مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

آزاد جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں اور سیاسی حقوق کی صورتحال: فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ

ایچ آر سی پی نے آزاد جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں اور سیاسی حقوق پر ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ اس میں خطے میں انسانی حقوق کے سنگین مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اہم نکات جاننے کے لیے آگے پڑھیے۔

خلاصہ

ایچ آر سی پی نے آزاد جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں اور سیاسی حقوق پر ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ اس میں خطے میں انسانی حقوق کے سنگین مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اہم نکات جاننے کے لیے آگے پڑھیے۔

Summary in English

The HRCP has released a report on civil liberties and political rights in Azad Jammu and Kashmir. It highlights serious human rights issues in the region. Read on to learn the key points.

آزاد جموں و کشمیر میں شہری دائرے پر دباؤ

اگست 2026

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP)

(انگریزی سے اردو ترجمہ)

© 2026 ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان

جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ اس اشاعت کا کوئی بھی حصہ ماخذ کے باقاعدہ حوالے کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جا سکتا ہے۔

اس اشاعت کے مندرجات کی درستی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کسی غیر ارادی کوتاہی کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان

ایوان جمہور، 107 ٹیپو بلاک، نیو گارڈن ٹاؤن، لاہور 54600

فون: 9969 3586, 4994 3586, 8341 3583 42 92+

[email protected] · ای میل: www.hrcp-web.org

اعترافات

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) جلال الدین مغل اور ان کے رفیق کار کا شکر گزار ہے جنہوں نے اس مشن کو ممکن بنایا اور ابتدائی رپورٹ تیار کی۔ ہم فرح ضیا کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ماہین پراچہ کے تعاون سے دستاویز کی تدوین کی، حارث خلیق کے، جنہوں نے رپورٹ کا جائزہ لیا، مریم سعید کے، جنہوں نے سرورق ڈیزائن کیا، اور سنی ضیا، محمد آصف اور فیروزہ بتول کے، جنہوں نے مشن کے انتظامات کیے۔ ہم مشن کے ارکان نیزے جہانگیر، فرحت اللہ بابر، ناصر زیدی اور سعدیہ بخاری کے بطور خاص ممنون ہیں جنہوں نے رپورٹ پر اپنی آرا دیں۔ ایچ آر سی پی ان تمام افراد کا بھی شکر گزار ہے جنہوں نے مشن سے گفتگو کے لیے وقت نکالا۔

دست برداری: یہ دستاویز یورپی یونین کے مالی تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ اس دستاویز کے مندرجات کی ذمہ داری کلی طور پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان پر عائد ہوتی ہے اور انہیں کسی بھی صورت میں یورپی یونین کے موقف کا عکاس قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نوٹ: یہ دستاویز اصل انگریزی رپورٹ کا اردو ترجمہ ہے۔ کسی ابہام کی صورت میں انگریزی متن مستند ہو گا۔

فہرست مضامین

تعارف

پس منظر

طریقہ کار

مشن کے ضوابط کار

آزاد جموں و کشمیر میں انسانی حقوق اور سیاسی صورت حال پر گول میز مذاکرہ

اظہار رائے اور صحافتی آزادی پر پابندیاں

گرفتاریاں، انسداد دہشت گردی قوانین کا استعمال اور قانونی ضابطے کی پاسداری

خوراک اور ادویات کی فراہمی اور علاج تک رسائی پر اثرات

راولاکوٹ میں بدامنی کے دوران مبینہ ہلاکتیں

باغ میں انتخابی مشاہدہ

مشاہدات اور تجزیہ

نتیجہ

سفارشات

تعارف

آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے)، جو پاکستان کے زیرِ انتظام ایک نیم خود مختار خطہ ہے، 2026 کے آغاز پر حکمرانی، سیاسی نمائندگی اور عوامی اعتماد کے بڑھتے ہوئے بحران سے دوچار تھا۔ دیرینہ معاشی شکایات بتدریج احتساب، آئینی اصلاحات اور زیادہ سیاسی نمائندگی کے وسیع تر مطالبات کی شکل اختیار کر چکی تھیں۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) ان مطالبات کا مرکزی پلیٹ فارم بن کر ابھری۔ حکومت اور جے اے اے سی کے درمیان اکتوبر 2025 کے معاہدے کے نفاذ پر تنازعات، نیز آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کی حیثیت، سیاسی محاذ آرائی کا مرکزی نقطہ بن گئے۔1- 2026 کے ابتدائی پانچ مہینوں کے دوران جے اے اے سی اور حکومت کے درمیان وقفے وقفے سے مذاکرات جاری رہے مگر بقایا مسائل حل نہ ہو سکے۔

30 مئی 2026 کو مذاکرات کی ناکامی، 5 جون کو جے اے اے سی پر پابندی، اس کے بعد اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن، نقل و حرکت اور مواصلات پر پابندیاں، اور اس کے نتیجے میں پھوٹنے والی بدامنی۔ یہ سب ایک انتہائی متنازع قانون ساز اسمبلی انتخاب کے موقع پر پیش آیا۔ سیاسی تناؤ کی اس فضا میں الیکشن کمیشن نے 5 جون کو انتخابی شیڈول کا اعلان کیا اور ابتدائی طور پر قانون ساز اسمبلی کی تمام 45 نشستوں کے لیے 27 جولائی کو پولنگ کی تاریخ مقرر کی۔ بعد ازاں شیڈول میں ترمیم کی گئی اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پولنگ متعدد مراحل میں کرائی گئی۔ اگرچہ آزاد جموں و کشمیر میں بلدیاتی انتخابات اس سے قبل تین مراحل میں ہو چکے تھے، تاہم یہ پہلا عام انتخاب تھا جو مرحلہ وار عمل کے ذریعے منعقد ہوا۔ انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات، سیاسی بائیکاٹ، تشدد، گرفتاریوں اور خلل نے بنیادی حقوق کے استعمال اور انتخابی عمل کی ساکھ اور شمولیت کے بارے میں خدشات کو مزید گہرا کر دیا۔

اس پس منظر میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے 8 تا 10 اگست 2026 ایک فیکٹ فائنڈنگ اور انتخابی مشاہدہ مشن انجام دیا، جس سے قبل 31 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں فریقین سے مشاورت کی گئی۔ مشن نے ڈھیر کوٹ، حویلی اور باغ کا سفر کیا اور اس میں ایچ آر سی پی کی شریک چیئر پرسن نیزے جہانگیر، ایچ آر سی پی کونسل کے ارکان فرحت اللہ بابر، ناصر زیدی اور سعدیہ بخاری، اور آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک صحافی شامل تھے۔

مشن نے سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتِ حال، اختلافِ رائے پر حکام کے ردِ عمل، اور انتخابات کے انعقاد کا جائزہ لیا۔ یہ رپورٹ اس امر کا جائزہ لیتی ہے کہ شہری کس حد تک آزادانہ اور با معنی طور پر اپنے حقوق استعمال کر سکے، اور آیا سیاسی و انتخابی عمل نے نمائندگی، احتساب، آئینی اختیار اور جمہوری حکمرانی سے متعلق آزاد جموں و کشمیر کے دیرینہ خدشات کے ازالے کا کوئی قابلِ اعتبار راستہ فراہم کیا۔

1- آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی 53 ارکان پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 45 براہِ راست منتخب ہوتے ہیں: 33 آزاد جموں و کشمیر کے اندر کے حلقوں سے اور 12 پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کرنے والے حلقوں سے۔ باقی آٹھ نشستیں مخصوص زمروں کے لیے مختص ہیں۔ مہاجرین کی 12 نشستیں آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین کی دفعہ 22 کے تحت فراہم کی گئی ہیں۔

پس منظر

آزاد جموں و کشمیر کا موجودہ سیاسی بحران ان عوامی احتجاجی تحریکوں کے تسلسل میں پیدا ہوا جو 2023 میں معاشی اور حکمرانی سے متعلق خدشات پر شروع ہوئیں۔ اہم مطالبات میں بجلی اور آٹے سمیت بنیادی ضروری اشیا تک سستی رسائی؛ سیاسی اور انتظامی اشرافیہ کی مراعات اور اخراجات میں کمی؛ اور مقامی وسائل پر زیادہ عوامی اختیار شامل تھے۔ 2024 اور 2025 کے احتجاجوں کے جواب میں آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے نیم فوجی دستوں، بشمول رینجرز، کی تعیناتی کی درخواست کی (باوجود اس کے کہ جے اے اے سی سے وقفے وقفے سے مذاکرات بھی جاری تھے)۔ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مطالبات وسیع ہو کر احتساب، سیاسی نمائندگی، حکمرانی کی اصلاحات اور سیاسی طاقت کی تقسیم میں تبدیلی تک پھیل گئے۔

جے اے اے سی – بنیادی طور پر تاجروں، ٹرانسپورٹروں، طلبہ، وکلا اور سیاسی کارکنوں پر مشتمل ایک سول سوسائٹی اتحاد – ان مطالبات کا مرکزی پلیٹ فارم بن گئی۔ مئی 2024 کی بڑی تحریکوں کے بعد جے اے اے سی اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کے مذاکرات کے نتیجے میں اکتوبر 2025 میں ایک معاہدہ طے پایا۔ معاہدے میں جے اے اے سی کے 38 مطالبات کو 90 دن کے اندر حل کرنے کے وعدے شامل تھے۔ اس کا نفاذ بعد میں اختلاف کا بڑا سبب بن گیا۔ حکومت کا موقف تھا کہ زیادہ تر وعدے پورے ہو چکے ہیں یا ان پر عمل درآمد جاری ہے، جبکہ جے اے اے سی نے اس موقف سے اختلاف کیا اور ان امور کو اٹھاتی رہی جنہیں وہ حل طلب سمجھتی تھی۔

فروری 2026 میں جے اے اے سی نے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا، جو 9 جون کے لیے طے تھا- اس اعلان کے باوجود با مقصد مذاکرات 30 مئی سے قبل شروع نہ ہو سکے- مئی کے دوران بات چیت میں تیزی آئی مگر بالآخر کوئی نیا معاہدہ طے نہ پا سکا- اس کے بعد جے اے اے سی نے اعلان کیا کہ وہ ہڑتال اور مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ سمیت اپنا احتجاج جاری رکھے گی-

5 جون 2026 کو آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جے اے اے سی کو آزاد جموں و کشمیر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم قرار دے دیا۔ اس نے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات کا ایک سلسلہ بھی متعارف کرایا، جن میں نقل و حرکت اور سیاحت پر پابندیاں اور پورے خطے میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی شامل تھی۔ آزاد جموں و کشمیر میں موجود سیاحوں کو فوری طور پر خطہ چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا، اور آنے کے خواہش مند افراد کو اگلے احکامات تک سفر کی منصوبہ بندی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ حکومت نے ان اقدامات کی بنیاد امنِ عامہ اور سیکیورٹی خدشات کو قرار دیا۔

طریقہ کار

ایچ آر سی پی نے آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی صورتِ حال کی نگرانی کی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کی، بالخصوص 30 مئی 2024 کے بعد جے اے اے سی اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے تناظر میں۔ فیکٹ فائنڈنگ مشن نے آزاد جموں و کشمیر کے حالات کی منظم نگرانی، میدانی تحقیقات، انٹرویوز، دستاویزی شواہد، اسلام آباد میں فریقین کے گول میز مذاکرے، اور بعد ازاں انتخابی مشاہدے سے استفادہ کیا۔ ان طریقوں کے ذریعے انسانی حقوق کی صورتِ حال، احتجاج اور اختلافِ رائے پر حکام کے ردِ عمل، اور وسیع تر انتخابی ماحول کا جائزہ لیا گیا۔

مشن نے مختلف فریقین سے ملاقاتیں کیں، جن میں سول سوسائٹی کے نمائندے، صحافی، وکلا، سیاسی کردار، انتخابی عہدیدار، قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور متاثرہ برادریاں شامل تھیں، نیز جہاں ممکن ہوا، احتجاج کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی گئی۔ مشن نے طاقت کے استعمال، گرفتاریوں، نقل و حرکت اور مواصلات پر پابندیوں، شہری اور معاشی سرگرمیوں میں خلل، اور تشدد و سیاسی کشیدگی کے انتخابی عمل پر اثرات سے متعلق بیانات کو دستاویزی شکل دی۔

انٹرویوز اور میدانی مشاہدات سے حاصل شدہ معلومات کو، جہاں ممکن ہوا، سرکاری ریکارڈ، انتخابات سے متعلق دستاویزات، حکومتی بیانات، ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں اور دیگر آزاد ذرائع سے جانچا گیا۔ خاص طور پر اس امر کا اہتمام کیا گیا کہ تصدیق شدہ معلومات، الزامات اور حکومت، جے اے اے سی اور دیگر فریقین کے متضاد بیانات میں فرق برقرار رکھا جائے۔ چونکہ حالات مسلسل ارتقا پذیر تھے اور بعض علاقوں اور ریکارڈ تک رسائی محدود تھی، اس لیے اس رپورٹ میں پیش کردہ نتائج ان معلومات پر مبنی ہیں جن کی رپورٹ کی تکمیل تک ایچ آر سی پی آزادانہ تصدیق کر سکا۔

مشن کے ضوابطِ کار

مشن کے ضوابطِ کار درج ذیل تھے:

  • 2026 کے قانون ساز اسمبلی انتخابات کے تناظر میں آزاد جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لینا۔
  • حقِ زندگی، آزادی، ذاتی تحفظ، پُر امن اجتماع، نقل و حرکت، اظہارِ رائے کی آزادی، معلومات تک رسائی اور سیاسی شرکت کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو دستاویزی شکل دینا۔
  • احتجاج اور انتخابات سے جُڑے تشدد کے دوران رپورٹ ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے حالات کا جائزہ لینا، بشمول قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے طاقت کے استعمال سے متعلق الزامات (ملکی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات سے مطابقت کے اعتبار سے)۔
  • انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن پابندیوں کے شہری دائرے، انتخابی شرکت اور معلومات تک رسائی پر اثرات کا جائزہ لینا۔
  • انسداد دہشت گردی قانون کے تحت جے اے اے سی پر پابندی کے انجمن سازی کی آزادی اور سیاسی شرکت پر اثرات کا جائزہ لینا۔
  • یہ جائزہ لینا کہ آیا موجودہ سیکیورٹی ماحول نے امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور ووٹروں کی انتخابی عمل میں آزادانہ شرکت کی صلاحیت کو متاثر کیا۔

آزاد جموں و کشمیر میں انسانی حقوق اور سیاسی صورتِ حال پر گول میز مذاکرہ

2026 کے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات سے قبل ایچ آر سی پی نے 31 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں ایک گول میز مذاکرے کا اہتمام کیا تاکہ آزاد جموں و کشمیر میں بدلتی ہوئی انسانی حقوق اور سیاسی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے اور آزاد انتخابی مشاہدے کی گنجائش پر غور کیا جائے۔ شرکا میں ایچ آر سی پی کے ارکان (بشمول آزاد جموں و کشمیر سے)، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں مقیم صحافی، اور سول سوسائٹی کے کارکن شامل تھے۔

شرکا نے جے اے اے سی تحریک کے سفر کا جائزہ لیا اور نوٹ کیا کہ اس کے ابتدائی مطالبات بنیادی طور پر بجلی کے نرخوں، گندم کی قیمتوں، مہنگائی اور عوامی خدمات کی فراہمی پر مرکوز تھے، مگر بعد ازاں یہ حکمرانی، احتساب، آئینی اصلاحات اور سیاسی نمائندگی سے متعلق خدشات تک وسیع ہو گئے (دیکھیے باکس 1)۔ گفتگو میں سابقہ حکومتی وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی اطلاعات، 5 جون 2026 کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت جے اے اے سی پر پابندی کے حکومتی فیصلے، اور اس کے بعد ہونے والے احتجاجوں، جھڑپوں، ہلاکتوں، گرفتاریوں اور مواصلاتی پابندیوں کا بھی احاطہ کیا گیا۔

باکس 1: 2026 میں آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی واقعات کی زمانی ترتیب

اوائل 2026

جے اے اے سی اکتوبر 2025 کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالتی رہی اور اس کی توجہ بتدریج ڈھانچہ جاتی اور سیاسی اصلاحات پر مرکوز ہوتی گئی۔ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کا خاتمہ اس کے اہم ترین حل طلب مطالبات میں سے ایک بن گیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ ایسی تبدیلیاں آئینی سوالات اٹھاتی ہیں اور انہیں انتظامی حکم کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔

مئی 2026

آزاد جموں و کشمیر حکومت اور جے اے اے سی کے مذاکرات بحال ہوئے، جن میں جے اے اے سی کے بیشتر مطالبات زیرِ بحث آئے۔ تاہم فریقین متعدد بقایا امور پر اتفاق رائے نہ کر سکے، جن میں مہاجرین کی 12 نشستوں کی حیثیت بھی شامل تھی۔

30 مئی 2026

مذاکرات کا ایک بڑا دور بغیر معاہدے کے ختم ہوا۔ جے اے اے سی نے اعلان کیا کہ وہ خطہ گیر ہڑتال اور مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کرے گی، جس سے قانون ساز اسمبلی انتخابات سے قبل کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

5 جون 2026

آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جے اے اے سی کو آزاد جموں و کشمیر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم تنظیم قرار دے دیا۔ پورے آزاد جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل مواصلات بند کر دیے گئے اور یہ بندش طویل عرصے تک

برقرار رہی۔ اسی روز جے اے اے سی رہنما عمر نذیر پولیس سے جھڑپوں میں زخمی ہوئے جبکہ ان کا ایک قریبی ساتھی جاں بحق ہو گیا۔

6 جون 2026

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے قانون ساز اسمبلی کی تمام 45 براہِ راست منتخب نشستوں کے لیے انتخابی شیڈول کا باظابطہ اعلان کیا اور پولنگ ابتدائی طور پر 27 جولائی 2026 کو مقرر کی گئی۔

7 جون 2026

آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ نے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کی آئینی حیثیت سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی مشاورتی رائے جاری کی۔ عدالت نے جوہری طور پر قرار دیا کہ یہ نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور ان میں ردو بدل یا خاتمہ انتظامی حکم، سیاسی معاہدے یا عوامی دباؤ سے ممکن نہیں۔ کسی بھی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم کا طریقہ کار درکار ہو گا۔

7 جون 2026

راولا کوٹ میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات ملیں۔ کئی افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، اگرچہ حکومت اور جے اے اے سی کی جانب سے بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں فرق تھا۔ ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ سات شہری اور قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ 23 پولیس افسران زخمی ہوئے۔

8 جون 2026

راولا کوٹ کے تشدد کے بعد حکام نے پورے آزاد جموں و کشمیر میں سیکیورٹی ردعمل تیز کر دیا۔ حکام نے خطہ بھر میں کم از کم 72 افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی اور راولا کوٹ کے مظاہرین پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پر حملے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔ مبینہ طور پر مزید 14,000 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلات پر پابندیاں برقرار رہیں۔

9 جون 2026

جے اے اے سی نے خطہ گیر ہڑتال کی، جس سے آزاد جموں و کشمیر کے بڑے حصوں میں بازار، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر معاشی و عوامی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

20 جون 2026

آزاد جموں و کشمیر کے حکام نے 147 جے اے اے سی کارکنوں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا، جس سے ان کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہو گئیں۔ اگست میں مبینہ طور پر مزید افراد فہرست میں شامل کیے گئے۔ متعدد صحافیوں کو بھی بد امنی کی کوریج کے سلسلے میں مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا یا ان کے خلاف قانونی کارروائیاں کی گئیں۔

14 جولائی 2026

رائٹرز کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور جے اے اے سی حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں نو افراد جاں بحق ہوئے۔ ضلع سدھنوتی کے علاقے تراڑکھل میں مبینہ طور پر چھ مظاہرین اور ایک پولیس افسر جاں بحق ہوئے، جبکہ راولاکوٹ میں ایک الگ جھڑپ میں ایک مظاہر اور ایک سیکیورٹی اہلکار مارے گئے۔

21 جولائی 2026

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات، جو اصلاً ایک ہی دن ہونا تھے، سیکیورٹی خدشات اور سیکیورٹی اہلکاروں کی دستیابی یقینی بنانے کی ضرورت کے پیش نظر تین مراحل میں کرائے جائیں گے۔ پولنگ میرپور ڈویژن میں 27 جولائی، مظفر آباد ڈویژن اور مہاجرین کے 12 حلقوں میں 2 اگست، اور پونچھ ڈویژن میں 10 اگست کو مقرر کی گئی۔

27 جولائی 2026

میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں پولنگ ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) نے نو اور پیپلز پارٹی نے چار نشستیں جیتیں۔ پی ٹی آئی اور جے اے اے سی نے انتخابی بائیکاٹ کی اپیل کر رکھی تھی۔ اسی روز جے اے اے سی کی جاری تحریک کے دوران راولاکوٹ میں تشدد کی اطلاعات ملیں، جس کے حالات اور ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے۔ رائٹرز نے بتایا کہ جے اے اے سی کا دعویٰ تھا کہ راولاکوٹ میں 30 سے زائد مظاہرین مارے گئے، جبکہ حکام نے ایک سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت اور پانچ سیکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی اور میرپور میں کم از کم تین مظاہرین کی ہلاکت تسلیم کی۔

28 تا 31 جولائی 2026

پولنگ کے پہلے مرحلے کے بعد راولاکوٹ اور پونچھ ڈویژن کے دیگر حصوں میں تشدد میں شدت آگئی۔ جے اے اے سی نے الزام لگایا کہ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی، جبکہ حکام نے تشدد کو مسلح عناصر اور امن عامہ و انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کوششوں سے منسوب کیا۔

2 اگست 2026

مظفر آباد ڈویژن اور مہاجرین کے 12 حلقوں میں پولنگ جاری سیاسی کشیدگی، انتخابی بائیکاٹ کی اپیلوں اور مواصلاتی پابندیوں کے ماحول میں ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر سرفہرست جماعت بن کر ابھری، جبکہ سیاسی مخالفین نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات اٹھائے۔ پیپلز پارٹی نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر کے قائم مقام صدر پر ان کے حلقے میں حملہ کیا۔

7 اگست 2026

الیکشن کمیشن نے بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر تیسرے مرحلے کا شیڈول تبدیل کر دیا۔ سات حلقوں۔ پونچھ کے پانچ اور سدھنوتی کے دو۔ میں پولنگ ملتوی کر دی گئی، جبکہ باغ اور حویلی اضلاع کے چار حلقوں میں ووٹنگ شیڈول کے مطابق ہوئی۔

10 اگست 2026

پونچھ ڈویژن کے صرف چار حلقوں میں پولنگ ہوئی جبکہ باقی سات حلقوں میں انتخاب نہ ہو سکا۔ اس التوا کا مطلب یہ تھا کہ انتخابی عمل قانون ساز اسمبلی کی تمام 45 براہ راست منتخب نشستیں پُر نہ کر سکا۔

اگست 2026

10 اگست تک مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کی غالب سیاسی قوت بن چکی تھی، جس نے ابتدائی دو مراحل میں فیصلہ ہونے والی 34 میں سے 24 نشستیں حاصل کیں اور اگلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی۔ پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی؛ اس نے انتخابی عمل میں شرکت کی مگر متعدد حلقوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے۔ پی ٹی آئی نے مبینہ انتخابی جوڑ توڑ کا حوالہ دے کر انتخابات کا بائیکاٹ کیا، جبکہ کالعدم جے اے ایس سی نے بھی بائیکاٹ کی اپیل کی اور مہاجرین کی 12 نشستوں کی مخالفت جاری رکھی۔

نو رجسٹرڈ عوامی دست و بازو پارٹی نے ایک نشست حاصل کی اور آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عتیق احمد خان کو شکست دی۔ یہ نتیجہ ایک بڑا انتخابی اپ سیٹ تھا، کیونکہ خان - آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور مسلم کانفرنس کے قائد - ایک ایسے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں خاصا اثر و رسوخ رکھتا آیا ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور عوامی دست و بازو پارٹی کے سوا اس مرحلے تک کوئی اور جماعت اسمبلی میں نشست حاصل نہیں کر سکی تھی۔

بائیکاٹ کی اپیلوں کے باوجود آزاد جموں و کشمیر بھر میں خاصی ووٹر شرکت رپورٹ ہوئی۔ تاہم رپورٹ شدہ ٹرن آؤٹ میں وسیع تفاوت - بعض پولنگ اسٹیشنوں پر صفر ووٹ سے لے کر بعض پر غیر معمولی بلند اعداد تک - نیز پولنگ میں تاخیر، خلل اور جوڑ توڑ کے الزامات اس امر کے متقاضی تھے کہ پولنگ اسٹیشن کی سطح کے نتائج اور انتخابی ریکارڈ کا بغور جائزہ لیا جائے۔ ان حالات نے یہ سوالات بھی اٹھائے کہ بائیکاٹ، سیکیورٹی پابندیوں اور خلل نے ووٹر شرکت اور انتخابی عمل کی مجموعی ساکھ کو کس حد تک متاثر کیا۔

24 اگست 2026

انتخابی عمل اسمبلی کی مخصوص نشستیں پُر کرنے کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ یہ ترتیب اس لحاظ سے غیر معمولی تھی کہ مخصوص نشستوں کا عمل اس وقت شروع ہوا جب سات براہ راست منتخب حلقے تا حال باقی تھے۔ نتیجتاً نئی اسمبلی کی تشکیل کا تعین اس سے پہلے شروع ہو گیا کہ تمام براہ راست منتخب ارکان منتخب ہو چکے ہوتے، جس سے ایک غیر معمولی آئینی اور سیاسی صورت حال پیدا ہوئی۔

شرکا نے مبینہ من مانی حراستوں، جبری گمشدگیوں، نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیوں، ضروری اشیا اور ادویات کی قلت، اور انٹرنیٹ و موبائل سروس کی معطلی کے تعلیم، ذرائع معاش، معلومات تک رسائی اور ہنگامی رابطوں پر وسیع تر اثرات سے متعلق خدشات اٹھائے۔ انہوں نے قومی مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے بعض حلقوں کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے حالات کی محدود کوریج کو بھی نوٹ کیا۔

ان خدشات اور آئندہ انتخابات کے پیش نظر شرکا نے ایک آزاد، منصفانہ، شفاف اور قابل اعتبار انتخابی عمل کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ ایچ آر سی پی انتخابی مشاہدہ مشن کی تعیناتی کے لیے باضابطہ اجازت حاصل کرے اور فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) سے رابطہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے۔ مزید تجویز دی گئی کہ اگر آزاد جموں و کشمیر سے باہر کے مبصرین کو رسائی نہ مل سکے تو خطے کے اندر مقیم ایچ آر سی پی کے ارکان انتخابی عمل کو دستاویزی شکل دیں۔ اتفاق کیا گیا کہ ان ذرائع سے حاصل شدہ معلومات انسانی حقوق کی صورت حال اور انتخابات کے انعقاد کے بارے میں ایچ آر سی پی کے آزادانہ جائزے میں معاون ہوں گی۔

اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی پر پابندیاں

2026 کی آزاد جموں و کشمیر کی بدامنی کے ساتھ اظہارِ رائے کی آزادی، (رابطہ خدمات کی معطلی کے ذریعے) معلومات تک رسائی اور آزاد صحافت پر وسیع پابندیاں بھی عائد رہیں۔ 20 جون 2026 کو آزاد جموں و کشمیر کے حکام نے 147 جے اے اے سی کارکنوں کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کیا، جس سے ان کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہو گئیں۔ اگست میں مبینہ طور پر مزید افراد فہرست میں شامل کیے گئے۔ متعدد صحافیوں کو بھی بدامنی کی کوریج کے سلسلے میں مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا یا قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

صحافی سہراب برکت کو 5 جون 2026 کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔ انتخابی عرصے کے دوران کشمیری صحافیوں راضی طاہر اور محمد سیف کو مبینہ طور پر پولیس وردی میں ملبوس افراد اسلام آباد میں ان کے دفتر سے لے گئے۔ صحافی اور شاعر احمد فرہاد 20 جون 2026 سے نقصِ امن کی روک تھام کے آرڈیننس (ایم پی او) کے تحت باغ سٹی پولیس اسٹیشن میں زیرِ حراست ہیں (دیکھیے باکس 2)۔

باکس 2: صحافی احمد فرہاد کی حراست

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق جس پولیس حوالات میں احمد فرہاد رکھے گئے ہیں وہ شدید گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی ہے۔ اگرچہ اس کی مقررہ گنجائش سات تا آٹھ افراد کی ہے، مبینہ طور پر وہاں بیک وقت کم از کم 20 زیرِ حراست افراد رکھے جاتے ہیں۔ حوالات میں صرف ایک غسل خانہ ہے اور ہوا کی آمد و رفت کا کوئی نظام نہیں۔ ہوا کے نظام کی عدم موجودگی کے باعث مبینہ طور پر مستقل بدبو رہتی ہے اور سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔

اسی بیان کے مطابق فرہاد کو پڑھنے یا لکھنے کی اجازت نہیں اور ان کا روزمرہ معمول بڑی حد تک کھانے اور سونے تک محدود ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر دیگر قیدیوں کو شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنتے دیکھا، جس سے بقول ان کے انہیں شدید ذہنی اذیت پہنچی۔ اگر یہ باتیں ثابت ہو جائیں تو ایسے حالات اور سلوک تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کی ممانعت اور انسانی حراستی حالات یقینی بنانے کی ذمہ داری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔

فرہاد مبینہ طور پر آنتوں کے عارضے (آئی بی ایس) میں مبتلا ہیں اور انہیں کمر درد اور جوڑوں کی تکلیف (او سٹیو آر تھرائٹس) لاحق ہو گئی ہے۔ انہیں ایک موقع پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں درد کی دوا تجویز کی گئی جس نے مبینہ طور پر ان کے معدے کے عارضے کو بڑھا دیا۔ ان کی موجودہ طبی ضروریات کے پیش نظر مناسب علاج تک محدود رسائی کی اطلاعات خاص طور پر باعثِ تشویش ہیں۔

حکام نے مبینہ طور پر فرہاد پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کرائیں جس میں وہ اعلان کریں کہ وہ ریاست یا فوج کے مخالف نہیں اور جے اے اے سی کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیں۔ اگرچہ ایچ آر سی پی اس مبینہ دباؤ

کے حالات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا، تاہم اگر یہ ثابت ہو جائے تو ایسا دباؤ جبر اور سیاسی یا دیگر غیر عدالتی مقاصد کے لیے بیانات حاصل کرنے کی خاطر حراست کے استعمال کے حوالے سے خدشات پیدا کرتا ہے۔

انتخابی عرصے کے دوران اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی پر پابندیاں خاص طور پر شدید ہو گئیں۔ صحافیوں نے متاثرہ علاقوں تک جانے اور وہاں سے رپورٹنگ میں دشواریوں کی اطلاع دی، جبکہ مواصلاتی بندش نے ہلاکتوں، زخمیوں، گرفتاریوں اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق اطلاعات کی آزادانہ تصدیق کو شدید محدود کر دیا۔

صحافیوں سردار اویس، سردار فضائل اور انصار عباسی کو مبینہ طور پر جون اور جولائی 2026 کے دوران ضلع باغ میں گرفتار کیا گیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات تھیں کہ سردار اویس اور سردار فضائل کو ایک قتل کے مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔ باغ کے مقامی صحافیوں کی جانب سے مشن کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان تینوں میں سے کسی کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی حکام نے ان کی گرفتاری کو باضابطہ تسلیم کیا تھا۔ ایچ آر سی پی ان کی حراست کی قانونی بنیاد کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

5 اگست 2026 کو حکومتِ پاکستان نے فارن میڈیا فیسلیٹیشن گائیڈلائنز 2026 متعارف کرائیں، جن کے تحت بین الاقوامی میڈیا اداروں اور غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے پاکستانی صحافیوں پر اضافی تقاضے عائد کیے گئے۔ بین الاقوامی صحافیوں کو مبینہ طور پر آزاد جموں و کشمیر چھوڑنے اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے ذریعے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) کے لیے درخواست دینے کی ہدایت کی گئی۔

گرفتاریاں، انسدادِ دہشت گردی قوانین کا استعمال اور قانونی ضابطے کی پاسداری

جے اے سی تحریک پر حکومتی ردعمل میں اس کی قیادت اور کارکنوں کی انسداد دہشت گردی اور دیگر فوجداری قوانین کے تحت گرفتاری اور استغاثہ شامل تھا۔ 5 جون 2026 کو آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جے اے سی کو آزاد جموں و کشمیر انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم قرار دیا۔ حکام نے بعد ازاں اس کے ارکان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا اور شوکت نواز میر سمیت جے اے سی کے چار نمایاں رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاعات پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا۔

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق میر کو کئی ہفتوں کی روپوشی کے بعد 30 جون 2026 کو گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم اس گرفتاری کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا اور کمشن کے پاس ان کے عدالت میں پیش کیے جانے کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ جون سے اگست کے درمیان جاری کردہ نوٹیفکیشنوں کے ایک سلسلے میں – بشمول انتخابی عرصے کے – کم از کم 157 سیاسی کارکنوں، صحافیوں، مقامی باشندوں اور فعالیت پسندوں کو مبینہ طور پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا، جس سے ان کی نقل و حرکت اور سرگرمیاں محدود ہو گئیں اور وہ بڑھتی ہوئی ریاستی نگرانی کی زد میں آ گئے۔

خوراک اور ادویات کی فراہمی اور علاج تک رسائی پر اثرات

احتجاجوں اور اس کے بعد کی پابندیوں نے آزاد جموں و کشمیر کے متعدد حصوں، بالخصوص راولا کوٹ اور گرد و نواح میں ، ضروری اشیا اور صحت کی سہولیات تک رسائی کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔ طویل سڑک بندشوں ، پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی اور رسد کے راستوں میں خلل سے خوراک ، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی دستیابی متاثر ہوئی ۔ ذرائع ابلاغ نے ایبٹ آباد اور راولپنڈی سے رسد میں خلل کے بعد کئی اضلاع میں ادویات کی قلت کی اطلاع دی ۔ بعض علاقوں میں دکانیں محدود اوقات کے لیے کھولی گئیں اور لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مبینہ طور پر متحرک (موبائل) دکانداروں کو کام کی اجازت دی گئی۔

جھڑپوں کے دوران ہسپتالوں اور ہنگامی طبی امداد تک رسائی بھی متاثر ہوئی ۔ راولا کوٹ میں 7 جون 2026 کے تشدد کے دوران مظاہرین نے مبینہ طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال تک رسائی روک دی ۔ ڈویژنل انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹر اور پیرامیڈیکس اپنی حفاظت کی خاطر ہسپتال چھوڑنے پر مجبور ہوئے ، جبکہ شدید زخمی مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو علاج کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد منتقل کیا گیا۔

انسانی حقوق کے اداروں نے سڑکوں کی بندش اور سیکیورٹی حصار سے متاثرہ علاقوں میں ایمبولینسوں اور ہنگامی طبی خدمات تک رسائی میں دشواریوں کی بھی اطلاع دی۔ یہ بیانات حکومتی موقف سے مختلف ہیں، جس نے خوراک کی رسد جان بوجھ کر روکنے کے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ راولا کوٹ کے بعض حصوں کے سوا راستے کھلے رہے۔ تاہم ٹرانسپورٹ، بازاروں اور مواصلات میں خلل کے اثرات صرف احتجاج میں براہ راست شریک افراد تک محدود نہیں رہے۔ اس سے باقاعدہ ادویات کے ضرورت مند مریض ، خاندان، بچے ، شیر خوار ، معمر افراد اور ضروری اشیا اور صحت کی سہولیات تک بلا تعطل رسائی پر انحصار کرنے والے دیگر افراد بھی متاثر ہوئے۔

راولا کوٹ میں بدامنی کے دوران مبینہ ہلاکتیں

ذیل کے بیانات جون اور جولائی 2026 کے درمیان راولا کوٹ کی بدامنی میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ نے ایچ آر سی پی کو فراہم کیے۔ یہ اہل خانہ کے بیانات اور یادداشتوں کی عکاسی کرتے ہیں اور انہیں مختصر شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ جب تک بصورت دیگر واضح نہ کیا جائے، ہلاکتوں کے حالات کی مشن نے آزادانہ تصدیق نہیں کی ۔

جبران مشتاق (گلیات، راولا کوٹ)۔ جبران ، تین بھائیوں میں سب سے بڑے، حجرہ اڈا پر چائے کے کھوکھے کے ذریعے اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے ۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں 7 جون 2026 کو سر میں گولی لگی اور وہ پمز اسلام آباد میں زیر علاج رہے، جہاں 20 جولائی کو ان کا انتقال ہو گیا۔ اہل خانہ نے وفات کے بعد میت کے حصول میں دشواریوں کی اطلاع دی۔

مزمل اسحاق (علی سوجل غربی، راولا کوٹ)۔ 23 سالہ مزمل روزگار کے لیے عراق جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ اہل خانہ کے مطابق 27 جولائی 2026 کو حجرہ روڈ پر پرانی چونکی کے قریب مارے گئے۔ اہل خانہ نے انہیں ایک ایسے نوجوان کے طور پر بیان کیا جو اپنے لیے روزگار قائم کرنے اور خاندان کا سہارا بننے کی تیاری کر رہا تھا۔

ثاقب حنیف (ریڑھ بن ، راولا کوٹ)۔ 38 سالہ ثاقب 16 اور 12 سال کے دو بیٹوں کے والد تھے۔ قطر میں ملازمت ختم ہونے کے بعد وہ دوبارہ بیرون ملک روزگار کے لیے کوشاں تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 27 جولائی 2026 کو حجرہ روڈ پر پرانی چونکی کے قریب مارے گئے۔

عثمان صابر (برمنگ خورد، راولا کوٹ)۔ عثمان نے 12 سال کی عمر سے کام شروع کیا تھا اور اپنے خاندان — بشمول اپنی بصارت سے محروم والدہ اور بیوہ سوتیلی بہنوں—کی مالی کفالت کا اہم ذریعہ تھے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ انہیں 7 جون 2026 کی رات گولی ماری گئی اور بعد ازاں انہیں تدفین کے لیے میت کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

تابش قیوم (بنجوسہ ، راولا کوٹ)۔ 22 سالہ تابش یونیورسٹی آف پونچھ، راولا کوٹ میں بی بی اے کے آخری سمسٹر کے طالب علم تھے اور آن لائن فری لانس کے طور پر کام کرتے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 27 جولائی 2026 کو مارے گئے۔ پسماندگان میں والدین، ایک بڑی بہن اور ایک چھوٹا بھائی شامل ہیں۔

محمد کاشف یعقوب (چھوٹا گلہ ، راولا کوٹ)۔ 32 سالہ کاشف ایاز مارکیٹ میں دکاندار تھے اور کمیونٹی کے کاموں میں سرگرم تھے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ وہ 27 جولائی 2026 کو مارے گئے۔ انہوں نے کاشف کو کمیونٹی کا درد رکھنے والا اور کرکٹ کا شوقین بتایا۔

محمد فہیم افضل (چھوٹا گلہ ، راولا کوٹ)۔ 31 سالہ فہیم دبئی میں ملازم تھے اور دو ماہ کے لیے راولا کوٹ آئے ہوئے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 27 جولائی 2026 کو مارے گئے۔ انہوں نے فہیم کو والی بال کا کھلاڑی اور اپنی مقامی کمیونٹی کا سرگرم رکن بتایا۔

عثمان گل (اپر ڈھوک ، راولا کوٹ)۔ 23 سالہ عثمان ایک چائے کے کھوکھے پر یومیہ اجرت پر کام کرتے تھے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ وہ 27 جولائی 2026 کو چنار چوک کے قریب مارے گئے۔ ان کے خاندان کے کئی افراد خود بھی یومیہ اجرت کی ملازمت پر انحصار کرتے تھے۔

خواجہ ضرغام علی (ڈریک، راولا کوٹ)۔ 22 سالہ ضرغام یونیورسٹی آف پونچھ، راولا کوٹ میں بین الاقوامی تعلقات میں بی ایس کے طالب علم تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 27 جولائی 2026 کو چنار چوک کے قریب مارے گئے۔

صیام لیاقت (میرا حسین کوٹ، راولا کوٹ)۔ 22 سالہ صیام ایچ ایس ایس سی کے طالب علم اور اپنی کمیونٹی کے سرگرم رکن تھے جو والی بال کھیلتے تھے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ انہیں 15 اگست 2026 کو پنجال دھند، راولا کوٹ میں ان کی بہن کے گھر کے قریب گولی ماری گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی میت اٹھانے کی کوشش کرنے والے افراد بھی زخمی ہوئے۔

شاہ زیب حبیب (وارڈ نمبر 2، گلیات، راولا کوٹ)۔ 45 سالہ شاہ زیب ایک بیکری کے مالک، کمیونٹی کی سرگرمیوں میں شریک اور تین بچوں کے والد تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 5 جون 2026 کو برمنگ پل، کھائی گلہ کے قریب مارے گئے۔ اہل خانہ نے بعد ازاں تدفین کے لیے میت کے حصول میں دشواریوں کی اطلاع دی۔

ار ی Ŧ ت φ ĩ ر، ی Ŵ گ ن φ Ė ا ہ ̥ ج φ ɲ ے ن ر ی Ŵ ن ť φ İ ن ے Úرφĥاä ک ن å ش س φ nj م ہ ɰ ۔

عثمان نذیر (راولا کوٹ)۔ 47 سالہ عثمان ایک کاروباری شخصیت تھے جو اپنے خاندان کا ہول سیل ڈسٹری بیوشن کا کاروبار چلاتے تھے اور کمیونٹی کے امور میں سرگرم تھے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ وہ 27 جولائی 2026 کو چنار چوک کے قریب مارے گئے۔ پسماندگان میں ان کی اہلیہ اور چار سالہ بیٹا شامل ہیں۔

باغ میں انتخابی مشاہدہ

مشن 9 اگست 2026 کو دوپہر کے قریب ڈھیر کوٹ پہنچا تاکہ اگلے روز باغ اور حویلی اضلاع میں ہونے والے تیسرے مرحلے کی پولنگ کا مشاہدہ کر سکے۔

سیاسی شکایات اور جے اے ایس سی کا بائیکاٹ

شہریوں اور سیاسی فریقین سے مشن کی گفتگو میں ایک بار بار سامنے آنے والا نکتہ یہ تھا کہ جے اے ایس سی کی بیان کردہ شکایات کو خاصی عوامی پذیرائی حاصل تھی - ان افراد میں بھی جو تحریک کے طریقوں یا انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ باغ میں پولنگ کے مقامات پر ووٹ نہ ڈالنے والے بعض شہریوں نے کہا کہ وہ بہتر حکمرانی چاہتے ہیں اور انتخابات کو اس لیے ناقابل قبول سمجھتے ہیں کہ ان کی نظر میں جے اے ایس سی کے 38 نکاتی چارٹر پر حکومتی ردِ عمل ان کے خدشات کا ازالہ کرنے میں ناکام رہا۔

جواب دہندگان نے عمومی طور پر بائیکاٹ کو جے اے ایس سی کے جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ عدم اطمینان کے سیاسی اظہار کے طور پر بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ 38 نکاتی چارٹر پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، پاکستان نے تنازع میں "غیر ضروری مداخلت" کی، اور غیر مسلح مظاہرین ریاستی قوتوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ بعض نے انتخاب کو "ڈھونگ" قرار دیا، بہتر حکمرانی کا مطالبہ کیا اور یہ رائے ظاہر کی کہ محض انتخابات جواب دہ حکومت کی ضمانت نہیں بن سکتے۔

مشن نے پایا کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کی حیثیت سب سے زیادہ ذکر کی جانے والی سیاسی شکایت تھی۔ متعدد شہریوں نے کہا کہ اس مسئلے کو طاقت کے بجائے مذاکرات سے حل کیا جانا چاہیے تھا اور رائے دی کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سیاسی تصفیے میں زیادہ کردار ادا کر سکتی تھیں۔ چنانچہ یہ مسئلہ جے اے ایس سی کی رکنیت اور حامیوں سے آگے بڑھ کر سیاسی نمائندگی، جواز اور آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے تعلق سے متعلق ایک وسیع تر عوامی بحث کا حصہ بن چکا تھا۔

ساتھ ہی مشن نے ایسے سیاسی نمائندوں سے بھی ملاقات کی جو جے اے ایس سی کے موقف سے شدید اختلاف رکھتے تھے۔ آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے جے اے ایس سی کی جانب سے عوامی خدمات، تجارت، بینکاری اور تعلیم میں خلل پر تنقید کی۔ اس کے باوجود انہوں نے تسلیم کیا کہ تحریک کی بعض شکایات جائز ہیں اور تنازع کو سیاسی مکالمے سے حل کرنے کی وکالت کی۔

خان نے جے اے ایس سی کے پاس مبینہ جدید اسلحے کی موجودگی پر بھی سوال اٹھایا اور رائے دی کہ تحریک بنیادی طور پر فلاحی مطالبات سے ہٹ کر ایسے سیاسی مسائل کی جانب بڑھ گئی ہے جنہیں قانون ساز اسمبلی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جے اے ایس سی کے نمائندے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ جیسے سیاسی قائدین کے بجائے فوجی حکام سے مذاکرات کی طرف زیادہ مائل تھے، جنہیں بقول ان کے وہ "ضامن" سمجھتے تھے۔ حکومت کے جے اے ایس سی پر پابندی کے فیصلے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم فیصل راٹھور کے پاس شواہد ہیں کہ تنظیم کو بیرونی ذرائع

سے مالی معاونت مل رہی تھی۔ مشن اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ خان نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سیاسی جماعتیں خود بھی جے اے اے سی کا حصہ تھیں۔

خان نے مہاجرین کی 12 نشستوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ جموں اور وادی کشمیر کے مہاجرین کو سیاسی نمائندگی فراہم کرتی ہیں اور 1974 میں قائم کردہ آئینی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ ان نشستوں کو انتظامی حکم یا سڑکوں کے احتجاج کے نتیجے میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے تنازع کے حل کی ایک ممکنہ صورت کے طور پر سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر منظور گیلانی سے منسوب اس تجویز کا حوالہ دیا جس کے تحت مہاجرین کو ممکنہ طور پر پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ آزاد جموں و کشمیر کی انتخابی سیاست میں پاکستان کی مداخلت میں کمی نشستوں کے تنازع کے حل میں مددگار ہو سکتی ہے۔

اس کے باوجود خان نے انتخابی عمل کے بعض پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا استدلال تھا کہ نتائج کا اعلان پولنگ کی تکمیل کے بعد مرکزی طور پر الیکشن کمیشن کے بجائے انفرادی طور پر ریٹرننگ افسران کے ذریعے کرنے سے ان حلقوں کے ووٹنگ رجحانات متاثر ہو سکتے ہیں جہاں پولنگ ابھی باقی ہو۔ وہ انتخابات کو مرحلہ وار کے بجائے پورے آزاد جموں و کشمیر میں بیک وقت کرانے کے حامی تھے۔ یہ کہتے ہوئے کہ انہوں نے منظم دھاندلی نہیں دیکھی، انہوں نے جعلی ووٹوں کے امکان پر خدشات ظاہر کیے۔ جے اے اے سی پر تنقید کے باوجود انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس تحریک سے مکالمے پر آمادہ ہے۔

سیکیورٹی ماحول اور تشدد کے متضاد بیانات

مشن کو احتجاجوں کے دوران تشدد کی نوعیت اور پیمانے کے بارے میں سخت متضاد بیانات ملے۔ انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) آزاد جموں و کشمیر لیاقت علی ملک نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات کا دفاع کیا۔ انہوں نے مشن کو بتایا کہ 742 پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور جون کے بعد سے تقریباً 38 سیکیورٹی اہلکار، بشمول رینجرز کے ارکان، جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی صورت حال نے بعض اوقات سیکیورٹی اہلکاروں کو اپنے ساتھیوں کی میتیں تدفین کے لیے اٹھانے سے بھی روکے رکھا۔ تاہم ملک کا دعویٰ تھا کہ سیکڑوں شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات کی پولیس ریکارڈ سے تصدیق نہیں ہو سکتی، کیونکہ نہ میتیں موجود ہیں، نہ پوسٹ مارٹم، نہ لواحقین کے دعوے اور نہ کوئی دستاویزی ثبوت۔

آئی جی پی نے الزام لگایا کہ مظاہرین کے پاس ایم فور رائفلیں اور دیگر جدید ہتھیار تھے جو خود پولیس کو بھی میسر نہیں، اور یہ کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار فائرنگ کی زد میں آئے، جس سے ہلاکتیں اور شدید زخم آئے۔ انہوں نے میڈیا کوریج پر تنقید کی کہ اس نے، ان کی نظر میں، پولیس اہلکاروں کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کی مناسب رپورٹنگ نہیں کی۔ وہ بین الاقوامی میڈیا پر خاص طور پر تنقیدی تھے، جس پر انہوں نے پولیس اور حکومتِ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے جے اے اے سی کو ایک منظم حریف قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس کے ارکان کو جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل تھی۔ حکام نے ان دعووں کو سیکیورٹی ردعمل کے پیمانے اور مواصلاتی بندش کے جواز کے حصے کے طور پر پیش کیا۔

مشن اپنے دورے کے دوران ان تمام الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ ساتھ ہی اسے ایسے شہری اور سیاسی نمائندے بھی ملے جنہوں نے احتجاجوں کو "دہشت گردی کی کارروائیاں" قرار دینے کے حکام کے بیانیے کو مسترد کیا۔ ایل اے -16 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار قمر الزمان نے کہا کہ راولا کوٹ کے واقعات دہشت گردی نہیں بلکہ سیاسی احتجاج تھے اور استدلال کیا کہ سیاسی

شکایات کا حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیاسی ذرائع سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے انٹرنیٹ سروس کی طویل معطلی کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ اس نے آبادی کی مشکلات میں اضافہ کیا۔

ان بیانات کے درمیان تفاوت اہم ہے۔ پولنگ کے دوران مشن کے مشاہدات جے اے اے سی حامیوں کی جانب سے ووٹروں یا امیدواروں کو وسیع پیمانے پر ڈرانے دھمکانے کی نشاندہی نہیں کرتے۔ جے اے اے سی کے سیاسی مؤقف کے ناقدین نے بھی عمومی طور پر مشن کو بتایا کہ انہوں نے مظاہرین کو امیدواروں یا ووٹروں کو دھمکاتے یا افراد کو ووٹ کے حق کے استعمال سے جسمانی طور پر روکتے نہیں دیکھا۔

مواصلاتی بندش کے اثرات

انٹرنیٹ سروس کی معطلی مشن کے انٹرویوز کے دوران سب سے مستقل طور پر اٹھایا جانے والا مسئلہ تھی۔ سیاسی کارکنوں، صحافیوں، تاجروں، مقامی حکومتوں کے نمائندوں، انتخابی عہدیداروں، طلبہ، فری لانس کارکنوں اور دیگر مقامی باشندوں نے بندش کے اثرات بیان کیے۔ مشن نے مشاہدہ کیا کہ اس کے اثرات سیاسی رابطوں سے کہیں آگے تھے اور اس نے بینکاری، تعلیم، تجارت، ٹرانسپورٹ، صحافت اور روزمرہ معاشی و سماجی زندگی کے دیگر پہلوؤں کو درہم برہم کر دیا۔

باغ کے میئر اور ریٹائرڈ آرمی میجر قیوم بیگ نے ان نتائج کو بطور خاص سنگین قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعض نوجوان اس خلل کے باعث علاقہ چھوڑ گئے ، بینک طویل عرصے بند رہے، آن لائن بینکاری خدمات وقفے وقفے سے چلتی رہیں اور لوگوں کو نقدی تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ میونسپل کارپوریشن کے 60 سے زائد صفائی کارکنوں کو تقریباً دو ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کر سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ طلبہ بھی متاثر ہوئے : امتحانات ملتوی ہوئے اور آن لائن جائزے، بشمول انجینئرنگ اور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ ) سے متعلق امتحانات، معمول کے مطابق نہ ہو سکے۔

میئر نے جے اے اے سی اور حکومتی رد عمل دونوں پر تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر نے تاریخی طور پر اس بحران جیسی لا قانونیت کبھی نہیں دیکھی اور وسیع تر عدم استحکام کا کچھ حصہ سیاسی جوڑ توڑ اور حکومتوں کی بار بار تبدیلی سے منسوب کیا۔ ان کا استدلال تھا کہ جے اے اے سی کے سیاسی مطالبات کو طاقت کے بجائے سیاسی مکالمے سے حل کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے بینکاری اور انٹرنیٹ خدمات کی مسلسل معطلی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی نے مقامی انتظامیہ اور باشندوں کے لیے نمایاں مشکلات کھڑی کیں۔

انتخابی عہدیداروں نے آزادانہ طور پر تصدیق کی کہ مواصلاتی بندش نے عملی مشکلات پیدا کیں۔ ایک ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر (ڈی آر او) نے مشن کو بتایا کہ انٹرنیٹ سروس کی معطلی انتخابی انتظام کو متاثر کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن نے انتخابی عہدیداروں کے لیے انٹرنیٹ رسائی کی سہولت کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے رجوع کیا ہے۔ ضلعی انتخابی عہدیداروں نے مزید بتایا کہ پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دینے اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے فیصلے الیکشن کمیشن کے بجائے سیکیورٹی اداروں نے کیے۔

میڈیا پر پابندیاں

مشن نے پایا کہ مواصلاتی بندش کے مقامی صحافت پر خاص طور پر سنگین نتائج مرتب ہوئے۔ جی این این کے صحافی محمود راٹھور اور اے بی این کے گل نواز نے مشن کو بتایا کہ وہ معمول کے مطابق کام نہیں کر پا رہے کیونکہ انٹرنیٹ خدمات دو ماہ سے زائد عرصے سے دستیاب نہیں تھیں۔ راٹھور نے بتایا کہ صحافی رپورٹیں فائل کرنے کے لیے مری یا راولپنڈی جانے پر مجبور تھے۔ انہوں نے سیکیورٹی پاس کے حصول میں، بالخصوص دیہی علاقوں کے لیے، دشواریوں کی بھی اطلاع دی اور کہا کہ صحافیوں کو باضابطہ تحریری احکامات کے بجائے زبانی طور پر جے اے اے سی کی سرگرمیوں کی کوریج نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ راولا کوٹ جانے والی سڑک تک رسائی بھی مبینہ طور پر صحافیوں کے لیے محدود کر دی گئی تھی۔

راٹھور نے کہا کہ صحافیوں کو کئی اطراف سے دباؤ کا سامنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مقامی صحافیوں نے ممکنہ نتائج کے خوف سے جے اے اے سی کی سرگرمیوں کی کوریج سے گریز کیا اور الزام لگایا کہ سول حکام نے بھی تحریک کی میڈیا کوریج محدود کرنے کی کوشش کی ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب صحافی ایسی رپورٹیں شائع کرتے جنہیں تحریک پر تنقید سمجھا جاتا تو جے اے اے سی کے حامی بھی انہیں تنقید اور آن لائن ہراسانی کا نشانہ بنا سکتے تھے۔ انہوں نے ان دباؤوں کے مجموعی اثر کو آزاد رپورٹنگ کے لیے خاص طور پر دشوار قرار دیا۔

مشن کو صحافیوں کی گرفتاری اور حراست سے متعلق بیانات بھی موصول ہوئے۔ سوشل میڈیا پر رپورٹنگ کرنے والے سردار اویس پر مبینہ طور پر نقض امن کی روک تھام کے آرڈیننس کی دفعہ 16 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت اکتوبر 2025 میں جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے ایک سابقہ واقعے کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا گیا۔ اسی طرح صحافی محمد فضائل پر مبینہ طور پر ایک سابقہ جے اے اے سی احتجاج کی کوریج پر نقض امن آرڈیننس کی دفعہ 16 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور وہ ڈھیر کوٹ پولیس اسٹیشن میں زیر حراست تھے۔

ایک اور پولنگ اسٹیشن پر موجود صحافیوں نے مشن کو الگ سے بتایا کہ ان کے تین ساتھیوں کو ایک سابقہ احتجاج سے متعلق ایف آئی آر میں "نامعلوم افراد" کے طور پر درج کر کے گرفتار کیا گیا اور پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا۔ مشن ان حراستوں کی قانونی بنیاد کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

متعدد صحافیوں نے کہا کہ خصوصی سیکیورٹی پاسوں کے تقاضوں نے انتخابات کی کوریج کی ان کی صلاحیت کو مزید محدود کر دیا، اور بعض کو مبینہ طور پر صرف ایک دن کے لیے کارآمد پاس ملے۔

مشن اس لیے نوٹ کرتا ہے کہ جے اے اے سی سے متعلق سرگرمیوں تک رسائی اور کوریج پر پابندیوں کے مجموعی اثر نے – ان الزامات کے ساتھ کہ جے اے اے سی کے حامیوں نے بھی ان صحافیوں پر دباؤ ڈالا جن کی رپورٹنگ انہیں ناموافق لگی – آزاد رپورٹنگ کی گنجائش ایک ایسے وقت میں تنگ کر دی جب احتجاجوں، ہلاکتوں، گرفتاریوں اور انتخابی عمل سے متعلق قابل اعتماد اور آزادانہ طور پر قابل تصدیق معلومات کی خاص اہمیت تھی۔

سکیورٹی تعیناتی اور انتخابی ماحول

مشن نے پولنگ کے تیسرے مرحلے سے قبل باغ میں سکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کا مشاہدہ کیا۔ پولیس، فرنٹیر کانسٹیبلری اور رینجرز کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات تھے۔ متعدد فریقین نے "ہزاروں" پنجاب پولیس اہلکاروں کی موجودگی کا ذکر کیا۔ پیپلز پارٹی کے کنٹرول سیل کے سربراہ سردار سہیل حسن نے اندازہ لگایا کہ باغ میں تقریباً 9,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھاری سکیورٹی موجودگی سیاسی متحرک کاری میں مشکلات پیدا کر رہی ہے اور توقع ظاہر کی کہ ووٹر ٹرن آؤٹ سابقہ انتخابات سے خاصا کم رہے گا۔

پیپلز پارٹی کے الیکشن سیل سے وابستہ چوہدری امان اللہ مانی نے بتایا کہ علاقے میں ووٹر ٹرن آؤٹ روایتی طور پر تقریباً 40 فیصد رہا ہے مگر انٹرنیٹ بندش اور سکیورٹی اہلکاروں کی نمایاں موجودگی کا امتزاج شرکت کم کرنے کا امکان رکھتا ہے۔ انہوں نے سابقہ مراحل کے دوران سرکاری نوٹیفکیشنوں اور نتائج کے تیز رفتار اجرا پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے ووٹروں میں بے یقینی پیدا ہوئی اور ممکنہ جوڑ توڑ کے الزامات کو تقویت ملی۔

جماعت اسلامی کے ایک الیکشن کیمپ پر جماعت کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل راجہ احمد نے کہا کہ جے اے اے سی کے بائیکاٹ نے مہم کی سیاسی حرارت کم کر دی اور خوف کی فضا میں حصہ ڈالا۔ انہوں نے سکیورٹی تعیناتی کے پیمانے کو حد سے زیادہ قرار دیا اور استدلال کیا کہ انتخابات کا مرحلہ وار انعقاد "پری پول دھاندلی" کے مترادف ہے۔ جماعت اسلامی کے عثمان احمد نے اسی طرح کہا کہ اگرچہ امیدواروں کو انتخابی عمل میں رسمی طور پر ایک حد تک برابری فراہم کی گئی، مگر بھاری سکیورٹی موجودگی، تشدد اور انٹرنیٹ بندش نے مہم کے ماحول کو منفی طور پر متاثر کیا اور پری پول جوڑ توڑ کے تاثر کو تقویت دی۔

تاہم ایل اے-14 کے غازی آباد پولنگ اسٹیشن پر مشن کے براہِ راست مشاہدات سے ظاہر ہوا کہ ووٹنگ منظم انداز میں جاری تھی۔ تقریباً صبح 10 بجے تک 1,200 سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں میں سے تقریباً 400 اپنا ووٹ ڈال چکے تھے۔ پولنگ اسٹیشن پر موجود مرد یا خواتین ووٹروں کی جانب سے مشن نے کوئی فوری شکایت نہیں دیکھی۔

ووٹر ٹرن آؤٹ اور رضا کارانہ بائیکاٹ

مشن نے ووٹر شرکت میں نمایاں تفاوت کا مشاہدہ کیا۔ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ریڑہ اور سردار صالح محمد خان شہید گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول ریڑہ میں پولنگ عملے نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشنوں پر 3,000 سے زائد ووٹر رجسٹرڈ تھے مگر سہ پہر 3 بجے تک صرف تقریباً 70 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ عملے نے بالخصوص کہا کہ ووٹروں کو نہ جسمانی طور پر دھمکایا گیا اور نہ پولنگ اسٹیشن آنے سے روکا گیا، اور کم ٹرن آؤٹ کو رضا کارانہ بائیکاٹ سے منسوب کیا۔

پولنگ اسٹیشنوں کے باہر جمع افراد نے بڑی حد تک اس بیان کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے عدم اطمینان، جے اے اے سی کے 38 نکاتی چارٹر کی حمایت اور بہتر حکمرانی کے مطالبات کے باعث انتخابات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ بعض نے انتخاب کو بے معنی یا جعلی قرار دیا اور قومی میڈیا پر احتجاجوں کی کوریج نہ کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے یہ رائے بھی ظاہر کی کہ حکومتِ پاکستان نے اس معاملے میں غیر ضروری مداخلت کی جسے وہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام اور حکومت کے درمیان تنازع سمجھتے تھے۔

ساتھ ہی مشن کو انٹرویو دینے والوں سے ایسے شواہد نہیں ملے کہ جے اے اے سی کے حامیوں نے ووٹروں کو منظم طور پر گھروں میں رہنے پر مجبور کیا ہو۔ جے اے اے سی کے سیاسی موقف سے اختلاف رکھنے والے افراد نے بھی عمومی طور پر یہ نہیں بتایا کہ انہیں دھمکایا گیا یا انتخابات میں شرکت سے جسمانی طور پر روکا گیا۔

یہ فرق بائیکاٹ کی نوعیت کے جائز ے کے لیے اہم ہے۔ مشن کو سیاسی محرک پر مبنی بائیکاٹ اور ووٹر بے دلی کے شواہد ملے ، مگر پولنگ کے مشاہدے کے دوران اس کے محدود شواہد ملے کہ مظاہرین ووٹروں کو جسمانی طور پر مجبور کر رہے تھے۔

خواتین کی شرکت اور عدم تحفظ کا احساس

مشن نے خواتین کی خاص طور پر کم شرکت کا مشاہدہ کیا۔ ضلعی سطح کے مشاہدات اور انٹرویوز سے ظاہر ہوا کہ خواتین کی شرکت سے گریز کم از کم جزوی طور پر عدم تحفظ کی وسیع تر فضا سے متاثر تھا۔ مشن کے سامنے جن عوامل کا ذکر کیا گیا ان میں 9 جون 2026 کو کوٹلی کے ایک ہسپتال میں ایک خاتون مریضہ کو مبینہ طور پر گولی مارے جانے کا واقعہ، راولا کوٹ احتجاجوں کے دوران خواتین مظاہرین کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جانا، اور ایک خاتون کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جانا شامل تھے۔ مشن کو ایک لانگ مارچ کے دوران ہوائی فائرنگ سے ہلاکتوں کی اطلاعات بھی دی گئیں۔

ان بیانات کی آزادانہ تصدیق درکار ہے۔ اس کے باوجود یہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بدامنی اور بعد کے سیکیورٹی اقدامات نے خواتین میں کس حد تک خوف پیدا کیا ہوگا اور انتخابی عمل میں شرکت کی ان کی خواہش یا صلاحیت کو متاثر کیا ہو گا۔

باغ کے گورنمنٹ پائلٹ ہائی اسکول پولنگ اسٹیشن پر اساتذہ، صحافیوں، تاجروں اور ووٹروں نے بھی انٹرنیٹ بندش کو اپنا بنیادی مسئلہ قرار دیا۔ اساتذہ نے مشن کو بتایا کہ بہت سے نوجوانوں نے انتخاب میں حصہ نہیں لیا کیونکہ وہ سیاسی قیادت سے اپنے مسائل کے حل کی توقع رکھتے تھے اور سیاسی عمل پر اعتماد کھو چکے تھے۔ انہوں نے جے اے اے سی کے مطالبات کی حمایت اور پونچھ کے لوگوں کو "دہشت گرد" یا "غیر کشمیری" قرار دیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پونچھ کی سیاسی متحرک کاری کی تاریخ پر زور دیا اور استدلال کیا کہ اس پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ جواب دہندگان نے اس امر پر بھی ناراضی ظاہر کی کہ حکام حقیقی شکایات سننے میں ناکام رہے اور ایسی شکایات بیان کرنے والوں کو "دہشت گرد" یا "غدار" کے القاب دیے گئے۔

معاشی اور تجارتی نتائج

بحران کے نمایاں معاشی نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ انجمن تاجران کے ایک سینئر نمائندے نے باغ کے حلقہ ایل اے-16 کے پولنگ اسٹیشن پر مشن کو بتایا کہ بینکوں کی بیک وقت بندش، ٹرانسپورٹ میں خلل اور انٹرنیٹ خدمات کی معطلی سے کاروبار شدید متاثر ہوئے۔ اگرچہ وہ اور دیگر تاجر پہلے جے اے اے سی کی حمایت کرتے رہے تھے، انہوں نے کہا کہ اب وہ تحریک کے حامی نہیں رہے۔

ایک چھوٹے تاجر نے، جو بقول ان کے سنار کا کاروبار چلاتے ہیں، بتایا کہ ان کا کاروبار ابتدا میں پابندیوں سے شدید متاثر ہوا مگر اب بحالی کی جانب گامزن ہے۔ فوٹو کاپی کا کاروبار کرنے والے ایک اور تاجر نے مشن کو بتایا کہ ان کا کاروبار بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

ایک فاسٹ فوڈ کاروبار کے مالک نے کریک ڈاؤن کے بعد کی صورت حال کو، بقول ان کے، شدید معاشی مشکلات کے طور پر بیان کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب آزاد جموں و کشمیر کے اندر اور باہر جانے والے راستے بند تھے تو باقی ماندہ رسد کے راستے پر سیکیورٹی چوکیوں نے ایک لاکھ سے دو لاکھ روپے تک کی ادائیگیوں کا مطالبہ کیا۔ مشن اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

ایک اور تاجر نے بتایا کہ راولپنڈی سے آٹے کی 16 بوریاں لانے والے ان کے ایک ساتھی کو مبینہ طور پر ایک سیکیورٹی چوکی پر روکا گیا اور آگے جانے کی اجازت سے قبل فی بوری 400 روپے وصول کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خوراک دستیاب تو رہی مگر نمایاں طور پر بلند قیمتوں پر، اور کمپنیوں نے پابندیوں کے باعث ترسیل کم کر دی۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کشمیری شناختی کارڈ رکھنے والی گاڑیوں کو چوکیوں پر روکا جا رہا تھا، جس سے نقل و حرکت محدود ہو رہی تھی۔

یہ بیانات طویل پابندیوں کے وسیع تر معاشی نتائج کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے اثرات احتجاج میں براہ راست شریک افراد سے آگے بڑھ کر تاجروں، ملازمین، طلبہ، ٹرانسپورٹ آپریٹرز، کاروباروں اور سرکاری اداروں تک پھیل گئے۔

مقامی حکومت اور ادارہ جاتی خدشات

میرقیوم بیگ نے مقامی حکومتی اداروں کے کام کاج سے متعلق خدشات بھی اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد بلدیاتی نظام کے ڈھانچے میں ترامیم اس مقصد سے متعارف کرائی گئیں کہ مقامی ادارے ترقیاتی فنڈز حاصل کر سکیں، مگر آزاد جموں و کشمیر اسمبلی نے مطلوبہ فنڈنگ فراہم نہیں کی۔ انہوں نے اسے منتخب مقامی حکومتی اداروں کو بااختیار بنانے سے وسیع تر گریز کا نتیجہ قرار دیا۔بیگ نے سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر انوار الحق سے مبینہ طور پر منسوب تبصروں کا بھی حوالہ دیا، جنہیں انہوں نے ترقیاتی فنڈز مقامی اداروں کو منتقل کرنے کی مخالفت کے عکاس کے طور پر لیا۔

انہوں نے بحران کے دوران تعلیم کے معاملات پر بھی تنقید کی۔بیگ کے مطابق انٹرمیڈیٹ کے امتحانات متاثر ہوئے، آن لائن انجینئرنگ امتحانات شیڈول کے مطابق منعقد نہ ہو سکے اور ایم ڈی کیٹ بھی متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جامعات میں داخلے کے خواہش مند طلبہ اپنی درخواستیں مکمل نہیں کر سکے۔ چنانچہ یہ خلل سیاسی حقوق اور امن عامہ سے متعلق فوری خدشات سے آگے بڑھ کر بنیادی تعلیمی اور انتظامی امور تک پھیل گیا۔

انتخابی نظام اور ادارہ جاتی خودمختاری

انتخابی عہدیداروں سے مشن کی گفتگو سے ظاہر ہوا کہ انتخابات کا انتظام مشکل حالات میں ہو رہا تھا۔ ایک ڈی آر او نے بتایا کہ انتخابی سامان پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچ گیا تھا اور انتخابی عملے کو کوئی نمایاں مسئلہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ فارم 24 امیدواروں کے نمائندوں کی موجودگی میں پریزائیڈنگ افسران کو فراہم کیا گیا اور نتائج کی تصدیق شدہ نقول متعلقہ پولنگ عہدیداروں کو دی گئیں۔

ساتھ ہی انتخابی انتظامیہ ایک وسیع تر سیکیورٹی ڈھانچے کے اندر کام کرتی نظر آئی جس میں انتخابات کے انعقاد پر اثر انداز ہونے والے بعض فیصلے اس کے براہ راست اختیار سے باہر ہو رہے تھے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشنوں کی حساسیت کی درجہ بندی اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے فیصلے الیکشن کمیشن کے بجائے سیکیورٹی اداروں نے کیے۔ الیکشن کمیشن نے خود انتخابی عہدیداروں کے لیے انٹرنیٹ رسائی کی بحالی کی درخواست کی تھی۔ تاہم انٹرنیٹ خدمات کی مسلسل معطلی نے اس کا کام کہیں زیادہ دشوار بنا دیا تھا۔

یہ فرق اس ادارہ جاتی ماحول کے جائزے کے لیے اہم ہے جس میں انتخابات منعقد ہوئے۔ اگرچہ مشن نے اپنے دورہ کردہ پولنگ اسٹیشنوں پر منظم انتظامی مداخلت کا مشاہدہ نہیں کیا، انتخابی عہدیدار ایسے سیکیورٹی اور مواصلاتی انتظامات کے تحت کام کر رہے تھے جو انتخابی اہم، معلومات تک رسائی، رابطوں اور انتخابی عمل سے متعلق دیگر شرائط کو متاثر کرتے تھے۔

راولا کوٹ میں پولنگ کا التوا اور سیکیورٹی حکام کا موقف

باغ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر مشن سے ملاقات میں آئی جی پی آزاد جموں و کشمیر لیاقت علی ملک نے راولا کوٹ میں پولنگ کے التوا کا دفاع کیا۔ انہوں نے اس فیصلے کو "مٹھی بھر لوگوں" سے منسوب کیا جنہوں نے بقول ان کے انتخابی سامان اور ووٹروں کی پولنگ اسٹیشنوں تک منتقلی روک دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حالات سازگار ہونے پر انتخابات کرائے جائیں گے، مگر کوئی مخصوص وقت نہیں بتایا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ مرحلہ وار انتخابات ووٹروں کے تاثرات کو متاثر کر سکتے ہیں یا ان جماعتوں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں جن کے امیدوار پہلے ہی نشستیں جیت چکے ہوں، تو آئی جی پی نے استدلال کیا کہ مسلح تشدد کا نفسیاتی اثر اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اور عدم تحفظ کے حالات میں انتخابات کرانے سے ان کا التوا بہتر ہے۔

ملک نے دہرایا کہ 742 پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور جون 2026 کے بعد سے تقریباً 38 سیکیورٹی اہلکار، بشمول رینجرز کے ارکان، جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے یہ اعداد و شمار سیکیورٹی صورت حال کی سنگینی کے ثبوت اور پولنگ کے التوا اور سیکیورٹی اہلکاروں کی وسیع تعیناتی کے جواز کے طور پر پیش کیے۔

راولا کوٹ تک رسائی اور آزاد مشاہدے کی حدود

مشن نے بد امنی کے مرکزی مراکز میں سے ایک، راولا کوٹ، جانے کی کوشش کی مگر ایسا نہ کر سکا۔ مشن کے ارکان ڈپٹی کمشنر سے بھی ملاقات نہ کر سکے، جو مبینہ طور پر اسٹیشن سے باہر تھے اور انہوں نے ٹیم کو اسسٹنٹ کمشنر کے پاس بھیجا، جنہوں نے باغ میں ٹیم سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ۔ بار بار کوششوں کے باوجود مشن اسسٹنٹ کمشنر سے بھی ملاقات نہ کر سکا۔ لہٰذا مشن اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے راولا کوٹ جانے کے لیے ضروری انتظامی سہولت میسر نہیں آسکی۔ ٹیم نے متبادل راستہ استعمال کرنے کی کوشش بھی کی مگر یہ گھنے درختوں کے باعث بند تھا۔

یہ حد اس لیے اہم ہے کہ راولا کوٹ سنگین ترین تشدد کے مقامات میں سے ایک اور بحران سے جڑے تنازع کا مرکز تھا۔ اس علاقے میں براہ راست مشاہدے سے محرومی نے ہلاکتوں، طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور انتخابی عمل میں خلل سے متعلق الزامات کے آزادانہ جائزے کی مشن کی صلاحیت کو محدود کر دیا۔ چنانچہ یہ رپورٹ ، جہاں ممکن ہو، مشن کے براہ راست مشاہدہ کردہ امور اور ان علاقوں کے واقعات سے متعلق جواب دہندگان کے الزامات یا بیانات میں فرق برقرار رکھتی ہے جہاں مشن کو رسائی حاصل نہیں تھی۔

مشاہدات اور تجزیہ

مجموعی طور پر مشن کے انٹرویوز بحران کے دیگر پہلوؤں پر خاصے اختلاف کے باوجود ایک نکتے پر قابل ذکر ہم آہنگی ظاہر کرتے ہیں: بنیادی سیاسی تنازع کا حل بالآخر سیاسی ذرائع سے ہونا چاہیے تھا۔ یہ رائے جے اے اے سی کے حامی شہریوں، اس کے طریقوں سے اختلاف رکھنے والی سیاسی شخصیات، باغ کے میئر اور سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عتیق احمد خان نے ظاہر کی- عوامی خدمات اور معاشی سرگرمیوں میں خلل پر جے اے اے سی پر سخت تنقید کرنے والوں نے بھی تسلیم کیا کہ اس کی بعض بنیادی شکایات جائز ہیں اور انہیں صرف طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس جے اے اے سی کے حامیوں نے حکومتی ردعمل کو دیرینہ عوامی خدشات کے ازالے میں سیاسی اداروں کی ناکامی کا ثبوت قرار دیا۔

مشن نے انتخابات کے سیاسی رد اور ووٹنگ میں جسمانی رکاوٹ کے درمیان ایک اہم فرق کی بھی نشاندہی کی- دورہ کردہ پولنگ مقامات پر انتخابی عملے نے عمومی طور پر بتایا کہ وہ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل رہے اور ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن آنے سے جسمانی طور پر نہیں روکا گیا۔ بعض علاقوں میں کم ٹرن آؤٹ مظاہرین کی منظم جسمانی دھمکیوں کے بجائے رضا کارانہ بائیکاٹ، سیاسی مایوسی، خوف اور مواصلاتی بندش و سیکیورٹی ماحول کے وسیع تر اثرات کے امتزاج کا عکاس معلوم ہوا۔ ساتھ ہی سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری تعیناتی، راولاکوٹ اور دیگر حلقوں میں پولنگ کے التوا، اور انتخابات کے مرحلہ وار انعقاد نے اس سیاسی اور نفسیاتی ماحول کو متاثر کیا جس میں ووٹروں اور امیدواروں نے شرکت کی۔

چنانچہ مشن کے مشاہدات ایک پیچیدہ اور شدید منقسم صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں جسے کسی ایک بیانیے سے پوری طرح سمجھا نہیں جا سکتا۔ حکومت اور سیکیورٹی حکام نے بحران کو ایک منظم مسلح چیلنج قرار دیا جو وسیع سیکیورٹی اقدامات کا متقاضی تھا، جبکہ جے اے اے سی کے حامیوں اور متعدد سیاسی کرداروں نے اسے بنیادی طور پر ایک ایسی سیاسی تحریک سمجھا جس کی شکایات کا جواب حد سے زیادہ طاقت سے دیا گیا۔ صحافیوں نے ریاستی حکام اور جے اے اے سی حامیوں دونوں کی جانب سے دباؤ کی اطلاع دی، جبکہ انٹرنیٹ خدمات کی طویل معطلی نے معاشرے کے متعدد شعبوں کو متاثر کیا۔ انتخابی عہدیدار پولنگ کے لیے درکار بنیادی انتظامی عمل برقرار رکھتے نظر آئے مگر وہ نمایاں سیکیورٹی اور مواصلاتی قیود کے اندر کام کر رہے تھے۔ ساتھ ہی شہری رابطہ خدمات کی معطلی، حکمرانی، سیاسی نمائندگی اور بنیادی تنازع کے حل میں سیاسی اداروں کی ناکامی پر خدشات کا اظہار کرتے رہے۔

مشن کے نتائج بتاتے ہیں کہ انتخابی عمل ایک ایسے ماحول میں ہوا جو حل طلب سیاسی شکایات، بڑھتے ہوئے عدم تحفظ، مواصلاتی پابندیوں اور آزاد مشاہدے کی نمایاں حدود سے عبارت تھا۔ یہ حالات بذات خود یہ ثابت نہیں کرتے کہ انتخابات میں منظم جوڑ توڑ ہوا یا ووٹروں کو منظم طور پر حقوق کے استعمال سے روکا گیا۔ تاہم یہ اس امر پر جائز خدشات ضرور اٹھاتے ہیں کہ تمام شہری اور سیاسی کردار کس حد تک ایک ایسے ماحول میں شرکت کر سکے جو آزاد، باخبر اور با معنی سیاسی انتخاب کے لیے سازگار ہو۔

نتیجہ

مشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کا 2026 کا بحران دیرینہ سیاسی اور سماجی و معاشی شکایات، ادارہ جاتی بے اعتمادی، حکمرانی کی خامیوں اور بڑھتے ہوئے محاذ آرا ریاستی ردعمل - بشمول غیر مناسب طاقت کے استعمال - کا نتیجہ تھا۔ اگرچہ جے اے اے سی کی نوعیت، تشدد کے پیمانے اور اسباب، اور سیکیورٹی فورسز کے طرز عمل پر بیانات میں شدید اختلاف تھا، سیاسی اور سماجی فریقین میں اس امر کا وسیع اعتراف موجود تھا کہ بنیادی شکایات کا جواب سیاسی ہونا چاہیے۔ مسلسل مکالمے کی جگہ جبری اقدامات کے سہارے نے بظاہر تقسیم کو گہرا اور عوامی اعتماد کو کمزور کیا۔

بحران کے اثرات انتخابات سے آگے حقوق اور آزادیوں کے ایک وسیع دائرے پر مرتب ہوئے، جن میں حق زندگی، آزادی اور ذاتی تحفظ؛ اظہار رائے، پرامن اجتماع اور انجمن سازی کی آزادی؛ نقل و حرکت کی آزادی؛ معلومات تک رسائی؛ اور عوامی امور میں شرکت شامل ہیں۔ طویل انٹرنیٹ اور موبائل بندشوں، نقل و حرکت پر پابندیوں، ضروری اشیا اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں خلل، فعالیت پسندوں اور صحافیوں کی گرفتاریوں اور حراستوں، اور انسداد دہشت گردی و احتیاطی حراست کی دفعات کے استعمال نے مجموعی طور پر آزاد جموں و کشمیر میں شہری دائرے کو تنگ کر دیا۔

مشن مظاہرین کے خلاف مہلک اور حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات پر خاص طور پر فکر مند ہے۔ اگرچہ حکام نے سیکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان کے اعداد و شمار فراہم کیے - بشمول آئی جی پی کا یہ بیان کہ جون کے بعد سے تقریباً 38 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق اور 742 پولیس اہلکار زخمی ہوئے - مشن کو شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کے بارے میں اسی درجے کی مصدقہ معلومات موصول نہیں ہوئیں - اسے متعدد ایسے بیانات ملے جن میں الزام تھا کہ مظاہرین سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے یا شدید زخمی ہوئے، مگر وہ ان کے مکمل پیمانے یا حالات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا، بالخصوص راولاکوٹ میں، جہاں رسائی میسر نہیں تھی۔ یہ حدود اس ضرورت کو کم نہیں کرتیں بلکہ اجاگر کرتی ہیں کہ تمام ہلاکتوں اور شدید زخمی ہونے کے واقعات کی فوری، آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات ہوں، بشمول اس امر کی کہ آیا طاقت کا استعمال قانونی، ضروری اور مناسب تھا۔

مشن سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور احتجاجوں سے وابستہ دیگر افراد کی من مانی یا ناکافی دستاویزی گرفتاریوں اور حراستوں کی اطلاعات پر بھی فکر مند ہے۔ کم از کم 147 جے اے اے سی کارکنوں کی فورتھ شیڈول میں شمولیت - جس میں بعد ازاں مبینہ طور پر مزید نام شامل کیے گئے - اور سیاسی اختلاف رکھنے والے افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کا استعمال ضرورت اور تناسب کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ انسداد دہشت گردی اور احتیاطی حراست کے اختیارات پرامن سیاسی سرگرمی کو جرم بنانے کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہئیں اور انہیں سخت قانونی ضمانتوں، عدالتی نگرانی اور مؤثر داد رسی کے تابع رہنا چاہیے۔

صحافت اور معلومات تک رسائی پر پابندیوں نے شہری دائرے کو مزید محدود کیا۔ صحافیوں کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف قانونی کارروائیوں، متاثرہ علاقوں تک رسائی پر پابندیوں، خصوصی سیکیورٹی تقاضوں اور طویل مواصلاتی بندش نے آزاد رپورٹنگ کو شدید محدود کر دیا۔ مشن کو ایسے الزامات بھی موصول ہوئے کہ جے اے اے سی کے حامیوں نے ان صحافیوں پر دباؤ ڈالا جن کی رپورٹنگ کو ناموافق سمجھا گیا۔ اس کا مجموعی اثر ایک ایسے وقت میں آزاد رپورٹنگ میں نمایاں کمی کی صورت میں نکلا جب ہلاکتوں، گرفتاریوں، طاقت کے استعمال اور انتخابی عمل کے بارے میں قابل اعتماد معلومات ناگزیر تھیں۔

مواصلاتی بندش نے بینکاری، تعلیم، تجارت، ٹرانسپورٹ، عوامی انتظامیہ اور صحت کی سہولیات کو بھی درہم برہم کیا۔ اس کی مدت اور جغرافیائی وسعت اس کی قانونی حیثیت، ضرورت اور تناسب کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔ امن عامہ یا سکیورٹی کے مقاصد کے تحت مواصلات پر عائد پابندیوں کی واضح قانونی بنیاد ہونی چاہیے اور انہیں کسی جائز مقصد کے لیے سختی سے ضروری اور تناسب ہونا چاہیے۔

انتخابات اسی محدود شہری ماحول میں منعقد ہوئے۔ دورہ کردہ پولنگ اسٹیشنوں پر مشن کو جے اے اے سی حامیوں کی جانب سے ووٹروں پر منظم جسمانی جبر کے محدود شواہد ملے اور اس نے مشاہدہ کیا کہ بعض علاقوں میں کم ٹرن آؤٹ بظاہر رضا کارانہ بائیکاٹ، سیاسی مایوسی اور عدم تحفظ کا عکاس تھا۔ تاہم اس سے انتخابی ساکھ کے وسیع تر خدشات حل نہیں ہوتے۔ بھاری سکیورٹی تعیناتی، مواصلاتی پابندیوں، بڑے سیاسی کرداروں کے بائیکاٹ، مرحلہ وار پولنگ، ملتوی حلقوں اور بے ضابطگیوں کے الزامات نے ان حالات کو متاثر کیا جن میں شہریوں نے اپنے سیاسی حقوق استعمال کیے۔ راولا کوٹ تک مشن کی عدم رسائی نے انتخابی تنازع کے مرکزی واقعات کے آزادانہ جائزے کو مزید محدود کر دیا۔

انتخابات کی ساکھ کا انحصار صرف پولنگ کے انعقاد پر نہیں بلکہ اس وسیع تر ماحول پر بھی ہے جس میں ووٹر، امیدوار، سیاسی جماعتیں، صحافی اور سول سوسائٹی اپنے حقوق استعمال کر سکیں۔ لہذا 2026 کے انتخابی عمل کا جائزہ ان پابندیوں اور مبینہ خلاف ورزیوں کے تناظر میں لیا جانا چاہیے جو اس سے پہلے اور اس کے دوران جاری رہیں۔

ایچ آر سی پی کے نزدیک مجموعی شواہد ریاستی ردعمل کی قانونی حیثیت اور تناسب کی آزادانہ جانچ کے متقاضی ہیں، بشمول مبینہ ماورائے قانون ہلاکتیں اور حد سے زیادہ طاقت، گرفتاریاں اور حراستیں، انسداد دہشت گردی اور احتیاطی حراست کے قوانین کا استعمال، پرامن اجتماع اور نقل و حرکت پر پابندیاں، اور آزاد صحافت و مواصلات پر قدغنیں۔ اسی طرح انتخابی عمل کا آزادانہ جائزہ بھی ضروری ہے، بشمول بائیکاٹ، سکیورٹی پابندیوں، مواصلاتی بندش، مرحلہ وار پولنگ اور ملتوی حلقوں کے سیاسی شرکت اور انتخابی ساکھ پر اثرات کا۔

سفارشات

اپنے نتائج کی روشنی میں مشن درج ذیل مخصوص سفارشات پیش کرتا ہے:

ہلاکتوں، زخمیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔ تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول ایک آزاد اور غیر جانبدار ادارہ جون 2026 کے بعد کے تمام بڑے واقعات کی تحقیقات کرے، بشمول ہلاکتیں، زخمی ہونے کے واقعات، مبینہ ماورائے قانون قتل، حد سے زیادہ طاقت کا استعمال، من مانی حراست اور دیگر رپورٹ شدہ خلاف ورزیاں۔ تحقیقات میں مظاہرین، متاثرین کے اہل خانہ، صحافیوں، سول سوسائٹی، سیاسی نمائندوں، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کے بیانات سنے جائیں۔ اس کے نتائج عام کیے جائیں اور ان کے بعد مناسب قانونی اور ادارہ جاتی کارروائی ہو۔ احتساب ریاستی عہدیداروں اور مظاہرین دونوں پر لاگو ہو جہاں شواہد سے انفرادی ذمہ داری ثابت ہو۔

قانونی ضابطے کی پاسداری یقینی بنائی جائے اور احتجاجوں سے پیدا ہونے والے مقدمات کا جائزہ لیا جائے۔ احتجاجوں کے سلسلے میں گرفتار ہر شخص کو فوری طور پر مجاز عدالت میں پیش کیا جائے، اسے گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے اور قانونی مشاورت تک رسائی دی جائے۔ کسی شخص کو خفیہ حراست (بلا رابطہ) میں نہ رکھا جائے۔ مظاہرین، فعالیت پسندوں، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے، اور جو افراد محض پرامن سیاسی سرگرمی، حکومتی پالیسیوں پر تنقید یا قانونی اجتماع کی بنا پر حراست میں ہیں یا زیرِ مقدمہ ہیں انہیں رہا کیا جائے اور مقدمات واپس لیے جائیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے پرامن اختلافِ رائے اور تشدد یا دیگر قابلِ دست اندازی جرائم پر مبنی طرزِ عمل میں فرق کریں۔

انسدادِ دہشت گردی اور احتیاطی حراست کی دفعات کے استعمال کا جائزہ لیا جائے۔ جے اے اے سی پر پابندی اور اس کے بعد اس کے ارکان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے استعمال پر نظر ثانی کی جائے۔ فورتھ شیڈول میں شمولیت اور دیگر واچ لسٹ یا احتیاطی حراست کے اقدامات مخصوص شواہد پر مبنی ہوں، متاثرہ افراد کو ان سے آگاہ کیا جائے اور یہ قانونی ضابطے، عدالتی نگرانی اور مؤثر داد رسی کے تابع ہوں۔ سیاسی تحریکوں کو محض اس بنا پر خودکار طور پر سیکیورٹی خطرہ نہ سمجھا جائے کہ وہ نمایاں عوامی شکایات کی نمائندگی کرتی ہیں۔

اظہارِ رائے، پرامن اجتماع اور آزاد صحافت کا تحفظ کیا جائے۔ سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی کی تنظیمیں، صحافی اور شہری بغیر کسی دھمکی، ہراسانی یا اجتماعی سزا کے شکایات کا اظہار کر سکیں، پرامن طور پر منظم ہو سکیں اور عوامی امور پر رپورٹنگ کر سکیں۔ صحافیوں کو احتجاج اور تنازع سے متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل ہو، جو صرف محدود اور قانونی سیکیورٹی پابندیوں کے تابع ہو، اور انہیں جائز صحافتی سرگرمی پر گرفتاری یا انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت صحافیوں کو غیر ریاستی عناصر کے دباؤ یا دھمکیوں سے بھی تحفظ فراہم کرے۔

مواصلات اور نقل و حرکت پر غیر مناسب پابندیاں ختم کی جائیں۔ انٹرنیٹ یا موبائل خدمات کی کسی بھی معطلی کی واضح قانونی بنیاد ہو اور وہ ضرورت، تناسب اور متعین مدت کے تقاضوں پر پوری اترے، جس پر آزاد نگرانی اور نظرثانی کے راستے موجود ہوں۔ نقل و حرکت پر غیر ضروری پابندیاں واپس لی جائیں۔ آزاد سیلولر آپریٹرز کو آزاد جموں و کشمیر میں کام کرنے کی اجازت دی جائے

تا کہ مسابقت کو فروغ ملے اور اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن (ایس سی او) پر انحصار کم ہو، جہاں یہ قابلِ اطلاق قانون اور سیکیورٹی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

ضروری اشیا، صحت، تعلیم اور ذرائع معاش تک رسائی کا تحفظ کیا جائے۔ سیکیورٹی اقدامات اور پابندیاں خوراک، ادویات، ہسپتالوں، تعلیم، بینکاری، ٹرانسپورٹ یا ذرائع معاش تک رسائی میں غیر ضروری رکاوٹ نہ بنیں۔ جہاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ اور شدید زخمی افراد کو مناسب معاوضے، علاج اور بحالی تک رسائی حاصل ہو، ان کے قانونی چارہ جوئی کے حق کو متاثر کیے بغیر۔

بنیادی شکایات پر ایک جامع سیاسی مکالمہ شروع کیا جائے۔ حکومت ایک وسیع البنیاد اور منظم مکالمے کا اہتمام کرے جس میں جے اے اے سی کے نمائندے، سیاسی جماعتیں، منتخب نمائندے، وکلا، سول سوسائٹی، صحافی اور دیگر متعلقہ فریق شامل ہوں۔ یہ عملِ حکمرانی، سرکاری اخراجات اور مراعات، احتساب، خدمات کی فراہمی، سیاسی نمائندگی اور آزاد جموں و کشمیر کے منتخب اداروں اور خطے سے باہر کی اتھاریٹیز کے تعلق سے متعلق خدشات کا احاطہ کرے۔ جائز سیاسی مطالبات کا حل شفاف ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے کیا جائے، نہ کہ عارضی رعایتوں کے ذریعے جن کے بعد نئی محاذ آرائی جنم لے۔

سیاسی تنازعات کے حل کا ایک مستقل ادارہ قائم کیا جائے ۔ آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتیں مل کر ایک مستقل اور جامع مشاورتی ادارہ قائم کریں جو بڑے سیاسی، معاشی اور آئینی مسائل کو طویل ہڑتالوں، ناکہ بندیوں یا پرتشدد محاذ آرائی کی شکل اختیار کرنے سے پہلے حل کرے۔ اس کی تشکیل اور دائرہ کار کا تعین وسیع تر مشاورت سے کیا جا سکتا ہے، جس میں صرف خطے کی سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ سول سوسائٹی، سماجی تحریکیں اور دیگر فریق بھی شامل ہوں۔ ایسا ادارہ احتجاج، مذاکرات اور جبری ردِعمل کے بار بار دہرائے جانے والے چکر کا ایک ادارہ جاتی متبادل فراہم کر سکتا ہے۔

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مسئلہ آئینی اور جامع طریقے سے حل کیا جائے۔ مہاجرین کی 12 نشستوں کی حیثیت کا تعین آئینی طور پر مقررہ طریقہ کار اور با معنی سیاسی و عوامی مشاورت کے ذریعے کیا جائے، ممکنہ طور پر ایک کثیر فریقی کانفرنس کے ذریعے۔ کشمیری مہاجرین کے سیاسی نمائندگی کے جائز مفاد کا تحفظ کیا جائے جبکہ ان نشستوں کے مقامی نمائندگی اور حکومت سازی پر اثرات سے متعلق خدشات کا کھلے دل سے جائزہ لیا جائے۔

2026 کے انتخابی عمل کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔ الیکشن کمیشن 2026 کے انتخابات کا جامع جائزہ لے، جن کی ساکھ بظاہر سوالات کی زد میں ہے۔ اس جائزے میں تشدد، مواصلاتی پابندیوں، سیکیورٹی تعیناتی، بائیکاٹ، مرحلہ وار پولنگ اور ملتوی حلقوں کے ووٹر اور امیدوار کی شرکت پر اثرات کا جائزہ لیا جائے۔ اس میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا بھی جائزہ لیا جائے اور یہ اندازہ لگایا جائے کہ آیا مجموعی ماحول شہریوں کو آزادانہ، مساوی اور با معنی شرکت کے قابل بنا سکا۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں