
آزاد کشمیر کی عوامی حقوق کی تحریک کی مکمل کہانی
جب میں تقریباً ایک دہائی کے بعد 2023 میں برطانیہ سے میرپور واپس آیا تو مجھے ایک ایسا معاشرہ دکھائی دیا جو گہری تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔ یہ تبدیلیاں اس قدر وسیع تھیں کہ انہیں سمجھنے کے لیے محض ایک اخباری مضمون نہیں بلکہ شاید ایک پوری کتاب درکار تھی۔ مہنگائی کے باوجود بازار پھیل رہے تھے، ہجرت اور ترسیلاتِ زر سماجی تعلقات کو نئی شکل دے رہی تھیں اور نوجوان نسل موروثی سیاسی نظام پر سوال اٹھانا شروع کر چکی تھی۔
تاہم سب سے نمایاں تبدیلی سیاسی میدان میں محسوس ہوئی۔ نوجوان رفتہ رفتہ تجریدی اور وادی مرکز سیاست سے نکل کر آزاد کشمیر مرکز سیاست کی طرف بڑھ رہے تھے؛ ایسی سیاست جو ان کی روزمرہ زندگی، حقیقی مسائل اور مادی حالات سے جڑی ہوئی تھی۔
بجلی کے بل، آٹے کی قیمت، بے روزگاری، تعلیم، صحت، بدعنوانی، مقامی وسائل پر اختیار اور حکمرانوں کی مراعات اب ان رسمی اور فرسودہ تقریروں کی جگہ لے رہے تھے جن کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو کئی دہائیوں سے سیاسی طور پر قابو میں رکھا گیا تھا۔
میرپور، جو کبھی خودمختار کشمیر کی سیاست کا ایک اہم مرکز تھا، دوبارہ سیاسی طور پر متحرک ہو رہا تھا۔ مگر اس بار ابھرنے والی سیاست پرانی قبیلائی، فرقہ وارانہ اور جماعتی وفاداریوں کے مقابلے میں زیادہ سماجی تنوع، مادی مسائل اور عوامی شمولیت پر مبنی تھی۔
حکمران طبقہ ان تبدیلیوں سے لاتعلق دکھائی دے رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک ایسے تصادم کی طرف آنکھیں بند کیے بڑھ رہا ہے جسے نہ وہ سمجھتا تھا اور نہ ہی سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
آٹے کے ایک سرکاری ڈپو کے باہر شروع ہونے والا معمولی سا احتجاج آگے چل کر آزاد کشمیر کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی، منظم اور طویل عوامی حقوق کی تحریک بن گیا۔ تین برس بعد، مسلسل معاہدوں، وعدہ خلافیوں، گرفتاریوں، پابندیوں، انٹرنیٹ کی بندش، متنازع انتخابات اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے بعد، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے موجودہ حکومتی بندوبست کی جگہ ایک غیر جانب دار عبوری حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
راولاکوٹ کا آٹے کا ڈپو
اس تحریک کی فوری بنیادیں مئی 2023 میں راولاکوٹ میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ حکومت نے آٹے کی قیمت میں اچانک اور نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف چند تاجروں اور سماجی کارکنوں نے سپلائی بازار میں سرکاری آٹے کے ڈپو کے باہر دھرنا شروع کیا۔
ظاہری طور پر اس اجتماع میں کوئی انقلابی بات نہیں تھی۔ لوگ صرف یہ پوچھ رہے تھے کہ سبسڈی والا آٹا کہاں غائب ہو گیا، قیمتیں کیوں بڑھائی جا رہی ہیں اور محدود روزگار والے معاشرے کو بیرونی معاشی فیصلوں کی قیمت کیوں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
لیکن اس چھوٹے سے دھرنے نے معاشرے کے ایک حساس اعصاب کو چھو لیا۔
جلد ہی پونچھ ڈویژن کے دوسرے علاقوں میں بھی احتجاج شروع ہو گیا۔ جب بجلی کے نرخوں اور بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکسوں میں بھی اضافہ ہوا تو تحریک مظفرآباد اور میرپور ڈویژن تک پھیل گئی۔
لوگوں نے بجلی کے بل جلانا شروع کیے، بلوں کی ادائیگی سے انکار کیا اور مختلف شہروں اور قصبوں میں دھرنے منظم کیے۔
عوام کا سوال سادہ تھا: آزاد کشمیر میں بڑی مقدار میں پن بجلی پیدا ہوتی ہے، لیکن یہاں کے عوام کو نہ صرف مہنگی بجلی فراہم کی جاتی ہے بلکہ طویل لوڈشیڈنگ اور بلوں میں شامل درجنوں ٹیکسوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بعد میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی تحقیقاتی رپورٹ نے بھی تسلیم کیا کہ یہ تحریک براہِ راست آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے، معاشی مشکلات اور مقامی قدرتی وسائل سے مقامی آبادی کو فائدہ پہنچانے کے مطالبے سے ابھری تھی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تشکیل
آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں مقامی ایکشن کمیٹیاں 2023 سے پہلے بھی موجود تھیں۔ 2014 میں گلگت بلتستان کی عوامی حقوق کی تحریک سے متاثر ہو کر ایک عوامی ایکشن کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
مگر نئی تحریک کی اصل انفرادیت یہ تھی کہ اس نے مختلف علاقوں میں بکھری ہوئی مقامی کمیٹیوں کو ایک ریاست گیر تنظیم میں متحد کرنے کی کوشش کی۔
تاجروں، ٹرانسپورٹروں، وکلا، طلبہ، ملازمین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنی سرگرمیوں میں باہمی رابطہ پیدا کرنا شروع کیا۔ مظفرآباد میں ایک بڑا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں آزاد کشمیر کے تمام دس اضلاع سے کارکنوں نے شرکت کی۔
طویل بحث اور مشاورت کے بعد تنظیم کا باقاعدہ نام جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی رکھا گیا، جسے مختصراً جے اے اے سی یا JAAC کہا جانے لگا۔
ہر ضلع کو نمائندگی دیتے ہوئے ایک مرکزی کور کمیٹی تشکیل دی گئی، جبکہ مقامی کمیٹیوں کو خاطر خواہ خودمختاری حاصل رہی۔
یہ تنظیمی ساخت بہت اہم تھی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کسی روایتی سیاسی جماعت کی طرح کام نہیں کرتی تھی جہاں تمام اختیار ایک مرکزی قائد یا شخصیت کے پاس ہوتا ہے۔ اس کی طاقت مقامی کمیٹیوں، عوامی اجتماعات، تاجر تنظیموں، وکلا، ٹرانسپورٹ کارکنوں اور سڑکوں پر موجود عوام سے آتی تھی۔
اس کے ابتدائی چارٹر آف ڈیمانڈز میں سبسڈی والا آٹا، مقامی پیداواری لاگت پر بجلی، بجلی کے بلوں سے غیر ضروری ٹیکسوں کا خاتمہ اور وزرا، اعلیٰ بیوروکریسی اور حکمران طبقے کی غیر معمولی مراعات میں کمی شامل تھی۔
مطالبات میں طلبہ یونینوں کی بحالی، منتخب بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات، بہتر موبائل اور انٹرنیٹ سروس، جائیداد کی منتقلی پر ٹیکسوں میں اصلاحات، احتسابی اداروں کو فعال کرنا، بینک آف آزاد جموں و کشمیر کو شیڈولڈ بینک کا درجہ دینا اور پن بجلی منصوبوں سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد بھی شامل تھا۔
ابتدا میں یہ آزادی، الحاق یا کسی نئے آئینی بندوبست کی تحریک نہیں تھی۔ نہ ہی اسے پاکستان کے خلاف منظم کیا گیا تھا۔
یہ بنیادی طور پر سستی خوراک، کم نرخوں پر بجلی، جواب دہ حکومت اور عوامی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی تحریک تھی۔
تحریک کی قیادت نے بار بار اس فرق کو واضح کیا، مگر اس کے مخالفین نے بار بار اسے نظر انداز کیا۔
پہلے معاہدے اور پہلی وعدہ خلافیاں
2023 کے اواخر میں ہڑتالوں اور مظاہروں کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات شروع کیے۔
دسمبر 2023 میں ایک مفاہمت طے پائی، جس کے بعد فروری 2024 میں بعض حکومتی نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔
حکومت نے کئی مطالبات اصولی طور پر تسلیم تو کر لیے، لیکن عملی نفاذ مسلسل مؤخر کیا جاتا رہا۔ سب سے متنازع مسئلہ بجلی کی قیمت کا تھا۔
سرکاری حکام کا مؤقف تھا کہ منگلا اور دیگر مقامی پن بجلی منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی اصل لاگت معلوم کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔
ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ بجلی کے بلوں سے غیر ضروری اور ناجائز ٹیکس ختم کیے جائیں اور بجلی پیداواری لاگت پر فراہم کی جائے۔
بعد میں حکومت نے دعویٰ کیا کہ بجلی کے نرخ منجمد یا کم کر دیے گئے ہیں، اس لیے مسئلہ بڑی حد تک حل ہو چکا ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے جواب دیا کہ محض اعلانات اور بیانات کو معاہدے پر عمل درآمد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کمیٹی نے ہر تسلیم شدہ مطالبے کے لیے الگ نوٹیفکیشن، متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات اور عمل درآمد کا باقاعدہ پروگرام پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
کئی ماہ کی تاخیر کے بعد کمیٹی نے 11 مئی 2024 کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔
مئی 2024: حکومت تحریک کو سمجھنے میں ناکام
لانگ مارچ سے چند ہفتے پہلے پاکستان سے اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے آزاد کشمیر پہنچنا شروع ہو گئے۔
آزاد کشمیر حکومت نے ابتدا میں دعویٰ کیا کہ یہ فورسز چینی شہریوں اور پن بجلی منصوبوں کی حفاظت کے لیے بلائی گئی ہیں۔
تاہم بعد میں سامنے آنے والی ایک سرکاری مراسلت سے ظاہر ہوا کہ ان دستوں کی تعیناتی کا تعلق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے متوقع احتجاج سے بھی تھا۔
اس فیصلے نے سیاسی ماحول کو یکسر بدل دیا۔
تقریباً ایک سال تک ایکشن کمیٹی کی قیادت تحریک کے پُرامن کردار پر مسلسل زور دیتی رہی تھی۔ اس کا ایک مشہور جملہ تھا کہ پورے احتجاج کے دوران:
’’ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا۔‘‘
تحریک کے رہنما پوچھتے تھے کہ اگر تحریک پُرامن ہے اور مطالبات صرف آٹے اور بجلی سے متعلق ہیں تو پھر پاکستان سے سول آرمڈ فورسز بلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
بعض کارکنوں کا خیال تھا کہ حکومت کو آزاد کشمیر پولیس پر مکمل اعتماد نہیں، کیونکہ عام پولیس اہلکار اور نچلے درجے کے سرکاری ملازمین خود بھی مہنگی بجلی، مہنگائی اور سبسڈی کے خاتمے سے متاثر ہو رہے تھے۔
بدلتے ہوئے عوامی مزاج کو سمجھنے کے بجائے حکومتی نمائندوں اور سیاسی اشرافیہ کے بعض حصوں نے وہی پرانی زبان استعمال کرنا شروع کر دی۔
تحریک کو پاکستان مخالف، بیرونی فنڈنگ سے چلنے والی یا بھارت کے مفاد میں قرار دیا گیا۔
ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ الزامات بدعنوانی، بدانتظامی اور حکومتی وعدہ خلافیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے لگائے جا رہے ہیں۔
صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب پولیس نے پیشگی چھاپے مارنے اور مظفرآباد، میرپور، ڈڈیال، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔
گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے اجتماعات پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا۔
حکومت کا خیال تھا کہ یہ کارروائیاں مارچ کو روک دیں گی، مگر اس کے برعکس زیادہ بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نے بعد میں تصدیق کی کہ مارچ سے پہلے حکومت نے سول آرمڈ فورسز کی چھ اضافی پلاٹونیں طلب کی تھیں اور فرنٹیئر کانسٹیبلری، پنجاب کانسٹیبلری اور پاکستان رینجرز کی تعیناتی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا تھا۔
لانگ مارچ اور مئی کا خونریزی کا مرحلہ
10 اور 11 مئی کو آزاد کشمیر کے بڑے حصے میں بازار بند اور ٹرانسپورٹ معطل ہو گئی۔ میرپور، کوٹلی، پونچھ اور دوسرے اضلاع سے قافلوں نے مظفرآباد کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔
پولیس نے سڑکیں اور پل بند کیے، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔
اسلام گڑھ کے قریب پولیس سب انسپکٹر عدنان قریشی ہلاک ہو گئے۔ کوٹلی، سہنسہ، میرپور اور مظفرآباد میں مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پولیس یا سرکاری املاک پر حملوں سے لاتعلقی ظاہر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ نامعلوم یا دانستہ طور پر شامل کیے گئے عناصر تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
کئی واقعات کے اصل حالات متنازع رہے اور ان کی غیر جانب دار تحقیقات نہ ہو سکیں۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات کے باوجود پاکستان رینجرز مظفرآباد میں داخل ہوئی۔
فائرنگ اور آنسو گیس کے استعمال سے تین نوجوان شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے نتیجہ اخذ کیا کہ بیرونی نیم فوجی دستوں کی مداخلت، مقامی سول انتظامیہ سے ناقص رابطہ اور طاقت کے استعمال نے براہِ راست کشیدگی میں اضافہ کیا۔
رپورٹ میں رات کے چھاپوں، گرفتاریوں اور مظاہرین کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر عوامی غم و غصے کی بھی نشاندہی کی گئی۔
13 مئی کو وفاقی حکومت نے آٹے اور بجلی کی سبسڈی کے لیے تقریباً 23 ارب روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔
آٹے کی قیمت کم کر دی گئی اور بجلی کے نئے نرخ جاری کر دیے گئے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے بنیادی معاشی مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
یہ ایک اہم کامیابی تھی، مگر نہ مکمل کامیابی تھی اور نہ ہی تحریک کا اختتام۔
سبسڈی نے فوری طور پر قیمتوں کے بحران کو کسی حد تک حل کر دیا، لیکن حکمران اشرافیہ کی مراعات، احتساب، مقامی حکومت، مقامی وسائل پر اختیار، کارکنوں کے خلاف مقدمات اور شہری ہلاکتوں کی ذمہ داری کے سوال اپنی جگہ موجود رہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ مئی 2024 نے آزاد کشمیر کی سیاسی نفسیات بدل دی تھی۔
عوام نے یہ دریافت کر لیا تھا کہ روایتی سیاسی جماعتوں سے باہر منظم اجتماعی جدوجہد مظفرآباد اور اسلام آباد، دونوں کو جواب دینے پر مجبور کر سکتی ہے۔
سیاسی جماعتوں سے ماورا تحریک
مئی کی تحریک کی اہمیت صرف یہ نہیں تھی کہ اس نے آٹے اور بجلی کی قیمتیں کم کروائیں۔ اس نے روایتی سیاسی قیادت کی بڑھتی ہوئی غیر متعلقہ حیثیت کو بھی بے نقاب کیا۔
مرکزی سیاسی جماعتیں طویل عرصے سے سرکاری ملازمتوں، تبادلوں، ٹھیکوں، ترقیاتی سکیموں اور وزرا تک ذاتی رسائی کے ذریعے سیاست منظم کرتی رہی تھیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے تنظیم کی ایک مختلف شکل متعارف کروائی۔ یہ مسئلہ بنیاد، غیر مرکزیت پسند اور کسی ایک جماعت یا شخصیت کے لیے آسانی سے قابو نہ آنے والی تحریک تھی۔
اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تحریک میں شامل تمام لوگوں کا نظریہ ایک تھا۔
اس پلیٹ فارم کے گرد قوم پرست، پاکستان نواز، سوشلسٹ، تاجر، مذہبی رجحانات رکھنے والے لوگ، طلبہ اور غیر جماعتی شہری سب موجود تھے۔
ان کا اتحاد ریاست جموں کشمیر کے حتمی مستقبل کے بارے میں کسی ایک مشترکہ نظریے پر نہیں بلکہ مشترکہ معاشی، سماجی اور جمہوری محرومیوں پر قائم تھا۔
یہ وسعت تحریک کی طاقت بھی تھی اور مستقبل کی ایک بڑی مشکل بھی۔
اس نے تحریک کو عوامی پھیلاؤ دیا، لیکن اس کا یہ مطلب بھی تھا کہ چارٹر میں ہر نئے سیاسی مطالبے کو مختلف نظریاتی نقطۂ نظر رکھنے والے لوگوں کے درمیان طویل مشاورت کے بعد شامل کرنا پڑتا تھا۔
دسمبر 2024: احتجاج کے حق کا دفاع
2024 کے اواخر میں آزاد کشمیر حکومت نے پُرامن اجتماع اور عوامی نظم و ضبط آرڈیننس نافذ کیا۔
اس قانون کے تحت غیر رجسٹرڈ تنظیموں کے مظاہروں پر پابندیاں لگائی گئیں اور عوامی اجتماع کے لیے پیشگی اجازت کو لازم قرار دیا گیا۔
بہت سے کارکنوں نے اسے مئی کی عوامی تحریک کی قیادت کرنے والی مقامی کمیٹیوں کو قابو میں کرنے کی براہِ راست کوشش سمجھا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر ریاست گیر ہڑتال کی کال دے دی۔
سخت سردی کے باوجود ہزاروں لوگ برارکوٹ، کوہالہ، ہولڑ اور دوسرے داخلی راستوں پر جمع ہوئے۔
بڑھتی ہوئی مخالفت اور روایتی سیاسی جماعتوں کی تنقید کے بعد حکومت کو آرڈیننس واپس لینا پڑا۔
دسمبر میں کوہالہ کے مقام پر ہونے والے تحریری معاہدے میں گرفتار افراد کی رہائی، احتجاجی مقدمات کی واپسی، بعض شہدا اور متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضہ اور ملازمت، ایک برطرف استاد کی بحالی، منگلا ڈیم متاثرین کے بعض خاندانوں کو ریلیف، آٹے کی بہتر فراہمی، بجلی کے میٹروں کی ای ٹینڈرنگ، بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور وسائل دینے اور طلبہ یونین انتخابات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کے وعدے کیے گئے۔
حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے وسیع چارٹر آف ڈیمانڈز پر آئندہ چھ ماہ کے دوران بات چیت اور عمل درآمد کیا جائے گا۔
دسمبر کی اس تحریک نے ثابت کیا کہ مئی 2024 محض ایک عارضی عوامی ابھار نہیں تھا۔
جب بھی حکومت عوامی تنظیم سازی کو محدود کرنے یا اپنے معاہدوں سے انحراف کرنے کی کوشش کرتی، یہ تحریک دوبارہ تمام اضلاع میں متحرک ہونے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
معاشی ریلیف سے ساختی اصلاحات تک
2025 کے دوران تحریک کا ایجنڈا مزید وسیع ہو گیا۔
آٹے اور بجلی کے ابتدائی مطالبات بدستور اہم رہے، لیکن چارٹر میں حکمرانی، عوامی خدمات اور سیاسی نمائندگی کے مسائل زیادہ نمایاں ہونے لگے۔
مفت یا سستی صحت اور تعلیم، سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کی بحالی، ہیلتھ کارڈ کے لیے فنڈنگ، طبی آلات، میرپور میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ، سڑکوں اور سرنگوں کی تعمیر، منگلا ڈیم متاثرین کو ملکیتی حقوق، بلدیاتی نظام اور احتسابی اداروں میں اصلاحات اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کو ایک وسیع تر چارٹر میں شامل کیا گیا۔
تحریک کی سیاسی منطق اب تبدیل ہو رہی تھی۔
لوگ صرف یہ نہیں پوچھ رہے تھے کہ بجلی مہنگی کیوں ہے۔ وہ یہ بھی پوچھ رہے تھے کہ سرکاری ادارے ناکارہ کیوں ہیں جبکہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ تنخواہوں، سرکاری گاڑیوں، پروٹوکول، وزرا، مشیروں اور اعلیٰ انتظامیہ کی مراعات پر خرچ ہوتا ہے۔
آٹے کے ایک سرکاری ڈپو کے باہر شروع ہونے والا معمولی سا احتجاج آگے چل کر آزاد کشمیر کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی، منظم اور طویل عوامی حقوق کی تحریک بن گیا۔
سب سے زیادہ سیاسی تنازعہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ان 12 نشستوں کے بارے میں پیدا ہوا جو بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر سے پاکستان میں آباد مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف تھا کہ آزاد کشمیر کی جغرافیائی حدود سے باہر موجود حلقوں سے منتخب افراد مظفرآباد میں حکومت سازی کا فیصلہ کر سکتے ہیں، حالانکہ آزاد کشمیر حکومت ان حلقوں کے لوگوں کے روزمرہ مسائل حل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔
کمیٹی کا کہنا تھا کہ یہ نشستیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے آزاد کشمیر کی حکومتوں کو بنانے اور گرانے کا ایک سیاسی ذریعہ بن چکی ہیں۔
ان نشستوں کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ یہ بھارت کے زیر انتظام علاقوں سے بے دخل کشمیریوں کی نمائندگی کرتی ہیں، منقسم ریاست کے ساتھ آئینی تعلق برقرار رکھتی ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل طلب ہونے کی علامت ہیں۔
اس طرح یہ تنازع محض انتخابی حساب کتاب تک محدود نہیں رہا۔
اس نے تحریک کو اس آئینی اور نظریاتی ڈھانچے کے ایک بنیادی حصے کے مقابل لا کھڑا کیا جس کے ذریعے آزاد کشمیر پر حکومت کی جاتی رہی ہے۔
ستمبر اور اکتوبر 2025 کی تحریک
2025 کے دوران 38 نکاتی چارٹر پر مذاکرات جاری رہے، لیکن بالآخر دو بنیادی معاملات پر مذاکرات ناکام ہو گئے:
