24 اکتوبر یومِ تاسیس آخر کس چیز کا یومِ تاسیس ؟ ایک آزاد ریاست کا، ایک خودمختار قوم کا، ایک جمہوری نظام کا یا ایک ایسے انتظامی ڈھانچے کا جسے آزاد حکومت کا نام دے کر ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے آزادی کا خواب پیش کیا گیا لیکن 79 برس گذرنے کے باوجود وہ اپنے سیاسی مستقبل، مکمل خودمختاری اور بنیادی جمہوری حقوق کے سوالات سے نجات حاصل نہیں کر سکے؟ ہر سال 24 اکتوبر آتا ہے تو سرکاری تقریبات سجائی جاتی ہیں آزادی کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں تقاریر ہوتی ہیں اور عوام کو ایک مخصوص تاریخی بیانیہ سنایا جاتا ہے لیکن اس بیانیے کے بنیادی سوالات کا جواب دینے کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔ اگر یہ واقعی ایک مکمل آزاد اور خودمختار ریاست ہے تو دنیا کے نقشے پر اس کی آزاد ریاستی حیثیت کہاں ہے؟ اسے ایک خودمختار ملک کے طور پر کن ممالک نے تسلیم کیا ہے؟ اس کے عوام اپنے سیاسی، معاشی اور انتظامی فیصلے آزادانہ طور پر کرنے میں کتنے بااختیار ہیں؟ اگر ریاست آزاد ہے تو اس کے عوام آج بھی تقسیم، سیاسی بے اختیاری اور بنیادی انسانی حقوق کی محرومی کا شکار کیوں ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی دکان کے باہر خالص دیسی گھی دستیاب ہے خالص دودھ یا خالص گندم کا آٹا دستیاب ہے لکھ دینے سے اس چیز کے خالص ہونے کی ضمانت نہیں مل جاتی بالکل اسی طرح کسی حکومت کے نام کے ساتھ لفظ آزاد لکھ دینے سے کوئی خطہ لازماً آزاد خودمختار اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ریاست نہیں بن جاتا۔ آزادی کا فیصلہ نعروں، سرکاری تقریبات اور بلند بانگ دعوؤں سے نہیں بلکہ ریاست کے آئینی و سیاسی اختیار، عوام کی حاکمیت، جمہوری آزادیوں اور عملی خودمختاری سے ہوتا ہے۔ اگر عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود نہ کر سکیں، سیاسی اختلاف کی قیمت مقدمات، گرفتاریوں اور پابندیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے شہری خود کو غیر محفوظ سمجھیں تو حکمرانوں کو یہ سوال سننے کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ آزادی کا دعویٰ آخر کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے؟ ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کے حساس ترین ابواب میں سے ایک 1947 میں نام نہاد انقلابی حکومت کے قیام کا معاملہ ہے تاریخی تحریروں میں ذکر ملتا ہے کہ خواجہ غلام نبی گلکار نے انور کے نام سے 4 اکتوبر 1947 کو ایک عارضی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا جبکہ بعض تاریخی حوالوں میں راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر خواجہ عبدالرحیم کے گھر پر ہونے والی سرگرمیوں اور اس سیاسی عمل کے پس منظر کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اس کے بعد 24 اکتوبر 1947 کو سردار محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں عارضی حکومت کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہاں سب سے اہم سوال خواجہ عبدالرحیم کی ذات سے بڑھ کر اس پورے سیاسی عمل کی نوعیت کا ہے کہ 4 اکتوبر کے اعلان کے محرکات کیا تھے، اس کی منصوبہ بندی کہاں ہوئی اس میں ریاستی عوام کی کتنی حقیقی شرکت تھی اور اس عمل کے نتیجے میں عوام کو کون سے جمہوری حقوق حاصل ہوئے؟ اگر ایک متبادل حکومت کے قیام کا اعلان کیا گیا تو کیا اس کا مقصد واقعی ریاستی عوام کو شخصی حکمرانی سے نجات دلانا اور ان کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانا تھا یا اس کے پیچھے ایسے سیاسی مقاصد کارفرما تھے جن کے نتائج آج تک ریاستی عوام بھگت رہے ہیں؟ ان سوالات کے جواب محض سرکاری تقاریر سے نہیں مل سکتے، بلکہ ان کے لیے مستند تاریخی دستاویزات، اصل ریکارڈ اور غیر جانب دارانہ تحقیق ضروری ہے۔ خواجہ عبدالرحیم کے کردار سمیت اس دور کے تمام اہم کرداروں کا تاریخی احتساب ہونا چاہیے کیونکہ تاریخ کسی فرد یا حکومت کی جاگیر نہیں اور نہ ہی کسی سرکاری بیانیے کو تنقید سے بالاتر قرار دیا جا سکتا ہے قانون آزادی ہند 1947 کی دفعہ 7 کے تحت برطانوی تاج کا ہندوستانی ریاستوں پر بالادست اقتدار ختم ہونا تھا، لیکن اس قانونی تبدیلی کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہر ریاست کی حیثیت اور مستقبل کے تمام معاملات خودبخود طے ہو گئے تھے۔ ریاست جموں و کشمیر کا معاملہ اس کے حکمران، پاکستان، بھارت، ریاستی عوام کے سیاسی حقوق اور بعد ازاں اقوام متحدہ میں زیر بحث آنے والے تنازعہ سے جڑ گیا۔ 22 اکتوبر 1947 کو پاکستانی قبائلی لشکروں کے ریاست میں داخل ہونے اور اس کے بعد جنگ کے پھیلاؤ نے ریاست کی تاریخ کا رخ بدل دیا جبکہ 27 اکتوبر کو بھارتی فوج سری نگر پہنچی مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط اور اس کی قانونی حیثیت بھی تاریخی و سیاسی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ ان واقعات کے نتیجے میں ریاست تقسیم ہوئی لاکھوں انسانوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں اور ریاستی عوام کا مستقبل ایک ایسے تنازعہ سے وابستہ ہو گیا جو آج تک حل طلب ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تاریخ کا مطالعہ کسی ایک ملک کے سرکاری موقف یا کسی سیاسی جماعت کے بیانیے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ پاکستان، بھارت اور ریاستی قیادت سمیت تمام متعلقہ کرداروں کے اقدامات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ جو فیصلے ریاستی عوام کے حق خودارادیت، جمہوری اختیار اور اجتماعی مستقبل کو متاثر کرتے ہیں، ان پر سوال اٹھانا ہر باشعور شہری کا حق ہے۔
اگر 24 اکتوبر 1947 کو قائم ہونے والی حکومت کا مقصد ریاستی عوام کو شخصی حکمرانی سے نجات دلانا، ان کے سیاسی حقوق بحال کرنا اور جمہوری نظام قائم کرنا تھا تو پھر اس وعدے کی تکمیل کا حساب بھی پیش کیا جانا چاہیے۔ جس نظام کو آزادی اور عوامی حکومت کے نام سے متعارف کرایا گیا، اس میں عام شہری کو اپنے حکمران منتخب کرنے کا براہ راست حق حاصل ہونے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ اگر عوام ہی ریاست کے اصل مالک ہیں تو ان کی مرضی کے بغیر اقتدار کے فیصلے کرنے کا اختیار کس بنیاد پر قائم رہا ؟ تاریخ کے مطابق مرکزی حکومت سازی کے لیے عوامی انتخابات کا سلسلہ 1970 میں شروع ہوا جس سے پہلے عوام کو براہ راست انتخابی اختیار حاصل نہیں تھا۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آزادی اور انقلاب کے دعووں کے باوجود ریاستی عوام کو اپنے حکمران منتخب کرنے کے بنیادی حق سے طویل عرصہ تک محروم کیوں رکھا گیا؟ اور آج بھی اگر سیاسی جماعتوں، انتخابی عمل اور عوامی نمائندگی پر ایسی پابندیاں موجود ہیں جو مخصوص سیاسی نظریات رکھنے والوں کی آزادانہ شرکت محدود کرتی ہیں تو کیا محض انتخابات منعقد کروا دینا حقیقی جمہوریت کی ضمانت ہے؟ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ شہریوں کو اپنی پسند کی سیاسی جماعت بنانے، اپنے نظریات کا اظہار کرنے، حکمرانوں پر تنقید کرنے اور ریاست کے مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق دینے کا نام ہے۔ اگر یہ حقوق محدود ہوں تو جمہوریت کے دعوے کا احتساب بھی لازم ہے۔
آزادی کا فیصلہ نعروں، سرکاری تقریبات اور بلند بانگ دعوؤں سے نہیں بلکہ ریاست کے آئینی و سیاسی اختیار، عوام کی حاکمیت، جمہوری آزادیوں اور عملی خودمختاری سے ہوتا ہے۔
آج پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں قائم حکومت کے پاس اسمبلی، عدلیہ اور انتظامی ادارے موجود ہیں، لیکن ان اداروں کے وجود سے یہ سوال ختم نہیں ہو جاتا کہ ان کے اختیارات کی حدود کیا ہیں اور ریاست کے اہم سیاسی و انتظامی فیصلوں میں مقامی عوام کی حقیقی حیثیت کتنی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ریاست کے انتظامی، آئینی اور سیاسی تعلقات کی نوعیت پر سوال اٹھانا کسی ملک کے عوام سے دشمنی نہیں بلکہ اپنے خطے کے مستقبل اور سیاسی حقوق کے بارے میں بحث کرنا ہے۔ ریاست کے متنازعہ تشخص، مقامی حکومت کے اختیارات اور ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے بین الاقوامی تسلیم شدگی کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ حکومت کا موجود ہونا اور کسی خطے کا ایک مکمل خودمختار ملک کی حیثیت سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہونا دو مختلف معاملات ہیں۔ اگر حکمران 24 اکتوبر کو آزادی کی علامت قرار دیتے ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس آزادی کا عملی فائدہ عام شہری کو کہاں حاصل ہے؟ عوام کو معیاری تعلیم، علاج، صاف پانی، روزگار اور محفوظ سڑکیں کیوں میسر نہیں؟ ریاست کے وسائل، معدنیات، جنگلات، دریاؤں اور پن بجلی کے امکانات سے مقامی آبادی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کیوں نہیں آئی؟ ریاستی وسائل پر عوام کے اختیار اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم کے سوالات کا جواب کون دے گا ؟ ان سوالات کو جذباتی نعروں سے دبایا نہیں جا سکتا، بلکہ شفاف اعداد و شمار، آئینی ضمانتوں اور جواب دہ حکمرانی کے ذریعے ان کا جواب دینا ہوگا 2026 میں بھی پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں پاکستانی فورسز کی تعیناتی کرفیو اور ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ ساڑھے چار ماہ سے انٹرنیٹ سروس معطل ہے حکومت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی بڑی فورس تعینات کر سکتی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اختلاف رائے کی آزادی اور قانون کی بالادستی کیسے یقینی بناتی ہے۔ طاقت کے ذریعے وقتی خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے لیکن عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کو ختم نہیں کیا جا سکتا اب سوال یہ ہے کہ 24 اکتوبر کو یوم تاسیس منانے والوں کو تاریخ کے ان سوالات کا جواب دینا چاہیے یا ہر سال روایتی تقریبات منعقد کرکے عوام کو اسی پرانے بیانیے میں الجھائے رکھنا چاہیے؟ اگر یہ دن حکومت کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے تو اس کی تاریخی حیثیت واضح کی جائے لیکن اگر اسے مکمل آزادی اور خودمختاری کے حصول کا دن قرار دیا جاتا ہے تو پھر اس دعوے کو عملی حقائق، آئینی اختیارات اور عوامی حقوق کی روشنی میں ثابت بھی کیا جائے۔ قومیں اپنی تاریخ سے منہ موڑ کر ترقی نہیں کرتیں، بلکہ اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا دیانت داری سے جائزہ لے کر مستقبل کا راستہ متعین کرتی ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ 4 اکتوبر کے اعلان، خواجہ عبدالرحیم کے مبینہ کردار، 24 اکتوبر کی حکومت سازی، قبائلی حملے، ریاست کی تقسیم اور بعد کے سیاسی بندوبست پر سوال اٹھائیں۔ ان سوالات کو دشمنی یا غداری کے خانے میں ڈالنے کے بجائے تاریخی تحقیق اور سیاسی مکالمے کا موضوع بنایا جانا چاہیے۔
میرا سوال ان تمام حکمرانوں، سیاسی جماعتوں، سرکاری عہدے داروں اور دانش وروں سے ہے جو ہر سال 24 اکتوبر کو آزادی کے دعوے دہراتے ہیں کہ اگر ریاست کے عوام خودمختار ہیں تو انہیں اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلوں میں مکمل اختیار کیوں حاصل نہیں؟ اگر جمہوریت قائم ہے تو سیاسی اختلاف پر پابندیوں اور شہری آزادیوں کی پامالی کی شکایات کیوں سامنے آتی ہیں؟ اگر حکومت عوام کی نمائندہ ہے تو بنیادی سہولیات، وسائل کے منصفانہ استعمال اور عوامی اختیار کے سوالات کا جواب کون دے گا ؟ اور اگر یہ سب کچھ ایک آزاد ریاست کی نشانیاں ہیں تو آزادی کے اس دعوے کو عملی زندگی میں ثابت کرنے سے گریز کیوں کیا جاتا ہے؟ 24 اکتوبر کو جھنڈوں، سرکاری تقریبات اور روایتی نعروں سے آگے بڑھ کر تاریخ کا حساب مانگنے کی ضرورت ہے۔ آزادی کسی حکومت کی عطا نہیں بلکہ عوام کا حق ہے، جمہوریت کسی حکمران کا احسان نہیں بلکہ شہریوں کا اختیار ہے، اور ریاست کا مستقبل کسی بند کمرے میں کیے گئے فیصلوں کا مستقل اسیر نہیں ہونا چاہیے۔ یوم تاسیس منانے والوں سے میرا آخری سوال ہے کہ اگر ریاست کے عوام آج بھی اپنے سیاسی مستقبل، مکمل جمہوری اختیار اور بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو کیا صرف 24 اکتوبر کی تقریب منعقد کر لینے سے آزادی کا خواب حقیقت بن جائے گا ؟ یا اب وقت آ گیا ہے کہ سرکاری بیانیے سے آگے بڑھ کر تاریخ کا بے لاگ احتساب کیا جائے، 1947 کے تمام فیصلوں اور کرداروں کی غیر جانب دارانہ تحقیق ہو اور ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق دینے کے لیے سنجیدہ سیاسی جدوجہد کی جائے؟ تاریخ کو نعروں سے نہیں، سچائی سے بدلا جاتا ہے، اور جس قوم سے اپنی تاریخ کے بارے میں سوال اٹھانے کا حق چھین لیا جائے، اس کے مستقبل کے فیصلے بھی دوسروں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں ۔

تبصرے (0)