مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

آزاد جموں کشمیر میں حقوق کی تحریک

آزاد کشمیر میں حقوق کے دھرنوں کو 90 دن مکمل ہو گئے۔ ہزاروں شہریوں کے بے مثال امن و ضبط نے ریاستی بیانیے کو ہلا کر رکھ دیا۔ جانیے اس عوامی بیداری نے کیا سوالات کھڑے کیے؟

خلاصہ

آزاد کشمیر میں حقوق کے دھرنوں کو 90 دن مکمل ہو گئے۔ ہزاروں شہریوں کے بے مثال امن و ضبط نے ریاستی بیانیے کو ہلا کر رکھ دیا۔ جانیے اس عوامی بیداری نے کیا سوالات کھڑے کیے؟

Summary in English

The rights sit-ins in Azad Kashmir have completed 90 days. The unprecedented peace and discipline of thousands of citizens has shaken the state narrative. Find out what questions this public awakening has raised.

آزاد جموں کشمیر میں حقوق کی تحریک

یہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر ہے۔ ایک ایسا خطہ جہاں عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں، میدانوں اور احتجاجی مقامات پر موجود ہیں، جہاں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جاری دھرنوں کو 90 دن مکمل ہو چکے ہیں، لیکن ان نوے دنوں نے ایک ایسا سوال پیدا کر دیا ہے جس کا جواب صرف حکومت، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نہیں بلکہ پورے ریاستی نظام کو دینا ہو گا نوے دن گذر گئے ہزاروں لوگ دن رات دھرنوں میں موجود رہے، نوجوان، بزرگ، خواتین اور بچے اس عوامی تحریک کا حصہ بنتے رہے، مگر ان طویل احتجاجی دنوں میں ایسا کوئی منظر سامنے نہیں آیا کہ کسی کی جیب کاٹی گئی ہو، کسی شہری کو لوٹا گیا ہو یا کسی کمزور کی چیز پر ہاتھ صاف کیا گیا ہو بلکہ صورتحال اس کے برعکس رہی ہے اگر کسی شخص کی کوئی چیز کہیں گر گئی تو اسے اٹھا کر احتجاجی سٹیج تک پہنچایا گیا ہے وہاں اعلان کیا گیا اور کوشش کی گئی کہ وہ چیز اپنے اصل مالک تک پہنچ جائے

یہ منظر اپنے اندر ایک بہت بڑا سوال رکھتا ہے۔

جن لوگوں کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے، جن کے بارے میں ریاستی سطح پر مختلف الزامات اور پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، اگر وہی لوگ نوے دن تک ہزاروں افراد کے اجتماع میں نظم و ضبط، باہمی احترام اور شہریوں کے مال کے تحفظ کا ایسا ماحول قائم رکھ سکتے ہیں تو پھر دہشت گردی اور جرائم کی تعریف کیا ہے اور اصل خطرہ کس سے ہے ۔؟ تین ماہ کے اس طویل دھرنے نے کم از کم ایک حقیقت ضرور واضح کر دی ہے کہ کشمیر کے عوام بالخصوص پونچھ کے عوام کو جس انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے یہ عوام جذباتی ضرور ہیں مگر بے شعور نہیں، اپنے حق کے لیے ڈٹ جانے والے ضرور ہیں مگر ایک دوسرے کے مال اور عذت کے دشمن نہیں ہیں یہ لوگ اپنے گرے ہوئے سامان کو بھی امانت سمجھ کر اس کے مالک تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں پھر سوال یہ ہے کہ جب عام حالات میں چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم ہوتے ہیں تو ان کی ذمہ داری کا تعین کیوں نہیں ہوتا ۔؟ کیوں ہر جرم کے بعد سب سے پہلے شک کی انگلی عام شہری کی طرف اٹھائی جاتی ہے

؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے یہ سوال کیوں نہیں کیا جاتا کہ ان کے علاقوں میں جرائم کی روک تھام کی ذمہ داری کس کی ہے ۔؟

عوام کے ذہنوں میں یہ سوال بھی موجود ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران دھرنوں اور عوامی اجتماع کے زیر انتظام علاقوں میں جرائم کی صورتحال کیا رہی اور کن علاقوں میں وارداتیں ریکارڈ ہوئیں ۔؟ اگر کسی علاقے میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی مکمل موجودگی کے باوجود جرائم کی شکایات سامنے آتی ہیں تو اس پر غیر جانب دار تحقیقات کیوں نہیں کی جاتیں ۔؟ خصوصاً راولاکوٹ شہر کے حوالے سے عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات موجود ہیں۔ اگر دھرنوں کے زیر انتظام علاقوں میں ہزاروں افراد کی موجودگی کے باوجود طویل عرصے تک امن و امان قائم رہ سکتا ہے تو پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل موجودگی والے علاقوں میں جرائم کے واقعات پر سوال اٹھانا بھی عوام کا حق ہے جہاں شہر میں لوٹ مار کی گئی ہے

یہ بات کسی مخصوص فرد یا ادارے کو بغیر ثبوت مجرم قرار دینے کی نہیں بلکہ جواب دہی کا مطالبہ ہے۔ اگر کسی پولیس اہلکار، آفیسر یا کسی دوسرے بااختیار شخص کے بارے میں جرائم یا بدعنوانی کی شکایات موجود ہیں تو ان کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر کوئی الزام غلط ہے تو اس کی حقیقت بھی عوام کے سامنے آنی چاہیے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سوال کرنے والے کو ہی مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔

اگر عوام پوچھیں کہ چوری کیوں ہوئی تو انہیں خاموش رہنے کا کہا جاتا ہے اگر وہ پوچھیں کہ ڈکیتی کے ملزمان کیوں گرفتار نہیں ہوئے تو انہیں ریاست مخالف قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر وہ پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھائیں تو ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ایک مہذب معاشرے میں پولیس عوام کی مالک نہیں بلکہ عوام کی محافظ ہوتی ہے، اور محافظ سے سوال کرنا جرم نہیں بلکہ شہری کا بنیادی حق ہے نوے دن کے دھرنے نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کر دی ہے کشمیر کے عوام بالعموم اور پونچھ کے عوام بالخصوص انتہائی سنجیدہ، باشعور اور ذمہ دار ہیں۔ اگر انہیں امن کے ساتھ اپنے معاملات چلانے کا موقع دیا جائے تو وہ خود نظم و ضبط قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہزاروں افراد کا ایک جگہ جمع رہنا اور پھر اتنے طویل عرصے تک کسی بڑے جرائم کے بغیر اس اجتماع کا قائم رہنا معمولی بات نہیں ہے

پونچھ کے عوام کو دہشت گرد، جرائم پیشہ یا انتشار پسند قرار دینے سے پہلے ان کے کردار کو دیکھا جائے اور ریاستی اداروں کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ عوام اب خاموش رہنے والے نہیں۔

یہ ایک اجتماعی کردار کا ثبوت ہے یہ اس معاشرے کے اخلاقی شعور کا ثبوت ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عام شہری کو صرف شک اور الزام کی نگاہ سے دیکھنا درست نہیں ہے اب ریاستی اداروں کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ پولیس اور سیکیورٹی کے اداروں کے کردار پر سوال اٹھتے ہیں تو ان سوالات کا جواب غصے، طاقت یا الزامات سے نہیں بلکہ شفاف تحقیقات سے دیا جانا چاہیے۔ گذشتہ نوے دنوں کے دوران ضلع پونچھ میں کتنی وارداتیں ہوئیں ۔؟ کتنے ملزمان گرفتار ہوئے ۔؟ کتنے مقدمات حل ہوئے ۔؟ کتنے ابھی تک زیر تفتیش ہیں ۔؟ اور عوام کی جانب سے پولیس یا سرکاری اہلکاروں کے خلاف کتنی شکایات سامنے آئیں ۔؟ یہ تمام معلومات عوام کے سامنے آنی چاہیےکیونکہ قانون کی حکمرانی صرف یہ نہیں کہ عام شہری کو قانون کے تابع رکھا جائے، بلکہ اصل قانون کی حکمرانی یہ ہے کہ اختیار رکھنے والا شخص بھی اتنا ہی جواب دہ ہو جتنا ایک عام آدمی۔۔۔۔۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنوں کو محض الزام تراشی کی عینک سے نہ دیکھا جائے۔ ان نوے دنوں کو ایک سماجی تجربے کے طور پر بھی دیکھا جائے دیکھا جائے کہ ہزاروں لوگ کس طرح ایک جگہ موجود رہے۔ دیکھا جائے کہ ان کے درمیان نظم و ضبط کیسے قائم رہا۔ دیکھا جائے کہ گم ہونے والی چیزیں کس طرح سٹیج تک پہنچائی گئی ہے اور پھر اس سوال کا جواب بھی تلاش کیا جائے کہ جن عوام کو امن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے وہی عوام اپنے درمیان امن اور امانت داری کی مثال کیسے قائم کیے ہوئے ہیں ۔؟ پونچھ کے عوام کو دہشت گرد، جرائم پیشہ یا انتشار پسند قرار دینے سے پہلے ان کے کردار کو دیکھا جائے اور ریاستی اداروں کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ عوام اب خاموش رہنے والے نہیں۔ وہ سوال کریں گے، حساب مانگیں گے اور جواب طلب کریں گے۔ کیونکہ عوام کا مال، عوام کی جان اور عوام کا امن کسی بھی ریاستی نظام سے زیادہ اہم ہے۔

نوّے دن کا یہ دھرنا صرف مطالبات کا دھرنا نہیں رہا، بلکہ اس نے ہمارے معاشرے اور ہمارے نظام کے درمیان ایک واضح فرق بھی نمایاں کر دیا ہے۔ایک طرف وہ عوام ہیں جو کسی کی گری ہوئی چیز کو امانت سمجھ کر سٹیج تک پہنچاتے ہیں، دوسری طرف وہ نظام ہے جس سے عوام آج بھی پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے علاقوں میں جرائم کیوں ہوتے ہیں، ملزمان کیوں نہیں پکڑے جاتے اور اختیار رکھنے والوں کا احتساب کب ہو گا ۔؟ یہ سوال آج صرف راولاکوٹ کا نہیں۔

یہ سوال صرف پونچھ کا نہیں ہے یہ سوال پورے جموں کشمیر کا ہے۔

اور شاید نوے دن کے اس دھرنے نے سب سے بڑا سبق یہی دیا ہے کہ عوام کو الزام دینے سے پہلے ان کی آواز سنی جائے، ان کے کردار کو دیکھا جائے اور پھر اختیار رکھنے والوں سے بھی وہی سوال پوچھا جائے جو ہمیشہ کمزور سے پوچھا جاتا ہے کیونکہ ایک مضبوط معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں عوام حکمرانوں اور اداروں سے ڈرتے ہوں، بلکہ مضبوط معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں عوام بلا خوف سوال کر سکیں اور اختیار رکھنے والے بلا امتیاز جواب دہ ہوں اور آج پونچھ کے عوام کا سوال صرف اتنا ہے اگر نوے دن تک ہزاروں افراد کے درمیان امن، نظم و ضبط اور امانت داری قائم رہ سکتی ہے تو پھر عوام کو خطرہ قرار دینے سے پہلے یہ تحقیق کیوں نہیں کی جاتی کہ ہمارے معاشرے میں جرائم کی اصل وجوہات کیا ہیں، جرائم کو روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احتساب کب ہو گا ۔ ؟

الزامات کو محتاط اور متوازن بنائیں ۔۔۔۔

RightsMovementAJK #AJKRightsmovement

JKTV #JammuKashmirTV

تبصرے (0)

تبصرہ کریں