حکمران اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ اور مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کا کہنا تھا کہ ان دونوں بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر کسی معاہدے کو بامعنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حکومتی مذاکرات کاروں کا مؤقف تھا کہ آئینی دفعات کو کسی سول سوسائٹی تنظیم کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
29 ستمبر کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ریاست گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال شروع کر دی۔
بڑے اضلاع میں بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہو گئی۔ حکومت نے ایک مرتبہ پھر مواصلاتی پابندیاں عائد کیں اور سکیورٹی فورسز تعینات کر دیں۔
کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سمیت کم از کم دس افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ متعدد لوگ زخمی ہوئے۔
انٹرنیٹ اور مواصلاتی بلیک آؤٹ کی وجہ سے آزادانہ رپورٹنگ مشکل ہو گئی اور واقعات کی ذمہ داری کے بارے میں متضاد بیانیے سامنے آئے۔
4 اکتوبر کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، آزاد کشمیر حکومت اور وفاقی حکومت کے نمائندوں نے ایک اور وسیع معاہدے پر دستخط کیے۔
معاہدے میں ہلاک اور متاثرہ افراد کے خاندانوں کے لیے معاوضہ اور ملازمت، گرفتار افراد کی رہائی، ہیلتھ کارڈ کے لیے فنڈنگ، سی ٹی سکین اور ایم آر آئی کی سہولیات، دو اضافی تعلیمی بورڈ، اوپن میرٹ داخلے، کابینہ کو بیس وزرا اور مشیروں تک محدود کرنا، بعض محکموں کا انضمام اور احتسابی اداروں کی اصلاح شامل تھی۔
وفاقی حکومت نے بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے دس ارب روپے دینے کا وعدہ کیا۔
معاہدے میں بلدیاتی اصلاحات، پراپرٹی ٹیکس، سڑکیں، سرنگیں، پانی کے منصوبے، منگلا ڈیم کی زمینوں کے حقوق، میرپور ایئرپورٹ کی تجویز اور پن بجلی منصوبوں سے متعلق 2019 کے ہائی کورٹ فیصلے پر عمل درآمد بھی شامل تھا۔
مہاجرین کی 12 نشستیں فوری ختم کرنے کے بجائے قانونی اور آئینی ماہرین کی ایک کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ایک مشترکہ مانیٹرنگ کمیٹی بھی قائم کی جانی تھی، جس نے وقت کی حدود طے کرنا، عمل درآمد کا جائزہ لینا اور سرکاری مراعات اور استحقاق کی چھان بین کرنا تھی۔
ایک بار پھر تحریک نے تحریری معاہدے کی بنیاد پر ہڑتال ختم کر دی۔
اور ایک بار پھر اصل جنگ عمل درآمد کے مرحلے میں منتقل ہو گئی۔
حکومت بدلی، اعتماد کا بحران برقرار رہا
نومبر 2025 میں چوہدری انوارالحق کی حکومت عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ختم کر دی گئی اور فیصل ممتاز راٹھور وزیر اعظم بن گئے۔
لیکن حکومت کی تبدیلی نے بنیادی تنازع ختم نہیں کیا۔
سرکاری حکام کا دعویٰ تھا کہ اکتوبر کے معاہدے کے زیادہ تر نکات مکمل یا زیر عمل ہیں۔ مختلف مواقع پر یہ اعداد پیش کیے گئے کہ 44 میں سے 24 یا 38 میں سے 35 مطالبات پر عمل ہو چکا ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
اس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کے بہت سے اقدامات جزوی، انتظامی یا محض کاغذی نوعیت کے تھے، جبکہ بنیادی سیاسی اور ساختی وعدے بدستور حل طلب تھے۔
اختلاف دراصل ایک گہرے مسئلے کی علامت تھا۔
حکومتیں عمل درآمد کو کمیٹیوں، خطوط، فزیبلٹی رپورٹس اور محکمانہ نوٹیفکیشنوں کی تعداد سے ناپ رہی تھیں۔
تحریک عمل درآمد کو ان تبدیلیوں سے جانچ رہی تھی جو عوام کو اپنی روزمرہ زندگی میں نظر آ سکیں۔
2026 کے آغاز تک ایک نئے مذاکراتی عمل کے لیے ضروری باہمی اعتماد تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
2026: اصلاحات کے مطالبے سے نمائندگی کے بحران تک
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے اعلان نے مہاجرین کی نشستوں کے تنازع کو مزید شدت دے دی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
اس کا کہنا تھا کہ موجودہ بندوبست کے تحت ایک اور الیکشن کروانے کا مطلب سیاسی مداخلت اور جوڑ توڑ کے اسی نظام کو دوبارہ پیدا کرنا ہو گا۔
مئی کے آخر تک مذاکرات جاری رہے، لیکن کسی اتفاق رائے کے بغیر ختم ہو گئے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون سے ریاست گیر ہڑتال، اس کے بعد راولاکوٹ اور مظفرآباد کی طرف مارچ اور قانون ساز اسمبلی کے باہر غیر معینہ مدت کے دھرنے کا اعلان کر دیا۔
5 جون، یعنی جس روز انتخابی شیڈول کا اعلان ہوا، حکام نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو آزاد کشمیر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کالعدم قرار دے دیا اور انٹرنیٹ اور موبائل مواصلات بند کر دیے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دہشت گردی کا یہ لیبل غیر متناسب اور غیر قانونی قرار دیا اور خبردار کیا کہ مواصلاتی بلیک آؤٹ، گرفتاریاں اور مہلک طاقت کا استعمال انسانی حقوق کی صورتحال میں خطرناک تنزلی کی علامت ہے۔
اس فیصلے نے انتخابی اصلاحات پر جاری سیاسی تنازع کو ریاست اور ایک بڑی عوامی سول سوسائٹی تحریک کے درمیان کھلے تصادم میں تبدیل کر دیا۔
حکومت کا مؤقف تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے سابقہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی، آئینی نظام کو چیلنج کیا اور تشدد کی حوصلہ افزائی یا معاونت کی۔
کمیٹی کا کہنا تھا کہ ایک پُرامن حقوق کی تحریک کو صرف اس لیے مجرمانہ اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اس قدر بااثر ہو چکی تھی کہ اسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
جون کا کریک ڈاؤن
پولیس نے ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کو گرفتار کرنا اور اس کے دفاتر سیل کرنا شروع کر دیے۔
بغاوت کے مقدمات قائم کیے گئے، پہلے واپس لیے گئے مقدمات دوبارہ بحال کر دیے گئے اور اہم رہنماؤں کی گرفتاری پر انعامات مقرر کیے گئے۔
خونریزی کا پہلا بڑا واقعہ 7 اور 8 جون کی درمیانی رات راولاکوٹ میں پیش آیا۔
واقعات کے بارے میں سرکاری اور عوامی بیانات میں شدید اختلاف تھا۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ مسلح مظاہرین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کیا تھا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور مقامی عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ سی ایم ایچ کے قریب موجود غیر مسلح اجتماع پر سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی۔
19 جون تک رائٹرز کے مطابق کم از کم بیس شہری اور چار پولیس اہلکار ہلاک، 97 پولیس اہلکار زخمی اور پانچ سو سے زیادہ افراد گرفتار ہو چکے تھے۔
راولاکوٹ کے قریب ہزاروں مظاہرین بدستور موجود تھے جبکہ سڑکیں، بینک، ایندھن کی فراہمی اور مواصلاتی نظام شدید طور پر متاثر ہو چکے تھے۔
بندش کے اثرات صرف سیاسی کارکنوں تک محدود نہیں رہے۔
دیہاڑی دار مزدوروں کو روزگار نہ مل سکا۔ اے ٹی ایم اور بینکاری نظام بند ہو گیا۔ بعض علاقوں میں ایندھن، خوراک اور ادویات کی قلت پیدا ہو گئی۔
طلبہ آن لائن تعلیم، داخلوں اور درخواستوں کی سہولت سے محروم ہو گئے۔ بیرونِ ملک اور پاکستان کے دوسرے علاقوں میں موجود خاندان اپنے عزیزوں سے رابطہ نہ کر سکے۔
راولاکوٹ ایک طرف مزاحمت کا تنظیمی مرکز بن گیا اور دوسری طرف ریاستی تصادم کا سب سے بڑا میدان۔
طویل دھرنا اور ناکام ثالثی
جون اور جولائی کے دوران وکلا، مذہبی شخصیات، سیاسی رہنماؤں، مقامی حکام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ثالثی کی کوششیں کیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پابندی کے خاتمے، گرفتار افراد کی رہائی، مقدمات کی منسوخی، ہلاکتوں کے ذمہ داروں کے احتساب، بیرونی فورسز کی واپسی اور چارٹر آف ڈیمانڈز پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
حکومتی نمائندوں کا اصرار تھا کہ پہلے سڑکیں کھولی جائیں، احتجاج معطل کیا جائے اور آئینی سوالات کو دوبارہ قانون ساز اسمبلی کے حوالے کیا جائے۔
بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن، یعنی سچائی اور مفاہمت کمیشن، قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس تجویز کا جواب دیا، لیکن احتساب اور سیاسی اصلاحات کے مطالبات سے دست بردار نہیں ہوئی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حکومتی حلقوں کے بعض افراد نے بھی تسلیم کیا کہ محض انتخابات ان غصے اور محرومیوں کو ختم نہیں کر سکتے جو برسوں سے معاہدوں پر عمل نہ ہونے اور 2026 کے پُرتشدد واقعات سے پیدا ہوئے تھے۔
آزاد کشمیر کے تمام علاقوں میں صورتحال یکساں نہیں تھی۔
کچھ لوگ ایکشن کمیٹی کے معاشی مطالبات کی حمایت کرتے تھے، لیکن مہاجرین کی 12 نشستوں کے بارے میں اس کے مؤقف سے اختلاف رکھتے تھے۔
بعض افراد کو خدشہ تھا کہ طویل بندش عام لوگوں کے لیے ناقابل برداشت معاشی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
دوسروں کا کہنا تھا کہ سیاسی اصلاحات حاصل کیے بغیر پیچھے ہٹنا ریاستی جبر کو کامیاب قرار دینے کے مترادف ہو گا۔
تحریک اپنے سب سے مشکل مرحلے میں داخل ہو چکی تھی: ایک طرف ریاستی دباؤ، معاشی مشکلات اور عوامی تھکن تھی، اور دوسری طرف عوامی اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت۔
بلیک آؤٹ میں انتخابات
حکومت نے انتخابات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور مبینہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں تین مراحل میں تقسیم کر دیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی انتخابات کا بائیکاٹ کیا، اگرچہ اس کی اپنی وجوہات تھیں، جن میں انتخابی دھاندلی اور سیاسی مداخلت کے الزامات شامل تھے۔
پہلا مرحلہ 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں منعقد ہوا۔
مسلم لیگ ن نے زیر مقابلہ 13 میں سے نو نشستیں جیت لیں، لیکن ٹرن آؤٹ، انتخابی مہم اور پورے انتخابی عمل کی قانونی و سیاسی ساکھ پر سوالات اٹھتے رہے۔
انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں نے بھی ایک دوسرے پر دھاندلی، ووٹوں میں ردوبدل اور انتظامی مداخلت کے الزامات لگائے۔
اسی دوران راولاکوٹ سے نکلنے والے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مارچ کو روکنے کی کوشش ایک اور تباہ کن خونریزی پر منتج ہوئی۔
کمیٹی اور مقامی صحافیوں نے رپورٹ کیا کہ 27 اور 28 جولائی کو راولاکوٹ اور میرپور میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے۔
دی گارڈین نے ان الزامات کی رپورٹنگ کی کہ دو دنوں میں کم از کم تیس افراد مارے گئے، جبکہ رائٹرز نے نشاندہی کی کہ مواصلاتی پابندیوں اور صحافیوں کی محدود رسائی کے باعث بڑے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔
حکام نے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہلاکتوں کو تسلیم کیا، لیکن دعویٰ کیا کہ احتجاج میں مسلح اور بھارت نواز عناصر شامل ہو گئے تھے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی سازش اور غیر ملکی سرپرستی کا روایتی بیانیہ ایک مرتبہ پھر بحران کی سیاسی وجوہات چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات، من مانی گرفتاریوں کے خاتمے، مواصلات کی بحالی اور تمام فریقوں پر مشتمل مذاکرات کا مطالبہ کیا۔
اس مرحلے تک تحریک کا تصادم صرف آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ نہیں رہا تھا۔
اب وہ اس پورے سکیورٹی، آئینی اور انتخابی بندوبست کو چیلنج کر رہی تھی جس کے ذریعے آزاد کشمیر پر حکومت کی جاتی رہی ہے۔
چارٹر آف ڈیمانڈز سے عبوری حکومت کے مطالبے تک
2 اور 3 اگست 2026 کو جاری ہونے والے بیان میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک غیر جانب دار عبوری حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
کمیٹی نے متنازع انتخابی عمل کو منسوخ کرنے، عبوری بندوبست کے تحت نئے، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروانے اور ہلاکتوں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزاد یا اقوام متحدہ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے ان مطالبات کو موجودہ حکومت، انتخابی اداروں اور سرکاری تحقیقاتی نظام پر عوامی اعتماد کے خاتمے کا نتیجہ قرار دیا۔
یہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی تھی۔
جو تحریک سبسڈی والے آٹے کے مطالبے سے شروع ہوئی تھی، اب یہ سوال اٹھا رہی تھی کہ آیا موجودہ حکومت کو اقتدار میں رہنے یا انتخابات کی نگرانی کرنے کا سیاسی اور اخلاقی جواز حاصل بھی ہے یا نہیں۔
یہ مطالبہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔
یہ ایک مسلسل چکر سے گزرتے ہوئے سامنے آیا:
احتجاج، مذاکرات، تحریری معاہدہ، عمل درآمد میں تاخیر، نیا احتجاج، ریاستی جبر اور پھر ایک نیا معاہدہ۔
ہر مرحلے نے تحریک کے ایجنڈے کو مزید وسیع کیا۔
آٹے کے سوال نے بجلی کے سوال کو جنم دیا۔
بجلی کے سوال نے حکمران اشرافیہ کی مراعات کو موضوع بنایا۔
مراعات کے سوال نے احتساب کی بحث پیدا کی۔
احتساب کے سوال نے مقامی اختیار کا مطالبہ پیدا کیا۔
مقامی اختیار کا سوال انتخابی نمائندگی تک پہنچا۔
اور انتخابی نمائندگی کے سوال نے بالآخر یہ بنیادی مسئلہ کھڑا کر دیا کہ حکومت کرنے کا حق کس کو حاصل ہے۔
عبوری حکومت کے مطالبے کا مفہوم
عبوری حکومت کا مطالبہ موجودہ بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ ایسے سوالات بھی جڑے ہیں جن کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو واضح جواب دینا ہو گا۔
ایسی حکومت کا انتخاب کون کرے گا؟
اس کی آئینی بنیاد کیا ہو گی؟
وہ کتنے عرصے تک اقتدار میں رہے گی؟
کیا اس میں سیاسی جماعتیں، وکلا، بلدیاتی نمائندے، خواتین، طلبہ، ٹریڈ یونینیں، مہاجرین اور سول سوسائٹی شامل ہوں گے؟
سکیورٹی اداروں اور انتخابی انتظامیہ پر اس کا اختیار کس نوعیت کا ہو گا؟
اور یہ کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ عبوری حکومت اسلام آباد کی طرف سے مسلط کردہ یا موجودہ سیاسی اشرافیہ کے درمیان طے پانے والا ایک اور بندوبست نہ بن جائے؟
واضح روڈ میپ کے بغیر اس مطالبے کی مختلف طبقات مختلف تشریحات کر سکتے ہیں۔
نئے انتخابات کے لیے محدود مدت کا غیر جانب دار نگران بندوبست ایک چیز ہے، جبکہ غیر معینہ مدت تک اقتدار میں رہنے والی غیر منتخب حکومت بالکل دوسری چیز۔
یہ سوالات عبوری حکومت کے مطالبے کو غیر اہم نہیں بناتے۔
بلکہ یہ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ تحریک کتنی دور آ چکی ہے اور اب اسے اپنے سیاسی پروگرام میں کتنی زیادہ وضاحت، باریک بینی اور جمہوری احتیاط درکار ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سامنے اپنی اصل جمہوری اور عوامی نوعیت برقرار رکھنے کا چیلنج بھی موجود ہے۔
ریاست پر لازم ہے کہ وہ کسی ممکنہ مسلح دراندازی کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرے اور انہیں پوری آبادی اور تحریک کو مجرم قرار دینے کے لیے استعمال نہ کرے۔
اسی طرح تحریک پر بھی لازم ہے کہ کسی مسلح فرد یا گروہ کو اپنی سمت متعین کرنے یا ریاستی تشدد کے لیے جواز فراہم کرنے کی اجازت نہ دے۔
وہ سیاسی تبدیلی جسے حکمران نہ سمجھ سکے
جب یہ تحریک پہلی بار سامنے آئی تو حکمرانوں نے اسے مہنگائی کے خلاف عارضی ردعمل قرار دیا۔
جب یہ پھیلنے لگی تو اسے تاجروں کی تحریک کہا گیا۔
جب خواتین، طلبہ، وکلا، محنت کش اور پوری آبادیاں اس میں شامل ہوئیں تو اسے سیاسی مقاصد کی تحریک قرار دیا گیا۔
جب اس نے گرفتاریوں اور ریاستی طاقت کے باوجود اپنی موجودگی برقرار رکھی تو اسے بیرونی سرپرستی سے چلنے والی تحریک کہا گیا۔
اور جب اس نے انتخابی بندوبست کو چیلنج کیا تو اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا۔
ہر مرحلے پر سرکاری ردعمل نے ایک بنیادی حقیقت سے گریز کیا:
آزاد کشمیر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اب یہ قبول کرنے کو تیار نہیں کہ اس پر تقریروں، سرپرستی، سکیورٹی بیانیوں اور کاغذی وعدوں کے ذریعے حکومت کی جاتی رہے۔
تین سال کے سفر میں تحریک یقیناً تبدیل ہوئی ہے۔
اس سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔
اس کی قیادت ہمیشہ ایک زبان میں بات نہیں کر سکی۔
کچھ تقاریر جذباتی یا سیاسی طور پر غیر دانشمندانہ رہی ہیں۔
مہاجرین کی نشستوں کے معاملے نے رائے عامہ کو تقسیم کیا ہے اور طویل بندش نے عام خاندانوں پر شدید معاشی بوجھ ڈالا ہے۔
لیکن ان میں سے کوئی کمزوری نہ تحریک کے وجود کی بنیادی وجوہات کو ختم کرتی ہے اور نہ اجتماعی سزا، مواصلاتی بلیک آؤٹ، من مانی گرفتاریوں یا شہریوں پر فائرنگ کا جواز فراہم کرتی ہے۔
اپنی سماجی بنیاد اور بنیادی کردار کے اعتبار سے یہ آج بھی عوامی حقوق کی تحریک ہے۔
یہ اس لیے ابھری کہ موجودہ ادارے سستی بنیادی ضروریات، جواب دہ حکومت اور بامعنی سیاسی نمائندگی فراہم کرنے میں ناکام رہے۔
ان عوامی شکایات کو سکیورٹی کے مسئلے میں تبدیل کرنے کی کوشش نے انہیں ختم نہیں کیا۔
اس نے انہیں مزید گہرا کر دیا ہے۔
ایک تاریخی سنگِ میل
آزاد کشمیر اب ایک تاریخی دہلیز پر کھڑا ہے۔
حکومت کسی سیاسی تحریک کو طاقت، پابندیوں، گرفتاریوں اور الزامات کے ذریعے شکست دینے کی کوشش جاری رکھ سکتی ہے۔
یہ راستہ وقتی طور پر سڑکیں خالی کروا سکتا ہے اور اجتماعات منتشر کر سکتا ہے، لیکن حکومتی ساکھ اور عوامی اعتماد بحال نہیں کر سکتا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنی عوامی تحریک جاری رکھ سکتی ہے، لیکن اسے عوامی غصے کو ایک واضح، شفاف، جامع اور جمہوری سیاسی پروگرام میں تبدیل کرنا ہو گا۔
اسے صرف یہ نہیں بتانا ہو گا کہ کیا ختم کیا جانا چاہیے، بلکہ یہ بھی واضح کرنا ہو گا کہ اس کی جگہ کون سا نظام قائم کیا جائے۔
پاکستان کے حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ لائن آف کنٹرول کی ایک طرف حقوق کی حمایت کی جائے اور دوسری طرف انہی حقوق کو طاقت سے دبایا جائے۔
پاکستان اور آزاد کشمیر کے تعلقات بداعتمادی، انتظامی کنٹرول اور مقامی سیاسی اشرافیہ کے استعمال پر قائم نہیں رہ سکتے۔
ان تعلقات کو عزت، رضامندی، جمہوری نمائندگی اور وسائل میں منصفانہ حصے کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دینا ہو گا۔
راولاکوٹ کے آٹے کے ڈپو کے باہر بیٹھنے والے چند لوگوں نے یہ تصور نہیں کیا تھا کہ ان کا احتجاج ایک ریاست گیر تحریک بن جائے گا۔
جن منتظمین نے پہلی بار وہاں اجتماع کیا، وہ کسی عبوری حکومت کا مطالبہ کرنے نہیں نکلے تھے۔
عبوری حکومت کا مطالبہ ریاستی ردعمل کی تاریخ نے پیدا کیا ہے۔
سبسڈی والے آٹے سے عبوری حکومت تک کا یہ سفر اس بات کا ثبوت نہیں کہ ابتدائی تحریک کے پیچھے کوئی خفیہ سیاسی مقصد موجود تھا۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب جائز اور محدود عوامی مطالبات کو بار بار مؤخر کیا جائے، غلط رنگ دیا جائے اور طاقت کے ذریعے جواب دیا جائے تو وہ کس طرح ایک وسیع سیاسی اور حکومتی بحران میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے عوام نے یہ سفر کسی حکومت کو ہٹانے کے مطالبے سے شروع نہیں کیا تھا۔
حکومتوں کی مسلسل ناکامیوں نے انہیں اس مطالبے تک پہنچایا ہے۔

تبصرے (0)