مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

24 اکتوبر یومِ تاسیس کس منہ سے مناؤ گے ؟ ریاست جموں و کشمیر کے عوام سوال کرتے ہیں جواب کون دے گا؟

Amid state crackdowns, internet blackouts, and growing unrest, citizens question the legitimacy of celebrating Kashmir’s Foundation Day. Can true autonomy exist under tightening control from Islamabad? Discover why locals demand answers.

خلاصہ
Summary in English

Amid state crackdowns, internet blackouts, and growing unrest, citizens question the legitimacy of celebrating Kashmir’s Foundation Day. Can true autonomy exist under tightening control from Islamabad? Discover why locals demand answers.

24 اکتوبر یومِ تاسیس کس منہ سے مناؤ گے ؟ ریاست جموں و کشمیر کے عوام سوال کرتے ہیں جواب کون دے گا؟

24 اکتوبر یومِ تاسیس منانے والوں سے میرا ایک سیدھا دوٹوک اور تلخ سوال ہے کہ آخر کس منہ سے یومِ تاسیس مناؤ گے ؟ کس آزادی کا جشن مناؤ گے ؟ کس انقلاب کی کامیابی کے نعرے لگاؤ گے؟ کس خودمختاری پر فخر کرو گے؟ کیا 24 اکتوبر 1947 کو ریاست جموں و کشمیر تقسیم ہوئی تھی یا ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا ؟ اگر اس روز ایک آزاد انقلابی حکومت قائم ہوئی تھی تو آج پاکستانی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر کیوں ہیں؟ انٹرنیٹ سروس معطل کیوں ہے ؟ پاکستان کی فورسز رینجرز ایف سی پی سی اور اسلام آباد پولیس کا  قبضہ کیوں ہے ؟ عوام پر گولیاں کیوں برسائی گئی ؟ نہتے شہریوں کے سینوں کو گولیوں سے کیوں چھلنی کیا گیا ؟ درجنوں نہیں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے، شہری شہید ہوئے ۔ ہزاروں لاپتہ ہیں اور گرفتاریاں ہوئیں، مقدمات قائم کیے گئے صحافیوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہم صحافیوں سمیت لوگوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا اور مقدمات درج کیے گئے ہیں تعلیمی ادارے بند ہوئے املاک کو نقصان پہنچایا گیا کاروبار اور روزگار متاثر ہوئے مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے ضمیر پر جوں تک نہیں رینگی۔ پھر بھی ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم 24 اکتوبر کو جشن منائیں، تقاریر کریں پھولوں کی پتیاں نچھاور کریں اور آزادی کے ترانے گائیں۔ آخر کس بنیاد پر؟

میں بحیثیت صحافی سوال کرتا ہوں کہ اگر 24 اکتوبر 1947 کو قائم ہونے والی حکومت واقعی عوام کی آزادی عذت، خودمختاری اور حقِ حکمرانی کی علامت تھی تو آج اس خطے کے فیصلے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ کیا یہاں کے عوام اپنی قسمت کے فیصلے خود کرتے ہیں؟ کیا یہاں کے وسائل پر عوام کا اختیار ہے؟ کیا یہاں کے منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں یا ان کے ہاتھ بھی اختیارات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں؟ اگر یہ خطہ آزاد ہے تو پھر اسلام آباد کی بالادستی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو غدار، شرپسند اور ملک دشمن قرار دینے کی روش کیوں اختیار کی جاتی ہے؟ اگر عوام اپنے حقوق کی بات کریں تو طاقت کا استعمال، گرفتاریاں اور مقدمات کیوں؟ کیا آزادی کا مطلب صرف حکمرانوں کے لیے اقتدار اور عوام کے لیے پابندیاں ہیں؟

تاریخ کے اوراق کھولیے، اپنے ماضی کا بے لاگ جائزہ لیجیے اور ان سوالات کا سامنا کیجیے جن سے برسوں سے پہلو تہی کی جا رہی ہے۔ معاہدہ کراچی کیوں کیا گیا؟ اس معاہدے کے نتیجے میں ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے سیاسی اختیار، نمائندگی اور انتظامی معاملات پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ ایکٹ 1974 کے ذریعے قائم ہونے والے نظام میں عوام کو کتنے اختیارات حاصل ہیں اور کتنے اختیارات ان سے دور رکھے گئے؟ کیا اس نظام نے واقعی عوام کو بااختیار بنایا یا اقتدار کا ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا کیا جس میں عوام ووٹ تو دیتے ہیں مگر اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بار بار اسلام آباد کی طرف دیکھنے پر مجبور رہتے ہیں؟ یہ سوال کسی ایک جماعت کسی ایک حکومت یا کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام اور اس کی تاریخ کے بارے میں ہیں۔ ان کا جواب نعروں سے نہیں، تاریخی حقائق اور عملی اقدامات سے دینا ہوگا یہ سوال بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد اس کے سیاسی و انتظامی اختیارات کس طرح تبدیل ہوتے رہے اور مقامی قیادت کو فیصلہ سازی میں کس حد تک خودمختاری حاصل رہی۔ صدر کی نامزدگی اور انتخاب کے طریقہ کار راولپنڈی کے انتظامی حکام کے کردار اور اس وقت کے سیاسی حالات پر بھی سنجیدہ تاریخی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اگر راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کے ذریعے صدر کا انتخاب یا نامزدگی کا معاملہ تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے تو اسے چھپانے کے بجائے عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ آزادی کی تاریخ کو سرکاری تقریبات کی چمک دمک کے پیچھے چھپانے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی ہے

آج صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستانی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی ہے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر بات کرنے کے بجائے تصادم کا راستہ اختیار کرنے کے نتائج سب کے سامنے ہیں ظلم و بربریت کی انتہا کردی گئی ہے پاکستانی رینجرز، ایف سی، پی سی اور اسلام آباد پولیس کی اس خطے میں موجودگی کے جواز اور اختیارات پر سوال اٹھانا عوام کا حق ہے۔ آخر مقامی انتظامیہ اور پولیس کے ہوتے ہوئے بیرونی فورسز کی تعیناتی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر یہ سب عوام کے تحفظ کے لیے تھا تو پھر شہریوں کی جانیں کیوں گئی؟ لوگ زخمی کیوں ہوئے؟ گرفتاریاں کیوں ہوئیں؟ اگر ریاستی اداروں کا مقصد امن قائم کرنا ہے تو امن کے نام پر خوف بے یقینی اور خاموشی مسلط کرنے سے کون سا امن قائم ہوگا ؟

ساڑھے چار ماہ سے راولاکوٹ میں کرفیو اور لاک ڈاؤن جیسی صورتِ حال برقرار رہنے کے سوال پر بھی جواب درکار ہے۔ کیا کسی شہر کے شہریوں کو غیر معینہ مدت تک خوف اور پابندیوں کے سائے میں رکھنا معمول کی حکمرانی ہے؟ دکانیں، کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور روزمرہ زندگی متاثر ہو تو اس کا نقصان کون برداشت کرتا ہے؟ غریب مزدور، دکاندار، ٹرانسپورٹر، طلبہ اور وہ خاندان جن کا روزگار روزانہ کی آمدن سے وابستہ ہے۔ حکمرانوں کے پاس سرکاری وسائل، گاڑیاں، تنخواہیں اور مراعات موجود رہتی ہیں، مگر عام شہری کے گھر کا چولہا ٹھنڈا پڑ جائے تو اسے تسلی دینے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ کیا یہی وہ آزادی ہے جس کا جشن منانے کے لیے عوام سے کہا جاتا ہے؟

