مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

جو آج خاموش ہے، وہ بھی قاتل ہے: تاریخ ہر خاموش کو قاتل کہے گی

راولاکوٹ میں احتجاجی کیمپوں پر تازہ کارروائی ایک سال سے جاری خون ریزی کی تازہ کڑی ہے۔ اب سوال صرف گولی چلانے والوں کا نہیں، ان سب کا ہے جو اختیار، آواز اور منبر رکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں۔

خلاصہ

راولاکوٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ سستی بجلی اور آٹے کے بنیادی مطالبات پر ریاستی طاقت کا استعمال اور بااثر حلقوں کی مجرمانہ خاموشی جاری ہے۔ مکمل رپورٹ پڑھیے۔

Summary in English

Several citizens were killed and injured in an action by security forces during an Awami Action Committee protest in Rawalakot. The use of state force over basic demands for affordable electricity and flour continues, alongside the criminal silence of influential quarters. Read the full report.

جو آج خاموش ہے، وہ بھی قاتل ہے: تاریخ ہر خاموش کو قاتل کہے گی
تصویر: JK Voices

5 نومبر کی صبح، پاکستانی انتظامیہ کے ماتحت سیکیورٹی فورسز نے راولاکوٹ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپوں پر کارروائی کی۔ کشمیر ٹائمز کی رپورٹ اور تحریک کے ذرائع کے مطابق کم از کم تین شہری جان بحق اور اٹھارہ زخمی ہوئے۔ بعض رپورٹوں میں رہائشی مکانات پر ڈرون حملوں کا ذکر بھی ہے، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ حکومت نے اب تک کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔

یہ واقعہ الگ تھلگ نہیں۔ یہ اس سلسلے کی تازہ مثال ہے جس میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں پرامن عوامی مطالبات کا جواب بار بار طاقت سے دیا گیا ہے۔ اور ہر بار ایک چیز مشترک رہی ہے: اقتدار کے ایوانوں، سیاسی جماعتوں اور بیرونِ ملک بسنے والی بااثر کشمیری قیادت کی معنی خیز خاموشی۔

مطالبات جو جرم بنا دیے گئے

یہ تحریک کسی مسلح گروہ نے نہیں، عام شہریوں نے شروع کی۔ تاجر، ٹرانسپورٹر، طلبہ اور مزدور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے، اور ان کے مطالبات نہایت بنیادی تھے۔

خطے کے دریا منگلا اور نیلم جہلم جیسے بڑے منصوبوں سے بجلی پیدا کرتے ہیں، مگر مقامی صارفین مہنگے بلوں اور لوڈ شیڈنگ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ آٹے کی قیمتیں عام گھرانوں کی پہنچ سے نکلتی رہی ہیں۔ اور حکمران طبقے کی مراعات بدستور برقرار ہیں۔ سستی بجلی، سستا آٹا اور اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ: یہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں معمول کے سیاسی مطالبات ہیں۔

ان مطالبات کا جواب مکالمے سے نہیں دیا گیا۔ جون 2026 میں حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کر دی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس اقدام کو کریک ڈاؤن میں «خطرناک شدت» قرار دیا اور میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا کہ صرف دو دن میں سو سے زائد افراد گرفتار کیے گئے۔

جب سستی بجلی اور آٹے کا مطالبہ دہشت گردی کے قانون کے تحت آ جائے تو ریاست اپنے شہریوں کو واضح پیغام دیتی ہے: سوال پوچھنا بھی جرم ہے۔

ایک سال، ایک ہی اسکرپٹ

گزشتہ بارہ مہینوں کا ریکارڈ ایک واضح رجحان دکھاتا ہے:

وقت

واقعہ

نومبر 2026

راولاکوٹ میں احتجاجی کیمپوں پر کارروائی؛ تحریک کے مطابق تین جان بحق، اٹھارہ زخمی

گرمیاں 2026

پابندی کے بعد جھڑپیں؛ ایک دن میں نو اموات کی رپورٹ، بدامنی مظفرآباد تک پھیل گئی

جون 2026

عوامی ایکشن کمیٹی پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی؛ سو سے زائد گرفتاریاں

اکتوبر 2025

احتجاجی لہر میں شہریوں اور پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم نو اموات

ہر واقعے کے بعد انکوائری کا اعلان ہوا، مگر کسی انکوائری کی رپورٹ عوام کے سامنے نہیں آئی اور کسی ذمہ دار کو سزا نہیں ہوئی۔ جب احتساب نہ ہو تو تشدد استثنا نہیں، طریقۂ کار بن جاتا ہے۔

خاموشی غیر جانبداری نہیں، شراکت ہے

اس مضمون کا مرکزی مؤقف سادہ ہے: جو اس صورتِ حال میں خاموش ہے، وہ ان اموات کی ذمہ داری میں شریک ہے، اور تاریخ اسے قاتل کے طور پر یاد رکھے گی۔

طاقت ایک دن کی کارروائی کرتی ہے، خاموشی اسے اگلے دن کی اجازت دیتی ہے۔

یہ محض جذباتی نعرہ نہیں۔ ریاستی تشدد دو چیزوں پر چلتا ہے: طاقت اور خاموشی۔ طاقت ایک دن کی کارروائی کرتی ہے، خاموشی اسے اگلے دن کی اجازت دیتی ہے۔ جب کسی قتل پر کوئی سیاسی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی، تو اگلا قتل آسان ہو جاتا ہے۔

اس خاموشی کے کئی چہرے ہیں:

  • مقامی حکومت اور اسمبلی کے اراکین، جو عوام کے نمائندے ہونے کے دعویدار ہیں مگر اپنے ہی شہریوں کی اموات پر ایک بیان تک دینے سے گریزاں ہیں۔
  • سیاسی جماعتیں، جو انتخابی مفاد کی خاطر اسلام آباد کو ناراض کرنے سے ڈرتی ہیں۔
  • بیرونِ ملک کشمیری قیادت، خاص طور پر برطانیہ میں، جس کے پاس وسائل بھی ہیں اور آزاد منبر بھی۔
  • میڈیا، جس کے بڑے حصے نے ان واقعات کو یا تو نظر انداز کیا یا سرکاری بیانیے کی حد تک محدود رکھا۔
  • عالمی برادری، جو کشمیر کا ذکر کرتی ہے تو عموماً لائن آف کنٹرول کے ایک ہی جانب دیکھتی ہے۔

ان میں سے کسی نے گولی نہیں چلائی۔ مگر جس کے پاس بولنے کا اختیار ہو اور وہ نہ بولے، اس کی خاموشی ایک سیاسی فیصلہ ہے، اور ہر فیصلے کی طرح اس کا حساب بھی ہوگا۔ آنے والی نسلیں یہ نہیں پوچھیں گی کہ گولی کس نے چلائی۔ وہ پوچھیں گی: تم کہاں تھے؟

ریاست کا مؤقف، اور اس کی کمزوری

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ امن و امان کا مسئلہ ہے، اور یہ درست ہے کہ اکتوبر 2025 کی جھڑپوں میں پولیس اہلکار بھی جان سے گئے۔ ہر انسانی جان کا نقصان افسوسناک ہے، اور تشدد کا کوئی جواز نہیں، چاہے وہ کسی بھی جانب سے ہو۔

مگر اسی اصول سے ریاست کا مؤقف کمزور پڑتا ہے۔ اگر مسئلہ امن کا تھا تو آزاد تحقیقات سے گریز کیوں؟ اگر تحریک پرتشدد تھی تو اس کے معاشی مطالبات پر مذاکرات کیوں نہیں؟ اور صبح سویرے احتجاجی کیمپوں پر کارروائی کس قانونی تقاضے کو پورا کرتی ہے؟

ایک ریاست جو اپنے شہریوں سے بات کرنے کی بجائے ان پر دہشت گردی کا لیبل لگائے، امن نہیں بلکہ بے دخلی پیدا کر رہی ہوتی ہے۔

اب کیا ہونا چاہیے

  1. آزاد عدالتی کمیشن: اکتوبر 2025 سے اب تک ہر موت کی تحقیق، مقررہ مدت میں، اور رپورٹ کی اشاعت۔
  2. پابندی کا خاتمہ: عوامی ایکشن کمیٹی پر سے پابندی ہٹائی جائے اور پرامن مظاہرین کو رہا کیا جائے۔
  3. مقدمات کی واپسی: طلبہ، تاجروں اور مزدوروں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے مقدمات ختم کیے جائیں۔
  4. مذاکرات: بجلی، آٹے اور اشرافیہ کی مراعات پر بامعنی اور شفاف بات چیت۔
  5. آزاد رپورٹنگ کی رسائی: ملکی و غیر ملکی صحافیوں اور انسانی حقوق کے مبصرین کو متاثرہ علاقوں تک بلا رکاوٹ رسائی۔

نتیجہ

مظفرآباد میں چہلہ یونیورسٹی اور جامعہ کشمیر کے طلبہ نے راولاکوٹ کے بعد خاموش رہنے کے بجائے احتساب کا مطالبہ کیا۔ نئی نسل وہ بات سمجھ چکی ہے جو بہت سے بااختیار لوگ ابھی تک سمجھنے سے گریزاں ہیں: افراد کو دبایا جا سکتا ہے، منظم اور متحد قوم کو نہیں۔

جموں کشمیر کے ہر شہری، ہر نمائندے اور ہر صحافی کے سامنے اب ایک ہی سوال ہے۔ غیر جانبداری کا وقت گزر چکا۔ جو آج خاموش ہے، تاریخ اسے قاتلوں کے ساتھ کھڑا پائے گی۔

آج چپ نہیں۔


مصنف کی آرا ذاتی ہیں۔ اموات کی تعداد عوامی ایکشن کمیٹی اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے؛ سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں