پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر بالخصوص پونچھ میں جاری بحران اور سیاست دانوں کی حالیہ سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے عوام کو ماضی کے واقعات فراموش نہیں کرنے چاہییں۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے اس خطے پر حکمرانی کرنے والے سیاسی طبقے نے عوام کو بنیادی حقوق، بہتر تعلیم، معیاری علاج، روزگار، سستی بجلی، سستے آٹے اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے معاملے میں کہاں تک مطمئن کیا ہے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے لیکن حالیہ عوامی حقوق کی تحریک نے ان سیاست دانوں کے کردار پر مزید سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ آج عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جو سیاسی رہنما ساڑھے چار ماہ سے جاری بحران کے دوران عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے موثر کردار ادا نہ کر سکے وہ اب کس مقصد کے تحت سیاسی بیٹھکیں کر رہے ہیں ؟ کیا ان ملاقاتوں کا مقصد عوامی حقوق کی بحالی ہے یا بدلتے ہوئے حالات میں اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ کرنا ہے ؟
چار جون سے قبل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کو یاد کیجیے جب مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما ایک میز پر موجود تھے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ اس کانفرنس میں شریک سیاسی قیادت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جاری عوامی حقوق کی تحریک کے خلاف طاقت کے استعمال سے متعلق فیصلے کی حمایت کیوں کی ؟ اگر اس کانفرنس میں شریک رہنماؤں نے واقعی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے فیصلے پر دستخط کیے تھے جیسا کہ اس حوالے سے الزامات اور دعوے سامنے آتے رہے ہیں تو انہیں عوام کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ کیا ان کے نزدیک عوام کے جائز مطالبات کا جواب مذاکرات، دلیل اور جمہوری عمل کے ذریعے دینا مناسب نہیں تھا ؟ کیا وہ سمجھتے تھے کہ عوامی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانے سے مسائل حل ہو جائیں گے؟ اور اگر ان کا موقف ایسا نہیں تھا تو پھر انہیں واضح طور پر بتانا چاہیے کہ اس وقت ان کا اصل کردار کیا تھا آج ان سیاسی شخصیات میں سے بعض اسمبلی میں موجود نہیں ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہے۔ سیاسی حالات اور اقتدار کی ترتیب بدل چکی ہے لیکن عوام کے بنیادی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ کل جو لوگ حکومتی نظام کا حصہ تھے یا اقتدار کے قریب بیٹھے تھے آج ان میں سے بعض مختلف سیاسی پوزیشنوں پر کھڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوامی حقوق کے بارے میں ان کے نظریات بھی اقتدار کے ساتھ بدل جاتے ہیں ؟ کیا حکومت میں رہتے ہوئے عوامی مطالبات ایک مسئلہ اور اپوزیشن میں بیٹھ کر وہی مطالبات ایک سیاسی موقع بن جاتے ہیں ؟ اگر عوام کے حقوق واقعی اہم ہیں تو پھر ان کے لیے اصولی موقف ہر دور میں یکساں کیوں نہیں رہتا ؟ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتوں کی حکومت اور اپوزیشن میں تبدیلی بذات خود کسی کی عوام دوستی یا عوام دشمنی کا ثبوت نہیں ہے اصل پیمانہ ان کا کردار ان کے فیصلے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ان کی عملی کوششیں ہیں۔ جو سیاسی رہنما کل عوامی حقوق کی تحریک کے بارے میں سخت موقف رکھتے تھے انہیں آج عوام کے سامنے آ کر بتانا چاہیے کہ ان کے سابقہ فیصلوں اور موجودہ موقف میں کیا فرق ہے۔ اگر ان سے کوئی غلطی ہوئی تو کیا وہ اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں ؟ اگر وہ عوام کے مطالبات کو جائز سمجھتے ہیں تو ان کی تکمیل کے لیے کیا عملی اقدامات کر رہے ہیں ؟ محض سیاسی بیٹھکوں اور بیانات سے ان سوالات کا جواب نہیں دیا جا سکتا ہے دوسری جانب سرکاری سرپرستی میں امن کمیٹیوں کی تشکیل بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ امن کا قیام یقیناً ہر شہری کی ضرورت ہے لیکن امن صرف کمیٹیاں بنانے اجلاس منعقد کرنے یا چند افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے سے قائم نہیں ہوتا ہے پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ عوام کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کیا جائے ان کے تحفظات دور کیے جائیں شہری آزادیوں کا احترام ہو اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے ان کی بات سنی جائے۔ اگر امن کمیٹیوں کا مقصد حقیقی معنوں میں کشیدگی ختم کرنا اور عوامی اعتماد بحال کرنا ہے تو انہیں تمام متعلقہ فریقوں کے لیے قابل قبول، غیر جانب دار اور شفاف ہونا چاہیے۔ لیکن اگر ایسی کمیٹیاں عوامی تحریک کو تقسیم کرنے اختلافی آوازوں کو کمزور کرنے یا سرکاری موقف کے حق میں فضا بنانے کے لیے استعمال ہوئیں تو ان سے امن کے بجائے بداعتمادی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگا یہاں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ جب عوامی حقوق کی تحریک اپنے مطالبات کے ساتھ سامنے آئی تھی تو اس وقت سیاسی جماعتوں نے مذاکرات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایسی سنجیدہ کوششیں کیوں نہ کیں جو بحران کو اس حد تک پہنچنے سے روک سکتی تھیں ؟ اگر عوام کو سستی بجلی، سستا آٹا، بہتر تعلیم، صحت، علاج معالجے، پانی، سڑکوں اور اپنے وسائل پر حق کی بات کرنی پڑی تو ان مطالبات کو بروقت حل کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری تھی۔ عوامی احتجاج کو محض امن و امان کا مسئلہ سمجھ کر اس کے پیچھے موجود معاشی، سیاسی اور انتظامی وجوہات کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں بے طاقت کے استعمال سے وقتی خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے لیکن عوام کے دلوں میں موجود شکایات کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا ہے
جو رہنما عوامی حقوق کی بات کرتے ہیں انہیں اپنے سیاسی عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے لیے عوام کے مفادات ذاتی عہدوں، مراعات اور اقتدار سے زیادہ اہم ہیں۔
پونچھ کے عوام نے گذشتہ ساڑھے چار ماہ میں جو حالات دیکھے ان کے اثرات صرف سیاست تک محدود نہیں رہے ہیں فورسز کی تعیناتی قتل و غارتگری ۔ گرفتاریاں ۔ معمولات زندگی، کاروبار، تعلیم، شہری نقل و حرکت اور عام خاندانوں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات بھی اس بحران کا حصہ ہیں۔ ایسے میں عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے کون عملی قدم اٹھا رہا ہے اور کون صرف سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی موجودگی ظاہر کر رہا ہے۔ اگر سیاسی رہنما واقعی بحران ختم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں عوام کے سامنے واضح لائحہ عمل رکھنا ہوگا۔ انہیں بتانا ہوگا کہ عوامی مطالبات پر عمل درآمد کیسے ہوگا شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے گا اور آئندہ ایسے حالات سے بچنے کے لیے کون سی ٹھوس اصلاحات کی جائیں گی
حکمران طبقے کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوگی کہ وہ عوامی حقوق کی تحریک کو صرف اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتا رہے اور اس کے بنیادی مطالبات پر توجہ نہ دے۔ اسی طرح اپوزیشن کی سیاست بھی اس وقت تک عوام کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک وہ اقتدار سے باہر رہ کر صرف حکومت پر تنقید کرے لیکن اپنے سابقہ کردار کا احتساب کرنے اور عوامی مطالبات کی تکمیل کے لیے واضح ضمانتیں دینے سے گریز کرے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہر سیاسی جماعت سے اس کے ماضی کے فیصلوں موجودہ مؤقف اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں سوال کریں۔ جو رہنما عوامی حقوق کی بات کرتے ہیں انہیں اپنے سیاسی عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے لیے عوام کے مفادات ذاتی عہدوں، مراعات اور اقتدار سے زیادہ اہم ہیں۔
آج کسی کو صدارت نہ ملنے کا دکھ ہے کسی کو وزارت سے محرومی کا احساس ہے اور کسی کو سیاسی حیثیت کمزور ہونے کی فکر لاحق ہے لیکن عوام کا سوال ان تمام سیاسی مفادات سے بڑا ہے۔ عوام پوچھتے ہیں کہ جب ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو مشکلات کا سامنا تھا جب خاندان پریشان تھے جب کاروبار متاثر ہو رہے تھے اور جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی تھی تو سیاسی قیادت نے بحران کے خاتمے کے لیے کیا کیا ؟ کیا ان کے پاس عوام کے مسائل حل کرنے کا کوئی سنجیدہ منصوبہ تھا ؟ اگر تھا تو اس پر عمل کیوں نہ ہوا ؟ اور اگر نہیں تھا تو اب ہونے والی بیٹھکوں سے کون سی تبدیلی کی توقع رکھی جائے ؟ متنازعہ خطہ کے عوام کو اب شخصیت پرستی سیاسی نعروں اور وقتی ہمدردیوں سے آگے بڑھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ کسی رہنما کی مخالفت یا حمایت جذبات کے بجائے اس کے عملی کردار کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ عوام کو نہ ہر سیاسی بیان کو حقیقت سمجھنا چاہیے اور نہ ہر اجلاس کو مسائل کے حل کی ضمانت تصور کرنا چاہیے۔ انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کون عوامی مطالبات کی حمایت کرتا ہے کون ان پر عمل درآمد کے لیے جدوجہد کرتا ہے کون اپنے سابقہ فیصلوں کی وضاحت دیتا ہے اور کون سیاسی حالات بدلنے کے ساتھ اپنا مؤقف بھی بدل لیتا ہے یہ خطہ کسی سیاسی جماعت، حکمران خاندان یا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کی جاگیر نہیں ہے یہاں کے عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے اپنے وسائل کے استعمال پر سوال اٹھانے اور اپنے سیاسی و معاشی مستقبل کے بارے میں رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی حکومت یا سیاسی جماعت کی ساکھ کا فیصلہ اس کے عہدوں اور دعوؤں سے نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں آنے والی حقیقی تبدیلی سے ہوگا۔
آج سیاست دانوں سے چند بنیادی سوالات کے جواب مانگنا ضروری ہیں : چار جون سے قبل آل پارٹیز کانفرنس میں کیا فیصلے ہوئے تھے ؟ عوامی حقوق کی تحریک کے خلاف طاقت کے استعمال سے متعلق الزامات پر ان کا مؤقف کیا ہے ؟ ساڑھے چار ماہ تک بحران کے خاتمے کے لیے انہوں نے کیا عملی کردار ادا کیا ؟ سرکاری سرپرستی میں قائم ہونے والی امن کمیٹیوں کا اصل مقصد کیا ہے ؟ اور سب سے بڑھ کر کیا ان کی حالیہ بیٹھکوں کا کوئی نتیجہ عوام کے بنیادی مطالبات کی منظوری اور ان پر عمل درآمد کی صورت میں سامنے آئے گا ؟
عوام کو اب تقریروں سے نہیں عملی نتائج سے مطمئن کرنا ہوگا۔ اگر سیاست دان واقعی عوام کے خیرخواہ ہیں تو انہیں ماضی کے فیصلوں پر وضاحت دینی چاہیے عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے غیر مبہم موقف اختیار کرنا چاہیے اور بحران کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور اٹھائے گی کہ جب عوام اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے تو ان کے نام پر سیاست کرنے والے کہاں تھے اور جب عوام کو انصاف اور ریلیف کی ضرورت تھی تو سیاسی قیادت اپنی کرسیوں کے حساب کتاب میں کیوں مصروف تھی ؟ عوام کو دھوکے سے بچنا ہوگا لیکن فیصلہ ثبوت، کردار اور عمل کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔ کیونکہ عوامی حقوق کسی سیاسی جماعت کا احسان نہیں اور امن کسی کمیٹی کا اعلان نہیں حقیقی امن انصاف، حقوق کے احترام اور عوام کے اعتماد سے جنم لیتا ہے ۔

تبصرے (0)