مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

چوہدری نظام دین بمقابل عوام 

کشمیر میں حکمران عوامی مطالبات اور مکالمے کے بجائے جبر پر بضد ہیں۔ اختلاف کو بغاوت سمجھنے کی یہ روش خطے کو کس تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے؟ جانیے اس تحریر میں۔

خلاصہ

کشمیر میں حکمران عوامی مطالبات اور مکالمے کے بجائے جبر پر بضد ہیں۔ اختلاف کو بغاوت سمجھنے کی یہ روش خطے کو کس تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے؟ جانیے اس تحریر میں۔

Summary in English

In Kashmir, the authorities insist on repression rather than addressing public demands and pursuing dialogue. Toward what catastrophe is this tendency of equating dissent with rebellion pushing the region? Find out in this article.

چوہدری نظام دین بمقابل عوام 
تصویر: مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصویر

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے موجودہ سیاسی تناظر میں بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ ریاست آخر چاہتی کیا ہے؟ عوام کے مسائل کا حل، سیاسی استحکام اور پائیدار امن یا محض ایسی خاموشی جس میں کوئی سوال اٹھانے والا نہ ہو، کوئی اختلاف کرنے والا نہ ہو اور کوئی حکمرانوں سے جواب طلب کرنے کی جرأت نہ کرے؟

اصل مسئلہ شاید یہی ہے کہ بسا اوقات ریاست کا اپنا ’’چوہدری نظام دین‘‘ پائیدار امن کا طالب ہی نہیں ہوتا۔ اسے امن سے زیادہ سکوت پسند ہوتا ہے۔ اسے مکالمے سے زیادہ فرمانبرداری، سیاسی اختلاف سے زیادہ یک طرفہ اطاعت اور عوامی سوالات سے زیادہ تعریفی قراردادیں پسند ہوتی ہیں۔ اسے ایسا معاشرہ چاہیے جہاں سب لوگ سر جھکا کر چلیں، کوئی گردن اٹھا کر سوال نہ کرے۔ موجودہ چوھدری نظام دین بس یھی چاھتا ھے۔

اور چوہدری نظام دین کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود کو ہمیشہ درست سمجھتا ہے۔ اگر عوام احتجاج کریں تو وہ انہیں گمراہ قرار دیتا ہے، اگر سوال کریں تو انہیں کسی کے اشاروں پر چلنے والا بتاتا ہے، اگر اپنے حقوق مانگیں تو ان کے پیچھے سازش تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کے نزدیک عوام کا مطمئن ہونا ضروری نہیں، عوام کا خاموش رہنا کافی ہے۔ شاید اسی لیے اسے یہ سمجھانا مشکل ہو گیا ہے کہ شہری ریاست کی رعایا نہیں، بلکہ اس کے آئینی و سیاسی وجود کے بنیادی فریق ہیں۔

پاکستان کے فیصلہ سازوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ان کے انتظامی و سیاسی نمائندوں کے طرزِ عمل پر بھی یہی بنیادی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس پورے معاملے میں سب سے بھیانک غلطی یہ کی گئی کہ عوامی مطالبات کو سیاسی، معاشی اور آئینی مسائل کے طور پر سمجھنے کے بجائے انہیں انتظامی کنٹرول، ریاستی رٹ اور طاقت کے مظاہرے کا مسئلہ بنا دیا گیا۔

حالانکہ ریاستی رٹ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ریاست جو کہہ دے وہی قانون بن جائے اور جو فیصلہ کر لے وہی حق و انصاف کی آخری سند ٹھہرے۔ ریاستی رٹ کا اصل مطلب یہ ہے کہ ریاست سمیت ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر صاحبِ اختیار قانون کے تابع ہو۔ مگر ہمارے ہاں کا چوہدری نظام دین اڀنی ھی تشریح شدہ ریاستی رٹ کو بھی اپنی انا کی توسیع سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک مسئلے کا ہر حل طاقت کے استعمال، حکم چلانے اور مخالف کو جھکانے میں پوشیدہ ہے۔ مکالمہ، سیاسی بصیرت، عوامی اعتماد اور اختلافِ رائے جیسے تصورات شاید اس کی لغت میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ یا پھر ان تصورات کو سمجھنے کی صلاحیت اس کی قابلیت سے کہیں آگے کی چیز ہے!

ذرا اردگرد نظر دوڑائیے، شاید ہی کوئی ایسا باشعور شخص ہو جس نے اس بحران کے حل کے لیے مذاکرات، افہام و تفہیم اور سیاسی مکالمے کا مشورہ نہ دیا ہو۔ مگر مجال ہے کہ عقل کی کوئی بات چوہدری نظام دین یا اس کے نمائیندوںُ کے سر میں سما سکے۔ ہر طرف سے ایک ہی صدا بلند ہوتی رہی کہ بات چیت کیجیے، عوامی مطالبات سنیے، سیاسی راستہ اختیار کیجیے؛ لیکن یہاں تو گویا فیصلہ ہو چکا تھا کہ بات نہیں ہوگی، بس بات منوائی جائے گی، اور وہ بھی جبر اور بندوق کی گولی سے۔

ریاستی رٹ کا اصل مطلب یہ ہے کہ ریاست سمیت ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر صاحبِ اختیار قانون کے تابع ہو۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں معاملہ محض سیاسی نااہلی سے نکل کر اجتماعی تباہی کے خطرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب طاقت کے نشے میں چور انا کو مطلق جہالت کی سرپرستی حاصل ہو جائے تو اس سے زیادہ تباہ کن امتزاج شاید ہی کوئی ہو۔ ایسے میں دلیل گستاخی، اختلاف بغاوت، مذاکرات کمزوری اور عوامی مطالبہ ریاست کے خلاف سازش دکھائی دینے لگتا ہے۔

اگر ایک مرحلے پر ریاست تحریک کی آواز سننے، مطالبات پر بات کرنے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے پر آمادہ ہوئی تھی تو پھر وہی راستہ دوبارہ اختیار کرنے میں آخر کیا امر مانع ہے؟ جتنے اخراجات طاقت سے کچلنے ڀر ھو چکے ھیں جس کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ جانیں جا چکی ھیں ۔  شاید اس سے نصف وسائل میں بیشتر عوامی مطالبات حل کر لئے جاتے ۔ ڀھر آخر مسئلہ کیا ہے؟ کیا مذاکرات کرنا اتنا مشکل ہے یا اپنی انا کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا زیادہ مشکل ہے؟

مگر یہاں چوہدری نظام دین کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ چوہدری صاحب سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایک مرتبہ کسی کے مطالبے پر بات کر لی تو کل ہر کوئی ان کے دروازے پر دستک دینے لگے گا۔ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ مذاکرات سے کہیں ان کی دھاک نہ بیٹھ جائے۔

اور پھر چوہدری صاحب کے علاقائی نمائندے بھی کم دلچسپ نہیں ہوتے۔ وہ اپنے آقا کی خاموشی کو حکمتِ عملی، اپنی سختی کو ریاستی رٹ اور عوامی بے اطمینانی کو امن و امان کا مسئلہ قرار دینے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ طاقت اور انا سے بھرے دماغ کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ امن کا تعلق محض سڑکوں پر گاڑیوں کی روانی، بازاروں کے کھلنے یا احتجاجی کیمپوں کے ختم ہونے سے نہیں۔ اگر لوگوں کے دلوں میں محرومی، بے اعتمادی اور ناانصافی کا احساس موجود رہے تو بظاہر معمولاتِ زندگی کی بحالی کو پائیدار امن نہیں کہا جا سکتا۔ قبرستان میں بھی مکمل امن ہوتا ہے؛ وہاں کوئی احتجاج نہیں کرتا، کوئی سوال نہیں اٹھاتا اور کسی حکمران کو جواب نہیں دینا پڑتا۔ لیکن کیا کوئی زندہ معاشرہ قبرستان جیسا امن چاہ سکتا ہے؟

پاکستان کی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اپنی ایک ٹویٹ میں بالکل درست کہا کہ آزاد کشمیر کو Healing Touch (مرہم) کی ضرورت ہے۔ خواجہ سعد رفیق بھی واضح کر چکے ہیں کہ کشمیر میں طاقت کا استعمال محض نا عاقبت اندیشی کے سوا کچھ نہیں۔ آزاد کشمیر کے دو سابق وزرائے اعظم، قیوم نیازی اور راجہ فاروق حیدر، بھی طاقت کے استعمال کو روکنے کی اپیل کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
مگر چوہدری نظام دین ہیں کہ سننے پر آمادہ ہی نہیں۔ ان کی ضد ہے کہ ہر مسئلے کا حل بس طاقت کے بے دریغ استعمال میں پوشیدہ ہے۔ شاید انہیں ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ ریاستی طاقت کا مظاہرہ سیاسی بصیرت اور مکالمے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

اب انہیں کون سمجھائے کہ عوام کو زیر کرنے اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اور جو حکمران یہ فرق نہیں سمجھتے، انہیں تاریخ بڑی بے رحمی سے سمجھاتی ہے۔

ڈاکٹر جاوید حیات

تبصرے (0)

تبصرہ کریں