کی حالت اور ان کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بھی شہریوں کی جانب سے سنگین شکایات سامنے آئی ہیں جو تباہ و برباد کر دی گئی اور فرنیچر بھی جلا دیا گیا ہے ان شکایات کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔
اگر سرکاری اداروں کی عمارتوں کو طویل عرصے تک کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا اگر ان میں موجود سامان کو نقصان پہنچا اگر نجی املاک متاثر ہوئیں یا کاروباری مراکز میں لوٹ مار ہوئی تو ہر واقعے کا ریکارڈ مرتب کیا جائے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور متاثرین کو قانونی طریقے سے انصاف اور معاوضہ فراہم کیا جائے۔ یہ عمارتیں کسی فرد یا حکومت کی ذاتی جاگیر نہیں تھیں یہ عوامی وسائل، قومی سرمایہ اور آنے والی نسلوں کی امانت تھیں۔
ان کی حفاظت حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری تھی۔ اگر عمارتیں فورسز کے حوالے کرنے کے فیصلے کیے گئے تو ان فیصلوں کی بنیاد، ضرورت، قانونی حیثیت اور متبادل انتظامات کے بارے میں وضاحت بھی ضروری ہے۔ اگر ان عمارتوں میں موجود املاک کو نقصان پہنچا تو ذمہ داری سے بچنے کے لیے یہ کہنا کافی نہیں کہ یہ سب کچھ پہلے آنے والے اہلکاروں نے کیا تھا۔
ایک ریاستی ادارے میں نقصان کی ذمہ داری کا تعین باقاعدہ تحقیقات، شواہد، ریکارڈ اور متعلقہ افراد کے بیانات کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ یہی قانون کی حکمرانی ہے اور یہی انصاف کا تقاضا ہے۔ اب ان حکمرانوں اور انتظامی افسران سے سوال ہونا چاہیے جن کے دور میں یہ صورت حال پیدا ہوئی جن میں کمشنر ڈی آئی جی ڈپٹی کمشنر ایس ایس پی پونچھ وقت شامل ہیں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور، متعلقہ حکومتی ذمہ داران، کمشنر، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر پونچھ، ایس ایس پی اور دیگر متعلقہ آفیسران جو قومی مجرم ہیں عوام کو بتائیں کہ 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروس معطل کر کے سردار عمر نذیر کشمیری کے قافلے پر حملہ کرنے شاہ زیب حبیب کو شہید کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
فورسز کی تعیناتی کے دوران عوامی اور نجی عمارتوں کے تحفظ کے لیے کیا انتظامات کیے گئے؟ تعلیمی اداروں کو خالی کرانے اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات اٹھائے گئے؟ اگر انتظامیہ کو نقصانات کی اطلاع تھی تو اس نے فوری کارروائی کیوں نہیں کی؟ اور اگر ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے تو اس کی تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی جاتیں؟
یہ سوال کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا کسی مخصوص عہدے دار تک محدود نہیں بلکہ اس پورے انتظامی ڈھانچے کے احتساب کا سوال ہے جسے عوام کی جان، مال، عذت اور بنیادی حقوق کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اگر کسی آفیسر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا کسی نے غیر قانونی حکم دیا کسی نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت برتی یا کسی نے عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو تحفظ دیا تو شواہد کی بنیاد پر اس کا احتساب ہونا چاہیے۔
لیکن کسی کو صرف عہدے، وردی، سیاسی وابستگی یا سرکاری اثر و رسوخ کی وجہ سے مجرم قرار دینا بھی انصاف نہیں ہے قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور کسی بھی شخص کو اس کے منصب کی بنیاد پر جواب دہی سے استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے عوام کے غصے میں ایک اور سوال بھی شامل ہے۔ اگر عوامی حقوق کی پرامن تحریک کے دوران طاقت کا استعمال کیا گیا اگر شہریوں کی جانیں گئیں، اگر گولیاں چلیں، اگر شہری علاقوں میں بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے اور اگر شہریوں کو خوف و ہراس کے ماحول میں زندگی گذارنے پر مجبور ہونا پڑا تو ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کیوں نہیں ہونی چاہیے ؟
شہریوں کے مطابق پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر اسامہ جمیل شہید سمیت متعدد طلبہ اور شہریوں کو شہید کردیا گیا جبکہ شہادتوں کی مجموعی تعداد بھی ایک سو سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ ان اعداد و شمار، ہر ہلاکت کے حالات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے مستند ریکارڈ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ ہر شہید کا نام، ہر زخمی کی روداد، ہر خاندان کا دکھ اور ہر گولی کا حساب محفوظ ہونا چاہیے۔
اگر ایک تعلیمی ادارے میں طلبہ کی کرسیاں بھی محفوظ نہیں رہیں تو پھر اس معاشرے میں تعلیم، قانون اور ریاستی ذمہ داری کے دعووں کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟
کسی بھی شہری کی جان سیاسی مصلحتوں، طاقت کے مظاہرے یا ادارہ جاتی انا سے کم اہم نہیں ہو سکتی۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر کشمیری عوام کا قصور کیا تھا؟ کیا سستی بجلی کا مطالبہ جرم تھا ؟ کیا سستے آٹے کی فراہمی مانگنا بغاوت تھی ؟
کیا بہتر تعلیم، علاج، صاف پانی، اچھی سڑکوں اور روزگار کے مواقع کا مطالبہ ریاست کے خلاف سازش تھا ؟ کیا عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو سننے کے بجائے انہیں طاقت سے خاموش کرانا ہی حکمرانی کا طریقہ ہے ؟ اگر ان مطالبات میں کوئی غیر قانونی پہلو تھا تو حکومت قانون اور عدالتوں کا راستہ اختیار کرتی، شواہد پیش کرتی اور آئینی و قانونی طریقے سے معاملہ حل کرتی۔
پرامن احتجاج کا جواب طاقت سے دینا، تعلیمی اداروں کو بند رکھنا اور عوامی املاک کے تحفظ میں ناکامی اختیار کرنا کسی بھی حکومت کے لیے قابل فخر طرز حکمرانی نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب عوام مشکل میں ہوں تو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے بعض لوگ خاموش رہتے ہیں، لیکن جب کیمرے سامنے آ جائیں تو تصویریں بنوانے، سرکاری بیانات جاری کرنے اور حکمرانوں کے حق میں قصیدہ خوانی کرنے والوں کی کمی نہیں رہتی۔
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ میں آئی جی پولیس کے دورے اور ان کے ساتھ تصویریں بنوانے والے سیاست دانوں اور صحافیوں سے بھی سوال ہونا چاہیے کہ کیا انہوں نے اس ادارے کے تعلیمی مستقبل، طلبہ کی محرومیوں اور عمارت کی حفاظت کے بارے میں بھی آواز اٹھائی یہ بھی اس گھناونے کھیل کا حصہ ہیں ؟ کیا انہوں نے عوام کے سامنے یہ سوال رکھا کہ کالج کی عمارت کب خالی ہوگی طلبہ کب واپس آئیں گے اور نقصانات کا ازالہ کیسے ہوگا ؟
اگر کسی سرکاری تقریب میں شریک ہونا یا کسی آفیسر کے ساتھ تصویر بنوانا جرم نہیں تو اسے خودبخود جرم قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن صحافی کا اصل امتحان تصویر بنوانا نہیں بلکہ سوال اٹھانا ہے۔ صحافت کا فرض طاقت ور کے سامنے خاموش رہنا نہیں، بلکہ عوامی مفاد کے معاملات پر جواب طلب کرنا ہے۔ جو صحافی عوام کے وسائل سے چلنے والے اداروں کی تباہی، شہریوں کی ہلاکتوں اور بنیادی حقوق کی پامالی کے الزامات پر سوال نہیں اٹھاتا، اسے کم از کم اپنے پیشے کی اخلاقی ذمہ داری پر غور ضرور کرنا چاہیے۔
البتہ کسی فرد کو محض تصویر یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کسی جرم کا شریک قرار دینا درست نہیں، قصور کا تعین شواہد اور قانون کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اگر آئی جی پی اور دیگر کسی سرکاری عہدے دار کی جانب سے شہریوں کو کچلنے، بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کو معمولی سمجھنے یا طاقت کے ذریعے تحریک ختم کرنے کی دھمکی دینے سے متعلق دعوے درست ہیں تو ان کی مکمل ریکارڈنگ، تحریری بیانات اور عینی شاہدین کے ذریعے تصدیق ہونی چاہیے۔
کسی بھی ذمہ دار شخص کے لیے شہریوں کی جانوں کو غیر اہم سمجھنا ناقابل قبول ہے۔ ریاستی طاقت عوام کے تحفظ کے لیے ہوتی ہے عوام کو خوف زدہ کرنے کے لیے نہیں۔ وردی کا احترام قانون کی پاسداری سے بڑھتا ہے، شہریوں کے حقوق پامال کرنے کے الزام سے نہیں۔ اس معاملے میں عدلیہ، تحقیقاتی اداروں اور حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ کے پرنسپل کی عبوری رپورٹ کو محض دفتری کاغذ سمجھ کر فائلوں میں بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کی بنیاد پر کالج کی عمارت، ہاسٹلز، دفاتر، لیبارٹریوں، کمپیوٹرز، فرنیچر اور دیگر املاک کا آزادانہ معائنہ کرایا جائے۔ نقصان کی تصاویر، ویڈیوز، خریداری کے ریکارڈ، اسٹاک رجسٹر، گواہوں کے بیانات اور متعلقہ دستاویزات محفوظ کی جائیں۔
گم شدہ سامان کی فہرست مرتب ہو، جلائے گئے فرنیچر کی تعداد کی تصدیق کی جائے، ہر مد میں نقصان کا تخمینہ لگایا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ کس چیز کو کس نے اور کن حالات میں نقصان پہنچایا۔ تحقیقات میں اگر کسی اہلکار، آفیسر، ٹھیکے دار یا دوسرے شخص کی ذمہ داری ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ یہی اصول دوسری متاثرہ عمارتوں اور کاروباری مراکز پر بھی لاگو ہونا چاہیے اس وقت کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور ان کی حکومت کو بھی واضح کرنا چاہیے کہ تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے کیا ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔
کالج کو خالی کرانے، صفائی اور سیوریج کا نظام بحال کرنے، طلبہ کے لیے کلاس رومز دستیاب بنانے، امتحانی و رجسٹریشن معاملات نمٹانے اور متاثرہ املاک کے معاوضے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ اگر حکومت خود کو عوامی نمائندہ کہتی ہے تو اسے عوام کے سامنے جواب دہ بھی ہونا چاہیے۔ حکمرانوں کا امتحان تقریروں، پریس کانفرنسوں اور تصویروں سے نہیں، بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ مشکل وقت میں عوام کے جان و مال اور بنیادی حقوق کی حفاظت کے لیے کیا کرتے ہیں۔
پاکستان کے حکمرانوں اور متعلقہ ریاستی اداروں کے لیے بھی یہی سوال ہے کہ اگر اس خطے کے عوام نے اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی تو ان کے مطالبات کا جواب مذاکرات، قانون اور سیاسی عمل کے ذریعے دینے کے بجائے طاقت کے استعمال کی نوبت کیوں آئی؟ اگر کہیں قانون شکنی ہوئی تو اس کے شواہد پیش کیے جائیں، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ہر ملزم کو منصفانہ سماعت کا حق دیا جائے۔
