سامراج کی اپنے مفادات کےلیے بنائی ہوئی نوآبادیاتی ریاستوں کی اپنی ہی کمیت اہمیت حدت اور شدت ہوتی ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد 1947میں عالمی سامراجی قوتوں نے اپنےمفادات اور معاشی منڈی پر مختلف انداز میں قبضہ برقرار رکھنے کے لئے برصغیر کو تقسیم کیا جس کے نتیجے میں دونئی نوآبادیاتی سامراجی ریاستوں بھارت اور پاکستان کا وجود عمل میں لایا گیا
اگر 1947میں قائم ہونے والی دو ریاستوں بھارت اور پاکستان کا 1947سے لے کر آج 2026تک مختلف ادوار میں مختلف انداز میں عالمی سامراجی طاقتوں اور ان کے حاشیہ بردار اور سہولت کاروں کے ذریعے" Use and "through کی پالیسی کے تحت حکومتوں کا موجودہ ڈھانچہ اور سانچہ یہ ہے کہ آج بھارت میں انہتا پسند “مودی فاشزم “کا راج ہے اور پاکستان میں “ملا ملٹری فاشزم “کا راج ہے دونوں راج عوام دشمن اور سامراج دوست ہیں آج ہمارا موضوع پاکستان میں جرنیل شاہی کے گملوں میں پروان چڑھنے والی جعلی جمہوری شخصیات اور ان کی جعلی سیاسی تجارتی فرمیں ہیں
1–1947سے لے کر 1958تک کےراج کا خاکہ:-
پاکستان میں 1947میں ملکہ برطانیہ کی وفاداری کا حلف لے کر پہلے گورنر جرنیل قائد اعظم محمد علی جناح اور پہلے نامزد کردہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی کشمیر میں لشکر کشی موجودہ پختون خواہ میں غیر جمہوری طریقے سے حکومت کے خاتمے قائد اعظم کی 1948میں کراچی کی سڑک پر غفلت اور سازش سے ایمبولینس میں موت1951 کو وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد پھر عالمی سامراج اورمقامی سول ملٹری بیورکریسی اور جاگیرداروں کے سازشی کرداروں گورنر جرنیل غلام محمد چوھدری محمد علی سکندر مرزا اور جرنیل ایوب خان کے درمیان اقتدار کی میوزیکل چئیر کا سازشی کھیل کھیلا جاتا رہا ہے جس کے اثراتاج تک سیاست کے منڈی میں نظر آ رہے ہیں
2–آمر جرنیل ایوب خان کی آمریت میں پروان چڑھنے والا جعلی بچہ جمہورہ ذولفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلزپارٹی کا جنم :-
ذولفقار علی بھٹو نے اپنا سیاسی سفر آمر جرنیل ایوب خان کی چھتر چھایا میں شروع کیا لیکن جب جرنیل ایوب خان کی آمریت کا زوال شروع ہوا تو جرنیل مافیا کے ایک گروہ کی حمایت سے اس عہد کی سیاسی قدر آور شخصیات خان عبدلولی خان عبدلصمد اچکزئی۔ عطاءاللہ مینگل نواب خیر بخش میری شیخ مجیب الرحمن جی ایم سید کا مقابلہ کرنے کے لیے سوشلزم کا لبادہ اوڑھ کر ذولفقار علی بھٹو کو لائنچ کیا گیا ہوس اقتدار کی خاطر روٹی کپڑا اور مکان کا جذباتی نعرہ لگا کر عوام کے جذبات اور احساسات کے ساتھ خوب کھیلا گیا
جرنیل یحییٰ اور ذولفقار علی بھٹو کے Nexus گٹھ جوڑ کے ہوس اقتدار کی خاطر باعث شخ مجیب الرحمن کے بھاری عوامی مینڈیٹ کو پس پشت ڈال کر لاکھوں بنگالیوں کے قتل عام ہزاروں عورتوں کی عصمت دری اور پاکستان دولخت کرنے کی قیمت پر مسند اقتدار کی کرسی حاصل کی گئی
