آج کا ڈڈیال، میرپور شہر سے تقریباً 85 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع، ضلع میرپور کی ایک تحصیل ہے۔ منگلا ڈیم کی تعمیر سے پہلے ڈڈیال، پرانے میرپور کے تاریخی شہر کے شمالی دروازے سے محض 20 کلومیٹر دور تھا۔ تاہم، منگلا ڈیم کی تعمیر نے نہ صرف اس علاقے کا جغرافیہ بدل دیا بلکہ یہاں کے لوگوں کی معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہی وہ تاریخی پس منظر ہے جس میں ڈڈیال کے عوام کے اندر مزاحمت، محرومی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا شعور پروان چڑھتا رہا۔
منگلا ڈیم کی تعمیر اور عوامی مزاحمت
1960ء کی دہائی میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے خلاف ایک بھرپور عوامی تحریک اٹھی۔ جب اس تحریک نے ببیاواں (چکسواری) کے مقام پر دھرنا دیا تو میجر عباس، جو سابق گورنر پنجاب جنرل (ر) سوارپ خان کے والد تھے، کی قیادت میں شریک ڈڈیال کے رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر انہیں ریاست بدر کر دیا گیا۔
منگلا ڈیم کی تعمیر کے وقت ریاستِ پاکستان نے ڈڈیال سمیت آزاد کشمیر کے عوام سے متعدد وعدے کیے تھے۔ ان وعدوں میں منگلا ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کی پوری ریاست کو مفت فراہمی، ڈیم سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو مناسب معاوضوں کی ادائیگی، متبادل زمینوں کی فراہمی اور ان زمینوں پر باقاعدہ آبادکاری کے انتظامات شامل تھے۔
اس کے علاوہ نئے میرپور شہر کو ڈیم کے دونوں اطراف آباد علاقوں سے ملانے کے لیے تین بڑے پل تعمیر کرنے کے اعلانات بھی کیے گئے تھے۔ ان میں میرپور اور اکال گڑھ کو ملانے کے لیے رٹھوعہ ہریام پل، میرپور اور چکسواری کو ملانے کے لیے ایسر خانپور پل، جبکہ میرپور اور ڈڈیال کو ملانے کے لیے پلہوٹ سیاکھ پل شامل تھے۔
منگلا ڈیم تعمیر ہو گیا۔ اس کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگ کئی بار گرفتار ہوئے، قید کاٹی اور پھر رہا بھی ہوئے، لیکن ڈڈیال کو میرپور سے ملانے والا پل آج تک تعمیر نہ ہو سکا۔ یوں ڈڈیال کے باشندے اپنے ہی ضلع کے مرکزی شہر تک پہنچنے کے لیے تقریباً دس کلومیٹر کا براہِ راست فاصلہ، پل نہ ہونے کی وجہ سے، 85 کلومیٹر کے طویل سفر میں طے کرنے پر مجبور ہو گئے۔
یہ محض سفری دشواری نہیں تھی بلکہ ایک ایسی اجتماعی اذیت تھی جو رفتہ رفتہ لوگوں کے تاریخی حافظے کا حصہ بنتی چلی گئی۔
متاثرینِ منگلا ڈیم کی آبادکاری کا المیہ
منگلا ڈیم کے متاثرین کو آبادکاری کے نام پر جھنگ اور حافظ آباد جیسے علاقوں میں زمینیں الاٹ کی گئیں، لیکن وہاں کے مقامی لوگوں نے انہیں مستقل طور پر آباد نہ ہونے دیا۔ ان کی زمینوں پر قبضے ہوئے، الاٹ شدہ رقبے غائب ہو گئے اور وہ اپنی ہی زمینوں کے حقِ ملکیت سے محروم ہوتے چلے گئے۔
متاثرین کو عزت و احترام دینے کے بجائے انہیں ’’مہاجرین‘‘ جیسے تحقیر آمیز القابات سے پکارا جانے لگا۔ ان حالات سے تنگ آ کر متاثرین کی ایک بڑی تعداد واپس اپنے علاقوں میں لوٹ آئی اور جنگلات میں آباد ہونے پر مجبور ہو گئی۔
مگر یہاں ان کے سامنے محکمہ جنگلات کی صورت میں ایک نیا مسئلہ کھڑا تھا۔ ان کی آبادکاری کے لیے کوئی معقول اور مستقل انتظام نہ کیا گیا۔ حکومت کی بے حسی نے ان کی محرومیوں میں مزید اضافہ کیا، لیکن ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہ اٹھایا گیا۔
منگلا ڈیم کی رائلٹی اور عدالتی فیصلہ
ڈڈیال ہی سے تعلق رکھنے والے آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالمجید ملک نے 1990ء کی دہائی میں، جب وہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے، منگلا ڈیم کی رائلٹی کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ دیا۔
تاہم، اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔ اس تحریر کے مطابق، سردار عبدالقیوم خان نے وزارتِ عظمیٰ کے حصول کی خاطر ریاستِ پاکستان سے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا وعدہ کیا۔ بعدازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجہ بشارت، جو مسلم کانفرنس سے وابستگی اور سردار عبدالقیوم کی حمایت کے حوالے سے معروف تھے، نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
اس فیصلے اور اس کے پس منظر میں ہونے والی سیاسی پیش رفت نے ڈڈیال کے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔
جب سردار عبدالقیوم خان، بحیثیت وزیراعظم، ڈڈیال میں ایک جلسے سے خطاب کرنے پہنچے تو نوجوانوں نے ان کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیے۔ انہوں نے سردار عبدالقیوم کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔
جواب میں سردار عبدالقیوم نے ڈڈیال کے باشندوں کو ’’جھاڑیوں کی پیداوار‘‘ کہہ دیا۔ اس جملے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ لوگ مشتعل ہو کر کھڑے ہو گئے، کرسیاں چلنے لگیں اور جلسہ بدنظمی کا شکار ہو کر منتشر ہو گیا۔ سردار عبدالقیوم کو جلسہ چھوڑ کر ڈڈیال سے واپس جانا پڑا۔
اگلے روز ڈڈیال کے نوجوانوں نے سردار عبدالقیوم کے خلاف ایک بھرپور احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور متعدد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ دوسرے دن بھی احتجاج جاری رہا۔ بالآخر گرفتار افراد رہا کر دیے گئے، لیکن یہ واقعہ بھی ڈڈیال کی اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہو گیا۔
مقبول بٹ چوک اور قوم پرستوں کی مزاحمت
ڈڈیال کے شہریوں اور قوم پرست کارکنوں نے مل کر مقبول بٹ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے شہر کے مرکزی چوک کو ان کے نام سے منسوب کر دیا۔
تاہم، ریاستی حکام کو چوک کی یہ نئی شناخت قبول نہ تھی، جس کے نتیجے میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔ احتجاجی مظاہرے ہوئے، پولیس نے فائرنگ کی، لوگ زخمی ہوئے اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ گرفتار افراد رہا ہو گئے، حالات بظاہر معمول پر آ گئے، لیکن یہ واقعہ بھی لوگوں کے تاریخی حافظے میں ایک اور تلخ یاد کے طور پر محفوظ ہو گیا۔
افغان مہاجرین، مقامی آبادی اور پولیس کا کردار
ڈڈیال میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد آباد تھی اور مقامی کاروبار میں بھی ان کی نمایاں موجودگی تھی۔
ایک روز ایک افغان باشندے اور مقامی نوجوان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ تنازع بڑھنے پر افغان باشندے نے مقامی نوجوان پر گولی چلا دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔
اس واقعے نے مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ لوگوں نے سرِعام اسلحہ رکھنے اور اس کے استعمال کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔
تحریر کے مطابق، پولیس نے ملزم کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے رشوت لے کر اسے چھوڑ دیا۔ اس سے عوام کا غصہ مزید بڑھ گیا اور احتجاج کا رخ پولیس کے ساتھ ساتھ غیر ریاستی باشندوں کی طرف بھی ہو گیا۔
منگلا ڈیم کی تعمیر کے وقت ریاستِ پاکستان نے ڈڈیال سمیت آزاد کشمیر کے عوام سے متعدد وعدے کیے تھے۔
بدقسمتی سے اس کشیدگی کی زد میں بے گناہ افغان مہاجرین بھی آ گئے، جن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
مقدمات درج ہوئے، گرفتاریاں ہوئیں اور پولیس پر دونوں فریقوں سے مالی فوائد حاصل کرنے کے الزامات لگے۔ بالآخر گرفتار افراد رہا کر دیے گئے اور حالات معمول پر آ گئے، مگر یہ واقعہ بھی اجتماعی یادداشت میں ایک اور زخم چھوڑ گیا۔
تنویر احمد اور پرچم کا تنازع
ڈڈیال کے مقبول بٹ چوک میں سرکاری حکام نے پاکستان کا پرچم نصب کرایا۔ اس کے ردِعمل میں قوم پرست نوجوان تنویر احمد چوک کے گنبد پر چڑھ گئے، پاکستان کا پرچم اتارا اور اس کی جگہ کشمیر کا پرچم لہرا دیا۔
اس واقعے کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک پشتون حامی نے تنویر احمد کے خلاف توہینِ پرچم کی ایف آئی آر درج کروا دی۔
مقامی پولیس نے تنویر احمد کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات کے تحت گرفتار کر لیا، حالانکہ ان دفعات کے آزاد کشمیر میں اطلاق پر قانونی سوالات اٹھائے گئے۔
اس گرفتاری کے خلاف آزاد کشمیر بھر میں قوم پرست تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔
تنویر احمد برطانوی شہریت بھی رکھتے تھے، چنانچہ ان کی رہائی کے لیے برطانیہ میں مقیم کشمیریوں نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن اور برمنگھم و بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصل خانوں کے باہر بھرپور احتجاج کیا۔
معاملہ برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچا اور اسلام آباد میں موجود برطانوی سفارتی حکام نے بھی ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
بالآخر تنویر احمد رہا ہو گئے، لیکن یہ واقعہ بھی ڈڈیال کی سیاسی تاریخ اور عوامی حافظے کا حصہ بن گیا۔
منگلا ڈیم کی توسیع اور مزاحمت کی نئی لہر
ان تمام واقعات کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بیٹھے حکمران عوامی غم و غصے کی شدت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ وہ نہ صرف عوامی مسائل کے مستقل حل سے دور تھے بلکہ ان میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت بھی دکھائی نہیں دیتی تھی۔
دوسری جانب، منگلا ڈیم سے بجلی کی پیداوار اور اس سے وابستہ معاملات میں واپڈا کے کردار پر مسلسل اعتراضات اٹھتے رہے۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب منگلا ڈیم کی توسیع اور اس کی سطح بلند کرنے کا منصوبہ شروع ہوا تو ڈڈیال کے عوام کو ایک مرتبہ پھر بے گھری اور نقل مکانی کے خدشات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس منصوبے کے خلاف بھی عوامی مزاحمت سامنے آئی۔
ڈڈیال سے تعلق رکھنے والے یونس تریابی، جو برطانوی شہری بھی ہیں، نے برمنگھم سے شائع ہونے والے اخبار کشمیر پوسٹ میں یکے بعد دیگرے آٹھ سے دس کالم لکھے۔ ان تحریروں میں انہوں نے ’’منگلا ڈیم توڑ دو‘‘ تحریک کے حق میں دلائل پیش کیے اور متاثرین کے مسائل کو اجاگر کیا۔
یہ واقعہ بھی ڈڈیال کی طویل مزاحمتی تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کر گیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک اور 11 مئی کا اعلان
اس تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے بعد اب حالیہ عوامی تحریک کے واقعات کی طرف آتے ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ دو مرتبہ ہونے والے معاہدوں اور ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے تجربات کے بعد 11 مئی کو مظفرآباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔
آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق اور ان کی حکومت نے مارچ سے قبل ہی عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو دھمکیاں دینا اور انہیں احتجاج سے باز رکھنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔
تحریک کو دبانے کے لیے حکومتِ پاکستان سے فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کی نفری طلب کی گئی۔ پنجاب پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو آزاد کشمیر پولیس کی وردیاں پہنانے کے الزامات بھی سامنے آئے۔
دوسری جانب، مارچ سے ایک روز قبل ہی ضلع میرپور میں عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔
ان گرفتاریوں کے نتیجے میں ضلع میرپور کے دور دراز علاقوں کے نوجوان بھی احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔
ڈڈیال میں بھی لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالا، جسے روکنے کے لیے پولیس راستے میں کھڑی ہو گئی۔
ڈڈیال میں احتجاج اور اسسٹنٹ کمشنر سے تصادم
ڈڈیال میں جب پُرامن مظاہرین کا جلوس آگے بڑھ رہا تھا تو اسسٹنٹ کمشنر موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے تحکمانہ لہجے میں احتجاج ختم کرنے کو کہا۔
مظاہرین نے جواب دیا کہ پُرامن احتجاج ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔
اس پر اسسٹنٹ کمشنر نے مبینہ طور پر کہا:
’’میں نکالوں آپ کا حق؟‘‘
ایک نوجوان آگے بڑھا اور اس نے سوال کیا:
’’آپ کیا کریں گے؟ گرفتار کریں گے؟‘‘
اس پر اسسٹنٹ کمشنر نے مبینہ طور پر نوجوان کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔
اس واقعے نے مظاہرین کو مشتعل کر دیا۔ لوگوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو پکڑ لیا اور ان کی سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی۔ ان کی شلوار اتار کر چوک میں لٹکا دی گئی، جبکہ قمیض جلتی ہوئی گاڑی پر ڈال دی گئی۔
صورتحال قابو سے باہر ہوتی دیکھ کر پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کیا، لیکن اسے پسپا ہونا پڑا۔
بعدازاں پولیس دوبارہ منظم ہوئی اور ڈڈیال شہر کی طرف آنسو گیس کے گولے فائر کرنا شروع کر دیے۔
گرلز اسکول میں آنسو گیس اور عوامی اشتعال
پولیس کی جانب سے فائر کیے گئے آنسو گیس کے متعدد گولے قریبی گرلز اسکول کے اندر جا گرے۔
اس کے نتیجے میں اسکول میں موجود درجنوں طالبات کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بعض کی حالت تشویش ناک ہو گئی۔
مقامی لوگ فوری طور پر بچیوں کو اٹھا کر قریبی اسپتال منتقل کرنے لگے۔
اس واقعے کی خبر پورے علاقے میں پھیل گئی۔ ہر طرف خوف و ہراس اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج شروع ہو گیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے لوگوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی، لیکن مشتعل عوام کا غصہ اس قدر بڑھ چکا تھا کہ سرکاری عمارتیں بھی مظاہرین کے گھیرے میں آ گئیں اور بعض مقامات پر انتظامیہ کا عملی کنٹرول ختم ہونے لگا۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن موقع پر پہنچے اور لوگوں کو پُرسکون کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
دوسری طرف ہزاروں شہری زخمی طالبات اور دیگر متاثرین کو خون دینے کے لیے اسپتال کے باہر جمع ہو گئے۔
شہر میں صورتِ حال اس حد تک کشیدہ ہو چکی تھی کہ اسپتال کے عملے کے سوا ریاستی انتظامیہ کے بیشتر اہلکار شہر سے نکل گئے۔
ڈڈیال: دہائیوں کی محرومیوں سے جنم لینے والی مزاحمت
ڈڈیال میں پیش آنے والے ان واقعات کو محض ایک دن کے احتجاج، ایک نوجوان کو تھپڑ مارنے یا پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم تک محدود کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔
اس کے پس منظر میں کئی دہائیوں کی محرومیاں، نامکمل وعدے، جبری نقل مکانی، آبادکاری کے مسائل، منگلا ڈیم کی رائلٹی کا تنازع، سیاسی بے اختیاری، پولیس کے ساتھ کشیدگی اور عوامی حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد موجود تھی۔
ہر واقعہ بظاہر ختم ہو جاتا تھا۔ گرفتار لوگ رہا ہو جاتے، احتجاج تھم جاتا اور زندگی معمول پر آ جاتی، لیکن عوام کے ذہنوں میں ناانصافی اور محرومی کا احساس باقی رہتا۔
یہ احساس وقت کے ساتھ ایک اجتماعی سیاسی شعور میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔
ڈڈیال کے عوام کے اندر دہائیوں سے جمع ہونے والا غصہ بالآخر حالیہ تحریک کے دوران ایک لاوے کی صورت میں پھٹ پڑا۔
یوں جو کچھ ڈڈیال میں ہوا، وہ وہاں کے عوام کی طویل مزاحمتی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا، جبکہ باقی آزاد کشمیر کے لیے یہ ایک نئی اور وسیع عوامی تحریک کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔

تبصرے (0)