مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

سکول کھولنے کا حکم مگر بچے سکول پہنچیں گے کیسے ۔۔ ؟

راولاکوٹ میں تین ماہ بعد تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان تو کر دیا گیا ہے۔ مگر کرفیو، ہڑتال اور ناکہ بندیوں کے دوران بچے محفوظ طریقے سے سکول کیسے پہنچیں گے؟

خلاصہ

راولاکوٹ میں تین ماہ بعد تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان تو کر دیا گیا ہے۔ مگر کرفیو، ہڑتال اور ناکہ بندیوں کے دوران بچے محفوظ طریقے سے سکول کیسے پہنچیں گے؟

Summary in English

The reopening of educational institutions in Rawalakot after three months has been announced, but how will children reach school safely amid curfews, strikes, and blockades?

سکول کھولنے کا حکم مگر بچے سکول پہنچیں گے کیسے ۔۔ ؟

راولاکوٹ میں تین ماہ سے بند تعلیمی اداروں کو 21 ستمبر سے کھولنے کا فیصلہ بظاہر ایک خوش آئند اقدام ہونا چاہیے تھا کیونکہ بچوں کی تعلیم کا نقصان کسی صورت معمولی مسئلہ نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک سرکاری پریس ریلیز جاری کرکے تعلیمی ادارے کھول دینے سے بچوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ ہو جائے گا ۔؟ کیا حکم جاری کرنے سے سڑکیں کھل جائیں گی ناکہ بندیاں ختم ہو جائیں گی، خندقیں ختم ہو جائیں گی، کرفیو کا خاتمہ ہو جائے گا ٹرانسپورٹ سڑکوں پر آ جائے گی اور شہر میں معمولات زندگی بحال ہو جائیں گے ۔ ؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر والدین کو یہ حکم کس بنیاد پر دیا جا رہا ہے کہ وہ ہر صورت اپنے بچوں کو سکول بھیجیں ۔ ؟ گذشتہ روز

ڈپٹی کمشنر پونچھ سید ممتاز کاظمی کی زیر صدارت اجلاس کے بعد عجلت اور بوکھلاہٹ میں جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہڑتال اور لاک ڈاؤن کے باعث گذشتہ تین ماہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں اور بچوں کا ناقابل تلافی تعلیمی نقصان ہو چکا ہے جسے پورا کرنے کے لیے باقی ماندہ تین ماہ میں بھرپور کوشش کی جائے گی پہلے مرحلے میں نہم اور دہم کی کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ 21 ستمبر سے بچوں کو سکول بھیجیں جس پر چند خوش آمدی صحافیوں نے واہ واہ کی اور سکول مالکان نے بھی فیصلے کی تائید کی ہے بلاشبہ بچوں کی تعلیم کا نقصان ایک سنگین مسئلہ ہے اور کسی بھی ذی شعور شخص کو اس نقصان پر تشویش ہونی چاہیے لیکن موجودہ صورتحال میں اصل سوال تعلیم سے پہلے بچوں کی محفوظ رسائی کا ہے راولاکوٹ میں گذشتہ ساڑھے تین ماہ سے حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ سروس معطل ہے شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدہ صورتحال برقرار ہے سڑکوں کی آمدورفت متاثر ہے پاکستانی فورسز کی جانب سے ناکہ بندیاں اور رکاوٹیں موجود ہیں فورسز کی تعیناتی کے حوالے سے شہریوں کے تحفظات ہیں متعدد تعلیمی اداروں پر پاکستانی فورسز کا قبضہ ہے فورسز نے سڑکوں پر خندقیں کھود کر راستے بند کر رکھے ہیں شہر فورسز کے محاصرے میں ہے انہی صاحب نے کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر ہر طرف فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی دھرنے جاری ہیں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے پہیہ جام اور تاجروں کی جانب سے شٹر ڈاؤن کی صورتحال موجود ہے ایسے حالات میں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک طالب علم اپنے گھر سے سکول تک پہنچے گا کیسے ۔۔ ؟