لیکن کسی فرد کے فعل کی سزا پوری آبادی کو دینا، پرامن شہریوں کو اجتماعی طور پر مشتبہ سمجھنا، تعلیمی اداروں کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنا یا شہریوں کے بنیادی حقوق محدود کرنا کسی مہذب اور قانون پسند نظام کا راستہ نہیں ہو سکتا۔ عوام انصاف مانگ رہے ہیں، لیکن جب ان کے گھروں کے چراغ بجھ جائیں، نوجوان قبروں میں اتر جائیں، تعلیمی ادارے ویران ہو جائیں، کاروبار تباہ ہو جائیں اور سرکاری املاک کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگیں تو ان کے دکھ میں ایک فطری سوال بھی جنم لیتا ہے کہ آخر اس سب کا حساب کون دے گا ؟
ان خاندانوں کو کون جواب دے گا جن کے پیارے واپس نہیں آئیں گے؟ ان طلبہ کو کون جواب دے گا جن کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خطرہ ہے ؟ ان اساتذہ کو کون جواب دے گا جن کی برسوں کی محنت سے تعمیر ہونے والا ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا؟ اور ان تاجروں کو کون جواب دے گا جن کی دکانیں اور کاروبار نقصان سے دوچار ہوئے؟عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر مقامی عدالتیں اور متعلقہ تحقیقاتی ادارے ان واقعات پر موثر کارروائی کرنے کی قانونی صلاحیت رکھتے ہیں تو انہیں فوری طور پر غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنی چاہییں۔
جہاں شواہد کسی شخص کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے کافی ہوں وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ جہاں کسی کی ذمہ داری ثابت ہو، وہاں اس کے عہدے، وردی، سیاسی حیثیت یا ادارہ جاتی تعلق کو رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ اگر ملکی سطح پر مؤثر اور غیر جانب دارانہ احتساب ممکن نہ ہو تو متاثرین، ان کے خاندانوں، شہری حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ قانونی نمائندوں کو دستیاب بین الاقوامی قانونی طریقہ کار سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔
بین الاقوامی اداروں سے بھی مطالبہ ہونا چاہیے کہ وہ قابل اعتماد شواہد کی بنیاد پر انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، شہری ہلاکتوں اور عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیں۔ تاہم کسی فرد کو عالمی قانون کے تحت مجرم قرار دینا کسی کالم یا سیاسی بیان کا اختیار نہیں، اس کا فیصلہ مجاز عدالتی فورم شواہد اور قانون کے مطابق کرے گا۔ ہم کسی ادارے کے خلاف نفرت نہیں پھیلا رہے، بلکہ ہر ادارے کو اس کی قانونی حدود اور ذمہ داریاں یاد دلا رہے ہیں۔
ہم کسی بے گناہ کو سزا دینے کا مطالبہ نہیں کر رہے، بلکہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ کسی مجرم کو محض طاقت ور ہونے کی وجہ سے تحفظ نہ ملے۔ ہم کسی خاندان کے دکھ کو سیاسی نعرے میں تبدیل کرنے کے بجائے یہ چاہتے ہیں کہ ہر متاثرہ خاندان کو سچ معلوم ہو، انصاف ملے اور آئندہ کسی شہری کو ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگر کسی اہلکار نے جان بچائی ہے تو اس کی تعریف ہونی چاہیے، اور اگر کسی نے قانون توڑا ہے تو اس کا احتساب بھی ہونا چاہیے۔
انصاف کا یہی غیر جانب دارانہ اصول ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بحال کر سکتا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار عارضی ہے، عہدے بدل جاتے ہیں، حکومتیں آتی اور جاتی ہیں، لیکن عوام کی یادداشت میں وہ واقعات باقی رہتے ہیں جنہوں نے ان کی زندگیوں کو بدل دیا ہو۔ تعلیمی اداروں کی بحالی، شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات، متاثرہ خاندانوں کی داد رسی، املاک کے نقصانات کا ازالہ اور شہری آزادیوں کا احترام کوئی سیاسی رعایت نہیں بلکہ حکمرانی کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔
اگر حکومت ان ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرے گی تو عوام کے سوال مزید سخت ہوں گے اور جواب طلبی کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا۔ آج راولاکوٹ کے ویران تعلیمی ادارے، ٹوٹے تالے، غائب سامان، جلی ہوئی کرسیاں، اجڑے ہوئے لان اور طلبہ کے منتظر کلاس رومز ایک ہی سوال دہرا رہے ہیں کہ کیا اس خطے کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق بھی محفوظ نہیں؟ کیا عوام کے وسائل سے قائم اداروں کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں؟
کیا شہریوں کے خون اور املاک کے نقصان کا کوئی حساب نہیں؟ اگر ان سوالات کے جواب میں صرف خاموشی، وضاحتوں سے گریز اور ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ یہ وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں، سچ سامنے لانے کا ہے۔ یہ وقت مظلوم خاندانوں کو خاموش کرانے کا نہیں، ان کی بات سننے کا ہے۔
یہ وقت تباہ شدہ عمارتوں کے سامنے تصویریں بنوانے کا نہیں، انہیں دوبارہ تعلیمی ادارے بنانے کا ہے۔ یہ وقت الزامات کی آڑ میں ہر شخص کو مجرم قرار دینے کا بھی نہیں، بلکہ شواہد کی روشنی میں حقیقی ذمہ داروں کا تعین کرنے کا ہے۔ چیف سیکرٹری سے وزیراعظم تک، آئی جی پی سے ضلعی انتظامیہ تک، اور اقتدار کے ایوانوں سے عوامی نمائندگی کے دعوے داروں تک، سب کو جواب دینا ہوگا کہ عوام کے حقوق کی حفاظت کیوں نہ ہو سکی؟
تعلیمی ادارے کیوں متاثر ہوئے؟ شہریوں کی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کیوں نہ ہوئیں؟ اور املاک کے نقصان کا حساب کب دیا جائے گا ؟ عوام اب محض وعدے نہیں چاہتے۔
وہ جواب دہی، شفاف تحقیقات، انصاف، بحالی اور اپنے حقوق کا عملی تحفظ چاہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ کسی سے انتقام لینے کا نہیں، بلکہ اس اصول کو نافذ کرنے کا ہے کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں۔ اگر جرم ثابت ہو تو سزا ملنی چاہیے، اگر غفلت ثابت ہو تو ذمہ داری عائد ہونی چاہیے اور اگر کسی پر بے بنیاد الزام لگایا گیا ہو تو اسے بھی انصاف ملنا چاہیے۔ ؎ مقتل میں صرف لاشیں نہیں، سوال بھی ہیں ہر خون کے قطرے میں کئی حساب بھی ہیں ؎ جو شہر کے چراغ بجھا کر چلے گئے ان کے تعاقب میں ابھی آفتاب بھی ہیں
؎ کرسی پہ بیٹھنے سے کوئی معتبر نہیں کردار کے کٹہرے میں سب کے جواب بھی ہیں
؎ اے حکمرانو! سن لو، یہ خامشی نہیں ہر زخم کے لبوں پہ کھڑے انقلاب بھی ہیں راولاکوٹ کے تعلیمی اداروں کی بحالی، شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات، املاک کے نقصان کا ازالہ اور ذمہ داروں کا قانونی احتساب اب مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے واقعی عوام کے محافظ ہیں تو انہیں عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ شہریوں کی جان، تعلیم، عزت اور املاک ان کے لیے اہم ہیں۔ اگر وہ یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو عوام کو ملکی آئین، قانون اور دستیاب بین الاقوامی قانونی طریقہ کار کے مطابق جواب دہی کا مطالبہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ عوام اب انصاف کے ساتھ حساب بھی مانگتے ہیں، اور حساب وہی دے گا جس کی ذمہ داری شواہد اور قانون کی روشنی میں ثابت ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے (0)