مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

راولاکوٹ کی صورتِ حال پر فوری مشترکہ اقدام کی ضرورت ہے۔

آئیے، اختلاف کو دشمنی اور احتجاج کو تصادم میں بدلنے سے روکیں۔  آئیے، انسانی جان، قانون کی بالادستی اور اجتماعی امن کو مقدم رکھیں۔

خلاصہ

راولاکوٹ میں عوامی احتجاج کے پیش نظر فوری مشترکہ اقدام کی اپیل کی گئی ہے۔ سیاسی رہنماؤں پر مشتمل غیر جانبدار وفد بنانے اور تشدد فوری روکنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ مکمل تفصیلات جانیے۔

Summary in English

In light of the public protests in Rawalakot, an appeal for immediate joint action has been made. Demands have been raised to form an impartial delegation comprising political leaders and to immediately halt the violence. Read the full details.

راولاکوٹ کی صورتِ حال پر فوری مشترکہ اقدام کی ضرورت ہے۔
تصویر: JK Voices

دھرنا اپنا طاقتور پیغام دے چکا ہے۔ دسیوں ہزار عوام کی شرکت کوئی امن و امان کا مسئلہ نہیں؛ یہ عوامی غصے، جمہوری خواہش، محرومی اور اعتماد کے ٹوٹنے کا تاریخی اظہار ہے۔”

“ حکومت اگر دھرنا کو ختم کروانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے تشدد کو روکنا ہو گا۔”

“آزاد جموں کشمیر میں عوام قومی عزت، وقار اور عوام کے حق حکمرانی اور فیصلہ سازی میں اپنے جمہوری حق ملکیت واگزار کروانے کے لیے پرامن دھرنے میں بیٹھے ہیں ، بدامنی کے لیے نہیں”

آزاد جموں و کشمیر کی تمام سیاسی قیادت، قانون دانوں، بار کونسل، بار ایسوسی ایشنز، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے اداروں سے پُرزور اپیل ہے کہ راولاکوٹ کی موجودہ صورتِ حال پر بلخصوص اور آزاد جموں کشمیر کی صورت حال پر بلعموم فوری، ذمہ دارانہ اور مشترکہ کردار ادا کریں۔

خصوصاً ڈاکٹر نجیب نقی خان، سید افتخار گیلانی، چوہدری طارق فاروق، سردار عتیق احمد خان، سرداریعقوب خان، راجہ فاروق حیدر خان، سردار تنویر الیاس، سردار عبدالقیوم نیازی، چوھدری انوارالحق، راجہ فیصل ممتاز راٹھور شاہ غلام قادر، سردار حسن ابراھیم، سردار فاروق سکندر، چوہدری محمد یاسین ، مولانا سعید یوسف، مولانا مظہر سعید، ڈاکتڑ مشتاق، انجینیرافضل ضیائی، سردار ساجد اقبال عباسی، ، سردار نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ اور دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں سے درخواست ہے کہ وہ جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ، غیر جانب دار وفد تشکیل دیں۔

پاکستان کی قومی سیاسی قیادت اور پارلیمانی نمائندوں میں سے خواجہ سعد رفیق، بلاول بھٹو، محمود خان اچکزئی، راجہ پرویز اشرف، سینیٹر مشتاق احمد، سینٹر مشاہد سید، ٘ملحیہ لودھی  اور دیگر قابلِ اعتماد شخصیات کو بھی، اگر ممکن ہو، اس مشاہداتی اور مصالحتی عمل میں شریک کیا جائے۔

آزاد جموں و کشمیر کی تمام سیاسی قیادت، وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں پر مشتمل ایک غیر جانب دار وفد راولاکوٹ جائے، احتجاجی نمائندوں، متاثرہ خاندانوں اور انتظامیہ سمیت تمام فریقوں سے ملے اور حقائق عوام کے سامنے لائے۔

آزاد جموں کشمیر کے عوام چاہتے ہیں کہ:

تشدد اور غیر ضروری طاقت کا فوری خاتمہ ہو

بیمار اور زخمیوں کو بلاامتیاز طبی امداد ملے

اموات، شہادتوں، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات ہوں

زیرِ حراست افراد کی قانونی معلومات تک رسائی ہو

میڈیا اور انسانی حقوق کے مبصرین کو آزاد جموں کشمیر کے تمام علاقوں تک محفوظ رسائی ہو

بااختیار اور وقت کی پابند مذاکراتی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے

کسی فرد یا ادارے کے خلاف نفرت یا انتقام نہیں۔ انسانی جان، قانون کی بالادستی، شفافیت اور پُرامن مذاکرات ہماری ترجیح ہونے چاہیں۔

آئیے، اختلاف کو دشمنی اور احتجاج کو تصادم میں بدلنے سے روکیں۔

آزاد جموں کشمیر اور پاکستان کے سیاسی راینماوں کے راولاکوٹ کے  دورے کی لائیو کوریج کا بندوست کیا جائے ، تا کہ وہ خود بھی دیکھیں اور سارے کشمیریوں اور پاکستانیوں کے ساتھ دنیا بھر کو دکھائیں کہ وہاں کون سے دہشت گرد بیٹھے ہیں کہاں بیٹھے ہیں کیسے بیٹھے جن پر یا جن کی آڑ میں پرامن احتجاجی عوام پہ گولیاں چلانا اور جنگی ہتھیار استعمال کرنا اور انکی جان لینا ضروری ہو چکا ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

آزاد جموں کشمیر ایک چھوٹا سا خطہ ہے اور یہاں کی لیڈر شپ اپنے لوگوں کو جانتی ہے پہچانتی ہے لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں پہچانتے ہیں۔ کوئی ایک ناپسندیدہ شخص یا مسلح شخص کسی بھی کونے میں چھپ کے لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہں رہ سکتا۔

بند کمروں میں چند ایک مخصوص سرکاری اہلکاروں سے بریفنگ لینے اور ان پہ انحصار کرکے کبوتر کی طرح سب سیاسی لیڈروں نے اگر آنکھیں مزید بند رکھیں اور آگ اور خون کی یہ ہولی اسی طرح  غیر ریاستی انتظامی اور سیکیورٹی  افیسران  کے حکم پہ کھیلی جاتی رہی تو یہ پرامن خطہ سب کے لیے جہنم بن جائے گا۔

آج گولیاں چلانے کا حکم دینے والے یہ سول اور ایک ملٹری آفیسر یہاں سلگتی اگ چھوڑ کر کل تبدیل ہو کر کہں اور چلے جائیں گے لیکن یہ تمام سیاستدان یاد رکھیں کل وہ اور انکی نسلیں بھی اس آگ میں جلیں گیں انکے گھر بھی اک دن ماتم کدہ ہونگے۔

سیاسی قیادت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری

سیاسی قیادت محض تماشائی نہیں رہ سکتی۔ اسے اپنا سیاسی اختیار استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی بات سننی، ان کے جائز مطالبات کا جواب دینا اور انسانی جانوں کے تحفظ کو ہر دوسری مصلحت پر مقدم رکھنا ہوگا۔

اگر منتخب نمائندوں یا سیاسی رہنماؤں کو فیصلے کرنے، متاثرین سے ملاقات کرنے یا مذاکرات میں کردار ادا کرنے میں کسی انتظامی یا ادارہ جاتی رکاوٹ کا سامنا ہے تو انہیں اس صورتِ حال کو ذمہ داری، شفافیت اور قابلِ تصدیق حقائق کے ساتھ عوام کے سامنے بیان کرنا چاہیے۔ اس سے غلط فہمیوں، افواہوں اور باہمی الزام تراشی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ہم کسی فرد یا ادارے کے خلاف نفرت، دھمکی یا انتقام کی حمایت نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ

انسانی جانوں کا تحفظ کیا جائے، طاقت کے استعمال کو قانون کے تابع رکھا جائے، حقائق آزادانہ طور پر سامنے لائے جائیں اور مسائل کا حل پرامن، سیاسی اور بامقصد مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

تمام سیاسی، انتظامی اور سماجی قیادت سے اپیل ہے کہ وہ مزید جانی نقصان کا انتظار نہ کرے۔ آج بھی باوقار مصالحت، شفاف تحقیقات اور پُرامن حل کا راستہ موجود ہے۔

آئیے، اختلاف کو دشمنی اور احتجاج کو تصادم میں بدلنے سے روکیں۔

تمام سیاسی قائیدین  ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا بغیر کسی سیکیورٹی کے راولاکوٹ دھرنے میں جائیں اور خود حقیقت دیکھیں خود سچ جانیں اور خود اپنے لوگوں کو بچائیں خود انکی بات سنیں اور خود انکی بات سمجھیں انہں سمجھائیں اور خود ہی مطالبات پورے کریں خود ہی جن نہتے ماں باپ کے معصوم بچے ناحق مارے گئے انکی دلجوئی کریں۔ سب فیصلے خود کریں اپنا حق حکمرانی اور حق سیاست حق فیصلہ سازی استعمال کریں۔

تمام سیاستدانوں سے اپیل ہے کہ خود کو تاریخ کی درست سمت میں کر لیں  ابھی بھی آپ سب کے پاس موقع ہے۔

ورنہ

سب کے گھر جلیں گے ہوا کسی کی نہں ہ

RightsMovementAJK #KashmiriLivesMatteess

تبصرے (0)

تبصرہ کریں