آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں 2018ء کی تیرہویں آئینی ترمیم ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وقت آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی کوششوں اور پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حمایت سے کشمیر کونسل کے وسیع اختیارات میں کمی کرکے آزاد کشمیر کی حکومت اور قانون ساز اسمبلی کو زیادہ بااختیار بنایا گیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد آزاد کشمیر کے عوام کو اپنے مالی، انتظامی اور ترقیاتی معاملات میں زیادہ اختیار دینا تھا۔ آج جب کشمیر کونسل کو دوبارہ فعال کرنے اور اس کے کردار کو وسعت دینے کی بات کی جا رہی ہے تو اہلِ آزاد کشمیر یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ایسی کون سی ضرورت پیش آگئی ہے جس کے باعث ماضی کے تجربات کے باوجود اسی ادارے کے کردار کو دوبارہ بڑھانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے؟ کیا آزاد کشمیر کی حکومت اپنے مالی اور انتظامی معاملات خود چلانے کی اہل نہیں، یا پھر کوئی ایسا انتظامی اور سیاسی جواز موجود ہے جسے عوام کے سامنے لانا ضروری نہیں سمجھا جا رہا؟ اگر کشمیر کونسل کو دوبارہ مضبوط بنانے کا مقصد عوامی فلاح اور ترقی ہے تو اس کے واضح شواہد، عملی منصوبہ اور متوقع فوائد سامنے لائے جائیں۔ محض اداروں کی بحالی کو کامیابی قرار دینا کافی نہیں، اصل معیار یہ ہے کہ اس سے عام کشمیری کی زندگی میں کیا بہتری آئے گی۔
ماضی میں کشمیر کونسل کے انتظامی ڈھانچے، مالی اخراجات اور اختیارات کے استعمال کے حوالے سے متعدد تحفظات سامنے آتے رہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جاتا رہا کہ آزاد کشمیر کے مالی معاملات پر فیصلہ سازی میں وفاقی بیوروکریسی کا کردار کس حد تک ہونا چاہیے اور مقامی حکومت کو اپنے وسائل کے استعمال میں کتنی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ اگر ماضی میں کشمیر کونسل کے انتظامی اخراجات، ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مدات میں آزاد کشمیر کے وسائل استعمال ہوتے رہے تو ان اخراجات اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فوائد کا مکمل حساب عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ یہ کسی ادارے کی مخالفت نہیں بلکہ عوامی وسائل کے تحفظ اور جواب دہی کا اصولی مطالبہ ہے۔ عوام کے پیسے سے چلنے والے ہر ادارے کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ عوام کے مفاد میں کام کر رہا ہے۔
آزاد کشمیر کی مالی خودمختاری کسی سیاسی جماعت کا ذاتی کارنامہ یا کسی حکومت کی عارضی رعایت نہیں، بلکہ عوام کے اختیار، مقامی فیصلہ سازی اور جمہوری جواب دہی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر 2018ء میں یہ سمجھا گیا تھا کہ کشمیر کونسل کے وسیع اختیارات محدود کرکے آزاد کشمیر کی حکومت کو بااختیار بنانا ضروری ہے تو آج اس پالیسی میں کسی بھی تبدیلی کی ضرورت، وجوہات اور نتائج واضح کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کشمیر کونسل قائم رہے یا نہ رہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے اختیارات کیا ہوں، اس کے مالی معاملات کس کے کنٹرول میں ہوں اور اس کے فیصلوں کے لیے جواب دہی کا نظام کیا ہو۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان تعاون یقیناً ضروری ہے، لیکن تعاون کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آزاد کشمیر کی منتخب حکومت کے آئینی اور مالی اختیارات کمزور پڑ جائیں۔ باہمی تعاون اور مالی خودمختاری ایک دوسرے کی ضد نہیں؛ دونوں کو آئینی حدود اور شفاف اصولوں کے تحت ساتھ لے کر چلنا ممکن ہے۔
ایک اور اہم سوال کشمیر کونسل میں نمائندگی اور سیاسی جماعتوں کے فیصلوں کا ہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ نمائندگی کے مواقع میرٹ، اہلیت، سیاسی جدوجہد اور عوامی اعتماد کی بنیاد پر فراہم کیے جائیں۔ سیاسی جماعتوں کے نظریاتی کارکن برسوں محنت کرتے ہیں، مشکلات برداشت کرتے ہیں اور جماعتوں کے منشور اور نظریات کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، لیکن جب اہم عہدوں اور نمائندگی کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو اکثر ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں جن سے کارکنوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنے نظریاتی کارکنوں، تعلیم یافتہ نوجوانوں اور باصلاحیت افراد کو نظرانداز کرکے ایسے لوگوں کو اہم ذمہ داریاں دیتی ہیں جن کی اہلیت یا عوامی قبولیت پر سوالات موجود ہوں تو انہیں اپنے فیصلوں کا جواب بھی دینا چاہیے۔ کشمیر کونسل میں نمائندگی کسی سیاسی جماعت کی ذاتی جاگیر نہیں ہونی چاہیے۔ نامزدگی ہو یا انتخاب، معیار شفاف، قابلِ دفاع اور عوامی مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے فیصلے کریں، لیکن جمہوری سیاست میں ہر فیصلے پر سوال اٹھانا اور اس کی وضاحت طلب کرنا عوام کا حق ہے۔
آزاد کشمیر کی مالی خودمختاری کسی سیاسی جماعت کا ذاتی کارنامہ یا کسی حکومت کی عارضی رعایت نہیں، بلکہ عوام کے اختیار، مقامی فیصلہ سازی اور جمہوری جواب دہی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت، حکومت، قانون ساز اسمبلی، اپوزیشن، وکلا، صحافیوں، اساتذہ، دانشوروں اور سول سوسائٹی کو اس معاملے پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ کسی فرد یا جماعت کے خلاف مہم نہیں، بلکہ آزاد کشمیر کے آئینی اختیار، مالی وسائل اور مستقبل کی حکمرانی کا معاملہ ہے۔ جو لوگ مالی خودمختاری کے حصول اور تحفظ کی بات کرتے رہے ہیں، ان پر آج پہلے سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھیں۔ حکومت کو چاہیے کہ کشمیر کونسل کے مجوزہ کردار، اختیارات، اخراجات، ترقیاتی ذمہ داریوں اور آزاد کشمیر کے بجٹ پر اس کے ممکنہ اثرات کی تفصیلات شائع کرے۔ اگر کسی تبدیلی کی ضرورت ہے تو اس کے حق میں ٹھوس دلائل دیے جائیں اور متعلقہ حلقوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ آئینی اور انتظامی فیصلے بند کمروں میں ہونے کے بجائے شفاف مشاورت اور عوامی مفاد کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر کی مالی خودمختاری سے متعلق کسی بھی فیصلے سے پہلے اس کے آئینی، مالی اور انتظامی اثرات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ کشمیر کونسل کے سابقہ مالی و انتظامی معاملات کا شفاف آڈٹ کیا جائے، اس کے اخراجات اور کارکردگی کا ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ کونسل کو مزید اختیارات دینے یا اس کے کردار میں توسیع کرنے سے آزاد کشمیر کے عوام کو کیا حقیقی فائدہ پہنچے گا۔ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ ان کے وسائل کہاں خرچ ہوتے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کے فیصلے کون کرتا ہے اور ان فیصلوں کے لیے جواب دہ کون ہے۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کو بھی نمائندگی کی تقسیم میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ نظریاتی کارکنوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو اور عوامی اعتماد مجروح نہ ہو۔
ہم پاکستان کے ساتھ مضبوط، باوقار اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کے حامی ہیں۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان انتظامی اور ترقیاتی تعاون عوامی مفاد کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، اس تعاون کی بنیاد واضح آئینی حدود، باہمی احترام اور آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ وفاقی تعاون کا مطلب مقامی اختیار کی نفی نہیں، اور مالی خودمختاری کا مطلب باہمی تعاون سے انکار نہیں۔ اصل ضرورت ایک ایسے نظام کی ہے جس میں اختیارات واضح ہوں، وسائل کا استعمال شفاف ہو اور عوامی نمائندے اپنی کارکردگی کے لیے جواب دہ ہوں۔
آزاد کشمیر کے وسائل آزاد کشمیر کے عوام کی امانت ہیں۔ ان وسائل کے استعمال اور ان پر فیصلہ سازی میں عوامی مفاد کو ہر سیاسی مصلحت پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ کشمیر کونسل کے کردار میں کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ محض سیاسی مفاہمت، عہدوں کی تقسیم یا وقتی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ واضح آئینی جواز، مالی شفافیت اور عوامی فائدے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
آج اہلِ آزاد کشمیر کو یہ طے کرنا ہے کہ مالی خودمختاری کو ایک عملی حقیقت کے طور پر محفوظ رکھنا ہے یا اسے بتدریج کمزور ہونے دینا ہے۔ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ واضح سوالات، دوٹوک مؤقف اور ذمہ دارانہ فیصلوں کا ہے۔ حکومت وضاحت دے، سیاسی جماعتیں اپنا مؤقف پیش کریں اور منتخب نمائندے عوام کو اعتماد میں لیں۔ آزاد کشمیر کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل، اپنے وسائل اور اپنے آئینی اختیارات کے بارے میں ہونے والے فیصلوں سے باخبر رہیں۔
ہمارا مؤقف واضح ہے: کشمیر کونسل کے وجود پر بحث اپنی جگہ، لیکن آزاد کشمیر کی مالی خودمختاری، منتخب حکومت کے آئینی اختیارات اور عوامی وسائل کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ مالی خودمختاری کوئی سیاسی احسان نہیں، بلکہ ذمہ دار حکمرانی، عوامی اختیار اور باوقار سیاسی مستقبل کی بنیاد ہے۔ اس بنیاد کی حفاظت کرنا حکومت، اپوزیشن، سیاسی جماعتوں اور پوری کشمیری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

تبصرے (0)