پاکستان سے لائے گئے ڈی آئی جی اور چیف سیکرٹری کے کردار اختیارات اور عوام کے ساتھ طرزِ عمل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگر کسی اعلیٰ آفیسر کی جانب سے شہریوں یا عوامی نمائندوں کو دھمکیاں دینے کے الزامات سامنے آتے ہیں تو ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں انتظامی عہدے عوام کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں انہیں خوف پیدا کرنے یا اختلافی آوازوں کو خاموش کرانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ آفیسران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سرکاری منصب کسی کو عوام کی تذلیل، بنیادی حقوق کی پامالی یا قانون سے بالاتر ہونے کا اختیار نہیں دیتا ہے حکومتیں اور آفیسران آتے جاتے رہتے ہیں لیکن عوام کی عذت، ان کے حقوق اور تاریخ میں درج ہونے والے واقعات باقی رہتے ہیں اس سے بھی زیادہ تشویش ناک سوال اسیران کی صورتِ حال ہے۔ اگر شہری گرفتار ہیں تو انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیوں نہیں کیا جاتا؟ ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنا متعلقہ حکام کی ذمہ داری کیوں نہیں؟ زیرِ حراست افراد کو عدالت میں پیش کرنا ان کے خلاف الزامات واضح کرنا اور انہیں قانونی دفاع کا حق دینا انصاف کے بنیادی تقاضے ہیں۔ کسی بھی شہری کو محض اس وجہ سے قانون کے تحفظ سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کی یا عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ شوکت نواز میر کہاں ہیں؟ ان کی موجودہ صورتِ حال کیا ہے؟ ان کے اہلِ خانہ اور عوام کو واضح معلومات فراہم کیوں نہیں کی جاتیں؟ اگر حکام کے پاس جواب موجود ہے تو اسے سامنے لانے میں تاخیر کیوں؟

کیا آزادی کا مطلب صرف حکمرانوں کے لیے اقتدار اور عوام کے لیے پابندیاں ہیں؟

سینکڑوں شہریوں اور صحافیوں کے خلاف مقدمات، فورتھ شیڈول میں شمولیت اور مختلف پابندیوں کے معاملے پر بھی شفافیت ضروری ہے۔ کسی شخص کو قانونی طور پر فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ قانون، ٹھوس بنیادوں اور مقررہ طریقہ کار کی پابندی لازم ہے۔ اس اختیار کو اختلافی آوازوں کو دبانے یا صحافیوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے استعمال کرنے کے الزامات کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے۔ اگر کوئی صحافی زمینی حقائق رپورٹ کرتا ہے شہریوں کی مشکلات بیان کرتا ہے سرکاری دعووں پر سوال اٹھاتا ہے اور طاقت کے استعمال کے بارے میں معلومات عوام تک پہنچاتا ہے تو اس کا جواب مقدمے دھمکی یا پابندی نہیں بلکہ حقائق اور شواہد ہونے چاہییں میں بھی ایک صحافی ہوں۔ میرا کام حکمرانوں کی خوشامد کرنا، سرکاری بیانیے کی تشہیر کرنا یا طاقت ور حلقوں کے سامنے خاموش رہنا نہیں ہے صحافت کا بنیادی فرض عوامی مسائل کو اجاگر کرنا، اقتدار سے جواب طلب کرنا اور ان لوگوں کی آواز بننا ہے جن کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کسی شہر میں شہریوں کی زندگی مفلوج ہو، لوگ گرفتار ہوں، خاندان اپنے پیاروں کے بارے میں پریشان ہوں، تعلیمی ادارے بند ہوں اور عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہوں تو کیا صحافی ان واقعات پر خاموش رہے؟ کیا وہ صرف سرکاری تقریبات کی خبریں شائع کرے اور عوام کی تکالیف کو نظر انداز کر دے؟ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو پھر صحافت اور سرکاری تشہیر میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟

میں سوال کرتا ہوں کہ عوام آخر سڑکوں پر کیوں نکلے؟ کیا انہوں نے سستی بجلی، سستا آٹا، معیاری تعلیم، صحت، علاج، صاف پانی اور بہتر سڑکوں کا مطالبہ کرکے کوئی جرم کیا؟ کیا یہ سہولتیں کسی حکمران کی ذاتی جاگیر ہیں جنہیں عوام کو دینے کے لیے سیاسی وفاداری کی شرط عائد کی جائے؟ کیا جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے ذریعے حکومت سے کوئی ناجائز رعایت مانگی یا ان سہولتوں کا مطالبہ کیا جو ایک ذمہ دار انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہیں؟ اگر مطالبات غلط تھے تو حکومت انہیں دلیل اور اعداد و شمار کے ساتھ غلط ثابت کرتی۔ اگر مطالبات جائز تھے تو ان پر عمل درآمد کیا جاتا۔ مگر جب عوام کے سوالات کا جواب طاقت سے دیا جائے تو یہ طرزِ حکمرانی خود کئی نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

حکمرانوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عوامی تحریکیں محض چند افراد کی خواہش سے جنم نہیں لیتیں۔ جب لوگ طویل عرصے تک اپنے مسائل کے حل کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہیں، ان کی بات نہ سنی جائے، ان کے وسائل اور اختیارات کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھتے جائیں اور انہیں اپنی ہی سرزمین پر بنیادی سہولتوں کے لیے جدوجہد کرنا پڑے تو بے چینی جنم لیتی ہے۔ اس بے چینی کا علاج گرفتاریاں، دھمکیاں اور طاقت کا استعمال نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات، شفاف حکمرانی، عوامی اعتماد کی بحالی اور مطالبات پر عملی پیش رفت ہے 24 اکتوبر کو یومِ تاسیس منانے والے حکمرانوں، سیاسی جماعتوں اور سرکاری تقریبات کے منتظمین سے میرا سوال ہے کہ کیا آپ ان شہدا کے خاندانوں کے سامنے کھڑے ہوکر آزادی کے نعرے لگا سکیں گے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ؟ کیا آپ ان زخمیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں بتا سکیں گے کہ ان کی قربانی کا مقصد کیا تھا ؟ کیا آپ ان گرفتار شہریوں کے اہلِ خانہ کو جواب دے سکیں گے جو اپنے پیاروں کی رہائی اور قانونی حقوق کے لیے پریشان ہیں؟ کیا آپ ان صحافیوں کو آزادی کی مبارک باد دیں گے جنہیں اپنے فرائض کی ادائیگی پر مقدمات اور پابندیوں کا سامنا ہے؟ کیا آپ ان طلبہ کو بتائیں گے کہ ان کے تعلیمی ادارے بند کرکے کس روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا رہی ہے؟ اور کیا آپ راولاکوٹ کے ان شہریوں کو سمجھا سکیں گے جن کی زندگیوں پر طویل پابندیوں کے سائے رہے ہیں کہ ان کی آزادی کی حقیقت کیا ہے؟ اگر 24 اکتوبر 1947 کو ایک آزاد انقلابی حکومت قائم کرنے کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا تھا تو آج اس مقصد کا جائزہ لینا ضروری ہے کیا اس خطے کے عوام اپنے مستقبل کے فیصلوں میں بااختیار ہیں؟ کیا ان کے وسائل، سیاسی نمائندگی اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی ہے؟ اگر نہیں تو پھر جشن سے پہلے اس ناکامی کا اعتراف کیوں نہیں کیا جاتا؟ آزادی کا مطلب صرف پرچم لہرانا، قومی ترانے پڑھنا اور سرکاری عمارتوں کو برقی قمقموں سے سجانا نہیں۔ آزادی کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ شہری کو جان کا تحفظ حاصل ہو، اسے اختلافِ رائے کی آزادی میسر ہو اسے انصاف کے لیے عدالتوں تک رسائی حاصل ہو اس کے بچوں کو تعلیم ملے، بیمار کو علاج میسر ہو، عوام کو اپنے وسائل اور مستقبل کے فیصلوں میں حقیقی اختیار حاصل ہو اور کوئی طاقت ور ادارہ یا فرد خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے۔ جس خطے میں شہری اپنے بنیادی حقوق کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہوں، وہاں یومِ تاسیس کی تقریبات کے ساتھ ان سوالات کا جواب دینا بھی لازم ہے میں بحیثیت صحافی ایک مرتبہ پھر پوچھتا ہوں: معاہدہ کراچی کیوں کیا گیا؟ ایکٹ 1974 کے تحت اختیارات کی تقسیم کیا ہے؟ مقامی عوام کو اپنے معاملات میں مکمل اختیار کیوں حاصل نہیں؟ پاکستانی رینجرز، ایف سی، پی سی اور اسلام آباد پولیس کی موجودگی کا جواز کیا ہے؟ شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات کی شفاف تحقیقات کب ہوں گی؟ اسیران کو عدالتوں میں پیش کرنے اور ان کے قانونی حقوق یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ شوکت نواز میر کے بارے میں واضح معلومات کب فراہم کی جائیں گی؟ شہریوں اور صحافیوں کے خلاف مقدمات اور فورتھ شیڈول میں شمولیت کے فیصلوں کا قانونی جواز کیا ہے؟ تعلیمی ادارے کب کھلیں گے؟ راولاکوٹ میں معمولاتِ زندگی کب بحال ہوں گے؟ اور سب سے بڑھ کر عوام کے بنیادی حقوق اور ان کے مطالبات کا جواب طاقت کے بجائے مذاکرات اور قانون کے ذریعے کب دیا جائے گا ؟ یہ سوال کسی دشمن کے نہیں اپنے حقوق، اپنی عذت اور اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند عوام کے سوالات ہیں۔ انہیں غداری یا بغاوت کے عنوانات دے کر دبایا نہیں جا سکتا ہے تاریخ کا پہیہ سرکاری تقریبات سے نہیں، حقائق سے چلتا ہے۔ عوام کی یادداشت کو پروپیگنڈے سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ شہدا کے خون، زخمیوں کی تکالیف، گرفتار خاندانوں کی بے بسی اور صحافیوں کی جدوجہد کو چند رسمی تقریروں میں دفن نہیں کیا جا سکتا ہے حکمران یاد رکھیں کہ اقتدار عارضی ہے، مگر عوام کے حقوق دائمی ہیں۔ عہدے ختم ہو جاتے ہیں، حکومتیں بدل جاتی ہیں، آفیسران تبادلے کے بعد چلے جاتے ہیں لیکن عوام کے ساتھ ہونے والے سلوک اور تاریخ کے اہم موڑ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ جو لوگ آج سوال اٹھانے والوں کو خاموش کرانا چاہتے ہیں، انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ سوال کرنا جرم نہیں اور اقتدار سے جواب طلب کرنا صحافت کی بنیادی ذمہ داری ہے آپ

24 اکتوبر کو جشن ضرور منائیں لیکن پہلے عوام کو جواب دیں۔ اگر یہ یومِ آزادی ہے تو شہری خوف میں کیوں ہیں؟ اگر یہ خودمختاری ہے تو فیصلے کون کرتا ہے؟ اگر یہ عوامی حکومت ہے تو عوام کی آواز کیوں دبائی جاتی ہے؟ اور اگر یہ انقلاب کی یادگار ہے تو عوام کے بنیادی حقوق کے لیے اٹھنے والی آواز کو دشمنی کیوں سمجھا جاتا ہے؟ میں صحافی ہوں، سوال کرنا میرا حق ہے اور عوام تک حقائق پہنچانا میری ذمہ داری میں یہ سوال کرتا رہوں گا، کیونکہ خاموشی مسائل کا حل نہیں بلکہ ناانصافی کو مزید طاقت دینے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ 24 اکتوبر کا اصل امتحان تقریبات کی تعداد نہیں بلکہ اس دن اٹھائے جانے والے سوالات کے دیانت دارانہ جواب اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات ہیں۔ جب تک ان سوالات کے جواب نہیں ملتے یومِ تاسیس کی خوشیوں کے درمیان عوام کی محرومیوں اور قربانیوں کا سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہے گا ۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں