ریچڈل کونسل کے ڈپٹی لیڈر اور لیبر پارٹی کے منتخب کونسلر علی دالت کو گزشتہ شام لاہور ایئرپورٹ پر برطانیہ واپسی کی پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے انہیں بتایا کہ ان کا نام وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کی کنٹرول لسٹ میں شامل ہے، اس لیے وہ سفر نہیں کر سکتے۔
علی دالت دو ہفتے قبل ریچڈل کونسل کے میئر کی قیادت میں جانے والے سرکاری وفد کے ساتھ پاکستان پہنچے تھے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر آمد کے وقت بھی سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں کچھ دیر کے لیے روکے رکھا تھا۔
علی دالت کا آبائی تعلق راجدھانی، کوٹلی (آزاد کشمیر) سے ہے اور وہ دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ ریچڈل کونسل میں لیبر کے منتخب کونسلر اور ڈپٹی لیڈر ہیں، تاہم ان کی اصل پہچان سیاست سے زیادہ ادب ہے۔ وہ پہاڑی زبان کے نامور لکھاری ہیں اور نصف درجن سے زائد پہاڑی افسانوی مجموعے اور ناول تحریر کر چکے ہیں۔
ایک منتخب برطانوی عوامی نمائندے کے ساتھ اس سلوک پر برطانوی کشمیریوں سمیت ان کے حلقۂ احباب میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
ان کا نام FIA کی کنٹرول لسٹ میں کیوں ڈالا گیا، اس بارے میں سرکاری طور پر کچھ واضح نہیں کیا گیا۔ تاہم شنید ہے کہ آزاد کشمیر میں بنیادی حقوق کے مطالبات کی حمایت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ان کا نام فہرست میں شامل کیا گیا۔
ایک منتخب برطانوی عوامی نمائندے کے ساتھ اس سلوک پر برطانوی کشمیریوں سمیت ان کے حلقۂ احباب میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ مانچسٹر ایوننگ نیوز اس معاملے پر اسٹوری شائع کر چکا ہے، اور توقع ہے کہ گزشتہ شام آف لوڈ کیے جانے کے بعد آج یہ معاملہ برطانیہ کے مین اسٹریم میڈیا کی توجہ بھی حاصل کرے گا۔

تبصرے (0)