پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ تین برس سے جاری جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی عوامی حقوق کی تحریک کو اگر 2023 سے اکتوبر 2026 تک کے پورے تسلسل میں دیکھا جائے تو یہ محض کسی ایک حکومت، کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک معاشی مطالبے کے خلاف احتجاج دکھائی نہیں دیتی۔ یہ تحریک وقت کے ساتھ اپنے مطالبات، دائرۂ کار اور سیاسی اثرات میں وسعت اختیار کرتی گئی ہے اور اب اس کے ساتھ عوامی حقوق، حکمرانی، سیاسی نمائندگی، ریاستی اختیار، جواب دہی اور شہری آزادیوں کے سوالات بھی جڑ چکے ہیں۔
اس تحریک کا آغاز مئی 2023 میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں، آٹے اور بنیادی اشیائے ضروریہ سے متعلق مسائل کے خلاف احتجاج سے ہوا۔ 2024 میں احتجاج ایک بڑے مرحلے میں داخل ہوا اور مظفرآباد کی طرف مارچ کی شکل اختیار کی، جس کے دوران مبینہ فورسز کی فائرینگ سے ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے بعد حکومت اور تحریک کے درمیان مذاکرات ہوئے اور متعدد معاشی مطالبات تسلیم کیے گئے۔
یہ پہلا مرحلہ اس اعتبار سے اہم تھا کہ اس نے یہ ظاہر کیا کہ عوامی دباؤ، اگر وسیع اور منظم ہو، تو حکومت کو مذاکرات اور عملی فیصلوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی پیدا ہوا کہ اگر حکومت کسی مرحلے پر مطالبات تسلیم کر لے تو کیا ان پر مکمل اور مستقل عمل درآمد بھی ہوتا ہے؟
2025 میں یہ سوال مزید نمایاں ہوا جب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر پیش کیا۔ اس چارٹر میں معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ مراعات، احتساب، بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں سمیت حکمرانی اور سیاسی نمائندگی سے متعلق مطالبات بھی شامل تھے۔ 4 اکتوبر 2025 کو پاکستاںکی وفاقی حکومت، پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی حکومت اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ بھی ہوا۔
لیکن 2026 کے واقعات نے ثابت کیا کہ کسی معاہدے پر دستخط ہو جانا اور اس کے تمام نکات پر مکمل عمل درآمد ہو جانا دو الگ چیزیں ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ 38 میں سے بڑی تعداد میں مطالبات پر عمل درآمد ہو چکا ہے، جبکہ تحریک کی جانب سے اس کے برعکس یہ اعتراض برقرار رہا کہ بنیادی اور اہم مطالبات ابھی حل طلب ہیں۔ یوں ایک نیا تنازع پیدا ہوا جس نے 2026 کے بحران کی بنیاد مضبوط کی۔
جون 2026 میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت ممنوع قرار دیا۔ اس کے بعد گرفتاریوں، مواصلاتی پابندیوں اور احتجاج کے خلاف ریاستی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان اقدامات، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، انٹرنیٹ کی بندش اور مہلک طاقت کے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کی۔
دوسری جانب حکومت اور پولیس کی طرف سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ بعض احتجاجی کارروائیوں میں تشدد ہوا، قانون نافذ کرنے والے اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے اور ریاستی نظم و نسق کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی گئیں۔ جون کے واقعات میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں دونوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ مختلف فریقوں کی طرف سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اعداد پیش کیے گئے۔
