مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

آزاد کشمیر کے عوام کے درد اور جدوجہد کا عکاس کلام: "سب یاد رکھا جائے گا"

راولا کوٹ سے مظفرآباد تک عوامی مسائل، مہنگائی اور حقوق کی تحریک پر لکھی گئی پراثر نظم

خلاصہ

یہ نظم آزاد کشمیر کے اضلاع راولا کوٹ، پونچھ، نیلم اور مظفرآباد کے عوام کے مسائل، محرومیوں اور حقوق کی تحریک کی عکاسی کرتی ہے۔ کلام میں بجلی کے بلوں، آٹے کے بحران، کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور عوامی مظاہروں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصان کو موضوع بنایا گیا ہے۔ شاعر نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ عوامی قربانیوں، صبر اور تمام تر سختیوں کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔

Summary in English

This poem reflects the issues, deprivations, and rights movement of the people in the Azad Kashmir districts of Rawalakot, Poonch, Neelum, and Muzaffarabad. The verse focuses on electricity bills, the flour crisis, curfews, communication restrictions, and the loss of life and property during public protests. The poet expresses the resolve that the people’s sacrifices, patience, and hardships will never be forgotten.

آزاد کشمیر کے عوام کے درد اور جدوجہد کا عکاس کلام: "سب یاد رکھا جائے گا"

راولا کوٹ
پونچھ
نیلم
مظفرآباد

یہ نظم ان سب کے لیے ہے جو لوٹے نہیں
اور ان کے لیے بھی
جو اب تک کھڑے ہیں۔

تم پہاڑوں پر ناکے لکھو، ہم راستے لکھیں گے
تم رات کو کرفیو لکھو، ہم صبح کا وعدہ لکھیں گے
تم تار کاٹ دو، سگنل بند کر دو
ہم دریا کے پانی پر خبر لکھیں گے

سب یاد رکھا جائے گا
سب کچھ یاد رکھا جائے گا
سب یاد رکھا جائے گا
سب کچھ یاد رکھا جائے گا

صبح چولہے کی فکر، شام کو آٹے کی قطار
بیٹا پردیس میں، ماں کی آنکھ میں انتظار
جس نیلم سے روشن تمہارے بازار
اس نیلم کنارے اندھیرا بار بار
ہر چپ گھر کا دکھ لکھا جائے گا
ہر صبر کا مول لکھا جائے گا

سب یاد رکھا جائے گا
سب کچھ یاد رکھا جائے گا

تمہارے کاغذ میں وہ ہجوم تھے
ہمارے آنگن میں وہ بیٹے تھے، بھائی تھے، باپ تھے
جو زخمی بچانے نکلا، خود لوٹ نہ سکا
اس مسیحا کا نام سب سے پہلے لکھا جائے گا
باپ کے کندھے پر بیٹے کا جنازہ، یہ بوجھ بھی تمہارے نام لکھا جائے گا
ان کی مائیں آج بھی دروازہ کھلا رکھتی ہیں، جو گلی میں گرا اس کا نام لکھا جائے گا

سب یاد رکھا جائے گا
سب کچھ یاد رکھا جائے گا

ہمارے ہاتھ خالی تھے، ہمارے ہاتھ خالی رہیں گے
ہم پتھر نہیں، ہم گواہی اٹھائے چلیں گے
پاؤں میں چھالے سہی، ہم مظفرآباد تک چلیں گے
تم گولی کا حساب نہ دو، ہم ہر گولی کا پتہ لکھیں گے
تم بجلی کا بل لکھو، ہم اندھیرے کا حساب لکھیں گے
تم آٹا تولو، ہم بھوک کا وزن لکھیں گے
تم ہمیں کالعدم لکھو، ہم خود کو عوام لکھیں گے
تم ہمیں دہشت گرد لکھو، ہم ماں کی دعا لکھیں گے
تم ایف آئی آر لکھو، ہم اپنی حاضری لکھیں گے
تم دیوار اونچی کرو، ہم دیوار پر نظم لکھیں گے

سب یاد رکھا جائے گا
سب کچھ یاد رکھا جائے گا
سب یاد رکھا جائے گا
سب کچھ یاد رکھا جائے گا

تم صندوق بھر لو، ہم خالی سرکے لکھیں گے
جس دن ووٹ پڑا اور جس دن کفن اٹھا
دونوں طریقے ایک ہی صفحے پر لکھے جائیں گے

نہ ہم بھولیں گے، نہ ہم بھولنے دیں گے
ہماری ہڈیوں پر، ہمارے بچوں کی زبان پر

سب یاد رکھا جائے گا

تبصرے (0)

تبصرہ کریں