[9:25 AM, 9/25/2026] Khawja Kabir Sb TV:
27 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے سامنے ہونے والا کشمیریوں کا احتجاج اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اعلیٰ سطحی اجلاس جاری ہوگا اور دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت، سربراہانِ حکومت اور اعلیٰ سطحی سفارتی نمائندے نیویارک میں موجود ہوں گے۔
یہ احتجاج بنیادی طور پر پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈز اور عوامی مطالبات کی حمایت میں ہوگا۔ مظاہرین پاکستانی فورسز کی جانب سے احتجاجی تحریک کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھی اپنی آواز بلند کریں گے اور عالمی برادری سے مطالبہ کریں گے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں عوام کے بنیادی، سیاسی، شہری اور معاشی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔
لیکن 27 ستمبر کی آواز صرف پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر تک محدود نہیں ہوگی۔ یہ احتجاج پوری ریاست جموں کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق، انسانی آزادیوں، سیاسی اختیار اور حقِ خودارادیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا بھی ایک موقع ہوگا۔
جموں کشمیر کے دوسرے حصے، جو بھارت کے زیرِ انتظام ہیں، وہاں بھی انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے سنگین خدشات ریکارڈ کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں من مانی گرفتاریوں اور حراست، آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع پر پابندیوں، مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں اور جواب دہی کے مسائل سمیت متعدد معاملات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اس لیے 27 ستمبر کا احتجاج کسی ایک انتظامی حصے کے خلاف آواز نہیں بلکہ پوری ریاست جموں کشمیر کے عوام کے بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق کو یکساں عالمی معیار کے تحت دیکھنے کا مطالبہ بھی ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ اگر انسانی حقوق عالمی اور آفاقی اصول ہیں تو پھر ان کا معیار جغرافیہ، انتظامی کنٹرول یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر مختلف کیوں ہو؟ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں عوامی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوں یا بھارت کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل، ہر معاملے کی آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔
اسی تناظر میں 27 ستمبر کے احتجاج کے ذریعے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے یہ مطالبہ بھی رکھا جا سکتا ہے کہ جموں کشمیر کو محض بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک علاقائی تنازع کے طور پر نہیں بلکہ اس کے عوام کے سیاسی، انسانی اور بنیادی حقوق کے مسئلے کے طور پر اور بنیادی انسانی آزادی کے مسلے کی طور پر دیکھا جائے۔
کشمیر کے دونوں جانب رہنے والے عوام کے بنیادی انسانی، سیاسی اور شہری حقوق کو ایک ہی عالمی معیار کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔
جموں کشمیر کا تنازع کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں عوام کے مساوی حقوق اور حقِ خودارادیت کے اصول کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اسی لیے کشمیری عوام کے مطالبات میں یہ بنیادی نکتہ بھی شامل ہے کہ جموں کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ حقِ خودارادیت کا مطلب یہ ہے کہ جموں کشمیر کے عوام آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور قابلِ اعتماد طریقۂ کار کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔
اس مقصد کے لیے پوری ریاست جموں کشمیر سے تمام غیر مقامی فوجی و عسکری فورسز کے انخلا، عسکری دباؤ کے خاتمے، انسانی حقوق کے تحفظ اور ایک ایسے پُرامن ماحول کے قیام کا مطالبہ بھی 27 ستمبر کے احتجاج میں عالمی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے جس میں کشمیری عوام اپنی آزاد مرضی کا اظہار کر سکیں۔ اقوام متحدہ کی تاریخ میں جموں کشمیر کے تناظر میں فوجی انخلا اور مسلح اہلکاروں کی واپسی سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا چارٹر آف ڈیمانڈز کیا ہے؟ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں عوامی حقوق کے مطالبات کیا ہیں؟ مظاہرین کے خلاف طاقت کیوں استعمال کی گئی؟ کتنے افراد گرفتار یا متاثر ہوئے؟ بھارت کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کیا ہے؟ آزادیٔ اظہار، سیاسی سرگرمیوں اور پُرامن اجتماع کی آزادی کی کیا صورتحال ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جموں کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق کب اور کیسے ملے گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جنہیں 27 ستمبر کے احتجاج کے ذریعے عالمی برادری، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کے سامنے دستاویزی شواہد کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔
یہ احتجاج اس اصول کو بھی نمایاں کرنے کا موقع ہے کہ انسانی حقوق کا معیار کسی ریاست، حکومت، خطے یا سیاسی فریق کے لیے مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ کشمیر کے دونوں جانب رہنے والے عوام کے بنیادی انسانی، سیاسی اور شہری حقوق کو ایک ہی عالمی معیار کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔
اسی طرح کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت بھی کسی ایک حصے کے عوام تک محدود نہیں بلکہ پوری ریاست جموں کشمیر کے عوام سے متعلق سوال ہے۔ اس حق کے عملی اظہار کے لیے ایسا ماحول ضروری ہے جہاں خوف، فوجی دباؤ، سیاسی پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آزاد ہو کر عوام اپنی آزاد مرضی کا اظہار کر سکیں۔
27 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے سامنے اٹھنے والی آواز دراصل پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی موجودہ عوامی تحریک، بھارت کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل، پوری ریاست سے فورسز کے انخلا، انسانی حقوق کے یکساں عالمی معیار اور جموں کشمیر کے عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو ایک ساتھ عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش ہوگی۔
اب وقت ہے کہ جموں کشمیر کے عوام کی آواز بھی اقوام متحدہ کے دروازے تک پہنچے—ایک ایسی آواز جو کسی ایک فریق کے حق یا مخالفت سے بڑھ کر انسانی حقوق، سیاسی آزادی، پُرامن حل اور حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرے۔
[9:26 AM, 9/25/2026] Khawja Kabir Sb TV:

تبصرے (0)