مواد پر جائیں

جموں

شیر پونچھ۔ مولوی عبداللہ خان تاریخ۔نظریات۔سیاسی مزاحمت۔ ایک مطالعاتی جائزہ۔

This study analyzes Maulvi Abdullah Khan through a Marxist lens, revealing a revolutionary champion of social justice rather than a mere cleric. Discover how his fight for unity reshaped Kashmir’s political resistance.

خلاصہ
Summary in English

This study analyzes Maulvi Abdullah Khan through a Marxist lens, revealing a revolutionary champion of social justice rather than a mere cleric. Discover how his fight for unity reshaped Kashmir’s political resistance.

۔ادریس شرر
۔ادریس شرر تصویر: ۔ادریس شرر

مولوی عبداللہ کی شخصیت کو مارکسسٹ نقطۂ نظر سے دیکھیں تو ان کے سیاسی، سماجی اور قومی کردار کے کئی ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جو انہیں محض ایک مذہبی رہنما کے بجائے ایک عوامی انقلابی، قوم پرست اور سماجی انصاف کے علمبردار کے طور پر پیش کرتے ہیں -

مولوی عبداللہ: ایک مذہبی رہنما، قوم پرست اور عوامی انقلابی — مارکسسٹ نقطۂ نظر سے ایک مطالعہ

جب مولوی عبداللہ کا نام آتا ہے تو عموماً لوگوں کے ذہن میں ایک روایتی مولانا کی تصویر ابھرتی ہے، لیکن میرے نزدیک مولوی عبداللہ کی شخصیت اس روایتی تصور سے کہیں زیادہ وسیع، گہری اور ہمہ جہت تھی۔ انہیں صرف مذہبی شناخت کے محدود دائرے میں دیکھنا ان کی سیاسی، سماجی اور قومی جدوجہد کو سمجھنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

مولوی عبداللہ ایک باوقار، انسان دوست، عوام دوست، آزاد خیال اور میدانِ عمل کے مردِ جری تھے۔ ان کی شخصیت میں مذہبی وابستگی کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط سیاسی شعور، قومی خودمختاری کا تصور، سماجی انصاف کی خواہش اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کا جذبہ موجود تھا۔ وہ مذہب کو انسانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کے بجائے اخلاقی اقدار، انسانی مساوات اور اجتماعی بھلائی کے تناظر میں دیکھنے کے قائل دکھائی دیتے ہیں۔

طبقاتی شعور اور عوامی سیاست

مارکسسٹ نقطۂ نظر سے کسی بھی سیاسی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس کا تعلق سماج کے کن طبقات سے تھا، اس کی سیاست کن لوگوں کے مفادات کی نمائندگی کرتی تھی اور وہ موجودہ معاشی و سماجی نظام کے بارے میں کیا مؤقف رکھتی تھی۔

مولوی عبداللہ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی عوام سے وابستگی تھی۔ ان کی سیاست کا مرکز عام آدمی، محروم طبقات اور اجتماعی حقوق کا تصور تھا۔ ایک مارکسسٹ تجزیے میں ان کے کردار کو اس سوال کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے کہ کیا ان کی جدوجہد محض سیاسی اقتدار کی تبدیلی کے لیے تھی یا وہ سماجی اور معاشی ناانصافیوں کے خاتمے کا بھی خواب رکھتے تھے؟

مارکس کے تاریخی مادیت کے نظریے کے مطابق تاریخ کو صرف حکمرانوں، بادشاہوں اور مذہبی شخصیات کے کارناموں سے نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ معاشی تعلقات، طبقاتی کشمکش، وسائل کی تقسیم اور عوامی جدوجہد بھی تاریخ کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

اس تناظر میں مولوی عبداللہ کی سیاسی زندگی کا مطالعہ جموں و کشمیر کے اس وقت کے جاگیردارانہ ڈھانچے، معاشی استحصال، سیاسی محرومی اور عوامی مزاحمت کے پس منظر میں کیا جانا چاہیے۔

قوم پرستی، قومی وحدت اور حقِ خودارادیت

مولوی عبداللہ کے سیاسی شعور کا ایک نمایاں پہلو ریاست جموں و کشمیر کی تاریخی وحدت اور اس کی اجتماعی شناخت کا تصور تھا۔ وہ اس خطے کو محض مذہبی اکائیوں میں تقسیم کرکے دیکھنے کے قائل نہیں تھے، بلکہ اس کی مشترکہ تاریخ، ثقافت، زبانوں، تہذیب اور اجتماعی سیاسی وجود کو اہمیت دیتے تھے۔

یہاں ان کی شخصیت کا ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔

مارکسزم قومی سوال کو طبقاتی سوال سے الگ کرکے نہیں دیکھتا۔ لینن نے مظلوم قوموں کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کی تھی۔ ان کے نزدیک کسی قوم کی آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کو محض اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں مختلف طبقاتی یا مذہبی گروہ شریک ہیں۔

اسی نظریاتی تناظر میں مولوی عبداللہ کی ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کے لیے جدوجہد کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کا تصورِ قومیت مذہبی تقسیم سے بلند ہوکر ایک مشترکہ سیاسی اور تاریخی شناخت کی طرف اشارہ کرتا تھا۔

مذہب، سیکولر سیاست اور مشترکہ قومیت

مولوی عبداللہ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے مولانا عبیداللہ سندھی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا بھاشانی کی فکری روایت کا مطالعہ بھی اہم ہے۔

یہ شخصیات اس تصور کی نمائندگی کرتی تھیں کہ مذہبی شناخت اور سیاسی قومیت لازماً ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسان مشترکہ وطن، مشترکہ سیاسی حقوق اور مشترکہ سماجی مقاصد کے لیے جدوجہد کرسکتے ہیں۔

مولانا حسین احمد مدنی کا تصورِ متحدہ قومیت اور مولانا ابوالکلام آزاد کی وسیع النظری اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔

مولوی عبداللہ ایک باوقار، انسان دوست، عوام دوست، آزاد خیال اور میدانِ عمل کے مردِ جری تھے۔

اسی طرح مولانا بھاشانی کی سیاست میں مذہبی شناخت کے ساتھ کسانوں، مزدوروں اور محروم طبقات کے حقوق کا سوال بھی نمایاں تھا۔

مولوی عبداللہ کی شخصیت میں بھی اسی نوعیت کی فکری وسعت تلاش کی جا سکتی ہے۔

کارل مارکس، لینن اور ٹراٹسکی کی فکری مماثلت

مجھے مولوی عبداللہ کی شخصیت میں تین بڑے مارکسی مفکرین کے بعض فکری اور سیاسی پہلوؤں کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔

کارل مارکس نے انسانی سماج کو طبقاتی استحصال، معاشی ناہمواری اور طاقت کے غیرمساوی ڈھانچوں کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک انسانی آزادی کا حقیقی مفہوم صرف سیاسی آزادی نہیں بلکہ معاشی اور سماجی استحصال سے نجات بھی ہے۔

لینن نے قومی آزادی، انقلابی تنظیم، عوامی سیاست اور سامراجی تسلط کے خلاف جدوجہد کو ایک مربوط سیاسی نظریے میں ڈھالا۔ مظلوم قوموں کے حقِ خودارادیت کے حوالے سے ان کی فکر آج بھی اہمیت رکھتی ہے۔

جبکہ ٹراٹسکی کی مستقل انقلاب کی تھیوری ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ سیاسی آزادی اور سماجی و معاشی انقلاب کے سوال ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

مولوی عبداللہ کی شخصیت میں ان تینوں مفکرین کے نظریات کی براہِ راست وابستگی ثابت کیے بغیر، ان کے بعض سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں کو ان فکری زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔

مذہبی ہم آہنگی اور عوامی مقبولیت

مولوی عبداللہ کے کردار کا شاید سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ ان کی عزت و منزلت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں تھی۔ جموں، پونچھ اور راجوری کے علاقوں میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کے کردار، سیاسی بصیرت، سماجی خدمات اور انسان دوستی کے معترف ہیں۔ ان میں مسلمان بھی ہیں اور غیرمسلم بھی۔

مارکسسٹ فلسفے میں انسانی معاشرے کو مذہبی شناختوں کے بجائے اس کے مادی حالات، معاشی تعلقات اور اجتماعی مفادات کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس زاویے سے دیکھا جائے تو ایک ایسا رہنما جو مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان اعتماد پیدا کرسکے، مشترکہ سیاسی مقاصد کے لیے لوگوں کو متحد کرسکے اور عوامی مسائل کو مذہبی تفریق سے بالاتر ہوکر دیکھ سکے، وہ ایک وسیع تر عوامی سیاست کی بنیاد رکھتا ہے۔

مولوی عبداللہ کی یہی خصوصیت انہیں ایک غیرمعمولی سیاسی و سماجی شخصیت بناتی ہے۔

تاریخ کا اصل کردار عوام ہوتے ہیں

مارکس نے تاریخ کے مطالعے میں عام انسانوں، محنت کشوں اور محروم طبقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ تاریخ صرف بادشاہوں، جرنیلوں، مذہبی پیشواؤں اور حکمرانوں کی داستان نہیں بلکہ ان لوگوں کی جدوجہد بھی ہے جو اپنے حقوق، آزادی اور بہتر مستقبل کے لیے میدانِ عمل میں اترتے ہیں۔

میرے نزدیک مولوی عبداللہ کی شخصیت کا مطالعہ بھی اسی اصول کے تحت ہونا چاہیے۔ انہیں کسی مخصوص مذہبی شناخت، جماعت یا فرقے کے خانے میں بند کرنے کے بجائے ان کی پوری سیاسی، سماجی اور قومی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے۔

ان کی زندگی کے بارے میں موجود عینی شہادتوں، تاریخی دستاویزات، سیاسی سرگرمیوں اور مختلف مذہبی برادریوں کے لوگوں کی یادداشتوں کو یکجا کرکے ایک مستند تاریخی مطالعہ مرتب کیا جانا چاہیے۔

اختتامیہ

مولوی عبداللہ میرے نزدیک صرف ایک مذہبی رہنما نہیں تھے۔ وہ ایک ایسی سیاسی و سماجی شخصیت تھے جن کی زندگی میں انسان دوستی، عوامی سیاست، قومی وحدت، مذہبی رواداری اور سیاسی مزاحمت کے عناصر ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں مذہبی عینک سے آگے بڑھ کر تاریخ، سیاسی معیشت، طبقاتی تعلقات، قومی سوال اور سماجی انصاف کے تناظر میں مطالعہ کرنا ہوگا۔

شاید کسی شخصیت کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی مختلف مذاہب، طبقات اور برادریوں کے لوگ اسے اپنا رہنما سمجھتے رہیں۔

مولوی عبداللہ کی شخصیت کا اصل جوہر میرے نزدیک یہی تھا: انسان مذہب سے پہلے انسان ہے، وطن مذہبی تقسیم سے بڑا اجتماعی حوالہ ہے اور سیاست کا اصل مقصد عوام کی آزادی، عزت اور خوشحالی ہونا چاہیے۔

ایک علمی تجویز

اگر آپ مولوی عبداللہ پر باقاعدہ تاریخی و فکری مضمون یا کتاب لکھنا چاہتے ہیں تو تین سوالات کو تحقیق کا مرکز بنائیں:

1. طبقاتی سوال: کیا مولوی عبداللہ کی جدوجہد جاگیردارانہ استحصال اور معاشی نابرابری کے خلاف بھی تھی؟

2. قومی سوال: کیا ان کا تصورِ قومیت لینن کے حقِ خودارادیت اور متحدہ قومیت کے تصور سے مماثلت رکھتا تھا؟

3. سماجی سوال: کیا ان کی سیاست مذہبی شناخت سے بالاتر ایک کثیرالمذہبی، جمہوری اور مساوات پر مبنی معاشرے کی تشکیل کی طرف بڑھ رہی تھی؟

ان سوالات کے جوابات تاریخی شواہد سے تلاش کرنا ضروری ہے۔

میری رائے میں مولوی عبداللہ پر ایک تحقیقی کتاب کا عنوان یہ ہو سکتا ہے:

مولوی عبداللہ: قوم پرستی، طبقاتی شعور اور جموں و کشمیر کی مشترکہ سیاسی شناخت

یہ محض ایک شخصیت کا تذکرہ نہیں ہوگا بلکہ جموں و کشمیر کی اس سیاسی روایت کا مطالعہ بھی ہوگا جس میں مذہب، قومیت، طبقاتی جدوجہد اور انسان دوستی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں