فلسطین اور جموں کشمیر دو ایسے دیرینہ بین الاقوامی تسلیم شدہ مسائل ہیں جو کئی دہائیوں سے عالمی سیاست، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے موجود ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی تک پہنچا، جبکہ جموں کشمیر کا مسئلہ 1948ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیرِ بحث آیا اور قرارداد 47 کے ذریعے امن کی بحالی اور عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے استصوابِ رائے کی بات کی گئی۔
آج غزہ کی تباہی اور فلسطینی عوام کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کے پس منظر میں اسرائیلی بستیوں اور ان سے منسلک عناصر کے خلاف عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ برطانیہ نے مقبوضہ علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا، جبکہ یورپی یونین نے بعض اسرائیلی آبادکاروں اور متعلقہ تنظیموں کے خلاف ہدفی پابندیاں عائد کیں۔ یہ ایک اہم اور مثبت قدم ہے، کیونکہ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر ذمہ دار افراد اور اداروں کے خلاف عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
لیکن تاریخ ہمیں اس سے بھی بڑی مثال دیتی ہے، اور وہ ہے جنوبی افریقہ۔ نسل پرستانہ نظام کے خلاف عالمی برادری نے صرف مذمت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ برسوں تک سیاسی، سفارتی اور اقتصادی دباؤ جاری رکھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1977ء میں جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خلاف لازمی اسلحہ پابندی نافذ کی، جبکہ اس سے قبل جنوبی افریقہ کے خلاف تیل اور دیگر شعبوں میں بھی بین الاقوامی دباؤ بڑھایا گیا۔ اقوام متحدہ کی تاریخ میں جنوبی افریقہ کے خلاف یہ اقدامات اس بات کی نمایاں مثال ہیں کہ جب انسانی مساوات اور بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہو تو عالمی برادری پابندیوں اور عملی دباؤ کو بھی ذریعہ بنا سکتی ہے۔
اسی طرح 1966ء میں جنوبی روڈیشیا کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اقتصادی پابندیاں عائد کیں، جنہیں بعد کے برسوں میں مزید وسیع کیا گیا۔ آج بھی میانمار اور روس سمیت مختلف معاملات میں ذمہ دار افراد اور اداروں کے خلاف مختلف نوعیت کی ہدفی پابندیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔ یعنی دنیا کے پاس پابندیوں اور عملی دباؤ کا ایک تسلیم شدہ طریقۂ کار موجود ہے۔
تو پھر اصل سوال یہ ہے کہ اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کے خلاف پابندیاں ممکن ہیں، اگر جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خلاف پابندیاں ممکن تھیں، اگر جنوبی روڈیشیا کے خلاف اقتصادی پابندیاں ممکن تھیں اور اگر دوسرے ممالک کے ذمہ دار افراد و ادارے بھی ہدفی پابندیوں کا سامنا کر سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان کے معاملے میں یہی اصول کیوں نہیں اپنایا جا سکتا؟
کیا انسانی حقوق کا عالمی معیار ہر خطے کے لیے یکساں نہیں ہونا چاہیے؟
کیا انسانی حقوق کا عالمی معیار ہر خطے کے لیے یکساں نہیں ہونا چاہیے؟ کیا بڑی معیشت، جغرافیائی اہمیت، دفاعی شراکت داری یا سیاسی مفادات انسانی حقوق سے زیادہ اہم ہو سکتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا کشمیری انسان نہیں؟
بھارت ایک بڑی معیشت اور عالمی طاقتوں کا اہم تزویراتی شراکت دار ہے، جبکہ پاکستان بھی خطے میں اپنی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت رکھتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس خطے میں عالمی مفادات کی قیمت ہمیشہ کشمیری عوام ہی ادا کریں؟ اگر طاقتور ریاستوں کے ساتھ تعلقات انسانی حقوق کے سوال کو پیچھے دھکیل سکتے ہیں تو پھر عالمی انسانی حقوق کے نظام کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔یہاں ایک اور بنیادی فرق بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ فلسطین کی صورتِ حال میں ایک بڑی قابض طاقت کا معاملہ ہے، جبکہ ریاست جموں کشمیر کے مختلف حصے اس وقت تین ایٹمی طاقتوں—بھارت، پاکستان اور چین—کے زیرِ قبضہ ہیں۔ یہ سیاسی اور تاریخی پیچیدگی اپنی جگہ، مگر اس پیچیدگی کو کشمیری عوام کے بنیادی انسانی، سیاسی اور جمہوری حقوق سے صرفِ نظر کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
اس صورتحال میں اب بیرونِ ملک کشمیریوں کو بھی اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا ہو گی اب اپنی جدوجہد کو صرف احتجاجی مظاہروں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے منظم سیاسی اور قانونی دباؤ میں تبدیل کرے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی قابلِ اعتماد دستاویزات تیار کی جائیں، ارکانِ پارلیمنٹ، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، صحافیوں اور پالیسی سازوں تک مسلسل معلومات پہنچائی جائیں اور ذمہ دار افراد و اداروں کے خلاف ہدفی پابندیوں کے لیے باقاعدہ شواہد پیش کیے جائیں۔ اسلحے، نگرانی کی ٹیکنالوجی اور دیگر تعاون کو بھی انسانی حقوق کے ممکنہ استعمال کے تناظر میں جانچا جانا چاہیے۔
فلسطین کی جدوجہد نے دنیا کو یہ دکھایا ہے کہ عالمی رائے عامہ ایک دن میں نہیں بنتی۔ برسوں کی جدوجہد، دستاویزات، صحافتی کام، قانونی کوششیں، سیاسی رابطے اور عوامی دباؤ بالآخر حکومتوں کو اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی پر مجبور کر سکتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی مثال اس حقیقت کی سب سے نمایاں تاریخی یاد دہانی ہے کہ عالمی دباؤ، مسلسل جدوجہد اور عوامی مزاحمت مل کر ایک مضبوط نظام کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔
کشمیری فلسطین کے لیے انصاف کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ ظلم جہاں بھی ہو، قابلِ مذمت ہے۔ لیکن اگر انسانی حقوق واقعی عالمگیر اصول ہیں تو یہی اصول جموں کشمیر کے عوام کے لیے بھی ہونا چاہیے۔جموں کشمیر ہو یا فلسطین، رہتے وہاں انسان ہی ہیں۔ پھر انصاف کا پیمانہ مختلف کیوں؟
ریاست جموں کشمیر کے کروڑوں انسانوں کا بس اتنا سا تو سوال ہے بین الاقوامی طاقتوں سے کہ اگر فلسطین کے لیے پابندیاں اور عالمی دباؤ ممکن ہیں، اگر جنوبی افریقہ کے لیے ممکن تھے، اگر جنوبی روڈیشیا کے لیے ممکن تھے، اگر دوسرے ممالک کے ذمہ دار افراد کے خلاف ممکن ہیں تو جموں کشمیر کے لیے کیوں نہیں؟
اور اگر فلسطین تو جموں کشمیر کیوں نہیں؟

Comments (0)