مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

حقوق مانگنے کی پاداش میں کشمیریوں پر جنگی یلغار — راولاکوٹ کا محاصرہ، انسانی المیہ اور عالمی انصاف کا سوال!

راولاکوٹ میں بنیادی حقوق کے مطالبات پر جاری محاصرے نے سنگین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے بعد خوراک اور مواصلات سمیت تمام سہولیات معطل ہیں، جبکہ عالمی برادری سے فوری انصاف اور مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔

خلاصہ

راولاکوٹ میں بنیادی حقوق کے مطالبات پر جاری محاصرے نے سنگین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے بعد خوراک اور مواصلات سمیت تمام سہولیات معطل ہیں، جبکہ عالمی برادری سے فوری انصاف اور مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔

Summary in English

The ongoing siege in Rawalakot over demands for fundamental rights has created a severe humanitarian crisis. Following a crackdown on protesters, all essential services, including food and communications, have been suspended, while appeals have been made to the international community for immediate justice and intervention.

حقوق مانگنے کی پاداش میں کشمیریوں پر جنگی یلغار — راولاکوٹ کا محاصرہ، انسانی المیہ اور عالمی انصاف کا سوال!

پاکستان کشمیریوں کے خلاف حقوق مانگنے کے ناکردہ گناہ کی  پاداش میں جنگی جرائم کامرتکب ہور ہاہے،نہتے پُرامن مظاہرین پرڈرونز ،راکٹ،سنائپرگنز،لاؤنچرز،ہیوی مشین گنز کا استعمال:
خوراک،دوائی ،ہسپتال،سکول مسجد،انٹرنٹ بند۔سیکڑوں شہید،زخمی،گرفتار،غائب،گھر اور املاک تباہ-(شہہ رگ تباہ)
(where is Justice?)

پاکستان کشمیریوں کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے!
Where is Justice?

پاکستان، کشمیریوں کے خلاف، حقوق مانگنے کے ناکردہ گناہ کی پاداش میں، جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

نہتے، پُرامن مظاہرین پر ڈرونز، راکٹ، سنائپر گنز، لانچرز،کلسٹر بمب اور ہیوی مشین گنز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ کسی دشمن ملک کے خلاف جنگ نہیں، یہ اپنے ہی زیرِ انتظام نہتے کشمیریوں کے خلاف بے مقصدجنگ ہے۔
ہم نے چاند ،تارے ،محل یا جزیرے نہیں مانکے ہم نے صرف خالص خوراک،علاج کی سہولت،خالص دوائی،معیاری تعلیم،انصاف کرنے والی عدالتیں ،سڑکیں،انٹرنٹ،روزگار کے مواقع،کرپشن کا خاتمہ،فیر الیکشن ،اور اشرافیہ کی نا جائز مرعات کا خاتمہ مانگا تھا، آپ  معائدہ کرکے عمل درآمد کے بجائے ہمارے ساتھ آگ اور خون کی ہولی کھیلی- کیوں؟؟؟

یہ کسی دشمن ملک کے خلاف جنگ نہیں، یہ اپنے ہی زیرِ انتظام نہتے کشمیریوں کے خلاف بے مقصدجنگ ہے۔

راولاکوٹ اور آزاد کشمیر کو چاروں طرف سے گھیر کر محاصرہ کر لیا گیا ہے۔

خوراک بند، دوائی بند، ہسپتال بند، سکول بند، مسجد بند، انٹرنیٹ بند۔

سیکڑوں شہید، سیکڑوں زخمی، سیکڑوں گرفتار، درجنوں غائب، اور بے شمار گھر اور املاک تباہ کر دی گئی ہیں۔

یہ ہے وہ شہ رگ جو تباہ کی جا رہی ہے۔

کیا حقوق مانگنا جرم ہے؟
کیا روٹی، دوائی، تعلیم اور انصاف مانگنا دہشت گردی ہے؟
کیا کشمیری ہونا ہی جرم بن گیا ہے؟

ہم دنیا سے پوچھتے ہیں: Where is Justice?

ہماری اپیل:

1۔ عالمی برادری سے: اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین، او آئی سی، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں - خاموشی توڑیں! راولاکوٹ میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجیں!

2۔ پاکستان کی سول سوسائٹی سے: وکلاء، صحافی، ڈاکٹرز، اساتذہ، طلباء - خدارا آواز اٹھائیں! کشمیری آپ کے بھائی ہیں۔

3۔ فیلڈ مارشل سے: یہ قتل عام فوری بند کریں! فورسز کو بارڈر پر بھیجیں! جے کے جے اے اے سی کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کریں!

کشمیری معاف کرنے والے ہیں۔ کشمیری امن چاہتے ہیں۔ کشمیری مذاکرات چاہتے ہیں، جنگ نہیں۔

قتل عام بند کرو! محاصرہ ختم کرو! معاہدہ نافذ کرو!

تبصرے (0)

تبصرہ کریں