ایکشن کمیٹی دھرنا : بحران سے نکلنے کا راستہ
تحریر : شمس رحمان
ایک بات واضح ہونی چاہیے: پاکستان کی بدنامی عوامی ایکشن کمیٹی یا مجموعی طور پر کشمیری نہیں کر رہے؛ یہ بدنامی اُس پالیسی کے نتیجے میں ہو رہی ہے جو بنیادی ضروریات اور عوامی حقوق کی ایک تحریک پر علیحدگی پسندی اور بیرونی ایجنڈے کے الزامات لگا کر اسے سلامتی کا مسئلہ بناتی اور طاقت سے کچلنے کی کوشش کرتی ہے۔
اس وقت ضرورت انا کی تسکین کی نہیں، تدبر سے کام لینے کی ہے۔ حکومت کو پانچ جون سے پہلے کی صورتِ حال بحال کرنے کے کمیٹی کے مطالبات تسلیم کرکے دھرنے کے پُرامن اختتام کی راہ ہموار کرنی چاہیے اور طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد شروع کرنا چاہیے۔
اس راستے سے گریز کا مطلب مزید جبر اور خونریزی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ عوامی قتلِ عام سے بھی دھرنا ختم ہونے کی کوئی ضمانت نہیں؛ عین ممکن ہے کہ بحران مزید گہرا اور اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہو جائیں۔ اس لیے پہل حکومت ہی کو کرنا ہوگی۔ جسے وہ کڑوا گھونٹ سمجھ رہی ہے، اُسے پینا اس وقت سیاسی دانش مندی کا تقاضا ہے۔
قیادت کی کسی غلطی سے ریاست کو جبر کا جواز نہیں مل جاتا، اور ریاستی جبر سے قیادت کے فیصلے تنقید سے بالاتر نہیں ہو جاتے۔
کمیٹی کی قیادت کو بھی اپنے کردار کا دیانت دارانہ جائزہ لینا ہوگا۔ اسے اپنے لوگوں کو بتانا ہوگا کہ بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے شروع ہونے والا سفر اس راستے پر اور اس مقام تک کیسے پہنچا۔ جہاں اس کے فیصلوں اور حکمتِ عملی میں غلطیاں ہوئی ہیں، وہاں انہیں تسلیم کرنا اور عوام سے معافی مانگنا بھی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
تاہم، دونوں کی جواب دہی کی نوعیت واضح رہنی چاہیے۔ ریاست کو طاقت کے استعمال، جانوں کے ضیاع اور قانون کی خلاف ورزیوں کا حساب دینا ہوگا، جبکہ کمیٹی کی قیادت کو اپنے سیاسی فیصلوں، حکمتِ عملی اور عوام سے کیے گئے وعدوں کا۔ قیادت کی کسی غلطی سے ریاست کو جبر کا جواز نہیں مل جاتا، اور ریاستی جبر سے قیادت کے فیصلے تنقید سے بالاتر نہیں ہو جاتے۔
ڈیڑھ سو شہدا اور کئی سو زخمیوں کا جواب کون دے گا؟ ان کے خاندانوں کے سامنے کون اپنا حساب رکھے گا؟ کسی معاہدے سے آئندہ کی خونریزی روکی جا سکتی ہے، مگر جو خون بہہ چکا ہے، اُس کا حساب محض دھرنا ختم ہونے سے بند نہیں ہو سکتا۔ پائیدار حل کے لیے مذاکرات اور معاہدے پر عمل درآمد کے ساتھ جانوں کے ضیاع کی آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کا تعین اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دینا بھی ضروری ہے۔

تبصرے (0)