اسی لیے موجودہ صورتحال کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کسی ایک فریق کے دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینے کے بجائے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام ہلاکتوں، زخمیوں، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اگست 2026 کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے بھی اسی ضرورت پر زور دیا۔ اس نے مختلف فریقوں کی جانب سے تشدد اور احتجاج کے پیمانے کے بارے میں متضاد بیانات کا ذکر کرتے ہوئے جون 2026 سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی آزادانہ تحقیقات، گرفتار افراد کے قانونی حقوق کے تحفظ اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے درمیان جامع سیاسی مذاکرات کی سفارش کی۔
یہاں اس پوری تحریک کا سب سے اہم پہلو سامنے آتا ہے کہ کسی تحریک کو وقتی طور پر دبانا اور اس تحریک کے بنیادی سوالات کو ختم کرنا ایک ہی چیز نہیں۔
ریاست کے پاس احتجاج کو روکنے کے لیے بہت سے ذرائع موجود ہوتے ہیں۔ گرفتاریاں کی جا سکتی ہیں، اجتماعات پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، مواصلاتی نظام محدود کیا جا سکتا ہے، مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں اور ریاستی طاقت استعمال کی جا سکتی ہے۔ ان اقدامات سے کسی تحریک کی سڑکوں پر موجودگی وقتی طور پر کم یا ختم بھی ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر ان اقدامات کے باوجود وہ بنیادی مسائل موجود رہیں جنہوں نے لوگوں کو احتجاج پر مجبور کیا تھا تو تحریک کا خاموش ہو جانا اس کے خاتمے کی علامت نہیں ہوتا۔
یہ صرف پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال تک محدود سوال نہیں۔ دنیا کی مختلف عوامی اور انسانی حقوق کی تحریکوں کی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ریاستی طاقت، گرفتاریاں، پابندیاں، تشدد اور بعض مواقع پر ہلاکتیں بھی تحریکوں کو مستقل طور پر ختم نہ کر سکیں۔ البتہ ہر تحریک کا تاریخی، سیاسی اور سماجی پس منظر مختلف رہا ہے، اس لیے ان مثالوں کو کسی ایک تحریک کے مستقبل کی قطعی پیش گوئی کے طور پر نہیں بلکہ تاریخی تقابل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف تحریک اس حوالے سے ایک نمایاں مثال ہے۔ اپارتھائیڈ کے دور میں سیاسی تنظیموں پر پابندیاں، گرفتاریاں، حراست، تشدد اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے متعدد واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اس کے باوجود اپارتھائیڈ کے خلاف مزاحمت ختم نہیں ہوئی اور بالآخر طویل سیاسی جدوجہد، عوامی مزاحمت، بین الاقوامی دباؤ اور مذاکرات کے نتیجے میں سیاسی منتقلی کا راستہ کھلا۔
اسی طرح برطانوی نوآبادیاتی دور میں برصغیر میں سیاسی آزادی کی تحریکوں کے دوران بھی ریاستی طاقت کا استعمال ہوا۔ جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام اس تاریخ کا ایک انتہائی سنگین واقعہ ہے، جہاں پرامن اجتماع پر مہلک طاقت استعمال کی گئی۔ تاہم اس واقعے نے آزادی کی سیاسی جدوجہد کو ختم نہیں کیا بلکہ برصغیر کی سیاست پر اس کے دیرپا اثرات مرتب ہوئے۔
یہاں اس پوری تحریک کا سب سے اہم پہلو سامنے آتا ہے کہ کسی تحریک کو وقتی طور پر دبانا اور اس تحریک کے بنیادی سوالات کو ختم کرنا ایک ہی چیز نہیں۔
دنیا کے مختلف حصوں میں شہری حقوق اور جمہوری آزادیوں کی تحریکوں کی تاریخ بھی یہ بتاتی ہے کہ ریاستی جبر بعض حالات میں تحریکوں کو وقتی طور پر منتشر یا کمزور کر سکتا ہے، لیکن ہر صورت میں ان کے بنیادی مطالبات ختم نہیں کرتا۔ بعض حالات میں جبر کے نتیجے میں تحریک کے دائرۂ اثر میں اضافہ بھی ہوا۔ تاہم یہ کوئی خودکار اصول نہیں؛ ہر تحریک کا نتیجہ اس کی قیادت، عوامی شرکت، تنظیمی صلاحیت، حکمتِ عملی، ریاستی ردِعمل اور وسیع تر سیاسی و معاشی حالات سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال کو اسی تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ کیا طاقت کے ذریعے احتجاج کو وقتی طور پر روک دینا ان مسائل کو بھی ختم کر سکتا ہے جنہوں نے احتجاج کو جنم دیا؟
گزشتہ تین برس کا تسلسل اس سوال کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ 2023 میں بنیادی معاشی حقوق سے شروع ہونے والی تحریک 2024 میں بڑے عوامی احتجاج، 2025 میں 38 نکاتی چارٹر اور معاہدے، اور 2026 میں مزید وسیع سیاسی و عوامی سوالات تک پہنچی۔ اس لیے اگر موجودہ مرحلے میں تحریک کی سرگرمیاں گرفتاریوں، پابندیوں یا طاقت کے استعمال سے محدود بھی ہو جائیں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوگا کہ اس کے بنیادی سوالات بھی ختم ہو گئے ہیں۔
تاریخ کا یہ تقابل کم از کم ایک محتاط نتیجہ ضرور سامنے رکھتا ہے کہ کسی عوامی تحریک کو دبانے اور اس کے بنیادی مطالبات کو ختم کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر مطالبات، شکایات اور عدمِ اعتماد کی بنیادی وجوہ برقرار رہیں تو تحریک خاموش ہونے کے بعد بھی کسی نئے مرحلے، نئی قیادت یا نئی شکل میں دوبارہ سامنے آ سکتی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ تین برس کا تجربہ بھی اسی پہلو کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ 2023 میں معاشی مطالبات سے شروع ہونے والی تحریک 2024 میں بڑے عوامی احتجاج تک پہنچی، 2025 میں 38 نکاتی چارٹر تک پہنچی اور 2026 میں سیاسی نمائندگی، 12 نشستوں، حکمرانی اور ریاستی کارروائیوں سے متعلق مزید وسیع سوالات کے ساتھ سامنے آئی۔اس تسلسل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تحریک کو صرف ایک وقتی احتجاج سمجھنا شاید موجودہ صورتحال کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
یہ بھی اہم ہے کہ 2026 کے بحران کے باوجود مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ انتخابات کے دوران بھی احتجاج اور بائیکاٹ نے سیاسی ماحول کو متاثر کیا، مواصلاتی پابندیوں اور شدید سکیورٹی کے ماحول میں انتخابی عمل کے مختلف مراحل منعقد ہوئے، جبکہ تاحال احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اگست میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے انتخابی ماحول کے بارے میں بھی خدشات کا ذکر کیا اور سیاسی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔
اکتوبر 2026 میں بھی صورتحال معمول پر نہیں آئی۔ احتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی سرگرمیوں کی اطلاعات تاحال موجود ہیں، جبکہ بعض مقامات پر فورسز کی کارروائی اور فائرنگ کی اطلاعات بھی روزانہ کی بنیاد پر سامنے آ رہی ہیں
یہ تمام واقعات ایک بنیادی سوال پیدا کرتے ہیں کہ اگر ایک تحریک کو بار بار مذاکرات، معاہدوں، پابندیوں، گرفتاریوں اور طاقت کے مختلف مراحل سے گزارنے کے باوجود اس کے بنیادی سوالات دوبارہ سامنے آتے رہیں تو کیا محض انتظامی طاقت اس مسئلے کا مستقل حل فراہم کر سکتی ہے؟
موجودہ شواہد کی روشنی میں اس کا محتاط جواب یہی بنتا ہے کہ طاقت کسی تحریک کی سرگرمی کو محدود کر سکتی ہے، لیکن بنیادی عوامی شکایات اور سیاسی سوالات کو صرف طاقت کے ذریعے ختم کرنا ناممکن ہوتا ہے۔یہ نتیجہ کسی ایک فریق کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ گزشتہ تین برس کے واقعات کے تسلسل سے اخذ ہوتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی حکومت، حکومتِ پاکستان اور متعلقہ ریاستی اداروں کے سامنے اصل چیلنج یہ نہیں ہونا چاہیے کہ احتجاج کو کس طرح خاموش کیا جائے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ان بنیادی سوالات کا ایسا قابلِ قبول اور پائیدار حل کیسے تلاش کیا جائے جن کی وجہ سے لوگ بار بار سڑکوں پر آتے ہیں۔
اس کا پہلا قدم پہلے سے کیے گئے معاہدوں اور وعدوں پر قابلِ تصدیق عمل درآمد ہو سکتا ہے۔ دوسرا قدم تمام جائز عوامی مطالبات پر سنجیدہ اور جامع مذاکرات ہیں۔ تیسرا قدم ہلاکتوں، زخمیوں، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال سے متعلق تمام متنازع واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہیں۔ اور چوتھا قدم ایسا سیاسی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے مستقبل میں عوامی شکایات احتجاج اور تصادم تک پہنچنے سے پہلے ہی حل کی جا سکیں۔
عام شہری کے لیے اس پورے بحران کا سب سے بڑا نقصان سیاسی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا متاثر ہونا ہے۔ کاروبار بند ہوتے ہیں، تعلیم متاثر ہوتی ہے، سفر رک جاتا ہے، روزگار متاثر ہوتا ہے اور معاشرے میں خوف اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اس بحران کا پائیدار حل صرف حکومت یا تحریک کی کامیابی نہیں بلکہ عام شہری کی معمول کی زندگی کی بحالی بھی ہونا چاہیے۔
اگر حکومتیں پہلے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرتی ہیں، جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سنتی ہیں، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتی ہیں اور تمام فریقین کو سیاسی مکالمے کا راستہ فراہم کرتی ہیں تو کشیدگی کم ہونے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر صرف گرفتاریوں، پابندیوں، طاقت یا انتظامی اقدامات کے ذریعے تحریک کی سرگرمیوں کو محدود کیا جاتا ہے تو اس سے تحریک کا موجودہ مرحلہ ضرور کمزور ہو سکتا ہے یا ختم بھی ہو سکتا ہے، مگر اس سے وہ سوال کبھی ختم نہیں ہوسکتے جنہوں نے تحریک کو جنم دیا ہے۔
بلکہ اس کا ایک طویل مدتی اثر یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ نسل کے تجربات آنے والی نسلوں کے سیاسی شعور کا حصہ بن جائیں۔ پھر مستقبل کی ہر حکومت اور ہر آنے والے ادارے کے سربراہ کو انہی سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ عوامی وسائل پر اختیار کس کا ہے؟ سیاسی نمائندگی کا معیار کیا ہے؟ حکومت اپنے معاہدوں پر کس حد تک جواب دہ ہے؟ شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی تحقیقات کون کرے گا؟ اور عوامی شکایات کے حل کے لیے مؤثر سیاسی راستہ کہاں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے 2023 سے شروع ہونے والی ایک معاشی اور عوامی حقوق کی تحریک ایک وسیع تر سیاسی سوال میں تبدیل ہوتی ہے۔
لہٰذا موجودہ حالات کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ تحریک کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، لیکن اسے ختم کرنے کے لیے اس کے بنیادی سوالات کا جواب دینا ضروری ہے۔
اسلحہ، طاقت، گرفتاریاں، پابندیاں یا انتظامی اقدامات کسی تحریک کی ظاہری سرگرمی کو محدود کر سکتے ہیں، مگر اگر عوامی شکایات، عدمِ اعتماد اور سیاسی سوالات برقرار رہیں تو وہ کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں۔
اس لیے پائیدار راستہ طاقت کے ذریعے خاموشی نہیں بلکہ مذاکرات، وعدوں پر عمل درآمد، شفاف تحقیقات، سیاسی جواب دہی اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔
کیونکہ کسی بھی حکومت کے لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے احتجاج روک دی یا ختم کر دیا؛ بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس نے وہ حالات پیدا کر دیے جن میں عوام کو دوبارہ سڑکوں پر آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔

تبصرے (0)