کیا ڈپٹی کمشنر پونچھ نے اس سوال کا جواب بھی نہیں دیا ہے کہ ان کے پاس کتنا اختیار ہے اگر کسی بچے کا سکول جانے والا راستہ بند ہوا تو اسے متبادل راستہ کون فراہم کرے گا ۔ ؟ اگر ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں تو بچوں کو سکول پہنچانے کی ذمہ داری کس کی ہوگی سفری سہولیات کون فراہم کرے گا ؟ اگر کسی راستے پر ناکہ بندی یا رکاوٹ موجود ہے تو اسے کون ختم کرے گا ۔ ؟ اگر کسی طالب علم کو راستے میں روکا گیا تو والدین کس آفیسر سے رابطہ کریں گے ۔ ؟ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ گیا تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا ۔ ؟ اور اگر شہر کی صورتحال معمول کے مطابق نہیں تو بچوں کو ’’ہر صورت‘‘ سکول بھیجنے کا حکم آخر کس انتظامی اختیار کے تحت دیا گیا ہے ۔؟

یہاں ڈپٹی کمشنر کے اختیارات پر بھی بنیادی سوال اٹھتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ضلعی انتظامیہ کا اہم ترین آفیسر ضرور ہے، لیکن کیا اس کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ فورسز کی تعیناتی ختم کروا سکے ۔ ؟ کیا وہ کرفیو کے نفاذ یا خاتمے کا حتمی فیصلہ خود کر سکتا ہے ۔ ؟ کیا وہ سڑکوں پر موجود ہر رکاوٹ اور ناکہ بندی ختم کروا سکتا ہے ۔ ؟ کیا وہ پہیہ جام ختم کروا سکتا ہے ۔؟ کیا وہ احتجاجی دھرنے ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔؟ کیا وہ انٹرنیٹ سروس بحال کر سکتا ہے ۔؟ کیا وہ سڑکوں کی مرمت کروا سکتا ہے ۔؟  اگر ان سوالات کا جواب نہیں ہے تو پھر والدین کو ایسا حکم دینا کہ وہ ’’بہر صورت‘‘ بچوں کو سکول بھیجیں، انتظامی فیصلے سے زیادہ ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے

اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ گیا تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا ۔ ؟

تعلیمی ادارے کھولنے سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہیے اختلاف اس طریقہ کار سے ہے جس میں بچوں کو سکول بھیجنے کا حکم تو دے دیا جائے لیکن انہیں سکول تک پہنچانے کے لیے ضروری حالات پیدا نہ کیے جائیں مثال کے طور پر اگر کسی شہر کی ایک سڑک ٹوٹ چکی ہو پل بند ہو، ٹریفک کا راستہ موجود نہ ہو اور شہریوں کو کہا جائے کہ وہ ہر صورت دوسری جانب پہنچیں، تو محض حکم جاری کرنا راستہ نہیں بناتا ہے پہلے راستہ بحال کیا جاتا ہے متبادل راستہ دیا جاتا ہے، ٹریفک کا انتظام کیا جاتا ہے اور پھر لوگوں سے معمول کی سرگرمیوں میں واپس آنے کو کہا جاتا ہے۔ بچوں کے معاملے میں تو احتیاط اور ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس فیصلے پر سوال اٹھانے کے بجائے بعض صحافیوں نے سرکاری فیصلے پر واہ واہ شروع کر دی ہے یہ صحافت نہیں بلکہ خوشامد ہے صحافی کا کام کسی آفیسر کے فیصلے پر تالیاں بجانا نہیں بلکہ یہ پوچھنا ہے کہ اس فیصلے پر عمل کیسے ہوگا اگر کسی سرکاری آفیسر کی پریس ریلیز میں یہ لکھا ہو کہ والدین ہر صورت بچوں کو سکول بھیجیں تو صحافی کا پہلا سوال یہی ہونا چاہیے کہ ’’ہر صورت‘‘ سے مراد کیا ہے ۔؟ کیا انتظامیہ راستے محفوظ کرے گی ؟ کیا ٹرانسپورٹ فراہم کرے گی ؟ کیا تعلیمی اداروں کے گرد سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی ؟ کیا انٹرنیٹ کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا کوئی متبادل انتظام کیا گیا ہے ؟ کیا سکولوں کو مکمل طور پر تعلیمی سرگرمیوں کے لیے دستیاب کر دیا گیا ہے ؟ لیکن اگر صحافی یہ سوال کرنے کے بجائے آفیسر کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دیں تو پھر عوام کس سے سوال کریں گے ؟ صحافت کا بنیادی کردار ہی یہ ہے کہ جہاں اقتدار اور اختیار موجود ہو وہاں سوال موجود رہے صحافی اگر سوال چھوڑ کر خوشامد شروع کر دے تو وہ عوام کی آواز نہیں رہتا بلکہ سرکاری پریس ریلیز کا ترجمان بن جاتا ہے یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ بچوں کی تعلیم کا نقصان کسی ایک فریق کے سر ڈال کر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انتظامیہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی ہے احتجاجی قیادت بھی تعلیمی نقصان کے سوال سے لاتعلق نہیں رہ سکتی ٹرانسپورٹرز اور تاجر بھی اپنے فیصلوں کے اثرات سے بے خبر نہیں رہ سکتے اور سب سے بڑھ کر ریاستی اداروں کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ جب ایک شہر میں مسلسل غیر معمولی حالات رہیں گے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہری اور اس کے بچے اٹھائیں گے اگر حکومت واقعی بچوں کی تعلیم بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف سکول کھولنے کا اعلان نہیں بلکہ مکمل تعلیمی بحالی کا منصوبہ دینا ہوگا راستے کھولنے ہوں گے ٹرانسپورٹ کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی، تعلیمی اداروں کا محفوظ ماحول بحال کرنا ہوگا، طلبہ اور اساتذہ کی سیکیورٹی کی واضح ذمہ داری متعین کرنا ہوگی اور والدین کو یہ اعتماد دینا ہوگا کہ ان کے بچے گھر سے سکول اور سکول سے گھر تک محفوظ رہیں گے ورنہ یہ ایک عجیب تماشا ہوگا کہ دفتر میں بیٹھ کر حکم جاری ہو جائے کہ سکول کھول دیے گئے ہیں اور شہر میں کھڑا باپ اپنے بچے کا ہاتھ پکڑ کر یہ سوچتا رہے کہ سکول تو کھل گیا مگر میرا بچہ وہاں پہنچے گا کیسے ۔ ؟

بچوں کی تعلیم واقعی ضائع نہیں ہونی چاہیے، لیکن تعلیم بچانے کے نام پر بچوں کی سلامتی کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ڈپٹی کمشنر پونچھ کو تعریفیں سننے کے بجائے ان بنیادی سوالات کے جواب دینا ہوں گے کہ ان کے اختیار میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے، کون سی رکاوٹ وہ خود ختم کر سکتے ہیں اور کون سی رکاوٹ ختم کرنے کے لیے انہیں دوسرے اداروں سے رابطہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ انتظامیہ کی اصل آزمائش پریس ریلیز جاری کرنے میں نہیں بلکہ اپنے فیصلے پر محفوظ اور مؤثر عمل درآمد کرانے میں ہوتی ہے۔

راولاکوٹ کے والدین کو بھی حق ہے کہ وہ پوچھیں سکول کھولنے کا حکم دے دیا گیا لیکن بچوں کو سکول تک محفوظ پہنچانے کی ذمہ داری کون لے گا ۔ ؟

یہ سوال کسی حکومت، کسی آفیسر یا کسی جماعت کے خلاف نہیں، یہ سوال بچوں کے مستقبل کے حق میں ہے۔ اور صحافت کا فرض یہی ہے کہ جب اقتدار فیصلہ کرے تو عوام کی طرف سے سوال کرے، تالیاں نہ بجائے ۔۔۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں