مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

وردی قانون سے بالاتر نہیں، مائیک چھیننا سوال دبانے کے مترادف ہے

آزاد کشمیر میں آئی جی پولیس کی صحافی سے بدسلوکی نے پریس فریڈم پر سوالات اٹھا دیے۔ کیا وردی قانون سے بالاتر ہے؟ جانیے اس واقعے اور پس منظر کی اہم تفصیلات۔

خلاصہ

آزاد کشمیر میں آئی جی پولیس کی صحافی سے بدسلوکی نے پریس فریڈم پر سوالات اٹھا دیے۔ کیا وردی قانون سے بالاتر ہے؟ جانیے اس واقعے اور پس منظر کی اہم تفصیلات۔

Summary in English

The mistreatment of a journalist by the IG Police in Azad Kashmir has raised questions about press freedom. Is the uniform above the law? Find out the key details and background of this incident.

وردی قانون سے بالاتر نہیں، مائیک چھیننا سوال دبانے کے مترادف ہے

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہ بھی قانون، آئین اور شہری آزادیوں کے تابع ہیں یا وردی انہیں جواب دہی سے بالاتر کر دیتی ہے ؟ یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو گیا جب 29 ستمبر 2026 کو  جیو نیوز کے صحافی حیدر شیرازی نے آئی جی پولیس لیاقت علی ملک سے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور ان کے ایک مبینہ سابقہ بیان کے بارے میں سوالات کیے۔ دستیاب میڈیا رپورٹس کے مطابق اس موقع پر آئی جی پولیس نے غصے میں آ کر نہ صرف صحافی کے ہاتھ سے مائیک چھیننے کی کوشش کی بلکہ ہاتھ بھی مروڑا ایک رپورٹ میں اس واقعہ کی ویڈیو بھی شائع کی گئی ہے صحافی کا مائیک محض ایک آلہ نہیں ہوتا وہ عوام تک سوال پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ کیمرہ، مائیک اور قلم دراصل ریاست اور عوام کے درمیان رابطے کے وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے اقتدار سے سوال کیا جاتا ہے۔ اگر کسی صحافی کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس کا مائیک چھین لیا جائے تو یہ صرف ایک صحافی کو روکنا نہیں بلکہ عوام کے سوال کو روکنے کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے وردی قانون کا اختیار ہے، قانون سے استثنیٰ نہیں ایک پولیس اہلکار کی وردی کا احترام ضروری ہے لیکن اسی اصول کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے وردی پہننے والا شخص بھی قانون کا پابند ہے اگر کسی شہری یا صحافی کے ساتھ جسمانی بدسلوکی یا زبردستی کی گئی ہے تو اس کی نوعیت کا تعین آزادانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے نہ کہ عہدے یا وردی کی بنیاد پر

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار اور آزادی صحافت کو تسلیم کرتا ہے جبکہ آرٹیکل 19-A عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے عالمی سطح پر بھی اصول واضح ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے آرٹیکل 19 کی تشریح کرتے ہوئے صحافت کو آزادی اظہار کے دائرے میں شامل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے دھمکیوں، حملوں اور دباؤ سے تحفظ ملنا چاہیے جبکہ ایسے حملوں کی مؤثر اور بروقت تحقیقات ہونی چاہئیں سوال صرف مائیک کا نہیں جواب دہی کا ہے حیدر شیرازی کے سوالات محض کسی ایک واقعے سے متعلق نہیں تھے۔ وہ ان ہلاکتوں کے بارے میں سوال کر رہے تھے جن کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی صورتحال قومی اور عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنی ہے خود آئی جی پولیس نے 28 ستمبر کی پریس کانفرنس میں حالیہ بدامنی کے دوران 122 افراد کی گرفتاری اور 69 مقدمات کے اندراج کی بات کی ہے جبکہ ریاستی مؤقف میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے دوسری طرف انسانی حقوق کمیشن پاکستان سے متعلق رپورٹنگ میں حالیہ بدامنی کے دوران طاقت کے استعمال، اظہارِ رائے پر پابندیوں صحافیوں کی گرفتاریوں اور رسائی میں رکاوٹوں پر تشویش کا ذکر سامنے آیا ہے۔ ساتھ ہی اس فیکٹ فائنڈنگ میں تشدد کے واقعات اور احتجاج کے بارے میں مختلف فریقوں کے متضاد بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

کیمرہ، مائیک اور قلم دراصل ریاست اور عوام کے درمیان رابطے کے وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے اقتدار سے سوال کیا جاتا ہے۔

لہٰذا کسی بھی جانب سے ہونے والی ہلاکت، تشدد یا قانون شکنی کو سیاسی نعرے کے بجائے آزادانہ، شفاف اور قابلِ اعتبار تحقیقات کے ذریعے دیکھا جانا چاہیے ایک مبینہ بیان ایک سو سے زائد ہلاکتیں اور اٹھتے ہوئے سوالات آئی جی پولیس لیاقت علی ملک سے متعلق ایک مبینہ سابقہ بیان بھی زیرِ بحث آیا ہے جس میں، دستیاب رپورٹ کے مطابق، ایک ہزار افراد کو مارنے کے حوالے سے جملہ منسوب کیا گیا۔ صحافی حیدر شیرازی نے اسی حوالے سے سوال کیا تو آئی جی نے پوچھا کہ یہ بیان کہاں دیا تھا صحافی نے پوڈکاسٹ کا حوالہ دیا یہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ اگر کسی اعلیٰ پولیس آفیسر سے کوئی متنازعہ بیان منسوب کیا جائے تو صحافی کو اس کے بارے میں سوال کرنے کا مکمل حق ہونا چاہیے اور متعلقہ آفیسر کو جواب دینے کا بھی مکمل حق حاصل ہے۔ لیکن سوال کا جواب مائیک چھین کر نہیں بلکہ دلیل، وضاحت اور شواہد کے ذریعے دیا جانا چاہیے حالیہ بدامنی میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی تعداد اور ذمہ داری کے بارے میں مختلف دعوے اور سرکاری و غیر سرکاری مؤقف موجود ہیں۔ اس لیے کسی مخصوص آفیسر کو ان تمام ہلاکتوں کا براہ راست ذمہ دار یا قاتل قرار دینا اس مرحلے پر ایک ثابت شدہ قانونی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ہے مگر آئی جی پی کے خود اپنے بیانات مشکوک قرار دیے جانے چاہیے اس معاملے کا فیصلہ آزادانہ تحقیقات اور عدالت ہی کر سکتی ہے عدالتیں خاموش تماشائی کیوں رہی ہیں ؟ اگر کسی شہری صحافی یا قانون نافذ کرنے والے اہلکار کے ساتھ قانون کے خلاف زیادتی ہوئی ہے تو اس کے لیے ایک ہی معیار ہونا چاہیے قانون اور

عدالتوں سے یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ حالیہ واقعات صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، شہری ہلاکتوں، طاقت کے استعمال اور ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ہونے والی مبینہ قانون شکنیوں کا قانونی جائزہ لیا جائے۔ اگر کسی آفیسر کے خلاف قابلِ دست اندازی جرم کے شواہد موجود ہوں تو قانون کے مطابق مقدمہ درج ہو تحقیقات ہوں اور ذمہ داری ثابت ہونے کی صورت میں سزا دی جائے یہ مطالبہ کسی شخص کے خلاف انتقام کا نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کا مطالبہ ہونا چاہیے

صحافی کا مائیک مت چھینو ریاست مضبوط بندوق سے نہیں قانون کی بالادستی سے ہوتی ہے پولیس طاقت کا ادارہ ضرور ہے مگر اس طاقت کا مقصد شہریوں کو دبانا نہیں بلکہ قانون کا تحفظ ہے۔ آئی جی ہو یا عام پولیس اہلکار، وزیر ہو یا عام شہری، سب کے لیے قانون کا معیار ایک ہونا چاہیے حیدر شیرازی کا مائیک زبردستی چھینا گیا ہے اس واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اگر جسمانی بدسلوکی بھی ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق ذمہ داری طے ہونی چاہیے سزا ہونی چاہیے اسی طرح احتجاج کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں اور پولیس و دیگر اہلکاروں کی ہلاکتوں کی بھی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ مائیک کس نے چھینا ؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں سوال پوچھنے کا حق محفوظ ہے ؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وردی قانون سے بالاتر ہے ؟

اس سوال کا جواب کسی پریس کانفرنس میں مائیک چھین کر نہیں، بلکہ قانون، عدالت اور شفاف تحقیقات کے ذریعے دینا ہوگا ۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں