پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں گزشتہ تین برس سے جاری عوامی حقوق کی تحریک اب محض چند بنیادی مسائل یا مطالبات تک محدود نہیں رہی، بلکہ عوامی شعور، اجتماعی وقار، آنے والی نسلوں کے مستقبل اور اپنے وسائل و حقوق پر اختیار کی ایک وسیع جدوجہد بن چکی ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس تحریک کی اجتماعی شناخت بن چکی ہے، جس کے ساتھ ریاست کے اندر اور بیرونِ ملک آباد کشمیریوں کی بڑی تعداد جذباتی اور شعور وابستگی رکھتی ہے۔ اوورسیز کشمیریوں کے لیے یہ تحریک محض سیاسی سرگرمی نہیں، بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل اور اجتماعی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔
یہ وابستگی کسی جماعت، برادری، قبیلے یا علاقے تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں آباد کشمیری اس تحریک کو وسائل پر اختیار، سیاسی جواب دہی اور باوقار مستقبل کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ جدوجہد کسی فرد یا گروہ کو اقتدار دلانے کے لیے نہیں، بلکہ ایسے نظام میں تبدیلی کے لیے ہے جس میں عوام بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے احتجاج پر مجبور ہوں، جبکہ حکمران طبقے کی مراعات اور آسائشوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں آج بھی بنیادی طبی سہولتوں کی عدم دستیابی ایک بڑا مسلہ ہے جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سانپ کے کاٹنے کے علاج کے لیے ضروری ویکسین تک دستیاب نہیں، ایم آر آئی مشین، سی ٹی اسکینر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے۔ عوام یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ ان کے وسائل اور ٹیکسوں سے چلنے والے نظام میں ان ضروریات کو ترجیح کیوں نہیں دی جاتی؟ دوسری جانب حکمرانوں کی تنخواہوں، مراعات اور پنشنوں میں اضافے پر اٹھنے والے سوالات عوامی بے چینی کو مزید بڑھاتے ہیں۔ جب عام شہری علاج، تعلیم اور روزگار کے لیے پریشان ہو، تو حکمران طبقے اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ سیاسی جواب دہی کا بنیادی سوال بن جاتا ہے۔
عوامی حقوق تحریک کے حامیوں کے مطابق اس جدوجہد کے مختلف مراحل میں ڈیڑھ سو سے زائد انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے، جن میں پانچ جون 2026ء کے بعد جاری تازہ مرحلے کے دوران سو سے زائد شہادتیں بھی شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، تاہم انسانی جانوں کے ضیاع، گرفتاریوں، احتجاج اور ریاستی طاقت کے استعمال سے متعلق سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بچوں، بزرگوں، خواتین اور نوجوانوں کے بنیادی حقوق کے لیے کھلے آسمان تلے احتجاج میں بیٹھے رہنا ایسی صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہے جس کا سنجیدہ سیاسی حل ناگزیر ہے۔ عوامی مطالبات کا جواب مذاکرات، شفافیت اور بنیادی مسائل کے حل سے دیا جانا چاہیے۔
اس عوامی حقوق تحریک کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے پر امن رہتے ہوۓ ریاست کے اندر موجود عوامی بے چینی کو بیرونِ ملک آباد کشمیریوں کے احساسات سے جوڑ دیا ہے۔ برطانیہ، یورپ اور دنیا کے دوسرے حصوں میں مقیم کشمیری اپنے رشتہ داروں، آبائی علاقوں اور مستقبل سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ وہ محنت مزدوری اور کاروبار کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں اور ان کے لیے ریاست جموں کشمیر میں جاری جدوجہد شناخت، خاندانی وابستگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا معاملہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کی حمایت میں پیدا ہونے والی یکجہتی کو کمزور کرنے یا اوورسیز کمیونٹی کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے نتائج معمولی نہیں ہوں گے۔ تشویش اس وقت بڑھتی ہے جب پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے سابق یا موجودہ اراکینِ اسمبلی، وزرا، مشیران، بیوروکریٹس اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بیرونِ ملک آ کر برادری، قبیلے، علاقے یا جماعتی وابستگی کی بنیاد پر اجتماعات منعقد کرتے یا ان میں شرکت کرتے ہیں۔
ریاست جموں کشمیر میں حکومتی نمائندگی اور انتخابی عمل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ موجودہ سیاسی انتظام اور بعض حلقوں میں انتخابات نہ ہونے کے باعث حکومت کی عوامی قبولیت پر سنجیدہ بحث پیدا ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں اگر وہی سیاسی شخصیات بیرونِ ملک اپنی روایتی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں تو اوورسیز کشمیریوں کی جانب سے ان سرگرمیوں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ سیاسی نمائندگی کا جواز محض عہدے سے نہیں، بلکہ عوامی اعتماد، شفافیت اور جواب دہی سے پیدا ہوتا ہے۔
سیاسی نمائندگی کا جواز محض عہدے سے نہیں، بلکہ عوامی اعتماد، شفافیت اور جواب دہی سے پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والی موجودہ یا سابق سیاسی شخصیات، وزرا، مشیران، اراکینِ اسمبلی اور بیوروکریٹس کو بالخصوص برطانیہ میں ایسی سیاسی تقریبات منعقد کرنے یا ان میں شرکت کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے اوورسیز کشمیری کمیونٹی میں جماعتی، علاقائی، قبائلی یا برادری کی بنیاد پر تقسیم پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔
یہ طرزِ عمل نہ ان شخصیات کے لیے بہتر ہے، نہ بیرونِ ملک آباد کشمیریوں کے لیے سودمند ہے اور نہ ہی وطن میں رہنے والے ریاستی باشندوں کے اجتماعی مفاد سے مطابقت رکھتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے عوام جب بنیادی حقوق کے لیے ایک طویل اور حساس جدوجہد سے گزر رہے ہوں، تو بیرونِ ملک ان کی اجتماعی یکجہتی کو کمزور کرنے والی سرگرمیاں صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
اوورسیز کشمیریوں نے اپنی محنت، قربانیوں اور مسلسل جدوجہد سے بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت اور ایک تسلیم شدہ معیار قائم کیا ہے۔ اس شناخت، معیار اور اجتماعی وقار کو برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسے سیاسی مفادات، جماعتی وابستگیوں یا ذاتی تشہیر کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ بیرونِ ملک آباد کشمیری محض کسی جماعت، خاندان، قبیلے یا علاقے کے نمائندے نہیں، بلکہ ریاست جموں کشمیر کی ایک وسیع تر برادری کا حصہ ہیں۔ ان کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا یا ایسی سرگرمیوں کا انعقاد کرنا جن سے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہو، اس اجتماعی وقار کو نقصان پہنچا سکتا ہے جسے قائم رکھنے کے لیے برسوں محنت کی گئی ہے۔
یہ انتباہ سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس یا کسی فرد کے ذاتی سفر، نجی ملاقات یا قانونی طور پر جائز اظہارِ رائے کے حق کے خلاف نہیں، بلکہ موجودہ حالات کی نزاکت کو سمجھنے اور اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہے۔ سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس جہاں بھی ہوں، انہیں اپنی سرگرمیوں کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا چاہیے۔ بالخصوص برطانیہ میں آباد کشمیری کمیونٹی کو اپنی سیاست کا میدان بنانے کے بجائے، عوامی حقوق، انسانی وقار، بنیادی مسائل کے حل اور پُرامن مکالمے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا بعض سیاسی سرگرمیاں کمیونٹی کی حقیقی ضروریات کے لیے ہوتی ہیں یا ذاتی تشہیر، سیاسی اثرورسوخ اور مالی تعاون کے حصول کے لیے۔
یہاں آباد کشمیریوں نے برطانیہ میں اپنی زندگی، کاروبار، روزگار اور خاندانی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ آبائی وطن سے آنے والی سیاسی شخصیات واپس چلی جاتی ہیں، لیکن اگر ان کی سرگرمیوں کے نتیجے میں کمیونٹی میں اختلافات، کشیدگی یا باہمی بداعتمادی پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات مقامی لوگوں کو طویل عرصے تک برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے سیاسی شخصیات اور منتظمین کو ایسی تقریبات سے گریز کرنا چاہیے جو کمیونٹی کو تقسیم کرنے یا عوامی اشتعال بڑھانے کا سبب بن سکتی ہوں۔
برطانیہ میں آباد کشمیریوں کو پُرامن احتجاج، اجتماع اور اظہارِ رائے کا قانونی حق حاصل ہے۔ اگر کسی سیاسی تقریب پر اختلاف ہو تو اس کے خلاف بھی قانون کے دائرے میں پُرامن احتجاج کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی شخصیات کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تقریب منعقد کرنا ان کا حق ہے، لیکن اس حق کے ساتھ سماجی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ اور یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کے کہیں یہ تقریب امن و امان کا مسلہ تو پیدا نہیں کر رہی۔
یہ وقت ذاتی انا، جماعتی وفاداری یا خاندانی و قبائلی تعلقات کو عوامی حقوق کی اجتماعی جدوجہد سے بالاتر رکھنے کا نہیں۔ اوورسیز کشمیریوں کی ترجیح متاثرہ خاندانوں، بنیادی حقوق، طبی سہولتوں، سیاسی جواب دہی اور پُرامن حل کی حمایت ہونی چاہیے۔ اگر کسی سرگرمی سے کمیونٹی میں تقسیم یا کشیدگی کا خدشہ ہو تو اس پر نظرثانی کرنا اور اس سے گریز کرنا زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہوگا۔
یہ صورتِ حال ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ عوامی حقوق کی تحریک کو ریاست کے اندر جاری احتجاج کے ساتھ بیرونِ ملک آباد کشمیریوں کی وابستگی، اجتماعی اعتماد اور سماجی یکجہتی کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس تحریک سے وابستہ لوگوں کے خدشات کو معمولی سمجھنا یا محض جماعتی اختلاف قرار دے کر مسترد کرنا مناسب نہیں۔
آخر میں سوال یہ ہے کہ جب پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں لوگ بنیادی حقوق، علاج، تعلیم، وسائل پر اختیار اور سیاسی جواب دہی کے لیے احتجاج کر رہے ہوں تو بیرونِ ملک آباد کشمیریوں کی اجتماعی توانائی کو باہمی تقسیم کی نذر ہونے دیا جائے یا عوامی مسائل کے پُرامن حل کے لیے استعمال کیا جائے؟ اوورسیز کمیونٹی کو اپنے اجتماعی مفاد، حقوق اور سماجی یکجہتی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر سے آنے والی سیاسی شخصیات، سابق و موجودہ حکومتی عہدیدار اور بیوروکریٹس بالخصوص برطانیہ میں کمیونٹی کو تقسیم کرنے والی سیاسی تقریبات کے انعقاد اور ان میں شرکت سے گریز کریں۔ بین الاقوامی سطح پر قائم اپنی شناخت، معیار اور اجتماعی وقار کو برقرار رکھیں، اسے خراب نہ کریں۔ یہ اقدام نہ صرف اوورسیز کشمیریوں کی یکجہتی کے لیے ضروری ہے بلکہ وطن میں رہنے والے ریاستی باشندوں کے اجتماعی مفاد اور عوامی حقوق کی تحریک کے پُرامن مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔

تبصرے (0)