راچڈیل (وائسز آف جموں کشمیر): راچڈیل بورو کونسل کے ڈپٹی لیڈر کونسلر عدالت علی کی پاکستان کے سرکاری دورے کے بعد برطانیہ واپسی تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق، واپسی بعض کاغذی کارروائی مکمل ہونے تک مؤخر ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کونسلر عدالت علی نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ زیرِ حراست نہیں ہیں اور کارروائی مکمل ہوتے ہی جلد برطانیہ واپس پہنچنے کی امید رکھتے ہیں۔
کونسلر عدالت علی چند ہفتے قبل راچڈیل کے میئر کونسلر فیصل رانا اور وفد کے دیگر ارکان کے ہمراہ راچڈیل کے جڑواں شہر ساہیوال کے بلدیاتی و خیرسگالی دورے پر پاکستان گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق، اسلام آباد پہنچنے پر پاکستانی حکام نے انہیں پوچھ گچھ کے لیے چند گھنٹے روکا۔ برطانوی حکام کے پاکستانی اداروں سے رابطے کے بعد انہیں وفد کے ساتھ دورہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کونسلر عدالت علی نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ زیرِ حراست نہیں ہیں اور کارروائی مکمل ہوتے ہی جلد برطانیہ واپس پہنچنے کی امید رکھتے ہیں۔
دورہ مکمل ہونے پر جب وفد لاہور ایئرپورٹ پہنچا تو حکام نے بتایا کہ کونسلر عدالت علی کو روانگی سے پہلے کچھ کاغذی کارروائی مکمل کرنا ہوگی، جس کے لیے اسلام آباد میں متعلقہ دفتر سے رجوع ضروری ہے۔ اس کے بعد وہ اور وفد کے دیگر ارکان اسلام آباد روانہ ہو گئے۔
پوچھ گچھ کی وجہ، مطلوبہ کاغذی کارروائی کی نوعیت اور اس کی تکمیل کے متوقع وقت کے بارے میں آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
پس منظر: کنگز وے وارڈ سے منتخب کونسلر عدالت علی کشمیر میں پیدا ہوئے اور 14 برس کی عمر میں انگلینڈ آئے۔ وہ 2010 میں پہلی بار کونسلر منتخب ہوئے اور 2018 میں ڈپٹی لیڈر بنے۔ وہ لیبر پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور صحت کے پورٹ فولیو کے ذمہ دار ہیں۔ وہ کشمیر ریسرچ اینڈ ریویو سینٹر، راچڈیل کے کشمیر یوتھ پراجیکٹ اور کشمیر براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے بانی ارکان میں شامل ہیں۔ (Deputy council leader Daalat Ali shortlisted for 2023 LGIU & CCLA Councillor Award +2)

تبصرے (0)