مے خانے سے مسجد تک ملتے ہیں نقوش پا
یا شیخ گئے ہوں گے، یا رند گیا ہو گا
ہندکو محاورہ بھی یہی ہے کہ یا چوہا چور ہے یا کھُڈ چور ہے
کسی بھی فعال سرحد سے کوئی چیز سرحد کے سنتری کی مرضی کے بغیر نہیں گزر سکتی۔
اور اس سرحد سے تو سوئی بھی سنتری کی مرضی کے بغیر نہیں گزر سکتی جو بند کر دی گئی ہو۔
پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور اشرافیہ میں مار پھٹکار کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں۔
اشرافیہ جس کو اقتدار میں لائے وہ اشرافیہ کو باپ کہتا ہے اور جس کو لات مار کر باہر کر دے وہ اشرافیہ کو کتا کہتا ہے۔
ن لیگ کی تنظیم سازی کے ماہر طلال چودھری نے پاک فوج پر بالواسطہ الزام لگایا ہے کہ پاک فوج کے کچھ عناصر آزاد کشمیر کی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
طلال چودھری تنظیم ساز کے بقول راولاکوٹ میں ایکشن کمیٹی تک افغانستان کے راستے مسلسل اسلحہ پہنچ رہا ہے۔
ان کا ایسا کہنے کا مطلب واضح ہے کہ انہوں نے سرحدوں کے سنتری کا نام لیے بغیر اس پر الزام لگایا ہے۔
اشرافیہ جس کو اقتدار میں لائے وہ اشرافیہ کو باپ کہتا ہے اور جس کو لات مار کر باہر کر دے وہ اشرافیہ کو کتا کہتا ہے۔
میخانے اور مسجد کے درمیان فٹ پرنٹس ملتے ہوں تو دو ہی باتیں ممکن ہو سکتی ہیں
یا تو شرابی نے پینے کے بعد کہیں رات گئے مسجد کا چکر لگایا ہو گا
یا پھر جناب شیخ نے نماز پڑھانے کے بعد کہیں رات گئے۔۔مے خانے کی طرف ۔۔۔۔۔توبہ توبہ۔۔۔ چھی چھی
مگر کوئی ایک تو گیا ہی گیا ہے۔
یا تو راولاکوٹ میں اسلحہ نہیں ہے۔ طلال چودھری اور رانا ثناء اللہ نے جھوٹ بولا ہے۔
اور اگر اسلحہ موجود ہے اور افغانستان کے راستے ہی آیا ہے تو جس سرحد پر ایمان کا پہرا ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔
ان کی بات کا مفہوم واضح ہے کہ افغان سرحد پر تعینات فوج میں سے کچھ عناصر ایکشن کمیٹی کے ساتھ ملے ہوئے ہیں یا ایکشن کمیٹی ان عناصر کے ساتھ ملی ہوئی ہے تو تبھی بالکل سیل بارڈر سے سینکڑوں کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے اسلحہ افغانستان سے اس راولاکوٹ میں پہنچ رہا ہے جہاں دوائی کی شیشی اور خوراک کا ایک کلو پہنچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
پہلے پہل ن لیگ اشرافیہ کو تب تب برا بھلا کہتی تھی۔ اب کی بار تو اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی انہوں نے کام شروع کر دیا ہے۔

تبصرے (0)