90ہزار قاتل قیدی فوجیوں کو بھارت کی جیلوں سے اندرا گاندھی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ریاست جموں کشمیر کی کی مستقل تقسم” ادھر تم ادھر ہم “بدبام زمانہ “شملہ معاہدہ “کر کے چھڑایا گیا
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ہی دورے اقتدار میں جرنیل مافیا کے ساتھ مل کر بلوچستان اور سرحد کی منتخب حکومت ختم کر کے سینکڑوں بلوچیوں کا قتل عام کر کے قیادت کو پابند سلاسل کر کے گورنر راج لگا دیا
ذولقفار علی بھٹو ذاتی جمہوری آمریت میں درجنوں ترقی پسند صحافیوں راہنماؤں ٹریڈ یونین لیڈروں کو تشدد کر کے پابند سلاسل کیا گیا
اور پھر فوجی اسٹبلشمینٹ نے جرنیل ضیا ءالحق کی قیادت میں اپنے اور عالمی سامراج کے مفادات کے لئے بھٹو کو “سیاسی ٹشو پیپر “کے طور پر استعمال کر کے فرضی کیس میں تختہ دارپر لٹکا دیا
3–جرنیل ضیا ء الحق کی آمریت میں جرنیل جیلانی کی سرپرستی میں نئے فوجی من موجی سہولت کار نوازشریف کی مسلم لیگ کے لبادے میں پروش:-
جرنیل ضیا ءالحق کی آمریت میں ایک تو پاکستان معشیت جاگیر داریت سے سرمایہ داریت کے عہد میں داخل ہو چکا تھا اور دوسرا عالمی سامراج کی سامراجی پالیسیوں کی تکمیل کے لئے افغانستان میں “ڈالر جہاد”کا آغاز ہو چکا تھا اس لئے عالمی سامراج امریکا نے اپنے سہولت کار جرنیل ضیاء الحق اور جرنیل ضیا ء الحق نے اپنے مسلم لیگ کے سہولت کاروں کو اپنی نرسری میں تیار کردہ لیڈر نواز شریف کو اقتدار کے لئے اور جماعت اسلامی کے مذہبی تخریب کاروں اور دہشت گردوں کو امریکی مفادات کے لئے “ڈالر جہاد”کے لئے خوب استعمال کیا جس میں دونوں سیاسی سہولت کاروں اور مذہبی سہولت کاروں نے خوب مال بھی کمایا اور سماج کے پریشر گروپ بھی بن گے
عمران خان کو 18اگست 2018کو تخت پر بیھٹایا اور 10اپریل 2022کو اسمبلی میں اپنے پرانے فرمانبردار سہولت کاروں آصف زرداری شہباز شریف مولانا فضل الرحمن کی مدد سے ہٹا کر تخت پر انہیں بیھٹا دیا
افعانستان میں امریکہ روس کی پراکسی جنگ میں روس کی شکست اور امریکہ کی فتح کے بعد امریکی سامراج نے اپنے چلے ہوئے سہولت کاروں جرنیل ضیا ءالحق کی ٹیم کو “ٹشو پیپر “کے طور پر استعمال کر کے بھاگ دوڑ نئے مختلف سہولت کاروں کو دے دی
جرنیل مافیا کے تیار کردہ اپنے سیاسی ونگز پیلزپارٹی اور مسلم لیگ کو باری باری “نظریہ ضرورت کے تحت “استعمال کرتے رہے ہیں اور ابھی تک کر رہے ہیں گستاخی اور سرکشی کرنے پر “مارتے “بھی رہے ہیں اور”ذلیل “کرتے رہے جس کے واضح مثالیں بےنظیر کی شہادت “اور “نواز شریف کی بار بار نوکری برخاستگی چھترول کی تذلیل ہے
3–جرنیل حمید گل جرنیل پاشا جرنیل اور جرنیل ظہیر السلام کی کوچنگ میں دوسیاسی فرموں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جارہ دای ختم کرنے کے لئے نیے سیاسی کھلاڑی “عمران خان" کی قیادت میں تیسری سیاسی فرم "پاکستان تحریک انصاف کی لائنچنگ:-
عمران خان کرکٹ میں عالمی شہرت رکھنے اور اپنی پرکشش شخصیت کی وجہ سے ملک میں ایک خاص نام اور مقام رکھتے تھے سو ہدایت کاروں نے سوچا کے اپنی پرانی فرموں پیلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی اجارہ داری بار بار سیاسی مارکیٹ بھڑانے کے لئے بلیک میلنگ ختم کرنے کے لیے تیسری فرم کی اشد ضرورت ہے
پاکستان میں چونکہ مذہب اور سیاست سب سے بڑا کاروبار ہے پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک عالمی سامراج کے سہولت کار جرنیلز ہمیشہ ملک کی لوٹی ہوے رقم اور عالمی سہولت کاری سے ملنے والی "بلیک منی "کو “اپنی ہی تیار کردہ “سیاسی لانڈریوں “میں سفید کرتے ہیں
اس لئے 2018میں جرنیل باوجوہ اور جرنیل فیض حمید نے بڑی محنت سےچند پرانے سہولت کاروں چودھری شجاعت چودھری پرویز الہٰی ایم کیو ایم بلوچستان میں “باپ پارٹی “ پرانی فرموں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے چند تجرکار “سیلز مینوں " کو زیادہ پرکش تنخواہ اور مراعات کا لالچ دے کر کچھ کوڈرا دھمکا کر بلیک میلنگ کے ذریعے نئی سیاسی فرم پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ملا کر اقتدار کی کرسی ہر نئے کھلاڑی “عمران خان “ بیھٹا دیا بلکہ “سجا” دیا
عمران خان کو 18اگست 2018کو تخت پر بیھٹایا اور 10اپریل 2022کو اسمبلی میں اپنے پرانے فرمانبردار سہولت کاروں آصف زرداری شہباز شریف مولانا فضل الرحمن کی مدد سے ہٹا کر تخت پر انہیں بیھٹا دیا
عمران خان بھی اپنے تین سال سات ماہ کے دور اقتدار یا دور نوکری اپنی نااہل موقع پرست ٹیم عثمان بزدار علی احمد گنڈا پور عارف علوی اسد عمر عمر ایوب اور اپنی نئی اہلیہ مشیر خاص اور ہدایت کار جرنیل فیض حمید کی وجہ سے کوئی خاطر خواہ کارگردی نہ دکھا سکے
جرنیل مافیا جرنیل فیض حمید گروپ اور جرنیل حافظ منیر گروپ کی اقتدار کی آپس کی اقتدار کی جنگ میں جرنیل حافظ منیر گروپ کی جیت کے بعد عمران خان اور جرنیل فیض حمید گروپ دنوں جرنیل حافظ منیر گروپ کے انتقام کا شکار ہیں اور پابند سلاسل ہیں
جبکہ جرنیل حافظ منیر کے اقتدار کو طوالت بخشنے کے لئے پرانے اور تجربہ کار سہولت کار شہاز شریف اور آصف زرداری ایںڈ کمپنی بڑی تعابیداری اور فرمانبرادی سے خدمات انجام دے رہے ہیں
پاکستانی جرنیل شاہی میں صرف وقت اور نظریہ ضرورت کے تحت سہولت کار اور آلہ کار تبدیل ہوتےرہتے ہیں کمپنی بہادر کی پالیسی برقرار رہتی ہے
دیکھتے ہیں اقتدار اور مفادات کے اس کھیل میں کب کوئی نیا جرنیل فتح یاب ہوتا ہے حافظ منیر اور اس کے سہولت کاروں شہازشریف آصف زرداری کو شکست ہوتی ہے اور پھریہ قید اور تذلیل کا شکار ہوتے ہیں
ماضی کی تاریخ ہمیں یہی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ جرنیل حافظ منیر اور اس کے سہولت کاروں نواز شریف شہباز شریف آصف زرداری بلاول بھٹو کا انجام جرنیل ایوب جرنیل یحییٰ جرنیل جرنیل ضیا جرنیل مشرف جرنیل باوجود ذولفقار علی بھٹو بے نظر بھٹو سے مختلف نہیں ہو گا
ایک کہاوت ہے “ہاتھی جب پیار کریں تو تب بھی تباہ فصل ہی ہوتی ہے اور جب لڑیں تو تب بھی تباہ فصل ہی ہوتی ہے “
اس سارے اقتدار کے کھیل میں جرنیلز اور ان کے سہولت کار ہاتھی ہیں جبکہ عوام فصل ہے

تبصرے (0)