دنیا کے نقشے صرف کاغذ پر کھینچی گئی لکیریں نہیں ہوتے۔ نقشے تاریخ، جغرافیہ، سیاست، اقتدار اور قوموں کے مستقبل کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 4 ستمبر 2026 کو ’’Correct the Map‘‘ یعنی ’’نقشہ درست کرو‘‘ کے عنوان سے قرارداد منظور کی تو دنیا بھر میں نقشہ سازی اور جغرافیائی نمائندگی کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہوئی۔ لیکن یہاں ایک بات ابتدا ہی میں واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ قرارداد براہ راست ریاست جموں کشمیر کے نقشے یا بھارت اور پاکستان کے باہمی دعوؤں سے متعلق نہیں تھی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس قرارداد کا بنیادی مقصد عالمی نقشوں میں افریقہ کے حقیقی حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھانا اور پرانے نقشہ جاتی عدم توازن کو دور کرنا تھا۔ قرارداد 164 ووٹوں سے ایک کے مقابلے میں منظور ہوئی لیکن یہی واقعہ ریاست جموں کشمیر کے لیے ایک انتہائی اہم سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔ اگر دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ نقشہ حقیقت کو درست طور پر ظاہر کرنا چاہیے تو پھر ریاست جموں کشمیر کی جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی حقیقت کو نقشے میں کس طرح دکھایا جائے ۔؟ اور اگر اقوام متحدہ خود اپنے نقشے پر یہ وضاحت لکھتا ہے کہ جموں کشمیر میں دکھائی جانے والی لائن آف کنٹرول تقریباً ہے، اس کا حتمی درجہ بندی والا بین الاقوامی سرحد ہونا تسلیم شدہ نہیں، اور ریاست جموں کشمیر کی حتمی حیثیت ابھی فریقین کے درمیان طے نہیں ہوئی، تو پھر بھارت اور پاکستان کے یک طرفہ نقشے کس بنیاد پر ریاست کے حتمی مستقبل کا فیصلہ ظاہر کر سکتے ہیں ۔؟ اقوام متحدہ کے جغرافیائی ریکارڈ میں یہ وضاحت آج بھی موجود ہے یہی وہ مقام ہے جہاں عام شہری کے لیے نقشے کی زبان سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ نقشے پر ایک لکیر اگر بین الاقوامی سرحد ہو تو اس کی حیثیت مختلف ہوتی ہے، اور اگر وہ لائن آف کنٹرول یا جنگ بندی سے پیدا ہونے والی لکیر ہو تو اس کی حیثیت مختلف ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اپنے نقشوں میں جموں کشمیر کے بارے میں استعمال ہونے والی اصطلاح یہی بتاتی ہے کہ لائن آف کنٹرول کو تقریباً دکھایا گیا ہے اور ریاست کی حتمی حیثیت ابھی طے شدہ نہیں ہے اقوام متحدہ کے 1949 کے ریکارڈ میں بھی ریاست جموں کشمیر کا نقشہ جنگ بندی لائن کے ساتھ محفوظ ہے لہٰذا بھارت کا یہ دعویٰ کہ پورا جموں کشمیر محض بھارتی ریاستی نقشے کا حصہ ہے، اور پاکستان کا یہ تاثر کہ اس کے زیر انتظام علاقہ محض پاکستان کی داخلی انتظامی وحدت ہے، دونوں کو اس تاریخی اور بین الاقوامی حقیقت کے سامنے پرکھنا ہوگا کہ ریاست کا تنازعہ ابھی تک اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کو پاکستان کا صوبہ قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ پاکستان کا اپنا آئینی و انتظامی بندوبست اسے صوبہ نہیں بناتا، اور دوسری طرف بھارت کے زیر انتظام حصے کو صرف بھارتی نقشے پر دکھا دینا بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں ریاست کی حتمی حیثیت طے نہیں کرتا۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نقشے پر رنگ کس کا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس سرزمین کے انسانوں کی سیاسی حیثیت کیا ہے اور ان کے مستقبل کا فیصلہ کس نے کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 47، جو 21 اپریل 1948 کو منظور ہوئی، خود ریاست جموں کشمیر میں امن و امان کی بحالی اور عوامی رائے شماری کے سوال سے متعلق تھی۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں اس قرارداد کا عنوان ہی ’’ریاست جموں کشمیر میں امن و امان کی بحالی اور رائے شماری‘‘ سے متعلق ہے۔ بعد کے اقوام متحدہ کے اقدامات میں جنگ بندی، غیر فوجی انتظامات اور رائے شماری سے متعلق تجاویز بھی سامنے آئیں۔ 1951 کے متعلقہ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں فریقین سے ریاست جموں کشمیر کو غیر فوجی بنانے اور رائے شماری کے منصوبے پر تعاون کرنے کا مطالبہ بھی موجود ہے پھر 1949 کا کراچی معاہدہ آیا جس کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان ریاست جموں کشمیر میں جنگ بندی لائن قائم کی گئی اقوام متحدہ کے معاہداتی ریکارڈ میں یہ معاہدہ باقاعدہ درج ہے اور اقوام متحدہ کی دستاویز میں اس جنگ بندی لائن کا نقشہ بھی موجود ہے اسی سلسلے میں جنوری 1949 میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین ریاست جموں کشمیر پہنچے اور بعد میں اقوام متحدہ کا فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان، یعنی UNMOGIP، قائم ہوا۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ مشن آج بھی موجود ہے اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی سے متعلق صورت حال کی نگرانی کرتا ہے اس پوری تاریخ کا مطلب عام شہری کے لیے بہت سادہ ہے اگر ریاست جموں کشمیر کی حیثیت 1947 ہی میں حتمی طور پر طے ہو چکی ہوتی تو پھر 1948 کی سلامتی کونسل کی قرارداد، 1949 کا جنگ بندی انتظام، اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین اور آج تک جاری اقوام متحدہ کا نقشہ جاتی نوٹ کس لیے موجود ہوتا ۔ ؟ پھر 1972 کا شملہ معاہدہ بھی سامنے آیا اس معاہدے میں بھارت اور پاکستان نے لائن آف کنٹرول کا احترام کرنے اور اسے یک طرفہ طور پر تبدیل نہ کرنے پر اتفاق کیا جبکہ اسی معاہدے میں جموں کشمیر کے حتمی تصفیے کا سوال بھی موجود رہا۔ خود معاہدے کے متن میں دونوں ممالک نے مستقبل میں جموں کشمیر کے حتمی تصفیے سمیت دیگر معاملات پر بات چیت جاری رکھنے کی بات کی اقوام متحدہ نے بھی واضح کیا ہے کہ شملہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ختم نہیں کرتا تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر لائن آف کنٹرول حتمی بین الاقوامی سرحد نہیں، اگر اقوام متحدہ کا نقشہ ریاست کی حتمی حیثیت کو غیر طے شدہ قرار دیتا ہے، اگر اقوام متحدہ کا فوجی مبصر مشن آج بھی موجود ہے، اور اگر بھارت و پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں بھی جموں کشمیر کے حتمی تصفیے کا سوال باقی رہا ہے تو پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں پاکستانی فورسز کی موجودگی کو کس قانونی اور سیاسی منطق کے تحت اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ معاملہ مکمل طور پر پاکستان کا داخلی معاملہ ہو ۔؟ یہاں میں بحیثیت صحافی ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہوں پاکستانی فورسز یہاں کیوں موجود ہیں ۔؟ اگر یہ علاقہ پاکستان کا صوبہ نہیں اگر ریاست جموں کشمیر کی حتمی حیثیت اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں طے شدہ نہیں، اگر لائن آف کنٹرول بین الاقوامی سرحد نہیں بلکہ ایک متنازعہ خطے کو تقسیم کرنے والی جنگ بندی سے پیدا ہونے والی لکیر ہے، تو پھر اس خطے کے شہریوں کے سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے ۔؟ اور اگر عوام اپنے بجلی، آٹے، صحت، تعلیم، روزگار، سیاسی اختیار، وسائل پر حق اور جمہوری نمائندگی کے مطالبات لے کر سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان کے جواب میں طاقت، گرفتاری، فائرنگ، مواصلاتی پابندیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں کا راستہ کیوں اختیار کیا جاتا ہے ۔؟ 2026 کی احتجاجی تحریک نے ان سوالات کو مزید شدت کے ساتھ سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پر امن شہریوں کی شہادتوں، زخمیوں، گرفتاریوں، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی پابندیوں اور فورسز کے استعمال کے بارے میں مختلف فریقوں کی طرف سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان تمام واقعات کے بارے میں کسی ایک فریق کا دعویٰ حتمی حقیقت نہیں بن سکتا ہے اگر شہری شہید ہوئے ہیں تو آزادانہ اور غیر جانب دار تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر کسی اہلکار نے قانون سے تجاوز کیا ہے تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے، اور اگر کسی احتجاجی کارکن پر جرم کا الزام ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ قانون کی حکمرانی کا اصول یہی ہے کہ الزام کا فیصلہ بندوق، طاقت یا سرکاری بیان نہیں بلکہ آزادانہ تحقیقات اور عدالت کرے پاکستانی فورسز کی موجودگی پر سوال اٹھانے کا مطلب کسی پاکستانی شہری سے دشمنی نہیں۔ بھارت کی ریاستی طاقت اور اس کے یک طرفہ دعوؤں پر سوال اٹھانے کا مطلب بھی بھارتی عوام سے دشمنی نہیں۔ اصل سوال دونوں ریاستوں کی طاقت کے مقابلے میں ریاست جموں کشمیر کے عوام کے سیاسی وجود کا ہے۔ اگر بھارت کہتا ہے کہ وہ پورے جموں کشمیر کا مالک ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں حتمی حیثیت غیر طے شدہ کیوں ہے ۔؟ اور اگر پاکستان کہتا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق کا حامی ہے تو پھر پاکستان کے زیر انتظام حصے میں عوام کو اپنے سیاسی مستقبل، وسائل، حکومت اور بنیادی حقوق کے بارے میں مکمل اور مؤثر اختیار کیوں نہیں دیا جاتا ۔؟ ریاست جموں کشمیر کے عوام کو بھارت اور پاکستان کے درمیان محض ایک جغرافیائی تنازعہ کا حصہ بنا دینا ان کی سیاسی شخصیت کو نظر انداز کرنا ہے۔ یہ سرزمین صرف نقشے پر موجود ایک خالی جگہ نہیں یہاں کروڑوں انسان بستے ہیں، ان کے گھر ہیں، ان کی نسلیں ہیں، ان کی تاریخ ہے اور ان کے سیاسی خواب ہیں۔ کسی بھی حتمی سیاسی انتظام کی اخلاقی بنیاد اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس سرزمین کے عوام کی آزادانہ سیاسی رضامندی کو بنیادی حیثیت نہ دی جائے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نقشے پر رنگ کس کا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس سرزمین کے انسانوں کی سیاسی حیثیت کیا ہے اور ان کے مستقبل کا فیصلہ کس نے کرنا ہے۔
یہاں ’’خود مختاری‘‘ اور ’’آزادی‘‘ کے سوال کو بھی جذباتی نعروں کے بجائے تاریخی اور قانونی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ اگر ریاست جموں کشمیر کا مستقبل بھارت اور پاکستان کے درمیان حتمی طور پر طے نہیں ہوا تو دونوں ریاستیں اس خطے پر اپنے یک طرفہ دعوے کو عوام کے حق پر فوقیت نہیں دے سکتی ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کے عوام کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ جمہوری، آزاد، غیر جابرانہ اور شفاف ماحول میں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں اپنی رائے دے سکیں۔ یہی حقیقی خود ارادیت کا بنیادی سوال ہے اور اسی لیے پاکستان کے لیے بھی اب صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا حامی ہے۔ اگر پاکستان واقعی ریاست جموں کشمیر کے عوام کے حق کا علمبردار ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے زیر انتظام علاقے میں انسانی حقوق، سیاسی آزادی، صحافت کی آزادی، پرامن اجتماع، منصفانہ عدالتی عمل اور شہری جان کے تحفظ کی ضمانت دینا ہوگی کسی عوام کو ایک طرف آزادی کا حق دینے کی بات کرنا اور دوسری طرف ان کے بنیادی مطالبات کے جواب میں طاقت استعمال کرنا ایک ایسا تضاد ہے جس کا جواب تاریخ ضرور مانگے گی اسی طرح بھارت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سرکاری نقشہ کسی متنازعہ خطے کی حتمی سیاسی حیثیت کا متبادل نہیں۔ انتظامی کنٹرول اور قانونی حتمی حیثیت دو مختلف چیزیں ہیں۔ جس طرح پاکستان کسی علاقے کے انتظامی کنٹرول کو بنیاد بنا کر جموں کشمیر کے پورے سیاسی سوال کو ختم نہیں کر سکتا، اسی طرح بھارت بھی انتظامی اقدامات اور آئینی دعوؤں کے ذریعے اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں موجود تنازع کو یک طرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا ہے آج ’’نقشہ درست کرو‘‘ کا فیصلہ دنیا میں جغرافیائی نمائندگی کے حوالے سے اٹھا ہے۔ میرے نزدیک ریاست جموں کشمیر کے لیے اس کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ نقشہ اور حقیقت کے درمیان فرق کو سمجھا جائے۔ نقشے پر ایک رنگ بدل دینے سے تاریخ نہیں بدلتی۔ ایک لکیر کو سرحد لکھ دینے سے اس کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہوتی۔ کسی علاقے پر فورسز تعینات کر دینے سے وہاں کے عوام کے سیاسی حقوق ختم نہیں ہوتے۔ اور کسی حکومت کے سرکاری بیان سے کسی شہری کی شہادت، گرفتاری یا بنیادی حق کا سوال ختم نہیں ہو جاتا۔
اس لیے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور عالمی برادری کے سامنے اب ایک واضح مطالبہ ہونا چاہیے کہ ریاست جموں کشمیر کے مسئلے کو صرف بھارت اور پاکستان کے باہمی تنازع کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ وہاں رہنے والے عوام کو حقیقی فریق سمجھا جائے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں شہریوں کی شہادتوں، طاقت کے استعمال، گرفتاریوں، مواصلاتی پابندیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ، شفاف اور بین الاقوامی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر شہریوں کی شہادتیں ہوئی ہیں تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف دیا جائے اور کسی بھی ریاستی اہلکار یا احتجاجی فرد کو محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر قانون سے بالاتر نہ رکھا جائے پاکستان کو بھی عالمی قانونی اور سیاسی فورمز پر اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ ریاست جموں کشمیر کے بارے میں اس کا حتمی تصور کیا ہے۔ اگر وہ اس خطے کو متنازعہ تسلیم کرتا ہے تو پھر یہاں کے عوام کو محض انتظامی رعایا نہیں بلکہ سیاسی فریق کیوں نہیں سمجھا جاتا ۔؟ اگر وہ حق خود ارادیت کی بات کرتا ہے تو اس حق کی عملی ضمانت کہاں ہے ۔؟ اور اگر پاکستانی فورسز امن و امان کے نام پر تعینات ہیں تو ان کی موجودگی، اختیارات، کارروائیوں اور شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی قانونی بنیاد کیا ہے ۔؟ اسی طرح عالمی برادری کو بھی یہ سوال نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اقوام متحدہ کا فوجی مبصر مشن کیوں موجود ہے ۔؟ اقوام متحدہ کے اپنے ریکارڈ میں آج بھی جموں کشمیر کی حتمی حیثیت غیر طے شدہ کیوں لکھی ہوئی ہے ۔؟ اور اگر یہ سوال ابھی باقی ہے تو کیا اس خطے کے لوگوں کو ہمیشہ بھارت اور پاکستان کے باہمی سیاسی فیصلوں کا انتظار ہی کرنا ہوگا ۔؟
میرے نزدیک ریاست جموں کشمیر کی آزادی، خود اختیاری اور بنیادی عوامی حقوق کا سوال کسی ایک حکومت کے خلاف سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک تاریخی سوال ہے۔ اس سوال کا جواب بندوق سے نہیں، نقشے کے رنگ سے نہیں، فوجی طاقت سے نہیں اور یک طرفہ سرکاری بیانیے سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا جواب قانون، انصاف، عوامی رضامندی اور انسانی وقار کے اصولوں سے دینا ہوگا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست جموں کشمیر کا نقشہ صرف جغرافیہ کے ماہرین نہ دیکھیں بلکہ عام شہری بھی دیکھیں اور سمجھیں کہ نقشے پر دکھائی جانے والی لکیر کیا ہے، اقوام متحدہ اسے کیا کہتا ہے، جنگ بندی لائن کیسے وجود میں آئی، لائن آف کنٹرول کیسے بنی اور کیوں آج تک اقوام متحدہ اسے حتمی بین الاقوامی سرحد قرار نہیں دیتا۔ اقوام متحدہ کے نقشے میں موجود وضاحت اس بحث کے لیے ایک بنیادی دستاویزی حوالہ ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی حتمی حیثیت ابھی طے شدہ نہیں لہٰذا میرا بنیادی سوال آج بھی وہی ہے اگر ریاست جموں کشمیر کی حتمی حیثیت طے نہیں ہوئی تو پاکستانی فورسز یہاں کیوں موجود ہیں ۔؟ اگر عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو ان کے جواب میں طاقت کیوں استعمال ہوتی ہے ۔؟ اگر شہری شہید ہوتے ہیں تو ان کے خون کا حساب کون دے گا ۔؟ اگر بھارت اور پاکستان دونوں اس ریاست پر دعویٰ رکھتے ہیں تو اس ریاست کے عوام کو فیصلہ سازی میں حقیقی اختیار کب ملے گا ۔؟ میں بحیثیت صحافی یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ ریاست جموں کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے باہمی دعوؤں کے درمیان گم نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے نقشے، قراردادوں، معاہدوں اور دستاویزات کو بنیاد بنا کر اس مسئلے کو دوبارہ عالمی قانونی و سیاسی فورمز پر اٹھایا جائے۔ پاکستان اور بھارت دونوں سے ان کے دعوؤں، اقدامات اور عوام کے حقوق کے بارے میں جواب طلب کیا جائے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں شہریوں کی شہادتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور پاکستانی فورسز کی موجودگی، اختیارات اور کارروائیوں کو شفاف قانونی جانچ کے دائرے میں لایا جائے۔
نقشہ درست کرنا صرف براعظموں کا حجم درست کرنا نہیں اصل امتحان یہ ہے کہ دنیا متنازعہ خطوں میں رہنے والے انسانوں کی سیاسی حقیقت کو بھی درست طور پر دیکھنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ اگر نقشہ حقیقت سے قریب ہونا چاہیے تو ریاست جموں کشمیر کی سیاسی حقیقت بھی چھپائی نہیں جا سکتی۔ اگر انصاف عالمی اصول ہے تو اس کا اطلاق طاقتور اور کمزور دونوں پر یکساں ہونا چاہیے۔ اور اگر انسان کو اپنے مستقبل کے بارے میں آواز کا حق حاصل ہے تو ریاست جموں کشمیر کے انسان کو بھی یہ حق ملنا چاہیے آخرکار سوال نقشے سے کہیں بڑا ہے ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آخر کون کرے گا ۔؟ بھارت ۔؟ پاکستان ۔؟ عالمی طاقتیں۔ ؟ یا وہ لوگ جو نسلوں سے اس سرزمین پر آباد ہیں اور جن کے نام پر دہائیوں سے سیاست کی جا رہی ہے ۔؟ میرا جواب واضح ہے کسی نقشے کی لکیر انسان کے سیاسی وجود سے بڑی نہیں ہوتی، اور کسی ریاست کی طاقت کسی عوام کے بنیادی حق سے بڑی نہیں ہونی چاہیے۔ ریاست جموں کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل، اپنی آزادی، اپنی خود اختیاری اور اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں آزاد، غیر جابرانہ اور جمہوری آواز کا حق ملنا چاہیے۔ یہی وہ نامکمل فیصلہ ہے جسے تاریخ آج بھی دنیا کے سامنے رکھے ہوئے ہے فیصلہ کرنے کا حق صرف ریاست جموں کشمیر کے عوام کو ہے اور یہ حق انہیں ملنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments (0)