مواد پر جائیں

آزاد کشمیر

جو ہوا سو ہوا: زمینی حقائق کو جان کر آگے بڑھو

آزادکشمیر میں پانچ جون کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اب محض چند انتظامی فیصلوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے بنیادی تضاد کا عکاس ہے۔ اس بحران کے پائیدار حل کے لیے طاقت کے استعمال اور روایتی طریقوں کے بجائے راولاکوٹ سے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز ناگزیر ہے۔ پاکستان اور آزادکشمیر کے تعلقات کو باہمی احترام، اعتماد اور مفادات کی نئی بنیادوں پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

خلاصہ

آزادکشمیر میں پانچ جون کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اب محض چند انتظامی فیصلوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے بنیادی تضاد کا عکاس ہے۔ اس بحران کے پائیدار حل کے لیے طاقت کے استعمال اور روایتی طریقوں کے بجائے راولاکوٹ سے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز ناگزیر ہے۔ پاکستان اور آزادکشمیر کے تعلقات کو باہمی احترام، اعتماد اور مفادات کی نئی بنیادوں پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Summary in English

The situation that has emerged in Azad Kashmir since June 5 is no longer merely a matter of a few administrative decisions, but a reflection of a fundamental divide between the state and the public. For a lasting resolution to this crisis, initiating serious dialogue from Rawalakot is imperative, rather than resorting to the use of force and conventional methods. Rebuilding relations between Pakistan and Azad Kashmir on the fresh foundations of mutual respect, trust, and shared interests is the pressing need of the hour.

 حجو ہوا سو ہوا - ب حقائق جان کر آگے بڑھو
حجو ہوا سو ہوا - ب حقائق جان کر آگے بڑھو تصویر: چیٹ جی پی ٹی

جو ہوا سو ہوا ---- زمینی حقائق کو جان کر آگے بڑھو

آزادکشمیر میں پانچ جون کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اب محض چند مطالبات، چند گرفتاریاں یا چند انتظامی فیصلوں کا مسئلہ نہیں رہی۔ گزشتہ ڈھائی ماہ نے ریاست اور عوام کے درمیان موجود اس بنیادی تضاد کو پوری شدت کے ساتھ سامنے لا کھڑا کیا ہے جسے کئی دہائیوں سے وقتی سمجھوتوں، سیاسی جوڑ توڑ، سرکاری بیانیوں اور اسلام آباد سے آنے والے فیصلوں کے ذریعے دبایا جاتا رہا۔

اس بحران کا حل بھی اسی لیے مظفرآباد کے بند کمروں میں روایتی سیاست دانوں کو جمع کرکے، چند وزارتوں، عہدوں یا انتظامی مراعات کی تقسیم سے نہیں نکل سکتا۔ مسئلہ جہاں سے پیدا ہوا ہے، گفتگو بھی وہیں سے شروع کرنا ہوگی۔ اور وہ نقطہ پانچ جون ہے۔

اگر واقعی حالات کو معمول پر لانا مقصود ہے تو سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پانچ جون کے بعد جو کچھ ہوا اس نے آزادکشمیر کے سیاسی اور سماجی ماحول کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ ممکن نہیں کہ ریاست پانچ جون سے پہلے والی سیاسی زبان بولتی رہے، جبکہ عوام پانچ جون کے بعد کے تجربات کے ساتھ زندہ ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کا حقیقی آغاز مظفرآباد کے بجائے راولاکوٹ سے ہونا چاہیے۔ راولاکوٹ محض ایک شہر نہیں رہا۔ پچھلے چند ماہ میں یہ اس بحران کا سیاسی اور علامتی مرکز بن چکا ہے۔ یہاں بیٹھے لوگ محض کسی ایک تنظیم یا چند رہنماؤں کے حامی نہیں بلکہ وہ اس بڑے عوامی اضطراب کی نمائندگی کرتے ہیں جو آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں کئی برسوں سے جمع ہوتا چلا آیا ہے۔

سرکار نے اس عوامی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے سب سے بڑا سیاسی ہتھیار یہ استعمال کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ لوگوں کو دہشت گردی کے بیانیے کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ شاید خیال یہ تھا کہ جس لمحے کسی تحریک کو دہشت گردی کا نام دے دیا جائے گا، لوگ خوفزدہ ہو کر اس سے دور ہو جائیں گے۔

لیکن یہاں مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت اس بیانیے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں۔

لوگ جانتے ہیں کہ یہی قیادتیں گزشتہ برسوں میں حکومتوں اور وزراء کے ساتھ مذاکرات کرتی رہی ہیں، معاہدوں کا حصہ بنتی رہی ہیں، سرکاری کمیٹیوں سے ملاقاتیں کرتی رہی ہیں اور انہی مطالبات پر بات کرتی رہی ہیں جنہیں اب اچانک ریاستی سلامتی کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ عوام نے ان لوگوں کو اپنے درمیان رہتے، جلسے کرتے، ہڑتالیں منظم کرتے اور مذاکراتی میزوں پر بیٹھتے دیکھا ہے۔ اس لیے محض سرکاری نوٹیفکیشن یا ٹیلی ویژن کے کسی بیانیے کے ذریعے لوگوں کے اجتماعی تجربے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کا بیانیہ نہ صرف سیاسی طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ مضحکہ خیز بھی بنتا جا رہا ہے۔

اگر ایک پوری آبادی کسی تحریک کو اپنے شہری، معاشی اور سیاسی حقوق کی جدوجہد سمجھتی ہو تو اسے محض طاقت کے ذریعے دہشت گردی کے خانے میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ بیانیے اسی وقت طاقتور ہوتے ہیں جب زمینی حقیقت ان کی تصدیق کرے۔ یہاں زمینی حقیقت اس بیانیے کی تردید کر رہی ہے۔

اس بحران کا دوسرا اور شاید زیادہ بنیادی پہلو پاکستان اور آزادکشمیر کے درمیان موجود تعلق کی نوعیت ہے۔

ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے وقتی خاموشی پیدا کی جا سکتی ہے لیکن سیاسی رضامندی پیدا نہیں کی جا سکتی۔

گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ رشتہ بظاہر آئینی، سیاسی اور انتظامی اداروں کے ذریعے چلتا رہا ہے، لیکن عملی سطح پر آزادکشمیر کے عام آدمی کو بار بار یہ احساس ہوا کہ یہ تعلق دو برابر سیاسی اکائیوں کا نہیں بلکہ حاکم اور محکوم کا تعلق ہے۔ اہم فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، مقامی حکومتیں اکثر ان فیصلوں کی عمل درآمد کرنے والی انتظامیہ بن کر رہ جاتی ہیں، اور جب عوام ان فیصلوں کو چیلنج کرتے ہیں تو جواب سیاسی مکالمے کے بجائے انتظامی یا سکیورٹی ذرائع سے دیا جاتا ہے۔

یہ تعلق اب مزید اسی شکل میں نہیں چل سکتا۔

پاکستان اور آزادکشمیر کے درمیان مستقبل کا کوئی بھی پائیدار رشتہ باہمی مفادات، باہمی احترام، سیاسی اعتماد اور رضاکارانہ تعاون کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا۔ ریاستی تعلقات صرف طاقت کے توازن سے نہیں چلتے۔ دیرپا تعلقات کے لیے اعتماد درکار ہوتا ہے، اور اعتماد صرف اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب دونوں طرف کے لوگوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی عزت، سیاسی حیثیت اور اجتماعی مفادات کا احترام کیا جا رہا ہے۔

پانچ جون کے بعد کے واقعات نے شاید پہلی مرتبہ اس سوال کو اتنی شدت کے ساتھ عام آدمی کے سامنے کھڑا کیا ہے۔

یہی اس بحران کا سب سے بڑا سبق بھی ہو سکتا ہے۔

ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے وقتی خاموشی پیدا کی جا سکتی ہے لیکن سیاسی رضامندی پیدا نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح تحریک کی قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک طویل عوامی جدوجہد صرف مزاحمت سے نہیں بلکہ درست سیاسی حکمت عملی، مذاکرات، تنظیمی ضبط اور دور رس فیصلوں سے آگے بڑھتی ہے۔

اسی لیے اس وقت سب سے بہتر راستہ مذاکرات ہے۔

لیکن مذاکرات سے مراد وہ پرانا طریقہ نہیں ہونا چاہیے جس میں اسلام آباد یا مظفرآباد سے چند نمائندے آئیں، چند تصویریں بنیں، چند یقین دہانیاں دی جائیں اور پھر معاملات دوبارہ وہیں پہنچ جائیں جہاں سے شروع ہوئے تھے۔

اس مرتبہ مذاکرات کا مقصد محض دھرنا ختم کرانا نہیں بلکہ بحران کی جڑ کو سمجھنا ہونا چاہیے۔

پہلا قدم اعتماد کی بحالی ہونا چاہیے۔ دوسرا قدم پانچ جون کے بعد پیدا ہونے والے معاملات کا سیاسی حل، اور تیسرا قدم پاکستان اور آزادکشمیر کے درمیان اس نئے تعلق پر گفتگو ہونی چاہیے جس میں طاقت کے بجائے باہمی مفاد اور احترام بنیادی اصول ہوں۔

اس پورے عمل کا آغاز راولاکوٹ سے ہو سکتا ہے۔

وہیں سے جہاں مزاحمت نے اپنی موجودہ شکل اختیار کی، جہاں سب سے زیادہ سیاسی دراڑ پیدا ہوئی اور جہاں اعتماد کی بحالی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ممکن ہے مذاکرات آسان نہ ہوں۔ ممکن ہے دونوں طرف تلخیاں موجود ہوں۔ ممکن ہے کئی باتوں پر فوری اتفاق نہ ہو۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ موجودہ راستہ کسی فریق کو کہیں نہیں لے جا رہا۔

نہ ریاست مستقل طور پر طاقت کے ذریعے اس تحریک کو ختم کر سکتی ہے، نہ عوام غیر معینہ مدت تک ایک مکمل تعطل میں زندگی گزار سکتے ہیں۔

آخرکار سیاست کو بندوق، گرفتاری، پابندی اور پروپیگنڈے پر غالب آنا ہوگا۔

اور اگر تمام فریق گزشتہ چند ماہ کے تجربے سے واقعی کچھ سیکھنے کے لیے تیار ہوں تو شاید اسی بحران کے اندر ایک نئے سیاسی تعلق کی بنیاد بھی موجود ہے۔

ایسا تعلق جس میں پاکستان آزادکشمیر کو حکم ماننے والی انتظامی اکائی کے بجائے ایک ایسے سیاسی معاشرے کے طور پر دیکھے جس کے اپنے مفادات، اپنی حساسیتیں اور اپنی اجتماعی عزت ہے، اور آزادکشمیر کی قیادت بھی تصادم اور ردعمل کے دائرے سے نکل کر ایک واضح سیاسی پروگرام کے ساتھ مستقبل کے تعلق کی نئی شرائط متعین کرے۔

برف شاید واقعی پگھل سکتی ہے۔

لیکن اس کے لیے پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ صرف چند مطالبات کا نہیں رہا۔

پانچ جون کے بعد اصل سوال تعلق کی نوعیت کا ہے۔

اور اسی سوال کا جواب شاید مظفرآباد کے ایوانوں میں نہیں بلکہ راولاکوٹ کی زمین پر بیٹھ کر تلاش کرنا ہوگا۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں