۵ جون سے ۹ اکتوبر تک۔ ۹۱ کشمیری شہید، اور گرفتار و لاپتہ افراد کا کوئی مکمل حساب نہیں۔ مطالبہ حقوق کا تھا، تخت و تاج کا نہیں، مگر جواب ایسا ملا کہ تاریخ کشمیریوں کے لہو سے لکھی جانے لگی۔
عوامی حقوق کی تحریک نے برسوں کی خاموشی میں شگاف ڈالا، لیکن آزاد کشمیر کی حکومت اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے طرزِ عمل نے اس تحریک کو محض آٹے، بجلی اور معاشی مسائل کی کشمکش نہیں رہنے دیا۔ اب سوال صرف حقوق کا نہیں، اختیار، شناخت اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں عوام کی حیثیت کا بھی ہے۔
پاکستان کے پالیسی سازوں سے کوئی پوچھے کہ اگر کشمیر کو پاکستان کے ساتھ جوڑے رکھنا مقصود ہے تو ایسے فیصلے کیوں کیے جا رہے ہیں جو دلوں کے درمیان فاصلے بڑھا رہے ہیں؟ یہ کہنا کہ اس کے پیچھے کشمیر کو پاکستان سے دور کرنے کی دانستہ نیت ہے، ثبوت کا تقاضا کرتا ہے، مگر نتائج کی گواہی کے لیے کسی اعتراف کی ضرورت نہیں۔ محبت حکم سے نہیں، انصاف سے پیدا ہوتی ہے، اور بندوق زمین پر اختیار تو قائم کر سکتی ہے، دلوں پر نہیں۔
ان چار ماہ میں صرف لاشیں نہیں گریں، اعتماد بھی زخمی ہوا ہے۔ بچوں کی آنکھوں میں خوف، ماؤں کے سینوں میں ماتم اور نوجوانوں کے ذہنوں میں ثبت ہونے والے یہ واقعات کسی سرکاری بیان سے مٹائے نہیں جا سکتے۔ آج جو بیج بویا جا رہا ہے، خدشہ ہے کہ اس کی تلخ فصل کم از کم تین نسلوں کو کاٹنی پڑے۔ نفرت کے بیج چند فیصلوں سے بوئے جاتے ہیں، مگر ان کی جڑیں اکھاڑنے میں زمانے گزر جاتے ہیں۔
محبت حکم سے نہیں، انصاف سے پیدا ہوتی ہے، اور بندوق زمین پر اختیار تو قائم کر سکتی ہے، دلوں پر نہیں۔
حکمران شاید سمجھتے ہیں کہ تحریک کو دبا دینا مسئلے کا خاتمہ ہے۔ مگر قوموں کی تاریخ میں خاموشی ہمیشہ شکست نہیں ہوتی، کبھی یہ اعتماد کے آخری چراغ کے بجھ جانے کا نوحہ بھی ہوتی ہے۔ طاقت کے نشے میں یہ فراموش کر دیا جاتا ہے کہ عوام کے سوالات کو کچلنے سے سوال مرتے نہیں، ان کے جواب بدل جاتے ہیں۔
کل تاریخ یہ نہیں پوچھے گی کہ تخت پر کون بیٹھا تھا، وہ پوچھے گی کہ جب کشمیری اپنے حقوق مانگ رہے تھے تو ان کے دلوں میں کس نے فاصلے بوئے۔
اور اگر آج بھی انصاف کے بجائے جبر، مکالمے کے بجائے خاموشی اور اعتماد کے بجائے خوف کو ترجیح دی گئی تو کل شاید نقشے وہی رہیں، مگر ان سے وابستگی کے معنی بدل چکے ہوں گے۔
زمین پر قبضہ طاقت کا کمال ہو سکتا ہے، دلوں پر اختیار انصاف کا ثمر ہے۔ جو ریاست اپنے لوگوں کے دل ہار دے، اسے ایک دن اپنی تمام تر قوت کے باوجود اپنی شکست کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔

تبصرے (0)