مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

? ایک کال اور جام ہوتا خطہ: ریاست کی حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان

آزاد کشمیر میں کرفیو اور گرفتاریوں کے باوجود ایک کال پر خطہ جام ہو جاتا ہے۔ طاقت کے استعمال سے پیدا ہونے والے اس تعطل کا حل کیا ہے؟ تفصیل جانیے۔

خلاصہ

آزاد کشمیر میں کرفیو اور گرفتاریوں کے باوجود ایک کال پر خطہ جام ہو جاتا ہے۔ طاقت کے استعمال سے پیدا ہونے والے اس تعطل کا حل کیا ہے؟ تفصیل جانیے۔

Summary in English

Despite curfews and arrests in Azad Kashmir, the region comes to a standstill on a single call. What is the solution to this deadlock created by the use of force? Find out the details.

? ایک کال اور جام ہوتا خطہ: ریاست کی حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان
تصویر: مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصویر

آزاد کشمیر ان دنوں ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ریاستی طاقت اور عوامی ارادے کا براہِ راست ٹکراؤ روز کا معمول بن چکا ہے۔ ۵ جون کی رات جو کچھ ہوا، اس نے اس خطے کی سیاست کا رخ بدل دیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی، قیادت کی گرفتاریاں، سنگین مقدمات، کرفیو اور جگہ جگہ چیک پوسٹیں — ریاست نے دباؤ کا ہر حربہ آزما لیا۔ مگر نتیجہ کیا نکلا؟ آج بھی کمیٹی کی ایک اپیل پر پورا خطہ، اور بالخصوص پونچھ، مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کو رک کر سوچنا چاہیے۔ اگر مہینوں کی سختی، خوف کی فضا اور مسلسل پروپیگنڈے کے باوجود عوام اپنی پوزیشن سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے، تو غلطی عوام کی نہیں، حکمتِ عملی کی ہے۔ طاقت کا استعمال اطاعت پیدا کر سکتا ہے، اعتماد نہیں۔ اور جس ریاست کے پاس عوام کا اعتماد نہ ہو، اس کا بیانیہ چاہے کتنا ہی مضبوط بنایا جائے، ایک عوامی پکار کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔

طاقت کا استعمال اطاعت پیدا کر سکتا ہے، اعتماد نہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ایک طرف پورا پونچھ ہفتوں سے بند پڑا ہے، کاروبار ٹھپ ہیں، عام آدمی کی زندگی مفلوج ہے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں کوئی بے چینی دکھائی نہیں دیتی۔ دوسری طرف عوام کا ردعمل اتنا منظم اور یکجا ہے کہ ایک اعلان پر سڑکیں میدانِ احتجاج بن جاتی ہیں۔ یہ عدم توازن خود بتا رہا ہے کہ حقیقی قوت کہاں کھڑی ہے اور تنہائی کا شکار کون ہے۔

نئی قیادت سے کسی پیشرفت کی امید بھی اس لیے کمزور ہے کہ یہ قیادت عوامی مینڈیٹ کی نہیں، مخصوص نشست کی پیداوار ہے۔ جو وزیراعظم اپنے ہی حلقے سے مسترد ہو کر ٹیکنوکریٹ سیٹ کے راستے ایوان میں پہنچا ہو، وہ ایک ایسی تحریک سے کیسے مکالمہ کرے گا جس کی جڑیں گلی گلی، بستی بستی پھیلی ہوئی ہیں؟ جس کے پاس عوام کی زبان اور ان کے دکھ کا ادراک ہی نہ ہو، اس سے حل کی توقع عبث ہے۔

راستہ اب بھی موجود ہے، مگر وہ بندوق اور مقدمے سے نہیں، مذاکرات کی میز سے گزرتا ہے۔ عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا شکست نہیں، بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹے ہوئے رشتے کی بحالی کا واحد ذریعہ ہے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جو ریاستیں اپنے ہی عوام سے جنگ لڑنے لگیں، وہ جیت کر بھی ہار جاتی ہیں۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں