مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

24 اکتوبر 1947

آج کے نام اور آج کے غم کے نام

خلاصہ
Summary in English

As Azad Kashmir marks its foundation day with official fanfare, regions like Poonch face neglect and turmoil. Discover how deep-rooted corruption and manufactured divisions are reshaping the territory's political landscape.

AI Generated
AI Generated تصویر: AI Generated

24 اکتوبر 1947 
آج کے نام اور آج کے غم کے نام!

قیصر خان 

آج آزاد کشمیر کے قیام کی اناسیویں سالگرہ ہے۔ ریاستی سطح پر یہ دن پورے اہتمام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ تمغے بانٹے جا رہے ہیں، پولیس کے چاق و چوبند دستے سلامیاں دے رہے ہیں، ریاستِ آزاد کشمیر کو بھی ’’ہارڈ اسٹیٹ‘‘ بننے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے اور افسرانِ بالا کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔ حکومتی معاملات سے واقف دو دوستوں کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں نئی بھرتیاں ہونے والی ہیں، جن کے لیے لین دین شروع ہو چکا ہے۔ پانچ لاکھ سے تیس لاکھ؛ پہلے آؤ، پہلے پاؤ!

دوسری طرف تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا گہوارہ، پونچھ اور سدھنوتی کی دھرتی، چار ماہ سے زائد عرصے سے محاصرے کی کیفیت میں ہے، جہاں سو کے قریب لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ یہاں آج کا دن ایک ایسا المیہ لیے ہوئے ہے جو تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے گا۔ یہاں دس سے بارہ لاکھ لوگ بستے ہوں گے، مگر مجال ہے کہ اِکّا دُکّا لوگوں کے سوا کسی نے آہ بھی کی ہو!

آج مجھے یاد آتا ہے کہ ۲۰۰۸ میں اسی دن جنجال ہل پر منعقدہ ایک سیاسی اجتماع میں پہلی بار شرکت کی تھی۔ اُس وقت کا ماحول آج سے بہت مختلف تھا۔ امان اللہ خان، سردار ابراہیم جیسی شخصیات کی تعریف کیا کرتے تھے۔ رؤف کشمیری جنجال ہل کے پروگرام میں شرکت کرتے تھے۔ سردار صغیر آج بھی اس دن کی اہمیت کے بارے میں کم و بیش وہی رائے رکھتے ہیں۔

سوچتا ہوں، یہ دل جلے کہاں سے آ گئے جو خود کو تحریک کے ان بزرگ رہنماؤں سے زیادہ باخبر اور صاحبِ علم سمجھتے ہیں؟ جموں بمقابلہ وادی اور کشمیری بمقابلہ غیر کشمیری کی بحث آزاد کشمیر تک کیسے پہنچی اور یہاں مقبول کیسے ہوئی؟ نوّے کی دہائی میں، جب وادیٔ کشمیر میں ایک قوم پرست تنظیم نے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا، تو آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے اس کے کارکنوں کی نسلی شناخت کو کبھی متنازع کیوں نہیں بنایا گیا؟ اُس وقت یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا کہ ان کارکنوں کا تعلق کس قوم یا خطے سے ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ بھارتی ریاستی مشینری نے ایک منظم اور بتدریج حکمتِ عملی کے تحت مقبوضہ کشمیر میں نسلی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دی۔ پھر اس سوچ کو آزاد کشمیر منتقل کیا گیا، جس کا مقصد تحریکِ آزادی اور آزاد کشمیر کے باہمی تعلق کو نشانہ بنانا تھا۔ دوسری جانب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے بعض کم فہم حلقوں نے بھی ایک فرضی دشمن تخلیق کرنے اور پھر اسے کچلنے کی غرض سے یہی حکمتِ عملی اپنائی۔ یوں آزاد کشمیر میں پروان چڑھتے ہوئے قومی تشخص کے احساس کو کمزور کرنے کے لیے اسے ’’ذیلی قوم پرستی‘‘ کا نام دے دیا گیا۔

حقِ خودارادیت کی جدوجہد کا آخری مضبوط مورچہ، آزاد کشمیر، محاصرے کی کیفیت میں ہے، جبکہ آئینی ترمیم کے ذریعے آزاد کشمیر کی حکومت کے اختیارات مزید محدود کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔

آزاد کشمیر کے قیام کے بعد ابتدائی ساٹھ برسوں تک اس دن کی اہمیت کبھی متنازع نہیں رہی۔ اگر کہیں چند لوگ اپنے نسلی یا قبائلی تعصبات کی بنیاد پر سوال اٹھاتے بھی تھے تو ان کی آواز محدود تھی۔ تاریخ کو اس قدر پیچیدہ اور متنازع بنانے کی کوشش کبھی نہیں کی گئی، جیسی آج دیکھنے میں آ رہی ہے۔ تیرہ جولائی ۱۹۳۱ کے حوالے سے بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا جانے لگا ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں شہید مقبول بٹ کی سیاسی بصیرت کو سمجھنا ضروری ہے کہ انہوں نے کشمیر کے دونوں حصوں میں جدوجہد کے کیا طریقے اختیار کیے تھے۔ ان کی یہ بات کس قدر دور اندیشی پر مبنی تھی کہ جب آزاد کشمیر کے عوام اس تحریک میں اپنے اصل کردار اور تشخص کی بحالی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے تو انہیں بھی ویسے ہی جبر کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسا فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کو اپنے ہمسایہ عرب ممالک کی جانب سے برداشت کرنا پڑا۔ وہ عرب حکومتیں اسرائیل کی مخالف ہونے کے باوجود فلسطینیوں کی حقِ خودارادیت کی تحریک کو اپنے زیرِ اثر رکھنا چاہتی تھیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب اسرائیلی جیلوں کے مقابلے میں عرب ممالک کی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ان حکومتوں نے کبھی عرب قوم پرستی اور کبھی اسلام کے نام پر فلسطینی تحریک کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔

آج ہم ایک اہم دوراہے پر کھڑے ہیں۔ حقِ خودارادیت کی جدوجہد کا آخری مضبوط مورچہ، آزاد کشمیر، محاصرے کی کیفیت میں ہے، جبکہ آئینی ترمیم کے ذریعے آزاد کشمیر کی حکومت کے اختیارات مزید محدود کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیریوں کو مسلسل کمزور اور بے اختیار کرنے کی بنیادی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے اور مکمل و غیر مشروط حقِ حکمرانی حاصل کرنے کی ہماری خواہش اُن قوتوں کو قبول نہیں جو تحریکِ کشمیر کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہیں۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں